اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

سیاہے داشت خصیب نام مُلکِ مصر بوے ارزانی داشت۔ اس کا ایک حبشی غلام خصیب نامی تھا ملکِ مصر اس کو بخش دیا۔

آوردہ اند کہ عقل و درایت او تا بجائے بود کہ طائفۂ حُرّاث مصر شکایت آوردندش کہ پنبہ کاشتہ بودم بر کنارِ نیل باراں بے وقت آمد و تلف شد۔ لوگ بیان کرتے ہیں کہ اس کی عقل و سمجھ اس درجہ کی تھی کہ مصر کے کاشتکاروں کی ایک جماعت نے شکایت کی کہ ہم نے دریائے نیل کے کنارے روئی کی کاشت کی تھی بے موسم کی بارش سے وہ تباہ ہو گئی ہے۔

گفت پشم بایستے کاشت تا تلف نہ شدے۔ اس نے کہا تمہیں اُون بونی چاہیے تھی تاکہ تباہ نہ ہوتی،

صاحبدلے ایں کلام بشنید و گفت ایک بزرگ نے یہ بات سنی اور کہا

مثنوی

اگر روزی بدانش در فزودے

ز ناداں تنگ تر روزی نبودے

ترجمہ اگر روزی عقل کی وجہ سے بڑھ سکتی تو بے وقوف سے بڑھ کر کوئی تنگ روزی نہ ہوتا

بناداں آں چناں روزی رساند

کہ دانا اندراں حیراں بماند

ترجمہ بے وقوف کو وہ اس طرح روزی پہنچاتا ہے کہ عقلمند اس میں حیران رہ جاتا ہے

مثنوی

بخت و دولت بکاردانی نیست

جز بتائیدِ آسمانی نیست

ترجمہ نصیبہ اور دولت ہنرمندی کی وجہ سے نہیں ہے یہ تو محض آسمانی تائید سے ہے

کیمیا گر بغصہ مردہ بہ رنج

ابلہ اندر خرابہ یافتہ گنج

ترجمہ کیمیا گر رنج میں غصہ سے مر گیا بیوقوف نے ویرانے میں خزانہ پا لیا

اوفتادہ است در جہاں بسیار

بے تمیز ارجمند و عاقل خوار

ترجمہ دنیا میں یہ بہت ہوا ہے کہ بے تمیز صاحبِ مرتبہ اور عقلمند ذلیل

حکایت (40)

یکے را از ملوک کنیزک چینی آوردند۔ بادشاہوں میں سے ایک کے پاس چین کی لونڈی لائے۔

خواست در حالتِ مستی باوے جمع آید، بادشاہ نے مستی کی حالت میں چاہا کہ اُس سے ہمبستری کرے،

کنیزک ممانعت کرد۔ لونڈی نے روک دیا۔

مَلِک در خشم شد و مر او را بسیاہے بخشید کہ لب زبرینش از پرۂ بینی در گذشتہ بود و زیرینش بہ گریباں فروہشتہ، ہیکلے کہ صخرِ جنّی106 از طلعتِ او برمیدے و عینُ القطر107 از بغلش بچکیدے۔ بادشاہ کو غصہ آ گیا اور اس کو ایک حبشی غلام کو دے دیا جس کا اوپر کا ہونٹ ناک کے نتھنے سے بھی اونچا تھا اور نیچے کا ہونٹ گریبان تک لٹکا ہوا تھا، ایسا بد صورت کہ صخر نامی جن بھی اُس کی صورت دیکھ کر بھاگتا اور تارکول کا چشمہ اس کی بغل سے ٹپکتا۔

فرد

تو گوئی تا قیامت زشت روئی

برو ختم ست و بر یوسف108 نکوئی

ترجمہ تو یہ کہے گا کہ قیامت تک کے لئے بد صورتی اس پر ختم ہے اور حضرت یوسف پر خوبصورتی

قطعہ

شخصے نہ چناں کریہ منظر

کز زشتی او خبر تواں داد

ترجمہ وہ شخص نہ ایسا بد صورت کہ جس کی بُرائی بیان کی جا سکے

وانگہ بغلش نعوذ باللہ

مُردار بآفتابِ مرداد

ترجمہ اور پھر اس کی بغل تو اللہ بچائے بھادوں کی دھوپ کا سڑا ہوا مردار

آوردہ اند کہ دراں مدّت سیاہ را نفس طالب بود و شہوت غالب مہرش بجنبید مُہرش برداشت۔ لوگ بیان کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں حبشی کا نفس طالب تھا اور شہوت غالب تھی۔ اس کی محبت بھڑکی اور اُس نے اُس کی مُہر اکھاڑ پھینکی۔

بامداداں کہ مَلِک کنیزک را بجست و نیافت حکایت بگفتندش۔ صبح کے وقت جب بادشاہ نے لونڈی کو تلاش کیا اور نہ پایا تو لوگوں نے رات کا واقعہ بادشاہ کو بتایا۔

خشم بگرفت و فرمود تا سیاہ را با کنیزک استوار بہ بندند و از بامِ جوسق بقعر خندق در اندازند۔ بادشاہ کو غصہ آیا اور حکم دیا کہ حبشی کو لونڈی کے ساتھ کس کر باندھیں اور بالاخانہ کی چھت سے خندق کی گہرائی میں پھینک دیں۔

