’’کون تم کو اندھیرے جنگلوں میں اور سمندر میں رستہ بتاتا ہے۔ کون مینہ برسنے سے پہلے اپنی مہربانی کی خوشخبری دینے والی ٹھنڈی ہوا چلاتا ہے۔ پھر کیا خدا کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے۔ اگر تم سچے ہو تو اُس کی دلیل لاؤ‘‘۔
پس دیکھو کہ کس طرح بانیٔ اسلام نے توحید کا مسئلہ صرف کارخانۂ قدرت کی حکمت اور اُس کی مناسبت سمجھا کر انسانوں کو سمجھایا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ خواہ نخواہ بے سمجھے خدا کو ایک مان لو اور جب کہ یہ مسئلہ ایسا تھا کہ ہر ایک انسان اُس کو سمجھ سکتا تھا، اس لئے بانیٔ اسلام نے تمام انسانوں کو اس مسئلہ پر ایمان لانے کا مکلف کیا اور کہہ دیا کہ تعالیٰ اللہ عما یشرکون4۔
ہاں بیشک ایک شبہ اس پر وارد ہوتا ہے کہ اس تمام کارخانۂ قدرت سے جو ہم دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ خیال مٹ نہیں سکتا کہ کیا عجب ہے کہ مثل اس کارخانۂ قدرت کے کوئی اور کارخانۂ قدرت ہو جس کو اس سے کچھ تعلق نہ ہو اور اُس کارخانۂ قدرت کا ایسا ہی کوئی اور صانع اور علت العلل اور موجود بالذات ازلی و ابدی ہو جیسا کہ اس کارخانۂ قدرت کا ہے تو پھر توحید خدا کی کس طرح پر ثابت ہوگی۔
ہم اس شبہ کو تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلا شبہ یہ ایک خیالی شبہ ہے جو رفع نہیں ہو سکتا، مگر اسلام اور ایمان کی بنیاد خیال پر نہیں ہے۔ فلسفیہ اور عقلیہ مباحث کو جو حالت فرضیہ غیر وجود سے ہوتی ہیں یقین سے اور ایمان سے کچھ مناسبت نہیں ہے۔ مولانا روم نے اس کے حق میں نہایت خوب فرمایا ہے:
|
پائے استدلالیاں چوبیں بود |
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود |
|
ترجمہ اردو جریدہ: استدلال کرنے والوں کا پاؤں لکڑی کا ہوتا ہے، اور لکڑی کا پاؤں نہایت بے ثبات ہوتا ہے۔ |
|
یقین کے لیے ضرور ہے کہ معترض اول اس بات کا یقین دلائے کہ در حقیقت ایسا ہی دوسرا کارخانۂ قدرت موجود ہے اور اس وقت کہے کہ خدا کی توحید ثابت نہیں، مگر وہمی و فرضی باتوں سے خدا کے متعدد ہونے کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔ مذہبِ اسلام کی رو سے انسان کو صرف اسی بات کا یقین کہ تمام چیزوں کا جن کو ہم دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور جو وجود پذیر ہیں اُن سب کا خدا ایک ہی ہے کافی اور وافی ہے اور اسی قدر پر انسان مکلف ہے۔ امنا بہ والحمدللہ علی ذالک5۔
عقیدۂ سوم
متعلق بہ صفاتِ باری جل جلالہ
وہ ہستی جس کو ہم خدا یا علۃ العلل کہتے ہیں، نہ ہمارے دیکھنے میں آتا ہے، نہ چھونے میں اور نہ خیال میں، تو ہم بجز اتنی بات جاننے کے کہ ہے اور کچھ حقیقت اس کی ذات کی نہیں جان سکتے۔ خدا بھی تو اپنی ذات کی حقیقت ہم کو نہیں بتا سکا۔ موسیٰ نے پوچھا کہ فرعون کے پاس تیرا پیغام لے کر جاؤں تو کیا بتاؤں کہ تو کون ہے، تو یہی جواب ملا کہ ’’میں وہی ہوں جو ہوں‘‘۔ پس جب کہ ہم ایک ذات کی حقیقت نہیں جان سکتے تو اُس کی صفات کی حقیقت بھی نہیں جان سکتے، بلکہ در حقیقت اس کو کسی صفت کا محل نہیں قرار دے سکتے۔
