اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

مثنوی

گر گزندت رسد ز خلق مرنج

کہ نہ راحت رسد ز خلق نہ رنج

ترجمہ اگر مخلوق سے تجھے تکلیف پہونچے تو رنجیدہ نہ ہو اس لئے کہ مخلوق کی جانب سے رنج و راحت نہیں پہونچتی ہے

از خدا داں خلافِ دشمن و دوست

کہ دلِ ہر دو در تصرّفِ اوست

ترجمہ دشمن اور دوست کا اختلاف خدا ہی کی طرف سے جان اس لئے کہ دونوں کے دل اسی کے قبضہ میں ہیں!

گرچہ تیر از کماں ہمیگذرد

از کماں دار بیند اہلِ خرد

ترجمہ اگرچہ تیر کمان سے چلتا ہے لیکن عقلمند اسے کمان والے کی طرف سے سمجھتے ہیں!

حکایت (26)

یکے را از ملوکِ عرب شنیدم کہ با متعلقانِ دیوان می گفت کہ مرسومِ فلاں را چندانکہ ہست مضاعف کنید کہ ملازمِ درگاہ است و مترصدِ فرماں، و دیگر خدمتگاراں بہ لہو و لعب مشغول و در ادائے خدمت متہاون۔ میں نے عرب کے ایک بادشاہ کے بارے میں سنا کہ کچہری والوں سے کہہ رہا تھا کہ فلاں شخص کی تنخواہ جس قدر ہے اس سے دوگنی کر دو کیونکہ وہ دربار کا حاضر باش ہے اور حکم کا منتظر رہتا ہے، اور دوسرے خدمت گار کھیل کود میں مشغول اور خدمت کرنے میں سست ہیں۔

صاحبدلے بشنید، فریاد و خُروش از نہادش برآمد۔ ایک صاحب دل نے یہ بات سن لی، فریاد اور شور کرنا شروع کر دیا۔

پرسیدندش کہ چہ دیدی لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ تو نے کیا دیکھا

گفت مراتبِ بندگاں بدرگاہِ خدائے تعالیٰ ہمیں مثال دارد۔ اس نے کہا کہ بندوں کے مرتبے خدا کے دربار میں بھی اسی طرح ہیں۔

نظم

دو بامداد گر آید کسے بخدمتِ شاہ

سُوم ہر آئنہ دروے کند بلطف نگاہ

ترجمہ دو روز صبح کو اگر کوئی بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو تو تیسرے روز بادشاہ اس کو مہربانی سے دیکھے

امید ہست پرستندگانِ مخلص را

کہ ناامید نگردند ز آستانِ الٰہ

ترجمہ اخلاص سے عبادت کرنے والوں کو یہ امید ہے کہ وہ خدا کی چوکھٹ سے ناامید واپس نہ ہوں گے

مثنوی

مہتری در قبولِ فرمان ست

ترکِ فرماں دلیلِ حرمان ست

ترجمہ حکم کے ماننے میں سرداری ہے حکم نہ ماننا محرومی کی دلیل ہے

ہر کہ سیمائے81 راستاں دارد

سرِ خدمت بر آستاں دارد

ترجمہ جو سچوں کی پیشانی رکھتا ہے وہ خدمت گذاری کے لئے سر چوکھٹ پر جھکا کر رکھتا ہے

حکایت (27)

ظالمے را حکایت کنند کہ ہیزمِ درویشاں خریدے بحیف و توانگراں را دادے بہ طرح۔ ایک ظالم کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ وہ غریبوں کی لکڑیاں ظلم سے خریدتا اور نفع کے ساتھ مالداروں کے ہاتھ فروخت کر ڈالتا۔

صاحبدلے برو گذر کرد و گفت ایک صاحب دل اس کے پاس سے گذرا اور کہا

بیت

ماری تو کہ ہر کرا بہ بینی بزنی

یا بُوم کہ ہر کجا نشینی بکنی

ترجمہ تو سانپ ہے کہ جس کو دیکھتا ہے ڈس لیتا ہے یا تُو اُلّو ہے کہ جہاں کہیں بیٹھتا ہے اجاڑ دیتا ہے

