اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

بابِ اول در سیرتِ پادشاہاں پہلا باب بادشاہوں کی عادت کے بیان میں!

حکایت

پادشاہے را شنیدم کہ بکشتنِ اسیرے اشارت کرد۔ میں نے ایک بادشاہ کے بارے میں سنا کہ اس نے ایک قیدی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

بیچارہ دراں حالتِ نومیدی بزبانے کہ داشت مَلِک را دشنام دادن گرفت و سقط گفتن کہ گفتہ اند ہر کہ دست از جان بشوید ہرچہ در دل آید بگوید۔ بیچارے نے اس ناامیدی کی حالت میں اپنی زبان میں بادشاہ کو گالیاں دینا اور سخت و سست کہنا شروع کر دیا اس لئے کہ لوگوں نے کہا ہے جو کوئی جان سے ہاتھ دھو لیتا ہے جو کچھ دل میں آتا ہے کہتا ہے۔

بیت

وقتِ ضرورت چو نماند گریز

دست بگیرد سرِ شمشیر تیز

ترجمہ ضرورت کے موقع پر جب بھاگنا ممکن نہ رہے تو ہاتھ تیز تلوار کی نوک پکڑ لیتا ہے

شعر

اِذَا یَئِسَ الاِنسَانُ طَالَ لِسَانُہٗ

کَسِنَّورٍ مَغلُوبٍ یَصُولُ عَلَی الکَلبِ

ترجمہ انسان جب ناامید ہو جاتا ہے تو اس کی زبان دراز ہو جاتی ہے جیسے دبی ہوئی بلی کتے پر حملہ کر دیتی ہے

مَلِک پرسید کہ چہ می گوید، بادشاہ نے دریافت کیا کہ کیا کہتا ہے؟

یکے از وزرائے نیک محضر گفت اے خداوند ہمی گوید وَالکَاظِمِینَ الغَیظَ وَالعَافِینَ عَنِ النَّاسِ۔ ایک نیک خصلت وزیر بولا اے بادشاہ وہ یہ کہہ رہا ہے وَالکَاظِمِینَ الغَیظَ وَالعَافِینَ عَنِ النَّاسِ‌وہ لوگ بہت اچھے ہیں جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔

مَلِک را رحمت آمد و از سرِ خون او درگذشت۔ بادشاہ کو رحم آگیا اور اس کو قتل کرنے کا خیال ترک کر دیا۔

وزیرِ دیگر کہ ضدِّ او بود گفت ابنائے جنسِ ما را نشاید در حضرتِ پادشاہاں جز براستی سخن گفتن، دوسرا وزیر جو اس وزیر کا مخالف تھا بولا، ہمارے ہم پیشہ لوگوں کے لئے مناسب نہیں ہے بادشاہوں کے دربار میں سچی بات کے سوا کچھ کہنا۔

ایں مَلِک را دشنام داد و ناسزا گفت۔ اس نے تو بادشاہ کو گالیاں دی ہیں اور نامناسب باتیں کہی ہیں۔

مَلِک روی ازیں سخن درہم کشید و گفت آں دروغ کہ وے گفت پسندیدہ تر آمد مرا ازیں راست کہ تو گفتی کہ روئے آں در مصلحتے بود و بنائے ایں بر خبثے۔ بادشاہ اس بات کو سن کر ناراض ہوا اور بولا وہ جھوٹ جو اس وزیر نے بولا مجھے اس سچ سے بہت پسند آیا جو تو نے کہا اس لئے کہ اس کا رخ نیکی کی طرف تھا اور اس سچ کی بنیاد خباثت پر۔

و خردمنداں گفتہ اند دروغ مصلحت آمیز بہ از راستیٔ فتنہ انگیز۔ اور عقلمندوں نے کہا ہے مصلحت آمیز جھوٹ فتنہ برپا کر دینے والے سچ سے بہتر ہے۔

شعر

ہر کہ شاہ آں کند کہ او گوید

حیف باشد کہ جز نکو گوید

ترجمہ جو شخص ایسا ہو کہ بادشاہ وہی کرتا ہو جو وہ کہہ دے تو بڑے افسوس کی بات ہے کہ وہ شخص نیکی کے سوا بات کہے

