اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

عقایدِ مذہبِ اسلام

یہ خیال ہمارا جو خدا کے ہونے پر ہوا ہے اس کو ایسی چیزوں نے پیدا کیا ہے جو ایک حقیقت ہیں یا یوں کہو کہ جو حقائقِ محققہ ہیں اور ہم نے اس قسم کے خیال کو ہمیشہ ٹھیک اور بعد تجربہ کے مطابق واقع کے پایا ہے، اس لئے ہم اس خیال پر بھی یقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بعد تجربہ کے بھی جب کبھی کہ ہو، یہ ہمارا خیال بالکل مطابق واقع کے ہوگا اور اسی لیے ہم اس کو خیال نہیں کہتے، بلکہ یقین کہتے ہیں۔

پس یہ تمام موجودات عام عقلِ انسانی کے لیے بخوبی اس بات کی رہنما ہیں کہ اُن کا کوئی خالق ہے اور اس لیے وجودِ خالق پر ایمان لانے کا ایسا مسئلہ ہے کہ عام عقلِ انسانی اُس کو بخوبی سمجھ سکتی ہے اور اسی سبب سے انسان اُس پر ایمان لانے کو مکلف ہوا ہے۔ اگر یہ مسئلہ عقلِ انسانی میں آنے کے یا یوں کہو کہ انسان کی سمجھ کے لائق نہ ہوتا تو انسان ہرگز اس مسئلہ پر ایمان لانے کو مکلف نہ کیا جاتا۔ کما قال اللہ تعالی لا یکلف اللہ نفساً الا وسعہا3۔

بانیٔ اسلام کا یہ منشاء نہیں ہے کہ وجودِ صانع کا مسئلہ انسان بغیر سمجھے مان لیں یا اس وجہ سے اُس کو تسلیم کر لیں کہ پیغمبروں نے فرمایا ہے، بلکہ بانیٔ اسلام صاف صاف انہی موجودات کی دلیلوں سے اور نیچر، یعنی قدرت اور فطرت کے عجائبات کو بتلا بتلا کر اور دکھلا دکھلا کر وجودِ صانع پر ایمان لانے کو کہتا ہے۔

کس پیاری اور سچی زبان سے فرمایا ہے کہ ’’اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اب تم انسان ہو جا بجا پھیلے ہوئے‘‘۔

’’اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہارے لیے تم ہی سا جوڑا پیدا کیا، تا کہ اُس سے دل کو چین رہے اور ایک عجیب قسم کی محبت اور دل کی پگلاہٹ تم میں رکھی، سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں‘‘۔

’’اسی کی نشانیوں میں ہے آسمان و زمین کا پیدا کرنا۔ تمہاری بولیوں کا تمہاری رنگتوں کا مختلف ہونا۔ اسی بات میں تمام دنیا کے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں‘‘۔

’’اُسی کی نشانیوں میں سے رات کو تمہارا سو رہنا اور دن کو روٹی کے دھندے میں لگنا‘‘۔

’’اُسی کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جس میں کڑک کا خوف اور مینہ کی طمع ہے کہ پانی برسنے سے مری ہوئی زمین زندہ ہو جاتی ہے‘‘۔

’’اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اُسی کے حکم سے تھمے ہوئے ہیں‘‘۔

’’اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ سیلی ہوا مینہ آنے کی خوشخبری دیتی ہے‘‘۔

’’وہی اللہ ہے جو ہوا کو چلاتا ہے۔ پھر اُس سے بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ پھر تمام آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے۔ پھر ان کو تہ بہ تہ کر دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اُن میں سے بوندیاں نکلتی ہیں‘‘۔

’’آسمان سے اندازہ کے موافق مینہ برساتا ہے۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہراتا ہے۔ پھر اس کے سبب سے تمہارے لیے باغوں میں بہت سے میوے اور کھجوریں اور انگور پیدا کرتا ہے جن کو تم کھاتے ہو۔ پہاڑ میں سے درخت اُگاتا ہے جس میں سے تیل نکلتا ہے‘‘۔

’’تمہارے لیے تو جانوروں میں بھی بڑی نصیحت ہے۔ اُن کی چھاتیوں میں سے جو کچھ نکلتا ہے، اس کو پیتے ہو اور بہت سے فائدے اُٹھاتے ہو۔ بعضے جانور تمہارے کھانے میں آتے ہیں۔ جانور بھی تم کو اُٹھائے پھرتے ہیں اور کشتیاں بھی تم کو اُٹھا کر لے جاتی ہیں‘‘۔

’’زمین پر کس حکمت سے پہاڑ بنائے ہیں، تاکہ وہ تلی رہے پھر ان میں گھاٹیاں بنائی ہیں، تاکہ رستہ چلنے میں حرج نہ ہو‘‘۔

’’اُسی نے بنائی ہے رات اور دن، سورج اور چاند جو اپنے اپنے گھیرے میں پھرتے ہیں‘‘۔

’’تم اُونٹ ہی کو کیوں نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب طور پر بنایا ہے اور آسمان کو کس طرح اونچا کیا ہے اور پہاڑوں کو کس طرح پر گاڑا ہے اور زمین کو کس طرح پر بچھایا ہے‘‘۔

’’غرضیکہ اسی طرح جا بجا قرآنِ مجید میں بانیٔ اسلام نے صانع کے وجود پر ایمان لانے کو تمام موجودات سے جس کو ہم دیکھتے ہیں، استدلال کیا ہے اور کسی جگہ یہ بات نہیں فرمائی کہ تم بے سمجھے خدا پر ایمان لے آؤ‘‘۔