قطعہ

زورت ار پیش می رود با ما

با خداوندِ غیب داں نرود

ترجمہ اگر تیرا زور ہم پر چلتا ہے تو غیب کے جاننے والے خدا پر نہیں چلے گا

زورمندی مکن بر اہلِ زمیں

تا دُعائے بر آسماں نرود

ترجمہ زمین والوں پر زبردستی مت کر تاکہ آسمان پر کوئی بددعا نہ جائے

ظالم از گفتنِ او برنجید و روی از نصیحتش درہم کشید و بدو التفات نہ کرد۔ ظالم اس کے کہنے سے رنجیدہ ہو گیا اور اس کی نصیحت سے منہ پھیر لیا اور اس کی طرف توجہ نہ کی۔

اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ اس کو اس کے مرتبے نے گناہ میں مبتلا کر دیا

تا شبے آتشِ مطبخ در انبارِ ہیزم افتاد و سائرِ املاکش بسوخت و از بسترِ نرمش بر خاکستر گرم نشاند۔ یہاں تک کہ ایک رات کو مطبخ کی آگ لکڑیوں کے ڈھیر میں لگ گئی اور اس کی تمام چیزیں جل گئیں اور اس کو نرم بستر سے گرم بھوبل پر لا بٹھایا۔

اتفاقاً ہماں شخص بر وے بگذشت دیدش کہ با یاراں ہمی گفت ندانم کہ ایں آتش از کجا در سرائے من افتاد۔ اتفاقاً وہی شخص اس کے پاس سے گذرا اس کو دیکھا کہ دوستوں سے کہہ رہا تھا نہ معلوم کہ یہ آگ کہاں سے میرے گھر میں لگی۔

گفت از دُودِ دلِ درویشاں اس نے کہا غریبوں کے دل کے دھوئیں سے

قطعہ

حذر کن ز دُودِ دُرونہائے ریش

کہ ریشِ دروں عاقبت سر کند

ترجمہ زخمی دلوں کے دھوئیں سے بچ کیونکہ اندر کا زخم آخر کار ظاہر ہوتا ہے

بہم بر مکن تا توانی دِلے

کہ آہے جہانے بہم بر کند

ترجمہ جب تک ممکن ہو کسی دل کو پریشان نہ کر اس لئے کہ ایک آہ ایک جہان کو پریشان کر دیتی ہے

لطیفہ

بر طاقِ کیخسرو نوشتہ بود کیخسرو کے محراب پر لکھا تھا

قطعہ

چہ82 سالہائے فراواں و عمرہائے دراز

کہ خلق بر سرِ ما در زمیں بخواہد رفت

ترجمہ برسہا برس اور دراز عمر کیا، جب کہ زمین میں دفن ہونے پر مخلوق ہمارے سر پر سے چلے گی

چنانکہ دست بدست آمدست ملک بما

بدستہائے دگر ہمچنیں بخواہد رفت

ترجمہ جیسا کہ ہاتھوں ہاتھ ملک ہمارے پاس آیا ہے اسی طرح دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا

حکایت (28)

یکے در صَنعتِ کشتی گرفتن سر آمدہ بود، سہ صد و شصت بندِ فاخر دانستے و ہر روز ازاں بنوعے کشتی گرفتے۔ ایک شخص کشتی لڑنے کے فن میں مشہور تھا، تین سو ساٹھ (360) قابلِ فخر داؤ جانتا تھا اور ہر روز ان میں سے ایک داؤ سے کشتی لڑتا تھا۔

مگر گوشۂ خاطرش با جمالِ یکے از شاگرداں میلے داشت، سہ صد و پنجاہ و نُہ بندش در آموخت مگر یک بند کہ در تعلیمِ آں دفع انداختے و تاخیر کردے۔ اتفاقاً ایک شاگرد کے حسن پر اس کی طبیعت مائل تھی، تین سو انسٹھ داؤ اس کو سکھا دیئے مگر ایک داؤں کہ اس کے سکھانے میں دیر اور تاخیر کرتا۔

فی الجملہ پسر در قوت و صنعت سر آمد و کسے را در زمانِ او با او امکانِ مقاومت نبودے، خلاصہ یہ کہ وہ لڑکا طاقت اور ہنر میں مشہور ہو گیا اور کسی کو اس کے زمانہ میں اس سے مقابلہ کی طاقت نہ تھی،