تمام صفات جن کو ہم خیال کر سکتے ہیں، وہ سب مفہومات ہیں جو ہم نے بلحاظ ان چیزوں کی حالتوں کے جن کو ہم دیکھتے ہیں یا چھوتے ہیں یا سونگھتے ہیں یا سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں اخذ کئے ہیں، مگر جب کہ وہ ہستی ہماری ان سب حسوں سے اوپر ہے، ہم کیونکر جان سکتے ہیں کہ وہ صفات اس میں بھی ہیں یا وہ اُن صفات کا محل بھی ہو سکتی ہے، اس لیے تمام صفات جو خدا کی طرف نسبت کی جاتی ہیں ان کو یوں کہا جاتا ہے کہ وہ صفات تو اس میں ہیں، مگر ویسی نہیں ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یعنی جو حقیقت ان صفات کی ہم نے موجوداتِ عالم سے اخذ کر کر سمجھی ہے وہ حقیقت ان صفات کی نہیں ہے جو اس میں ہیں اور یہ کہنا ہمارا صاف صاف یہ کہنا ہے کہ ان صفات کا جن کو ہم جانتے ہیں اس میں ہونا نہیں جانتے۔
خدا کو ہاتھ پاؤں والا، منہ والا، بولتا، چلتا، پھرتا، سنتا، دیکھتا، کرتا کراتا، جیتا جاگتا، خوش ہونے والا، خفا ہونے والا سب کچھ کہتے ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے سے ہاتھ پاؤں، ہمارا سا منہ، ہمارا سا بولنا، ہمارا سا چلنا پھرنا، ہمارا سا سننا دیکھنا، ہمارا سا کرنا کرانا، ہمارا سا جینا جاگنا ہمارا سا خوش و خفا ہونا نہیں ہے، مگر جب پوچھو کہ اگر ویسا نہیں ہے تو پھر کیسا ہے تو جواب یہی ہوگا کہ ہم نہیں جانتے۔ بات کا تو بہت الٹ پھیر ہوا مگر نتیجہ یہی نکلا کہ ان صفات کا جن کو ہم جانتے ہیں اُس میں ہونا نہیں جانتے۔
صفاتِ باری کا اس کی نسبت یقین کرنا اس یقین سے نہیں ہے کہ در حقیقت وہ صفتیں جس طرح پر ہم ان کو جانتے ہیں اس میں ہیں یا وہ ان کا محل ہے، بلکہ وہ یقین اس وجہ سے ہے کہ ایسی ذات کو جو علت العلل ہے ان صفات کے مشابہ صفتوں کا موصوف یا ان صفات کی مانند قدرتوں پر قادر ہونا لازم ہے، کیونکہ بغیر ان کے وہ علت العلل نہیں ہو سکتی جس کا علت العلل ہونا تسلیم کیا تھا۔
زندگی اور موت دو صفتیں ہیں جن کے مفہوم کو ہم نے جاندار چیزوں کے حالات سے اخذ کیا ہے، پس کیا ہم یقین کر سکتے ہیں کہ اس زندگی یا موت کا جس کو ہم جانتے ہیں، خدا محل ہو سکتا ہے، با اینہمہ ہم اس کو حی لا یموت6 کہتے ہیں۔ دہریوں نے مسلمانوں کی مذہبی کتابوں میں ان لفظوں کو جو صفاتِ باری کی نسبت بولے گئے ہیں، انہی مفہومات کا دال سمجھ لیا جو انہوں نے موجودات کے حالات سے اخذ کیے تھے اور پھر ان صفات کے منکر ہو کر کہنے لگے کہ ہم کیونکر یقین کریں کہ صفت قدرت کی یا رحم کی اس میں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم کب یقین کرتے ہیں اور ہم کب ان صفتوں کا جن کو ہم جانتے ہیں، اس کو محل