اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

عقایدِ مذہبِ اسلام

(تہذیب الاخلاق بابت یکم جمادی الثانی و 15 جمادی الثانی 1289ھ‌اگست 1872ء)

عقیدۂ اول

تمام موجودات کا خالق یا اُن کے وجود کا سببِ اخیر یا علت العلل کوئی ہے اور اُسی کا نام ہے اللہ۔

مذہبِ اسلام کا سب سے پہلا یہ عقیدہ ہے کہ تمام کائنات کا کوئی خالق ہے۔ یہ سب کچھ جو موجود ہے اور جس کو ہم کسی طرح جان سکتے ہیں یا سمجھ سکتے ہیں یا خیال کر سکتے ہیں، ایک ایسے سلسلہ سے مربوط ہے کہ ایک کا وجود دوسرے پر اور دوسرے کا تیسرے پر منحصر ہے۔ پس ضرور ہے کہ یہ سلسلہ کسی اخیر وجود یا علت یا سبب پر منتہی ہو، اور جس پر یہ منتہی ہو وہی خالق اور خدا اور رب العالمین ہے۔

اس بات پر یقین نہیں ہو سکتا کہ یہ سب کچھ جو موجود ہے خود آپ ہی اپنے وجود کی اخیر علت ہے۔ اگر موجودات میں سے ہر چیز اپنے وجود میں کسی دوسرے وجود کی محتاج نہ ہوتی یا کسی کا وجود کسی دوسرے وجود کا معلول نہ ہوتا تو شاید ہم ایسا یقین کر سکتے، مگر جبکہ ہر ایک چیز کو کسی علت کا معلول پاتے ہیں تو اُنہی چیزوں کے مجموعہ کو کس طرح کسی علت العلل کا معلول نہ سمجھیں۔

تمام چیزیں جو بوجودِ حقیقی موجود ہیں، نہ ممتنع ہیں، نہ قابلِ عدم۔ اگر وہ ممتنع ہوتیں تو موجود کیوں ہوتیں اور اگر قابلِ عدم ہوتیں تو کبھی غیر موجود بھی ہوتیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی موجودِ حقیقی کبھی معدوم نہیں ہوتا، صرف عوارض یا صور کا تبدل ہوتا رہتا ہے۔ پانی ہوا ہو جاتا ہے، ہوا پانی بن جاتی ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو مٹی ہو جاتی ہیں اور پھر مٹی سے عجیب عجیب چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ غرض کہ کوئی شے معدوم نہیں ہوتی، صرف عوارض یا صورت کا ادل بدل ہوتا رہتا ہے۔ پس اگر تمام موجودات کے عوارضِ نوعیہ یا شخصیہ معدوم ہو جائیں تو جو کچھ باقی رہے گا وہ نا قابلِ عدم ہوگا۔ و قد قال اللہ تبارک و تعالی کل من علیہا فان و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام1۔

بلا شبہ اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ تمام موجودات کے عوارضِ نوعیہ و شخصیہ کے معدوم ہونے کے بعد جو وجود نا قابلِ عدم باقی رہے گا وہ کیا ہے اور وہ ایک ہوگا یا کئی، مگر اس بات کے فیصل نہ ہونے سے خالق کے وجود سے انکار نہیں ہو سکتا، کیونکہ اُس نا قابلِ عدم موجود کی حقیقت کو یا اُس کی وحدت و کثرت کو خالق کے وجود کے ہونے یا نہ ہونے سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

اگر وہ متعدد ہوں تو البتہ یہ سوال کرنا پڑے گا کہ قبولِ عوارض کی قوت خود اُنہی میں ہے یا کسی دوسرے موجود سے ہے۔ خود اُنہی میں تو ہم اس لئے نہیں مانتے کہ جب ہم تمام موجودات کو مع عوارضِ نوعیہ و شخصیہ دیکھتے ہیں تو ایک کو دوسرے کا معاون پاتے ہیں۔ پس اُن موجودات کے عوارضِ نوعیہ شخصیہ کے معدوم تصور کرنے کے بعد جو متعدد وجود نا قابلِ عدم باقی رہیں گے، ضرور وہ بھی ایک دوسرے کے معاون ہوں گے، مگر اُن کے ایسا ہونے کے لئے بلا کسی علتِ مشترک کے کوئی وجہ نہیں ہے۔ اب کچھ شبہ نہیں رہتا کہ اُن میں اُس معاونت کی علتِ مشترک کوئی اور وجود ہو اور اُسی وجود کو ہم کہتے ہیں اللہ۔

اور اگر وہ واحد ہو تو یہ سوال ہوگا کہ قبولِ عوارض کی قوت خود اُسی میں ہے یا کوئی دوسرا وجود اُس کی علت ہے۔ اگر اُسی میں ہو تو اُسی کا نام اللہ ہے اور اگر دوسرا وجود اُس کی علت ہو تو اُسی علۃ العلل کا نام اللہ ہے۔

کبرائے اسلام کی رائے اس میں مختلف رہی ہے۔ اکثر کہتے ہیں کہ اُسی وجودِ نا قابلِ عدم میں دونوں قوتیں فعل و انفعال کی، یعنی جس کو قوتِ قبولِ عوارض کہتے ہیں، موجود ہیں اور اسی سبب سے وہ لوگ وحدتِ وجود کے قائل ہیں اور یوں کہتے ہیں:

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ

خود بر سرِ بازار خریدار برآمد۔ بشکست و رواں شد2

ترجمہ اردو جریدہ: وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ گر اور خود ہی کوزے کی مٹی؛ خود ہی بازار میں خریدار بن کر آیا، (کوزہ) توڑا اور چل دیا۔

