مگر میں یہ بات کہتا ہوں کہ یہ رائے علمائے متقدمین کی جو نسبت اُس حدیث کے ہے جس کو در حکمِ مرفوع قرار دیا ہے، کوئی منصوص یا منقول بات نہیں ہے، بلکہ ان علماء کی رائے ہے اور وہ بھی صرف اٹکل اور اندازہ سے لکھی گئی ہے، مگر ایسی حدیث کو در حکمِ مرفوع قرار دینا محض غلط اور بلاشبہ رائے کی غلطی ہے۔ اس لئے کہ یہ بات تحقیق ہے کہ یہودیوں کے ہاں بھی قیامت کی نسبت اور آیندہ کی خبروں میں بہت سی روایتیں زبان زد تھیں اور یہودیوں کے ہاں کی روایتوں کے ذکر کرنے کی خود پیغمبرِ خدا صلعم نے اجازت دی تھی۔ پس ممکن ہے کہ وہ بیان صحابی یا تابعی کا کوئی روایت روایاتِ یہود سے ہو نہ قول پیغمبر صلعم کا اور صرف اس بات کے کہنے سے کہ پیغمبرِ خدا صلعم کے زمانہ میں ہم یوں کیا کرتے تھے، اس فعل کے سنت ہونے پر بھی یقین نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ سنت ہو اور ممکن ہے کہ ایسا فعل ہو جو اس زمانہ میں جس زمانہ کا ذکر راوی نے کیا بموجب رسمِ زمانۂ جاہلیت کے ہوتا آیا ہو اور سنت اس کے برخلاف ہو۔ غرض کہ ایسی حالت میں یقینِ کلی اس بات پر کہ وہ بلا شبہ قول یا فعلِ رسولؐ ہی ہے نہیں ہو سکتا۔
سوم۔ موقوف، یعنی ایسی حدیث جس میں قول یا فعل یا تقریرِ صحابی کا بیان ہو اور جنابِ رسولِ خدا صلعم کی طرف نسبت نہ کیا گیا ہو۔
چہارم۔ مقطوع، یعنی وہ حدیث جو تابعی تک پہنچ کر رہ جائے اور اس سے اوپر نہ بڑھے۔
پنجم۔ معلّق، یعنی وہ حدیث جس کے کل راوی یا مبادیٔ سند سے کچھ راوی چھوٹ گئے ہوں۔
ششم۔ مرسل یا منقطع، یعنی وہ حدیث جس کی اخیرِ سند میں تابعی کے بعد راوی کا نام نہ لیا گیا ہو، مثلاً تابعی یہ کہے کہ پیغمبرِ خدا صلعم نے فرمایا ہے اور کسی صحابی کا درمیان میں نام نہ لے۔
ہفتم۔ معضل3، یعنی وہ حدیث جس کے راویوں سے درمیان کے راوی چھوٹ گئے ہوں۔
پس ان پانچوں قسموں کی حدیثوں میں سے کسی حدیث پر یقین نہیں ہو سکتا کہ بلاشبہ وہ قول یا فعل یا تقریر رسولِ مقبول صلعم کی ہے۔
علمائے سابقین نے جو کچھ ان کی نسبت بیان کیا ہے وہ سب ان کی رائے اور ان کی سمجھ بلا کسی منقول سند کے ہے۔ فرض کیا جائے کہ ظنِ غالب ان کی نسبت حدیثِ نبوی ہونے کا ہو، الّا اس پر یقین نہیں ہو سکتا۔
منجملہ اقسامِ مذکورۂ بالا کے حدیثِ معلّق پر جو صحیح بخاری کے ہر باب کے شروع میں ہیں، لوگوں نے گفتگو کی ہے۔ علمائے سابقین کا یہ قول ہے کہ اس قسم کی حدیثیں جو صحیح بخاری میں ہیں وہ سب صحیح ہیں اور بمنزلہ حدیثِ متصل کے ہیں، یعنی بمنزلہ ایسی حدیث کے جس کا کوئی راوی نہ چھوٹا ہو، اس لئے کہ بخاری نے التزام کیا ہے کہ سوائے حدیثِ صحیح کے اور کوئی حدیث اپنی کتاب میں نہ لائے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ رائے بسبب حسنِ ظن کے بہ نسبت بخاری کے قرار پائی ہے۔ پس تعلیقاتِ بخاری کا بمنزلہ حدیثِ متصل کے قرار دینا صرف حسنِ ظن ہوا نہ یقینی وشتان بینہما4۔