تا بحدّیکہ پیشِ ملکِ آں روزگار گفتہ بود کہ اُستاد را فضیلتے کہ بر من ست از روئے بزرگی ست و حقِ تربیت، و گرنہ بقوت ازو کمتر نیستم و بصنعت با او برابرم۔ یہاں تک کہ اس نے اس زمانہ کے بادشاہ سے یہ کہہ دیا تھا کہ اُستاذ کو میرے اوپر جو کچھ بڑائی حاصل ہے وہ بزرگی اور پرورش کے حق کی وجہ سے ہے، ورنہ میں قوت میں اس سے کم نہیں ہوں اور فن میں اس کے برابر ہوں۔

ملک را ایں سخن دشوار آمد، فرمود تا مصارعت کنند۔ بادشاہ کو یہ بات گراں گذری، اس نے کشتی لڑنے کا حکم دیدیا۔

مقامے متّسع ترتیب کردند و ارکانِ دولت و اعیانِ حضرت و زورآورانِ روئے زمین حاضر شدند۔ ایک وسیع میدان تیار کیا اور حکومت کے عہدیدار اور دربار کے سردار اور تمام دنیا کے پہلوان جمع ہو گئے۔

پسر چوں پیلِ مست در آمد بصدمتے کہ اگر کوہِ روئیں83 بودے از جائے برکندے۔ لڑکا مست ہاتھی کی طرح ایسے زور کے ساتھ نکلا کہ اگر کانسی کا پہاڑ بھی ہوتا تو اکھاڑ پھینکتا۔

استاد دانست کہ جواں بقوّت ازو برتر ست، استاد سمجھ گیا کہ لڑکا قوت میں اس سے بڑھا ہوا ہے،

بداں بندِ غریب کہ ازوے پنہاں داشتہ بود باوی درآویخت۔ اس عجیب و غریب داؤں سے جو کہ اس سے چھپا رکھا تھا اس کے ساتھ بھڑ گیا۔

پسر دفعِ آں ندانست، بہم برآمد۔ لڑکا اس کا توڑ نہ سمجھا، پریشان ہو گیا۔

استاد از زمینش بدو دست بالائے سر بُرد و بر زمین زد۔ استاد نے اس کو دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر اٹھا لیا اور زمین پر پٹخ دیا۔

غریو از خلق برخاست۔ لوگوں میں شور مچ گیا۔

ملک فرمود اُستاد را خلعت و نعمت دادن و پسر را زجر فرمود و مُلامت کرد کہ با پرورندۂ خویش دعویٰ مقاومت کردی و بسر نبردی۔ بادشاہ نے استاد کو جوڑا اور انعام دینے کا حکم فرمایا اور لڑکے کو جھڑکا اور ملامت کی کہ تو نے اپنے پالنے والے کے ساتھ مقابلہ کا دعویٰ کیا اور پھر کچھ نہ کر سکا۔

گفت اے پادشاہِ روئے زمین، بزور آوری بر من دست نیافت، اس نے کہا اے روئے زمین (تمام دنیا) کے بادشاہ، وہ اپنی طاقت کی وجہ سے مجھ سے نہیں جیتا،

بلکہ مرا از علمِ کُشتی دقیقہ ماندہ بود و ہمہ عمر از من دریغ می داشت، امروز بداں دقیقہ بر من غالب آمد۔ بلکہ مجھ سے کشتی کے فن کا ایک پیچ باقی تھا اور وہ تمام عمر اس کے سکھانے سے بچاتا رہا، آج اسی پیچ سے وہ مجھ پر غالب آ گیا۔

گفت از بہرِ چنیں روزے نگہ میداشتم، اس نے کہا اسی دن کے لئے میں نے اس کو بچا رکھا تھا،

کہ زِیرکاں گفتہ اند دوست را چنداں قوّت مدہ کہ اگر دشمنی کند تواند۔ کہ عقلمندوں نے کہا ہے دوست کو اتنی طاقت نہ دے کہ اگر وہ دشمنی کرے تو کر سکے۔