اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

مَلِک فرمود تا بزنندش و نفی کنند تا چندیں دروغ در ہم چرا گفت۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو ماریں اور شہر بدر کر دیں کہ اس نے پے در پے اتنے جھوٹ کیوں بولے۔

گفت اے خداوندِ روئے زمین سخنے ماندہ است در خدمت بگویم اگر راست نباشد بہ ہر عقوبت کہ خواہی سزاوارِ آنم۔ اس نے کہا اے روئے زمین کے بادشاہ ایک بات رہ گئی ہے وہ آپ کی خدمت میں عرض کر دوں اگر وہ سچی نہ ہو تو جو سزا آپ چاہیں میں اُس کا مستحق ہوں۔

گفت آں چیست، گفت بادشاہ نے کہا وہ کیا ہے، اس نے کہا

قطعہ

غریبے گرت ماست پیش آورد

دو پیمانہ آب ست و یک چمچہ دوغ

ترجمہ اگر کوئی اجنبی آپ کے سامنے چھاچھ لائے تو دو پیالہ پانی اور ایک چمچہ دہی ہے

اگر راست میخواہی از من شنو

جہاندیدہ بسیار گوید دروغ

ترجمہ اگر سچی بات سننا چاہتے ہیں تو مجھ سے سن لیجیے جس نے دنیا زیادہ دیکھی ہو وہ جھوٹ زیادہ بولتا ہے

مَلِک را خندہ گرفت گفت ازیں راست تر سخن تا عمرِ او باشد نہ گفتہ است۔ بادشاہ کو ہنسی آ گئی اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی عمر بھر اس سے زیادہ سچی بات نہیں کہی ہے۔

فرمود تا آنچہ مامولِ اوست مہیّا دارند و بخوشی او را گسیل کنند۔ اور حکم دیا کہ جو اس کی تمنا ہو وہ پوری کر دیں اور ہنسی خوشی اس کو رخصت کر دیں۔

حکایت (34)

یکے از پسران ہارون الرشید94 پیش پدر آمد خشم آلودہ کہ مرا فلاں سرہنگ زادہ دُشنامِ مادر داد۔ ہارون الرشید کا ایک لڑکا غصہ میں بھرا ہوا باپ کے پاس آیا اور بولا کہ فلاں سپاہی کے لڑکے نے مجھے ماں کی گالی دی ہے۔

ہارون الرشید ارکانِ دولت را گفت جزائے چنیں کسے چہ باشد۔ ہارون الرشید نے ارکانِ دولت سے دریافت کیا کہ ایسے شخص کی کیا سزا ہونی چاہیے۔

یکے اشارت بکشتن کرد و یکے بزباں بریدن و دیگرے بمصادرت و نفی۔ ایک نے قتل کا مشورہ دیا اور ایک نے زبان کاٹنے کا اور دوسرے نے ضبطیٔ جائیداد اور جلا وطنی کا۔

ہارون گفت اے پسر کرم آنست کہ عفو کنی و اگر نتوانی تو نیزش دُشنامِ مادر دہ چندانکہ از حد در نگذرد، پس آنگہ ظلم از طرفِ تو باشد و دعویٰ از قِبَلِ خصم۔ ہارون الرشید نے کہا اے بیٹا شرافت تو یہ ہے کہ تو معاف کر دے اور اگر یہ نہیں کر سکتا تو تو بھی اُس کو ماں کی گالی دے دے اس قدر کہ حد سے نہ گذرے، ورنہ پھر تیری طرف سے ظلم ہوگا اور مخالف کی جانب سے دعوے۔

قطعہ

نہ مردست آں بنزدیکِ خردمند

کہ با پیل دماں پیکار جوید

ترجمہ عقلمند کے نزدیک مرد وہ نہیں ہے جو مست ہاتھی سے لڑے

بلے مرد آنکس ست از روئے تحقیق

کہ چوں خشم آیدش باطل نگوید

ترجمہ ہاں مرد وہ ہے تحقیق کے اعتبار سے کہ جب اس کو غصہ آئے تو بیہودہ نہ بکے

حکایت (35)