اسی طرح حدیثِ مرسل کی نسبت بحث ہوئی ہے۔ جمہورِ علماء کا یہ مذہب ہے کہ حدیثِ مرسل کو حدیثِ نبوی قرار دینے میں توقف چاہئے، یعنی نہ تو اس کو کہہ سکتے ہیں کہ حدیثِ نبوی ہے، نہ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہے، یعنی اس میں شک ہے۔ ممکن ہے کہ حدیثِ نبوی ہو اور ممکن ہے کہ نہ ہو، یعنی اس کے حدیثِ نبوی ہونے پر یقین نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ ایک تابعی دوسرے تابعی سے بھی روایت کیا کرتا تھا اور جو راوی چھوٹ گیا ہے، معلوم نہیں کہ ثقہ ہے یا نہیں اور یہ رائے بالکل صحیح و درست معلوم ہوتی ہے۔
مگر حضرت امام ابو حنیفہؒ اور حضرت امام مالکؒ کے نزدیک وہ حدیث بالکل مقبول ہے۔ وہ یہ بات فرماتے ہیں کہ تابعی نے جو اوپر کا راوی چھوڑ دیا تو اس کو اس حدیث کی صحت پر کامل یقین ہوگا، ورنہ وہ اس کو پیغمبرِ خدا صلعم کی نسبت منسوب نہ کرتا۔
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر حدیثِ مرسل کی تقویت اور کسی طرح پر بھی ہو سکے تو وہ حدیث قابلِ قبول ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ کی رائے اس باب میں یکسو نہیں ہے۔ ایک قول ان کا ہے کہ ایسی حدیث قبول کی جائے، ایک قول ہے کہ توقف کیا جائے۔
بہر حال جو لوگ کہ حدیثِ مرسل کو قابلِ قبول ٹھہراتے ہیں، ان کی رائے کی بنا صرف حسنِ ظن پر ہے، مگر کسی کو جزم اور یقین اس بات پر نہیں ہو سکتا کہ بلاشک وہ حدیث پیغمبرِ خدا صلعم کی ہے۔
ہشتم۔ مدلس، یعنی وہ حدیث جس کی روایت میں اس شخص کا نام جس سے راوی نے حدیث سنی چھوڑ کر اس سے اوپر کے راوی کا نام ایسے طور پر لیا جائے جس سے یہ شبہ پڑے کہ اس راوی نے اسی سے یہ حدیث سنی ہے۔
ایسی حدیث کی نسبت علماء کی یہ رائے ہے کہ اگر وہ راوی ثقہ اور نیک ہے اور کوئی غرضِ فاسد اس میں نہیں رکھتا تو وہ حدیث قبول کرنے کے لائق ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ایسی حدیث کے قبول کرنے کا مدار بھی صرف حسنِ ظن پر ٹھہرا، مگر اس بات کا ثبوت یا یقین کہ یہ حدیث بیشک رسولِ مقبول صلعم کی ہے حاصل نہیں ہوتا۔
نہم۔ مضطر۔ وہ حدیث ہے جس کے راوی کو راویوں کے نام یا حدیث کی عبارت بہ ترتیب یاد نہ رہی ہو۔
دہم۔ مدرج۔ وہ حدیث ہے جس میں راوی نے کسی مطلب کے لئے اپنی عبارت بھی ملا دی ہو۔