قرار دیتے ہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ جن صفتوں کو ہم جانتے ہیں، ویسی ہی کچھ علت العلل کی ذات کو لازم ہیں اور اسی لیے اس کے لوازمِ ذاتی ہونے پر یقین ہے اور چونکہ ذات اور لوازمِ ذات عینِ ذات ہوتے ہیں اس لیے ہم اس کی صفات کو عینِ ذات اور ذات کو عینِ صفات قرار دیتے ہیں اور اسی بناء پر ترانہ گاتے ہیں کہ ’’انا صفة من صفات اللہ و صفاتہ عینہ فانا عینہ‘‘7 اور کبھی یوں کہتے ہیں کہ ’’لیس فی جبتی سوا اللہ‘‘ اور جب اور زیادہ کھول کر کہنا چاہتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ ’’انا احمد بلا میم‘‘۔
|
عشق گر مرد است مردی بر سر کار آورد |
ورنہ چوں موسیٰ بسے آورد و بسیار آورد |
|
ترجمہ اردو جریدہ: عشق اگر مرد ہے تو مردانگی کو کام میں لاتا ہے، ورنہ موسیٰ جیسے بہت سے لایا ہے اور بکثرت لایا ہے۔ |
|
|
گر ہمی خواہد کہ وصفِ ذاتِ خود ثابت کند |
یک انالحق گوئی دیگر بر سر دار آورد |
|
ترجمہ اردو جریدہ: اگر وہ چاہتا ہے کہ اپنی ذات کا وصف ثابت کرے تو ایک اور انا الحق کہنے والے کو سولی پر لے آتا ہے۔ |
|
|
یوسفِ یعقوب را بردن بہ بازارش چہ سود |
مرد عشقے ہمچو احمد را بہ بازار آورد |
|
ترجمہ اردو جریدہ: یعقوب کے یوسف کو بازار میں لے جانے سے کیا فائدہ، عشق تو احمد جیسے مرد کو بازار میں لاتا ہے۔ |
|
غرض کہ ہم تمام صفات کو یا بطور ایجاب یا بطور سلب ذاتِ باری کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اس میں ان صفات کے ہونے اور نہ ہونے کا بھی یقین کرتے ہیں، مگر نہ اس وجہ سے کہ وہ ان کا محل ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ ہم کو ان مفہومات کے من حیث الاطلاق لوازمِ ذاتی علت العلل کے ہونے پر یقین کلی ہے۔ با اینہمہ جس طرح ہم اس کی ذات کی حقیقت کو نہیں جانتے اسی طرح اس کی صفات کی حقیقت کو بھی نہیں جانتے۔
بانیٔ اسلام نے بھی ان کی حقیقت کا جاننا ہمارے ایمان کا جزو نہیں قرار دیا، بلکہ خود اس نے ان کی حقیقت کو کچھ نہیں بتلایا۔ غفور، رحیم، قادر، حی لا یموت بتایا اور اس بتانے سے اس کی ذات کا ان کا محل ہونا لازم نہ آیا تو ایسا خیال کرنا خود ہماری غلطی ہے۔
خدا کے ساتھ جن صفتوں کو ہم بتاتے ہیں گو ان کے مفہومات تو موجودات کے حالات سے اخذ کیے ہوئے ہیں، مگر خدا کی طرف من حیث الاطلاق نسبت کرتے ہیں، بلکہ اطلاق کی قید سے بھی مطلق رکھتے ہیں، تاکہ صرف مفہوم ہی مفہوم باقی رہ جائے اور اسی لئے جب کسی صفت کو کہتے ہیں کہ ہے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسی نہیں ہے۔
یہ ایک بحث عام صفاتِ باری کی نسبت تھی اور آئندہ ہم وقتاً فوقتاً ہر ایک صفت کی نسبت خاص خاص بحث کریں گے۔ واللہ ولی التوفیق۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 8 تا 22 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