با طائفۂ بزرگاں بہ کشتی نشستہ بودم۔ میں بزرگوں کے ایک گروہ کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔

زورقے در پئے ما غرق شد دو برادر بگردابے در افتادند۔ ہمارے پیچھے ایک چھوٹی کشتی ڈوب گئی اور دو بھائی بھنور میں پھنس گئے۔

یکے از بزرگاں گفت ملّاح را کہ بگیر ایں ہر دو را کہ بہر یکے پنجاہ دینارت بدہم۔ بزرگوں میں سے ایک نے ملاح سے کہا کہ ان دونوں کو پکڑ لے ہر ایک کے عوض تجھے پچاس دینار دوں گا۔

ملّاح در آب رفت تا یکے را برہانید و آں دیگر ہلاک شد۔ ملاح پانی میں کود پڑا چنانچہ ایک کو نکال لایا اور دوسرا مر گیا۔

گفتم بقیّتِ عمرش نماندہ بود ازیں سبب در گرفتن او تاخیر کردی و دراں دیگر تعجیل۔ میں نے کہا اس کی عمر باقی نہ تھی اسی وجہ سے تونے اس کے پکڑنے میں دیر لگائی اور دوسرے کے پکڑنے میں جلدی کی۔

ملّاح بخندید و گفت انچہ تو گفتی یقین ست و سببے دیگر ست۔ ملاح ہنسا اور کہا جو آپ نے فرمایا وہ یقینی بات ہے اور ایک دوسرا سبب بھی ہے۔

گفتم آں چیست میں نے کہا وہ کیا ہے

گفت میل خاطرِ من بہ رہانیدن ایں یکے بیشتر بود کہ وقتے در بیابان ماندہ بودم مرا بر شترے نشاند و از دستِ آں دِگر تازیانہ خوردہ بودم در طفلی۔ اس نے کہا میری طبیعت کا رجحان اس ایک کو بچانے کی طرف زیادہ تھا اس لئے کہ ایک دفعہ میں جنگل میں تھک گیا تھا تو اس نے مجھے اونٹ پر بٹھا لیا تھا اور اس دوسرے کے ہاتھ سے میں نے بچپنے میں کوڑا کھایا تھا۔

گفتم صَدَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ‌خدا تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَیْہَا‌جو نیک کام کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے۔ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے جو نیک کام کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے۔

قطعہ

تا توانی درونِ کس مخراش

کاندریں95 راہ خارہا باشد

ترجمہ جب تک ممکن ہو کسی کا دل زخمی نہ کر اس لئے کہ اس راستہ میں بہت کانٹے ہیں

کارِ درویشِ مستمند بر آر

کہ ترا نیز96 کارہا باشد

ترجمہ حاجتمند فقیر کا کام نکال دے اس لئے کہ تیرے بھی بہت سے کام ہونے ہیں

حکایت (36)

دو برادر بودند یکے خدمتِ سلطاں کردے و دیگرے بسعی97 بازو خوردے۔ دو بھائی تھے ایک بادشاہ کی نوکری کرتا تھا اور دوسرا اپنے بازو کی کمائی کھاتا تھا۔

بارے ایں توانگر گفت درویش را کہ چرا خدمت نہ کنی تا از مشقّتِ کار کردن برہی۔ ایک مرتبہ اس مالدار نے اس فقیر کو کہا کہ تو بادشاہ کی نوکری کیوں نہیں کر لیتا تاکہ مزدوری کی محنت سے چھوٹ جائے۔

گفت تو چرا کار نہ کنی تا از مذلّتِ خدمت رستگاری یابی، اس نے کہا تو مزدوری کیوں نہیں کرتا تاکہ خدمتگاری کی ذلت سے چھٹکارا حاصل کر لے،

کہ خردمنداں گفتہ اند کہ نانِ جو خوردن و نشستن بہ کہ کمرِ زرّیں98 بستن و بخدمت استادن۔ اس لئے کہ عقلمندوں نے کہا ہے کہ جو کی روٹی کھا لینا اور بیٹھ جانا زریں پیٹی باندھنے اور دربار میں کھڑا رہنے سے بہتر ہے۔