لطیفہ

برطاقِ ایوانِ فریدوں1 نوشتہ بود فریدوں کے محل کی محراب پر لکھا ہوا تھا

مثنوی

جہاں اے برادر نہ ماند بہ کس

دل اندر جہاں آفریں بند و بس

ترجمہ اے بھائی دنیا کسی کے پاس نہیں ٹکتی تو دنیا کے پیدا کرنے والے سے دل لگا اور بس

مکن تکیہ بر مُلکِ دنیا و پشت

کہ بسیار کس چوں تو پرورد و کُشت

ترجمہ دنیا کی حکومت پر سہارا اور بھروسہ نہ کر کیونکہ دنیا نے تجھ جیسے بہت سے پالے اور مار ڈالے

چو آہنگِ رفتن کند جانِ پاک

چہ بر تخت مردن چہ بر روئے خاک

ترجمہ جب پاک جان دنیا سے روانگی کا ارادہ کرے تو زمین اور تخت پر مرنا برابر ہے

حکایت (2)

یکے از ملوکِ خراسان سلطان محمود سبکتگیں را بخواب دید کہ جملہ وجودِ او ریختہ بود و خاک شدہ مگر چشمانش کہ ہمچناں در چشمخانہ ہمی گردید و نظر می کرد۔ خراسان کے ایک بادشاہ نے سلطان محمود سبکتگین کو خواب میں دیکھا کہ اس کا تمام بدن گل سڑ گیا اور خاک ہوگیا تھا لیکن اس کی آنکھیں اسی طرح آنکھوں کے حلقوں میں گھوم رہی ہیں اور دیکھ رہی ہیں۔

سائرِ حکما از تاویلِ آں فرو ماندند مگر درویشے کہ بجا آورد و گفت ہنوز نگراں ست کہ مُلکش با دِگراں ست۔ تمام عقلمند اس خواب کی تعبیر سے عاجز آگئے مگر ایک درویش جس نے تعبیر دی اور کہا ابھی تک دیکھ رہا ہے کہ اُس کا ملک دوسروں کے پاس ہے۔

قطعہ

بس نامور بزیر زمیں دفن کردہ اند

کز ہستیش بروئے زمیں یک نشاں نماند

ترجمہ بہت سے نامور لوگوں کو زمین کے نیچے دفن کر دیا ہے جن کی ہستی کا روئے زمین پر ایک نشان بھی نہیں رہا

آں پیر لاشہ را کہ سپردند زیرِ خاک

خاکش چناں بخورد کزو استخواں نماند

ترجمہ وہ بوڑھا مردہ جس کو زمین کے سپرد کیا مٹی نے اس کو ایسا کھایا کہ اس کی ہڈی بھی نہ بچی

زندہ است نام فرخ نوشیرواں2 بعدل

گرچہ بسے گذشت کہ نوشیرواں نماند

ترجمہ نوشیرواں کا مبارک نام انصاف کرنے کی وجہ سے زندہ ہے اگرچہ بہت زمانہ گذر گیا کہ نوشیرواں نہ رہا

خیرے کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر

زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند

ترجمہ اے فلانے کوئی نیکی کر لے اور عمر کو غنیمت سمجھ اس سے پہلے کہ یہ آواز آئے کہ فلاں نہ رہا

حکایت (3)

مَلِک زادہ را شنیدم کہ کوتاہ و حقیر بود و دیگر برادرانش بلند و خوبروی۔ میں نے ایک شہزادہ کے بارے میں سنا کہ پستہ قد اور بدصورت تھا اور اس کے دوسرے بھائی لمبے اور خوبصورت تھے۔

بارے پدر بکراہت و استحقار در وے نظر ہمی کرد۔ ایک مرتبہ باپ حقارت اور ناپسندیدگی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔

پسر بفراست و استبصار دریافت و گفت اے پدر کوتاہِ خردمند بہ کہ نادانِ بلند، نہ ہرچہ بقامت کہتر بہ قیمت بہتر۔ شہزادہ ذہانت اور دانائی سے اس بات کو سمجھ گیا اور بولا اے ابا جان ٹھگنا عقلمند لمبے بے وقوف سے اچھا ہوتا ہے کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ جو چیز قد میں چھوٹی ہوتی ہے قیمت میں بہتر ہوتی ہے۔