ایسی حدیثوں پر کبھی یقین نہیں ہو سکتا کہ پیغمبرِ خدا صلعم کی حدیثیں ہیں، کیوں کہ ترتیب کی درستی اور عبارتِ زائد اگر حذف ہی کی جائے تو بھی یہ بات یقین کے لائق نہیں ہے کہ بقیہ الفاظ بے کم و کاست بلا شبہ رسولِ مقبول صلعم کے فرمائے ہوئے ہیں۔
یازدہم۔ معنعن، یعنی وہ حدیث جس کو راوی نے عن فلان عن فلان کر کر بیان کیا ہو۔
یہ ایک ایسی قسم کی حدیث ہے جس سے تمام حدیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور اس قسم کی حدیثیں بہت زیادہ غور کرنے کے لائق ہیں۔
واضح ہو کہ علمائے حدیث میں حدیث کی روایت میں چار لفظ مستعمل ہیں: حدثنا5۔ اخبرنا6۔ انبانا7۔ یہ تینوں لفظ جب بولے جاتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ پچھلے راوی نے اوپر کے راوی سے یہ حدیث سنی یا سیکھی ہے، مگر چوتھا لفظ ’’عن‘‘ مشتبہ لفظ ہے۔ اس لفظ سے دونوں احتمال ہیں کہ پچھلے راوی نے اوپر کے راوی سے یہ حدیث سنی ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے نہ سنی ہو بلکہ جس سے سنی ہو اس کا نام چھوڑ کر اوپر کے راوی کا نام لے دیا ہو۔
پس اس بات کے قرار دینے میں کہ ایسی حدیث کا کیا حال ہے، اختلاف ہے۔ شاید اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر اس میں کوئی راوی ایسا ہو جو کسی غرضِ فاسد سے اس راوی کا نام چھپایا کرتا ہو جس سے درحقیقت اس نے حدیث سنی ہے، تب تو یہ حدیث معتبر نہ ہو گی اور اگر ایسا نہیں ہے تو معتبر ہو گی۔ اس کے بعد علماء میں اختلاف ہے۔ بعض عالموں کا یہ قول ہے کہ ایسی حدیث کے معتبر ہونے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ جس شخص نے بلفظ عن کسی سے روایت کی ہے ان دونوں کا آپس میں ملاقات ہونا اور حدیث سیکھنے کا ان کو موقع بھی ہونا ثابت ہو۔ چنانچہ بخاری کا مذہب یہی ہے، مگر مسلم ان باتوں کو قبول نہیں کرتا اور کسی شرط کو ضروری نہیں سمجھتا۔
بہرحال ہم کو ان مذہبوں میں بحث نہیں ہے، ہم کو صرف یہ بات دکھانی ہے کہ جس حدیث میں بلفظ عن روایت ہوئی ہے اس میں برابر رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تک راویوں کے نہ ہونے کا احتمال ہے اور اسی سبب سے یہ بھی احتمال ہے کہ وہ حدیث رسولِ خدا صلعم کی حدیث نہ ہو۔ جن لوگوں نے کہ مختلف شرطوں کے ساتھ اس کو حدیثِ نبوی سمجھا ہے، صرف قیاس و تخمین و حسنِ ظن کے سبب سمجھا ہے، کوئی ثبوت یا کوئی نص اس پر ان کے پاس نہیں ہے۔ پس ایسی حدیث پر جزم و یقین اس بات کا کہ بلا شبہ وہ حدیث پیغمبرِ خدا صلعم کی حدیث ہے نہیں ہو سکتا۔
دوازدہم مؤنن۔ یعنی وہ حدیث جس میں کسی راوی نے ان کے لفظ سے روایت کی ہو اور اس کا حال بھی بجنسہ، ویسا ہے جیسے کہ عن کے لفظ سے روایت کا ہے۔

