اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

نشنیدۂ کہ چہ گفت آں کہ از پروردۂ خویش جفا دید کیا تو نے نہیں سنا کہ اس شخص نے جس نے اپنے پروردہ سے بیوفائی دیکھی کیا کہا

قطعہ

یا وفا خود نبود در عالم

یا مگر کس دریں زمانہ نہ کرد

ترجمہ یا وفا کبھی دنیا میں تھی ہی نہیں یا شاید کسی نے اس زمانہ میں کی ہی نہیں ہے

کس نیاموخت علم تیر از من

کہ مرا عاقبت نشانہ نہ کرد

ترجمہ مجھ سے کسی ایسے شخص نے تیراندازی کا علم نہیں سیکھا کہ جس نے انجام کار مجھے ہی نشانہ نہ بنایا

حکایت (29)

درویشے مُجرّد بگوشۂ صحرائے نشستہ بود، پادشاہے بر وے بگذشت۔ ایک فقیر تنہا ایک جنگل کے گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک بادشاہ اس کے پاس سے گذرا۔

درویش از آنجا کہ فراغِ ملکِ قناعت84 ست بدو التفات نہ کرد۔ فقیر نے اس سبب سے کہ فارغ البالی قناعت کی سلطنت ہے اس کی طرف دھیان نہ کیا۔

سلطاں از آنجا کہ سطوتِ سلطنت ست برنجید و گفت ایں طائفۂ خرقہ پوشاں امثالِ بہائم اند، اہلیت و آدمیت ندارند۔ بادشاہ اس سبب سے کہ حکومت کا ایک دبدبہ ہے اس پر بگڑ گیا اور کہنے لگا کہ گدڑی پوشوں کا یہ گروہ جانوروں کی طرح ہے، لیاقت اور انسانیت نہیں رکھتا۔

وزیر نزدیکش آمد و گفت اے جوانمرد، سلطانِ روئے زمین بر تو گذر کرد، خدمتے نہ کردی و شرائطِ ادب بجا نیاوردی۔ وزیر اس کے نزدیک آیا اور کہا اے مرد خدا، روئے زمین کا بادشاہ تیرے پاس سے گذرا، تو نے کوئی خدمت نہ کی اور قواعدِ آداب بجا نہ لایا۔

گفت سلطان را بگوی تا توقعِ خدمت از کسے دارد کہ توقع بہ نعمتِ او دارد۔ اس نے کہا بادشاہ سے کہہ دینا کہ خدمت کی توقع اس سے رکھے جو اس سے انعام کی امید رکھتا ہے۔

دیگر بدانکہ ملوک از بہرِ پاسِ رعیت اند نہ رعیت از بہرِ طاعتِ ملوک۔ اور دوسرے یہ بھی سمجھ لے کہ بادشاہ رعایا کی نگہبانی کے لئے ہیں نہ کہ رعایا بادشاہوں کی تابعداری کے لئے۔

قطعہ

پادشہ پاسبانِ درویش ست

گرچہ رامش بفرّ دولتِ اوست

ترجمہ بادشاہ فقیر کا چوکیدار ہے! اگرچہ اس بادشاہ کی دولت کے دبدبہ کی وجہ سے اس کا تابعدار ہے

گوسپند از برائے چوپاں نیست

بلکہ چوپاں برائے خدمتِ اوست

ترجمہ بھیڑ چرواہے کے لئے نہیں ہے، بلکہ چرواہا اس کی خدمت کے لئے ہے

قطعہ

گر یکے را تو کامراں بینی

دیگرے را دل از مجاہدہ ریش

ترجمہ اگر تو ایک کو بامراد دیکھتا ہے تو دوسرے کا دل محنت و مشقت سے زخمی ہے

روزکے چند باش تا بخورد

خاکِ مغزِ سرِ خیال اندیش

ترجمہ تو تھوڑے دن ٹھہر تاکہ ظالم کے سر کے بھیجے کو مٹی کھا لے

فرقِ شاہی و بندگی برخاست

چوں قضائے نبشتہ آمد پیش

ترجمہ بادشاہی اور غلامی کا فرق مٹ گیا جب لکھی ہوئی تقدیر سامنے آ گئی

گر کسے خاکِ مردہ باز کند

نشناسد توانگر از درویش

ترجمہ اگر کوئی مُردے کی قبر کھولے تو مالدار اور فقیر میں فرق نہیں کر سکتا

ملک را گفتنِ درویش استوار آمد۔ بادشاہ کو فقیر کی بات بھلی معلوم ہوئی۔

گفت از من چیزے بخواہ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے کچھ مانگ۔