اور بعضے کہتے ہیں کہ اُس قوتِ انفعال کی علت دوسرا وجود ہے اور اس سبب سے وہ لوگ وحدتِ شہود کے قائل ہیں، مگر اصل یہ ہے کہ:

آں برتر از خیال و قیاس گماں و وہم

وز ہرچہ گفتہ اند و شنیدیم و خواندہ ایم

ترجمہ اردو جریدہ: وہ (ذات) خیال و قیاس، گمان اور وہم سے برتر ہے، اور ہر اُس چیز سے بھی جو (لوگوں نے) کہی ہے اور ہم نے سنی اور پڑھی ہے۔

بہرحال ان دونوں مسئلوں میں کوئی سا مسئلہ صحیح ہو، اس اسلامی مسئلہ میں کہ تمام موجودات کا کوئی خالق ہے، کسی طرح کا تبدل نہیں آتا۔

وحدتِ شہود کے مسئلہ کو لوگوں نے کفر جانا ہے۔ وہ اس دھوکے میں پڑے ہیں کہ اُس وجودِ نا قابلِ عدم کو بھی جس میں اُس قوتِ انفعال کی علت دوسرا وجود مانا ہے ازلی و ابدی ماننا پڑے گا جو ٹھیک ٹھیک شرک ہے یا اُن کا مذہب ہے جو خدا اور مادہ دو چیزوں کو ازلی و ابدی مانتے ہیں اور بعضے اُسی کو ظلمت اور نور سے تعبیر کرتے ہیں، مگر یہ اُن لوگوں کی سمجھ کی غلطی ہے، کیونکہ معلول کا وجود علت کے وجود کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، اور جب معلول کا وجود علت کے وجود کے سبب سے ہے تو شرک کہاں رہا۔ علتِ ازلی و ابدی کا معلول بھی ازلی و ابدی ہے۔ ہم تم بھی جبکہ علتِ ازلی و ابدی کے معلول ہیں تو ازلی و ابدی ہیں۔ تم بھی ازلی و ابدی ہو، ہم بھی ازلی و ابدی ہیں۔

مخلوق شدیم و با خالق گشتیم

جائیکہ خدا بود من ہم بودیم

ترجمہ اردو جریدہ: ہم مخلوق ہوئے اور خالق کے ساتھ ہو گئے؛ جہاں خدا تھا وہاں میں بھی تھا۔

پس انہی موجودات کے وجود سے ہم خالق پر یقین کرتے ہیں۔

اس پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو یقین نہیں ہے، بلکہ ایک خیال ہے جس کا تجربہ نہیں ہوا اور خیال کے مفہوم میں امکان اس بات کا کہ بعد تجربہ کے وہ مطابق واقع کے ہو یا نہ ہو، دونوں داخل ہیں۔ ہم نے اس خیال کا تجربہ نہیں کیا پھر اس کے مطابق واقع ہونے پر کیونکر یقین ہو سکتا ہے۔

یہ کہنا سچ ہے، مگر ہمارے خیالات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو خود ہماری طبیعتوں نے پیدا کیا ہو یا اسبابِ غیر محققہ خیالیہ سے ہم میں پیدا ہوئے ہوں۔ بلاشبہ اس قسم کے خیال کے مفہوم میں امکان اس بات کا کہ بعد تجربہ کے مطابق واقع کے ہو یا نہ ہو داخل ہے، مگر ہمارے خیالات جو دوسری قسم کے ہیں جن کو نہ از خود ہماری طبیعتوں نے پیدا کیا ہے اور نہ وہ اسبابِ غیر محققہ خیالیہ سے ہم میں پیدا ہوئے ہیں، بلکہ اُن کو کسی دوسرے حقائقِ محققہ نے پیدا کیا ہے وہ ہمیشہ ہوتے ہیں اور بالکل مطابق واقع کے بعد تجربہ کے۔

جبکہ ہم سنتے ہیں ایک آواز یا دیکھتے ہیں ایک دھواں تو ہم خیال کرتے ہیں کہ وہاں ہے ایک آواز کرنے والا یا وہاں ہے ایک آگ۔ ہمارا ایسا خیال کرنا بھی ایک خیال ہے، مگر اس قسم کا نہیں ہے جو از خود ہماری طبیعت میں آ گیا ہو یا اسبابِ غیر محققہ خیالیہ نے ہم میں پیدا کیا ہو، بلکہ ایک ایسا خیال ہے جس کو دوسرے حقائقِ محققہ نے پیدا کیا ہے۔ ہمارا ایسا خیال ہمیشہ ہوتا ہے ٹھیک اور بعد تجربہ کے بالکل مطابق واقع کے اگر ہم نے خود اُس چیز میں جس نے ہم میں ایسا خیال پیدا کیا ہے غلطی نہ کی ہو۔

جبکہ ہم پاتے ہیں چند چیزوں کو ایک جگہ ترتیب سے رکھا ہوا یا خوبصورت بنا ہوا تو ہم یقین کرتے ہیں کہ اُن کا کوئی رکھنے والا یا بنانے والا ہے۔ پھر جب ہم دیکھتے ہیں اس تمام موجودات کو ایسی عمدہ ترتیب سے رکھا ہوا اور ایسی حکمت سے بنا ہوا اور ایسی خوبصورتی سے ڈھلا ہوا تو یقین کر سکتے ہیں کہ کوئی ان کا ترتیب دینے والا اور بنانے والا ہے۔ جبکہ ہم ایک پتھر کو جو رستہ میں پڑا ہوا ہے دیکھ کر یقین کرتے ہیں کہ اُس کو کسی نے یہاں ڈالا ہے تو ہم کیوں کر اس بات پر یقین نہ کریں کہ ان سب چیزوں کو بھی جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں کسی بڑے دانا کاریگر نے بنایا ہے اور اُسی کاریگر کو ہم کہتے ہیں خدا۔