ایک جگہ فرماتا ہے کہ ’’اگر کافروں سے بھی یہ بات پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے بنایا اور چاند اور سورج کو کس نے تابعدار کیا تو کہیں گے اللہ نے‘‘۔

’’اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان پر سے مینہ برسایا جس سے مری ہوئی زمین کو پھر زندہ کیا تو کہیں گے اللہ نے‘‘۔

پس مذہبِ اسلام کا کیا سچا مسئلہ ہے کہ تمام انسانوں کو، جنگلی ہوں یا پہاڑی، شہری ہوں یا دیہاتی، تربیت یافتہ ہوں یا نا تربیت یافتہ، کسی نبی کی اُن کو خبر پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو، کوئی مذہب اُن کو دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو، اس بات پر ایمان لانا فرض ہے کہ تمام موجودات کا کوئی صانع ہے اور وہی ہے اللہ جل شانہ و جل جلالہٗ‌جس کی شان بلند اور جلال عظیم ہے۔

عقیدۂ دوم

وہ ہستی جس کو ہم اللہ کہتے ہیں واحد فی الذات ہے، یعنی مثل اُس کے دوسری ہستی نہیں۔

تمام موجودات پر جب ہم نظر کرتے ہیں تو بادی النظر میں ہم کو عجیب مختلف قسم کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک کو دوسری سے کچھ تعلق نہیں، مگر جب بہ تعمق نظر ڈالتے ہیں اور بخوبی سوچتے ہیں اور حقایقِ قدرت پر بقدر طاقتِ بشری واقفیت حاصل کرتے ہیں تب سمجھتے ہیں کہ تمام موجودات آپس میں نہایت مناسبت رکھتی ہے اور سب کی سب ایک راہ پر چلتی ہے۔ ایک کو دوسری سے ایسی مناسبت ہے کہ اگر ایک چیز بھی موجودات میں سے معدوم ہو جائے تو اس گورکھ دھندے میں اتنا ہی نقصان آ جائے۔

تمام موجودات ایسی تدبیر و حکمت و مناسبت سے موجود ہے جیسے ایک گھڑی یا کَل کے مختلف پرزے آپس میں مناسبت رکھتے ہیں اور اس سے ہم کو اس بات کی ہدایت ہوتی ہے کہ یہ گورکھ دھندا ایک ہی دانا حکیم کا نکالا ہوا اور ایک ہی کاریگر کا بنایا ہوا ہے اور عام عقلِ انسانی اس دلیل سے خدا کی وحدانیت پر اقرار کر سکتی ہے، اس لئے اس مسئلہ پر بھی ایمان لانا اُسی طرح ہر ایک انسان پر فرض ہے جس طرح کہ وجودِ خالق کے مسئلہ پر ایمان لانا فرض تھا۔

بلا شبہ یہ مسئلہ بہ نسبت پہلے مسئلہ کے کسی قدر زیادہ باریک ہے۔ جو لوگ کہ نیچرل فلازفی، یعنی علمِ طبیعیات سے زیادہ واقف ہیں اور جنہوں نے موجوداتِ عالم میں سے بہت چیزوں کی بناوٹ اور پیدائش اور پھر اُن کے انقلاب کا بقدر طاقتِ بشری علم حاصل کیا ہے، اُن کا یقین اس مسئلہ پر سب سے زیادہ پختہ اور مستحکم ہے اور اُن سے کم درجہ کے لوگوں کو خود کسی قدر غور و فکر کی حاجت ہوتی ہے اور اُس سے ادنیٰ درجہ کے لوگ دوسرے کی تنبیہ سے متنبہ ہونے اور کسی سے اُس کا بیان سننے کے محتاج ہوتے ہیں، مگر یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ عام عقلِ انسانی کی سمجھ سے باہر ہو۔ تحقیقاتِ کامل سے خواہ خود سوچنے سے یا کسی کے سمجھانے سے انسان اُس کو بخوبی سمجھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ پر ایمان لانا بموجب مذہبِ اسلام کے تمام انسانوں پر فرض ہے۔ بانیٔ اسلام نے بھی اس مسئلہ کو کارخانۂ قدرت کی دلیل سے سمجھایا ہے اور کسی جگہ بغیر سمجھے ایمان لانے کو نہیں فرمایا۔

ایک جگہ فرمایا ہے: ’’اُسی کا ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور جو اُس کا ہے (یا اُس کے پاس ہے)۔ اُس کی اطاعت سے نہ منحرف ہوتا ہے اور نہ تھکتا ہے۔ رات دن اُسی کی بزرگی یاد کرتا ہے اور ذرا بھی سستی نہیں کرتا۔ کیا انہوں نے زمین کی چیزوں میں سے کسی کو خدا ٹھہرایا ہے۔ اگر آسمان و زمین میں بہت سے خدا ہوتے تو دونوں کا کارخانہ بگڑ جاتا۔

ایک اور مقام پر بانیٔ اسلام نے اس سے بھی زیادہ فصیح و مؤثر زبان سے نیچر سے خدا کی وحدانیت پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ ’’کس نے پیدا کیا آسمان اور زمین اور کس نے برسایا تمہارے لئے مینہ۔ پھر اُس سے نہایت پر رونق باغ اُگائے۔ تم کو تو اُن کے اُگانے کی قدرت نہ تھی پھر کیا خدا کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے‘‘۔

’’کس نے زمین کو تمہارے رہنے کی جگہ بنایا اور کس نے اُس کے بیچ میں نہریں بہائیں اور کس نے اُس پر پہاڑ گاڑے اور کس نے دو سمندروں کے بیچ میں زمین کا پردہ پیدا کیا۔ پھر کیا خدا کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے‘‘۔