یکے از وزرائے نیک محضر روئے شفاعت بر زمین نہاد و گفت سیاہ بیچارہ را دریں خطائے نیست کہ سائر بندگاں بنوازش خداوندی مُتعوَّد اند۔ ایک نیک طبیعت وزیر نے سفارش کے لئے پیشانی زمین پر رکھی اور کہا حبشی بے چارے کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے اس لئے کہ تمام غلام شاہی مہربانی کے عادی ہیں۔

گفت اگر در مفاوضتِ او شبے تاخیر کردے چہ شدے کہ من او را افزوں تر از بہائے کنیزک بدادمے۔ اس نے کہا کہ اگر اُس سے ہمبستری میں ایک رات کی دیر کر دیتا تو کیا ہرج تھا کہ میں اس کو لونڈی کی قیمت سے بھی زیادہ دے دیتا۔

گفت اے خداوند انچہ فرمودی معلوم ست لیکن نشنیدی کہ حکما گفتہ اند دریں معنی اس نے کہا اے آقا جو کچھ آپ نے فرمایا درست ہے لیکن کیا جناب نے عقلمندوں کا قول نہیں سنا جو اسی بارے میں ہے

قطعہ

تشنۂ سوختہ بر چشمۂ حیواں چو رسد

تو مپندار کہ از پیل دماں اندیشد

ترجمہ جلا بھنا پیاسا جب آبِ حیات کے چشمہ پر پہنچ جائے تو یہ نہ سمجھ کہ وہ مست ہاتھی سے ڈرے گا

مُلحدِ گرسنہ در خانۂ خالی بر خواں

عقل باور نکند کز رمضاں اندیشد

ترجمہ بھوکا لامذہب خالی گھر میں دسترخوان پر عقل کو یقین نہیں آتا کہ وہ رمضان کا خیال کرے گا

مَلِک را ایں لطیفہ پسند آمد و گفت اکنوں سیاہ را بتو بخشیدم کنیزک را چہ کنم بادشاہ کو یہ لطیفہ پسند آ گیا اور اس نے کہا اب حبشی غلام میں نے تجھے بخش دیا لونڈی کا کیا کروں

گفت کنیزک را ہم بہ سیاہ بخش کہ نیم خوردۂ سگ ہم او را شاید۔ اس نے کہا کہ لونڈی بھی حبشی کو بخش دیجیے کہ کتے کا بچا ہوا کتے ہی کے مناسب ہے۔

قطعہ

ہرگز او را بدوستی مپسند

کہ رَوَد جائے ناپسندیدہ

ترجمہ دوستی کے لئے ایسے شخص کو پسند نہ کر جو کسی بُری جگہ چلا جائے

تشنہ را دل نخواہد آبِ زلال109

نیم خوردہ دہان گندیدہ

ترجمہ پیاسہ بھی اس نتھرے پانی کو پینا پسند نہ کرے گا جو کسی گندہ دہن کا بچا ہوا ہو

حکایت (41)

اسکندرِ رومی110 را پرسیدند کہ دیارِ مشرق و مغرب را بچہ گرفتی کہ ملوکِ پیشیں را خزائن و عمر و مُلک و لشکر بیش ازیں بود و چنیں فتحے میسر نہ شد۔ اسکندر رومی سے لوگوں نے پوچھا کہ مشرق و مغرب کے ممالک تو نے کیسے فتح کر لیے اس لئے کہ پہلے بادشاہوں کے خزانے اور عمر اور ملک اور لشکر اس سے بڑھے ہوئے تھے اور ان کو ایسی فتح میسر نہ آئی۔

گفت بعون اللہ عزّوجلّ ہر مملکتے را کہ بگرفتم رعیتش را نیازردم و رسومِ خیراتِ گذشتگاں باطل نہ کردم و نامِ پادشاہاں جز بہ نکوئی نبردم۔ اس نے کہا خدا بلند و بالا کی مدد سے جو ملک میں نے فتح کیا اس کی رعایا کو میں نے نہ ستایا اور بزرگوں کی عمدہ رسموں کو میں نے موقوف نہ کیا اور بادشاہوں کا نام اچھائی کے سوا نہ لیا۔

بیت

بزرگش نخوانند اہلِ خرد

کہ نامِ بزرگاں بزشتی برد

ترجمہ عقلمند اس شخص کو کبھی بڑا نہیں مانتے جو بڑوں کا نام برائی سے لے

قطعہ

ایں ہمہ ہیچ ست چوں می بگذرد

بخت و تخت و امر و نہی و گیر و دار

ترجمہ یہ سب کچھ بھی نہیں جبکہ جاتا رہتا ہے نصیبہ، تختِ شاہی، حکم چلانا، روکنا، اور پکڑ دھکڑ

نامِ نیکِ رفتگاں111 ضائع مکن

تا بماند نامِ نیکت برقرار

ترجمہ پہلوں کے نیک نام کو ضائع نہ کر تاکہ تیرا نیک نام باقی رہے