علاوہ اس کے بھی اور بہت سی قسمیں حدیثوں کی ہیں جو اعتبار اور درجۂ روات اور مضمونِ حدیث وغیرہ سے علاقہ رکھتی ہیں، مگر ہم ان کا اس مقام پر ذکر کرنا نہیں چاہتے، کیوں کہ باقی اقسام حدیثوں کی جن میں کچھ نقصان ہے، وہ تو ناقص اور نامعتبر ہی ہیں۔ ہم ان حدیثوں پر بحث کرنی چاہتے ہیں جن میں اس قسم کا نقصان نہیں ہے اور پھر ان پر اس بات کا شبہ ہے کہ آیا در حقیقت وہ حدیث رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے یا نہیں۔ پس یہ بارہ قسمیں احادیثِ صحیح کی جو ہم نے بیان کیں ایسی ہی ہیں کہ ہر عاقل شخص یہ بات کہے گا کہ ان میں سے حدیثِ نبوی ہونا بھی ممکن ہے، الّا ان میں سے کسی کا بھی بالیقین حدیثِ نبوی ہونا ثابت نہیں ہے۔
علمائے متقدمین نے جو کچھ رائے اس کی نسبت قائم کی ہے وہ صرف اُن کی رائے ہے۔ کوئی حدیث یا حکم من جانبِ شارع اُس پر نہیں ہے۔ پس ہمارا بھی یہی مقصود ہے کہ جہاں تک ممکن ہے ہم بھی اُن راویوں اور بزرگوں کا ادب ملحوظ رکھیں اور ہمیشہ دل سے حسنِ ظن اُن کی طرف رکھیں، مگر ایسا کرنے میں بالکل اندھے نہ ہو جائیں اور خود کچھ بھی خیال نہ کریں، بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن حدیثوں کے حدیثِ نبوی ٹھہرانے کے لئے کوئی عمدہ اصول قرار دیں۔ پس وہ اصول یہ ہیں۔
اول۔ ہم کو دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ حدیث احکامِ قرآنِ مجید کے برخلاف ہے یا نہیں۔ اگر ہو تو ہم کو یقین کرنا چاہئے کہ وہ حدیثِ نبوی نہیں ہے جیسے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیثِ سماعِ موتیٰ8 کی حدیثِ نبوی ہونے سے بسبب مخالفتِ قرآن کے انکار کیا، باوجودیکہ صحابی اُس کے راوی تھے اور نہایت قلیل زمانہ عہدِ برکت مہدِ رسولِ مقبول صلعم سے گذرا تھا۔
دوم۔ اُس حدیث میں اشیائے موجودہ میں سے کسی شے کی حقیقت الہام سے بطور واقع کے بیان کی ہو نہ بطور عرفِ عام کے اور وہ بیان درحقیقت اُس موجودہ شے کی حقیقت کے برخلاف ہو تو وہ حدیث حدیثِ نبوی نہیں ہے۔
سوم۔ اُس حدیث میں کوئی ایسا واقعہ بیان ہو جو تاریخ سے علاقہ رکھتا ہے اور تاریخ سے ثابت ہو کہ وہ واقعہ صحیح نہیں ہے، تو ہم اُس حدیث کو ہرگز بطور حدیثِ نبوی تسلیم نہیں کرنے کے۔
چہارم۔ اُس حدیث میں ایسا واقعۂ حسی بیان کیا گیا ہو کہ اگر وہ واقع ہوتا تو ہزاروں آدمی اُس کو دیکھتے، مگر اُس کا ہونا صرف اُسی حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں تو اُس حدیث کو بھی ہم حدیثِ نبوی نہیں قرار دینے کے۔
پنجم۔ اُس حدیث میں ایسی بات ہو جو تمام لوگوں سے علاقہ رکھتی ہو اور جس کا جاننا سب کو ضرور تھا، مگر اُس سے صرف اُسی حدیث کے راوی واقف تھے نہ اور کوئی، تو وہ حدیث بھی حدیثِ نبوی نہیں ہو سکتی۔
ششم۔ اُس حدیث میں کوئی بات برخلاف اُن احکام اور اُصولِ مذہبِ اسلام کے ہو جو معتبر حدیثوں سے ثابت ہو چکے ہیں، تو اُس حدیث کو بھی حدیثِ نبوی قرار نہیں دے سکتے۔
ہفتم۔ اُس حدیث میں ایسے عجائبات بیان ہوئے ہوں جسے عقل تسلیم نہ کرتی ہو اور جب تک کہ اُن کا الہام سے بیان ہونا نہ ثابت ہو تو وہ تسلیم کرنے کے لائق نہ ہوں۔ پس جبکہ ایسے عجائبات اس قسم کی حدیثوں میں مذکور ہوں جن کا اوپر ذکر ہوا، تو اُن حدیثوں کو بھی حدیثِ نبوی میں داخل نہیں کر سکتے، اس لئے کہ بسبب اُن نقصوں اور احتمالوں کے جو اس قسم کی حدیثوں میں ہیں اور جن کا اوپر بیان ہوا اُن عجائبات کا الہام سے بیان ہونا اور جنابِ رسولِ خدا صلعم کا اُن عجائبات کو بیان کرنا ثابت نہیں ہوتا اور جبکہ اُن کا الہام سے بیان ہونا ثابت نہیں ہے تو اُس حدیث کو جس میں وہ عجائبات ہیں حدیثِ نبوی بھی قرار نہیں دے سکتے۔
اسی قسم میں وہ حدیثیں بھی داخل ہیں جن میں تھوڑے سے عمل پر بڑے بڑے ثوابوں کا اور جنت میں محلوں کے بننے کا یا ادنیٰ سے گناہ میں سخت سخت عذابوں کا ذکر ہوا ہے۔
اقسامِ مذکورۂ بالا کی حدیثیں تمام کتبِ احادیث میں، یہاں تک کہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہیں۔ پس ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ اسی قدر کہتے ہیں کہ اس قسم کی حدیثوں میں سے کسی حدیث کو صرف اس وجہ سے کہ فلاں حدیث کی کتاب میں مندرج ہے، حدیثِ نبوی کہنا نہیں چاہئے، بلکہ اُن اُصولِ ہفتگانہ سے اُن کا امتحان کرنا لازم ہے۔ اگر اُس میں بھی وہ ٹھیک اور پوری اُترے، اُس وقت اُس کی نسبت حدیثِ نبوی ہونے کا ظنِ غالب کہنا چاہئے، کیونکہ اس امتحان کے بعد بھی اس سبب سے کہ اُس حدیث کی روایت اس قسم کی ہے جس سے حدیثِ نبوی ہونے کا ثبوت نہیں ہے، اُس حدیث کو بالجزم اور بالیقین حدیثِ نبوی نہیں کہہ سکتے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 65 تا 77 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