گفت آں ہمی خواہم کہ دگر بارہ زحمت بمن ندہی۔ فقیر نے کہا یہی مانگتا ہوں کہ دوبارہ آ کر آپ مجھے تکلیف نہ پہونچائیں۔

گفت مرا پندے دہ۔ بادشاہ نے کہا کچھ نصیحت کر۔

گفت فقیر نے کہا

بیت

دریاب کنوں کہ نعمتت ہست بدست

کیں دولت و ملک میرود دست بدست

ترجمہ کچھ کر لے اس لئے کہ اب نعمت ہاتھ میں ہے اس لئے کہ یہ دولت اور ملک ہاتھوں ہاتھ جاتا ہے

حکایت (30)

یکے از وزرا پیشِ ذوالنون85 مصری رفت و ہمت خواست کہ روز و شب بخدمتِ سلطان مشغول می باشم و بخیرش امیدوار و از عقوبتش ترساں، ایک وزیر حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گیا اور دعا چاہی کہ دن رات بادشاہ کی خدمت میں لگا رہتا ہوں اور اس کی خیر کا امیدوار ہوں اور اس کے غصہ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

ذوالنون بگریست و گفت اگر من خدائے عزّوجلّ را چناں ترسیدمے کہ تو سلطان را از جملۂ صدیقاں بودمے۔ حضرت ذوالنون رو پڑے اور فرمایا اگر میں خدائے غالب اور بزرگ سے ایسا ڈرتا جیسا کہ تو بادشاہ سے ڈرتا ہے تو میرا شمار صدیقوں میں ہوتا۔

قطعہ

گر نبودے امیدِ راحت و رنج

پائے درویش بر فلک بودے

ترجمہ اگر راحت و رنج کی امید نہ ہوتی تو فقیر کا قدم آسمان پر ہوتا

گر وزیر از خدا بترسیدے

ہمچناں کز مَلِک مَلَک بودے

ترجمہ اگر وزیر خدا سے ایسا ڈرتا جیسا کہ بادشاہ سے، تو فرشتہ ہوتا

حکایت (31)

پادشاہے بکُشتنِ اسیرے اشارت کرد۔ ایک بادشاہ نے ایک قیدی کے قتل کا حکم دیا۔

گفت اے مَلِک موجبِ خشمے کہ ترا بر من ست آزارِ خود مجوی کہ ایں عقوبت بر من بیک نفس سَر آید و بزۂ آں بر تو جاوید بماند۔ اُس نے کہا اے بادشاہ اس غصہ کے سبب جو آپ کو مجھ پر ہے اپنے آپ کو نہ ستائیے کہ یہ سزا تو میرے اوپر ایک سانس میں گذر جائے گی لیکن اس کا گناہ آپ پر ہمیشہ رہے گا۔

قطعہ

دورانِ بقا چو بادِ صحرا بگذشت

تلخی و خوشی و زشت و زیبا بگذشت

ترجمہ زندگی کا زمانہ جنگل کی ہوا کی طرح گذر گیا رنج، خوشی، برا، اچھا سب گذر گیا

پنداشت ستمگر کہ جفا بر من کرد

بر گردنِ او بماند و بر ما بگذشت

ترجمہ ظالم سمجھا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا وہ ظلم اس کی گردن پر رہا اور ہم پر گذر گیا

مَلِک را نصیحتِ او سودمند آمد و از سرِ خونِ او در گذشت۔ بادشاہ کو اس کی نصیحت پسند آئی اور اس کا خون معاف کر دیا۔

حکایت (32)

