جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

الماس گر

”تم کچھ خیال نہ کرو،” وہ بولا، اور نہایت عیارانہ انداز سے دیکھا اور دیوار کے دروازے کی آڑ سے لگ کر اور دوسری آنکھ سے دروازے کی چوکھٹ کو دیکھتے ہوئے اس نے بکنا شروع کیا کہ وہ کس طرح میرے کمرے میں پھرتا رہا اور اس روز صبح کو وہ کیونکر پولیس کے دفتر گیا اور اُنھوں نے کیونکر وہ سب کچھ لکھ لیا جو کچھ اُس نے کہا تھا“۔

یہ سُن کر مجھے فورًا محسوس ہوا کہ میں ایک سوراخ کے اندر مقید ہوں۔ یا تو مجھے پولیس سے یہ راز بیان کر کے اپنے آپ کو بالکل تباہ و برباد کر لینا پڑے گا۔ یا ایک جعلساز کی طرح گرفتار ہو جانا ہو گا۔ اس لیے میں اپنے ہمسایہ کے پاس گیا اور اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر تھوڑی دیر تک اس کو خوب جنجھوڑا۔ پھر میں اپنے ہیرے لے کر وہاں سے چل دیا۔ شام کے اخباروں میں جو خبریں اس کے متعلق شائع ہوئی تھیں، اس میں میرے گھر کو کنٹش ٹاؤں بمب فیکٹری کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ اور اب میں ان چیزوں کو قیمت یا زر کے معاوضہ میں خود سے جُدا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ایسا کرنے میں میرے لیے بہت سے اندیشے ہیں۔ اگر میں معزز جوریوں کے پاس جاتا ہوں تو وہ مجھے ٹھہرنے کے لیے کہتے ہیں اور اپنے منشی کو اشارہ کرتے ہیں کہ پولیس کو اطلاع کر دو۔ تب میں یہ کہتا ہوں کہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔ اس کے بعد مجھے ایک مال مسروقہ فروخت کرنے والا سوداگر ملا۔ اور جب میں نے اُسے ایک ہیرا دکھایا تو اُس نے لے کر کہا کہ اگر میں اس کو واپس مانگوں گا تو وہ مجھے پولیس کے حوالہ کر دے گا۔ میں اب لاکھوں پونڈ کی قیمت کے ہیرے اپنی گردن میں لٹکائے مارا مارا پھرتا ہوں۔ مجھے نہ کہیں پناہ ملتی ہے نہ غذا۔ “تم وہ سب سے پہلے آدمی ہو جس کو میں نے اپنا راز بتایا ہے، لیکن مجھے تمہاری صورت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ میں بہت پریشان حال ہوں۔” اس نے میری آنکھوں سے آنکھیں ملا کر مجھے دیکھا۔

میرے لیے یہ ایک بات ایک دیوانگی کے مترادف ہو گی کہ میں موجودہ حالات میں ایک اتنا قیمتی ہیرا خریدوں،” میں نے جواب دیا، “اس کے علاوہ میرے پاس ہزاروں پونڈ موجود نہیں ہیں۔ تا ہم میں تمہاری کہانی کو بہت بڑی حد تک سچ سمجھتا ہوں۔ لیکن اگر تم کل میرے دفتر میں آؤ تو شاید میں کوئی ہیرا خرید لوں۔”

تم سمجھتے ہو کہ میں چور ہوں،” اس نے معنی خیز انداز سے کہا، “تم پولیس میں اطلاع کر دو گے۔ میں تمہارے اس قفس میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

”نہیں مجھے تمہارے حالات سُن کر یقین ہو گیا ہے کہ تم کوئی چور نہیں ہو۔ یہ لو میرے نام کا کارڈ ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھو۔ تم کو کسی مقررہ وقت آنے کی ضرورت نہیں ہے، جب تمہارا دل چاہے آ جانا۔

اس نے میرا کارڈ، اور عطیہ قبول کر لیا۔

اس کے متعلق میری طرف سے کوئی بُرا خیال نہ کرو۔ بلکہ ضرور آؤ،” میں نے کہا۔ اس نے مشکوک انداز سے سر کو جنبش دی۔ “میں آپ کا یہ نصف کراؤن کسی روز مع سود کے ادا کر دوں گا۔ ایسا سود جس سے آپ کو تعجب ہو گا،” وہ بولا، “بہر کیف مجھے اُمید ہے کہ آپ اس راز کو مخفی رکھیں گے۔ میرا تعاقب نہ کیجئے گا۔”

اس نے سڑک کی مخالف سمت اختیار کی اور الیکس اسٹریٹ کو جانے والی کمانوں کے نیچے چھوٹی چھوٹی سیڑھیوں کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔ اور میں نے بلا کسی روک ٹوک کے اسے جانے دیا اور یہ آخری مرتبہ تھا کہ میں نے اُس کو دیکھا۔

اس کے بعد اس کے خطوط مجھے ملے۔ جس میں اُس نے مجھے بعض پتوں پر بنک نوٹ (چک نہیں) بھیجنے کو لکھا تھا، میں نے اس مسئلے پر غور و خوض کیا اور جو طریقہ مفید معلوم ہوا اس کو اختیار کیا۔ ایک مرتبہ وہ مجھ سے ملنے آیا لیکن میں گھر پر موجود نہ تھا۔ میرے ملازم نے اُس کا حُلیہ بتایا کہ وہ ایک دُبلا، منحنی، میلے چیتھڑے لگائے ہوئے تھا اور اسے کھانسی بھی بے حد آ رہی تھی۔ اُس نے میرے لیے کوئی تحریری جواب نہیں چھوڑا تھا۔ جہاں تک اس قصے کا تعلق ہے یہ اس کا انجام تھا۔ میں بعض اوقات تعجب کرتا ہوں کہ اس کا کیا انجام ہوا؟ کیا وہ ایک غیر ماہر آدمی تھا یا پتھروں کا بیوپار کرتا تھا یا اُس نے در حقیقت ہیرے بنائے جیسا کہ اُس نے بیان کیا تھا؟ موخرالذکر بات قابلِ یقین ہے۔ اور اکثر میں سوچا کرتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے زرین لمحہ کھو دیا۔ ممکن ہے کہ وہ مر گیا ہو اور اس کے ہیرے نہایت بے پروائی سے ایک طرف پھینک دیے گئے ہوں۔ ایک، میں پھر کہتا ہوں کہ ایک میرے انگوٹھے کے ناخن کے برابر تھا۔ یا وہ اب تک ان کو فروخت کرنے کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اب بھی کسی سوسائٹی کی سطح پر ابھرے، اور خاموشی کے ساتھ ہیرے کی خریداری کے مسئلے کو عملی جامہ نہ پہنانے کی حرکت پر مجھے لعنت ملامت کرے۔ میں بعض اوقات سوچتا ہوں کہ مجھے کم سے کم پانچ پاؤنڈ کی قربانی تو کر دینی چاہیے تھی۔