فقرہ

اَلشَّاۃُ نَظِیفَۃٌ3 وَالفِیلُ جِیفَۃٌ بکری پاک ہے اور ہاتھی مردار

شعر

اَقَلُّ جِبَالِ الاَرضِ طُورٌ وَاِنَّہٗ

لَاَعظَمُ عِندَ اللہِ قَدرًا وَمَنزِلًا

ترجمہ کوہِ طور زمین کے چھوٹے پہاڑوں میں ہے اور یقیناً وہ قدر و منزلت میں اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے

قطعہ

آں شنیدی کہ لاغرِ دانا

گفت بارے بابلہِ فربہ

ترجمہ آپ نے وہ بات سنی جو ایک دُبلے عقلمند نے ایک مرتبہ موٹے بے وقوف سے کہی

اسپِ تازی اگر ضعیف بُوَد

ہمچناں از طویلۂ4 خر بہ

ترجمہ عربی گھوڑا اگرچہ کم زور ہو پھر بھی طویلے بھر گدھوں سے بہتر ہے

پدر بخندید و ارکانِ دولت بپسندیدند و برادراں بجاں برنجیدند۔ باپ ہنس پڑا اور ارکانِ دولت نے یہ بات پسند کی اور بھائیوں کو دلی صدمہ ہوا۔

قطعہ

تا مَرد سخن نہ گفتہ باشد

عیب و ہنرش نہفتہ باشد

ترجمہ جب تک آدمی نے بات نہ کہی ہو اُس کا عیب و ہنر چھپا ہوا ہوتا ہے

ہر بیشہ گماں مبر کہ خالیست

شاید کہ پلنگ خفتہ باشد

ترجمہ ہر جھاڑی کو نہ سمجھ کہ وہ خالی ہے شاید تیندوا سویا ہوا ہو!

شنیدم کہ مَلِک را دراں مدت دشمنے صعب روئے نمود۔ میں نے سنا کہ اسی زمانہ میں بادشاہ کے ایک سخت دشمن نے سر اٹھایا۔

چوں لشکر از ہر دو طرف روئے درہم آوردند و قصدِ مبارزت کردند اوّل کسیکہ بہ میدان درآمد آں پسر بود و گفت جب دونوں طرف کے لشکر آمنے سامنے ہوئے اور انہوں نے مٹھ بھیڑ کا ارادہ کیا سب سے پہلے جو میدان میں اُترا وہی شہزادہ تھا اور اس نے کہا

قطعہ

آں نہ من باشم کہ روزِ جنگ بینی پشتِ من

آں منم کاندر میان خاک و خوں بینی سرے

ترجمہ میں وہ نہیں ہوں کہ لڑائی کے دن تو میری پشت دیکھے میں وہ ہوں کہ خاک اور خون میں تو ایک سر دیکھے گا

کانکہ جنگ آرد بخون خویش بازی میکند

روزِ میداں وانکہ بگریزد بخون لشکرے

ترجمہ کیونکہ لڑائی کے دن جو جنگ کرتا ہے وہ اپنے خون سے کھیلتا ہے اور جو بھاگتا ہے وہ (اپنے) پورے لشکر کا خون کرتا ہے

ایں بگفت و بر سپاہِ دشمن زد تنے چند مردانِ کاری را بہ کشت۔ اس نے یہ کہا اور دشمن کے سپاہیوں پر ٹوٹ پڑا، چند تجربہ کار سپاہیوں کو قتل کیا۔

چوں بہ پیشِ پدر آمد زمینِ خدمت بوسید و گفت جب باپ کے سامنے آیا زمینِ خدمت چومی اور کہا

قطعہ

اے کہ شخصِ مَنت حقیر نمود

تا درشتی ہنر نہ پنداری

ترجمہ اے وہ کہ میرا جسم تجھے کمزور لگا کہیں موٹاپے کو تو ہنر نہ سمجھے

اسپ لاغر میاں بہ کار آید

روزِ میداں نہ گاوِ پرواری5

ترجمہ پتلی کمر والا گھوڑا لڑائی کے دن کام آتا ہے نہ کہ پروار کا بیل

آوردہ اند کہ سپاہِ دشمن بسیار بود و ایناں اندک و جماعتے آہنگِ گریز کردند۔ بیان کرتے ہیں کہ دشمن کے سپاہی بہت تھے اور یہ تھوڑے اور (ان میں سے) کچھ لوگوں نے بھاگنے کی ٹھانی۔