بیت

بدست آہکِ تفتہ99 کردن خمیر

بہ از دست بر سینہ پیش امیر

ترجمہ ہاتھ سے گرم چونے کو گوندھنا امیر کے سامنے سینہ پر ہاتھ رکھنے سے بہتر ہے

قطعہ

عمرِ گرانمایہ دریں صرف شد

تا چہ خورم صیف و چہ پوشم شتا،

ترجمہ قیمتی عمر اسی میں صرف ہو گئی کہ گرمیوں میں کیا کھاؤں اور جاڑوں میں کیا پہنوں

اے شکم خیرہ بنانے بساز

تا نہ کنی پشت بخدمت دوتا

ترجمہ اے بے شرم ایک روٹی پر قناعت کر لے تاکہ خدمت گاری میں کمر دوہری نہ کرے

حکایت (37)

کسے مُژدہ پیش نوشیرواں عادل برد و گفت شنیدم کہ فُلاں دشمن ترا خدائے تعالیٰ برداشت۔ کوئی آدمی نوشیرواں عادل کے پاس خوشخبری لے گیا اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تیرے فلاں دشمن کو خدائے تعالیٰ نے اٹھا لیا۔

گفت ہیچ شنیدی کہ مرا بگذاشت100۔ اس نے کہا کیا تو نے یہ بھی سنا کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔

فرد

اگر بمُرد عدو جائے شادمانی نیست

کہ زندگانیٔ ما نیز جاودانی نیست

ترجمہ اگر دشمن مر گیا تو خوشی کا موقع نہیں ہے اس لئے کہ ہماری زندگی میں بھی ہمیشگی نہیں ہے

حکایت (38)

گروہے حکما در بارگاہ کسریٰ101 بہ مصلحتے در سخن ہمی گفتند و بزرجمہر102 کہ مہترِ ایشاں بود خاموش بود۔ عقلمندوں کی ایک جماعت کسریٰ کے دربار میں کسی تدبیر میں مشورہ کر رہی تھی اور بزرجمہر جو ان کا سردار تھا چپ تھا۔

سوال کردندش کہ با ما دریں بحث چرا سخن نگوئی انہوں نے اس سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ اس بحث میں کیوں بات چیت نہیں کرتے

گفت وزیراں بر مثال اطبا اند و طبیب دارو ندہد مگر بہ سقیم۔ اُس نے کہا وزیروں کی مثال طبیبوں کی سی ہے اور طبیب بیمار ہی کو دوا دیتا ہے۔

پس چوں بینم کہ رائے شما بر صواب ست مرا بر سر آں سخن گفتن حکمت نباشد۔ جب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری رائے درست ہے تو اس پر میرا بات کرنا دانائی نہ ہوگی۔

مثنوی

چو کارے بے فضول من بر آید

مرا در وے سخن گفتن نشاید

ترجمہ جو کام میرے بات بنائے بدون نکل جائے مجھے اس میں بات نہ کرنی چاہیے

وگر بینم کہ نابینا و چاہ است

اگر خاموش بنشینم گناہ است

ترجمہ اگر میں دیکھوں کہ اندھا ہے اور کنواں اگر پھر چپ بیٹھا رہوں تو گناہ ہے

حکایت (39)

ہارون الرشید را چوں مُلکِ مصر مسلّم103 شد گفتا بخلافِ آں طاغی104 کہ بہ غرورِ مُلکِ مصر105 دعوئے خدائی کرد نہ بخشم ایں مُلک را اِلّا بخسیس تریں بندگاں۔ ہارون الرشید کا جب ملکِ مصر پر اقتدار ہو گیا تو اس نے کہا کہ اس سرکش کے برعکس جس نے صرف ملکِ مصر کے گھمنڈ میں خدائی کا دعوے کیا میں یہ ملک نہیں دوں گا مگر اپنے غلاموں میں سے بھی ادنیٰ ترین کو۔