وزرائے نوشیرواں در مہمے86 از مصالح مملکت اندیشہ ہمی کردند و ہر یک از ایشاں دگر گونہ رای ہمی زدند و مَلِک ہمچناں تدبیرے اندیشہ کرد۔ نوشیرواں کے وزیر حکومت کی کسی ضروری مصلحت کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ان میں سے ہر ایک جدا قسم کی رائے دے رہا تھا اور بادشاہ نے بھی اسی طرح ایک تدبیر سوچی۔

بزرجمہر را رائے مَلِک اختیار آمد۔ بزرجمہر کو بادشاہ کی رائے پسند آئی۔

وزیراں در نہانش گفتند رائے مَلِک را چہ مزیّت دیدی بر فکرِ چندیں حکیم وزیروں نے پوشیدہ طور پر اُس سے کہا تونے بادشاہ کی رائے میں اتنے عقلمندوں کی رائے کی بہ نسبت کیا فوقیت دیکھی

گفت بموجبِ آنکہ انجامِ کار معلوم نیست و رائے ہمگناں در مشیّت ست کہ صواب آید یا خطا، پس موافقت رائے مَلِک اولیٰ ترست تا اگر خلافِ صواب آید بعلّتِ متابعت از معاتبت ایمن باشم کہ گفتہ اند اس نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ معاملہ کا نتیجہ تو معلوم نہیں ہے اور سب کی رائے مشیتِ خداوندی کے قبضہ میں ہے کہ ٹھیک بیٹھے یا غلط، تو بادشاہ کی رائے کی ہی موافقت کرنا بہتر ہے تاکہ اگر وہ غلط بھی ہو تو اس کا کہا ماننے کی وجہ سے ناراضی سے بچا رہوں گا کیونکہ عقلمندوں نے کہا ہے

مثنوی

خلاف رائے سلطاں رای جستن

بخون خویش باشد دست شستن

ترجمہ بادشاہ کی رائے کے خلاف رائے قائم کرنا اپنے خون سے ہاتھ دھونا ہے

اگر شہ روز را گوید شب ست ایں

بباید گفت اینک ماہ و پرویں87

ترجمہ اگر بادشاہ دن کو کہے کہ یہ رات ہے تو کہہ دینا چاہیے کہ یہ چاند ہے اور یہ ثریا ہے

حکایت (33)

شیّادے گیسو88 بافت یعنی علوی89 ست و با قافلۂ حجاز بشہر در آمد و چناں نمود کہ از حج می آید و قصیدۂ90 نیکو پیش مَلِک بُرد و دعوی کرد کہ وے گفتہ است۔ ایک مکار نے زلفیں گوندھی یعنی کہ وہ علوی ہے اور حاجیوں کے قافلہ کے ساتھ شہر میں آیا اور یہ ظاہر کیا کہ حج کر کے آ رہا ہے اور ایک اچھا قصیدہ بادشاہ کے سامنے لے گیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے کہا ہے۔

مَلِک نعمتش داد و اکرام کرد و نوازشِ بیکراں فرمود تا یکے از نُدمائے حضرتِ پادشاہ کہ دراں سال از سفر دریا آمدہ بود گفت من او را عیدِ اضحیٰ در بصرہ91 دیدم معلوم شد کہ حاجی نیست۔ بادشاہ نے اس کو انعام دیا اور تعظیم کی اور بے انتہا مہربانی کی یہاں تک کہ بادشاہ کے دربار کے ایک مصاحب نے کہا جو اسی سال دریا کا سفر کر کے آیا تھا کہ میں نے بقر عید کے موقع پر اُس کو بصرہ میں دیکھا تھا تو پتہ چلا کہ وہ حاجی نہیں ہے۔

دیگر گفت من او را شناسم و پدرش نصرانی بود در ملاطیہ92، دوسرے مصاحب نے کہا کہ میں اُس کو پہچانتا ہوں اور اُس کا باپ تو ملاطیہ میں ایک عیسائی تھا،

بدانستند کہ شریف نیست و شعرش را در دیوانِ انوری93 یافتند۔ تو سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ شریف النسب بھی نہیں ہے اور اس کے اشعار انوری کے دیوان میں مل گئے۔