اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

سلطاں را دل ازیں سخن بہم برآمد و آب در دیدہ بگردانید و گفت ہلاکِ من اولیٰ تر کہ خون چنیں طِفلے ریختن بے گناہ۔ یہ بات سن کر بادشاہ کا دل بھر آیا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے اور کہنے لگا ایسے بے قصور لڑکے کے خون بہانے سے میرا مرنا ہی بہتر ہے۔

سر و چشمش بوسید و در کنار گرفت و آزاد کرد و نعمت بے اندازہ بخشید۔ اس کے سر اور آنکھوں کا بوسہ لیا اور بغل گیر ہوا اس کو چھوڑ دیا اور بے اندازہ دولت دے دی۔

گویند ہمدراں ہفتہ صحت یافت۔ لوگ کہتے ہیں بادشاہ اسی ہفتہ تندرست ہوگیا۔

قطعہ

ہمچناں در فکرِ آں بیتم کہ گفت

پیلبانے بر لبِ دریائے نیل72،

ترجمہ میں اسی طرح اس شعر میں لگا ہوں! جو ایک فیل بان نے دریائے نیل کے کنارہ پر کہا تھا

زیر پایت گر بدانی حالِ مور

ہمچو حالِ تست زیرِ پائے پیل

ترجمہ اگر تو اپنے پیر تلے کی چیونٹی کا حال جاننا چاہے، وہ ایسا ہے جیسا کہ تیرا حال ہاتھی کے پیر تلے

حکایت (24)

یکے از بندگانِ عمرو لیث73 گریختہ بود، عمرو لیث کے غلاموں میں سے ایک غلام بھاگ گیا تھا،

کساں در عقبش برفتند و بازآوردند۔ لوگ اس کے پیچھے لگے اور اس کو واپس لے آئے۔

وزیر را باوے غرضے بود، اشارت بکشتنش کرد تا دیگر بندگاں چنیں فعل نیارند۔ وزیر کو اس سے دشمنی تھی، اس نے اس کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا تاکہ دوسرے غلام ایسی حرکت نہ کریں۔

بندہ سر پیش عمرو لیث بر زمیں نہاد و گفت غلام نے عمرو لیث کے سامنے زمین پر سر رکھ دیا اور کہا

فرد

ہرچہ رود بر سرم چوں تو پسندی رواست

بندہ چہ دعویٰ کند حکم خداوند راست

ترجمہ جب تو پسند کرے تو جو بھی میرے سر پہ گذرے وہ درست ہے غلام کیا دعویٰ کرے حکم تو آقا ہی کا ہے!

لیکن بموجبِ آنکہ پروردۂ نعمتِ ایں خاندانم نخواہم کہ در قیامت بخونِ من گرفتار آئی، لیکن چونکہ میں اس خاندان کی نعمتوں کا پلا ہوا ہوں تو میں یہ نہیں چاہتا کہ جناب میرے خون کے عوض قیامت میں گرفتار ہو کر آئیں،

اجازت فرمائی تا وزیر74 را بکشتم پس آنگہ بقصاصِ او بفرمائی خونِ من ریختن تا بحق کشتہ باشی۔ آپ اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں اس وزیر کو مار ڈالوں پھر اس کے عوض میرے قتل کا حکم دیدیں تاکہ آپ کا قتل کرانا بجا ہو جائے۔

ملک را خندہ گرفت وزیر را گفت چگونہ مصلحت می بینی بادشاہ ہنس پڑا اور وزیر سے کہا اب تیری کیا رائے ہے

وزیر گفت اے خداوندِ جہاں مصلحت آں می بینم کہ از بہرِ خدا و صدقۂ گورِ پدر اورا آزاد کنی تا مرا نیز در بلائے نیفگند۔ وزیر نے کہا اے شاہِ عالم میری رائے میں مناسب یہ ہے کہ خدا کے لئے اور اپنے باپ کی قبر کے صدقے میں اس کو آزاد کر دیجئے تاکہ یہ مجھے کسی بلا میں نہ پھنسا دے۔

گناہ از من75 ست قصور میرا ہی ہے

و قولِ حکیماں معتبر کہ گفتہ اند اور عقلمندوں کی بات بھروسہ کی ہے جو انہوں نے کہا ہے

قطعہ

چو کردی با کلوخ انداز پیکار

سرِ خود را بہ نادانی شکستی

ترجمہ جب ڈھیلے بازے تو نے لڑائی مول لی! تو خود ہی بے وقوفی سے تو نے اپنے سر کو پھوڑا

چو تیر انداختی بر روی دشمن

چناں داں کاندر آماجش76 نشستی

ترجمہ جب تُو نے کسی دشمن پہ تیر چلایا تو اس کو بھی جان لے کہ تُو بھی اس کے نشانہ پہ ہے

حکایت (25)

ملکِ زوزن77 را خواجہ بود کریم النفس نیک محضر کہ ہمگناں را در مواجہ حرمت داشتے و در غَیبت نکو گفتے۔ زوزن کے بادشاہ کا ایک وزیر تھا جو شریف اور نیک طبیعت تھا جو تمام انسانوں کی آمنے سامنے عزت کرتا اور پیٹھ پیچھے بھی تعریف کرتا۔

اتفاقاً ازو حرکتے در نظر ملک ناپسند آمد، مصادرت فرمود و عقوبت کرد۔ اتفاقاً اس کی کوئی حرکت بادشاہ کی نظر میں ناپسند معلوم ہوئی، اس نے جرمانہ کر دیا اور سزا کر دی۔

و سرہنگانِ بادشاہ بسوابق نعمتِ او معترف بودند و بہ شکرِ آں مُرتہن، در مدّتِ توکیلِ او رِفق و مُلاطفت کردندے و زجر و مُعاقبت روا نداشتندے۔ اور بادشاہ کے سپاہی اس کے پہلے احسانوں کے اقراری تھے اور اس کے شکریہ میں گروی تھے، اس کی سپردگی کے زمانہ میں وہ سپاہی اس کے ساتھ نرمی اور مہربانی کرتے اور جھڑکنا اور سزا دینا مناسب نہ سمجھتے۔

قطعہ

صلح با دشمن اگر خواہی ہر گہ ترا

در قفا عیب کند در نظرش تحسیں کن

ترجمہ تو اگر دشمن سے صلح چاہتا ہے تو جب وہ پیٹھ پیچھے تیری برائی کرے تو اس کے سامنے اس کی بھلائی بیان کر

سخن آخر بدہاں میگذرد موذی را

سخنش تلخ نخواہی دہنش شیریں کن

ترجمہ بات آخر موذی کے منہ ہی سے ہو کر نکلتی ہے! اگر تو اس کی کڑوی بات نہیں سننا چاہتا تو اس کا منہ میٹھا کر

آنچہ خطابِ ملک بود از عہدۂ بعضے بیروں آمد و بہ بقیتے در زنداں بماند۔ بادشاہ نے جو الزامات لگائے تھے ان میں سے بعض سے وہ بری قرار ہو گیا اور باقی الزامات کی وجہ سے قیدخانہ میں رہا۔

آوردہ اند کہ یکے از ملوکِ نواحی در خفیہ پیغامش فرستاد کہ ملوکِ آں طرف قدرِ چناں بزرگوار ندانستند و بے عزتی کردند۔ بیان کرتے ہیں کہ اطراف کے کسی بادشاہ نے پوشیدہ طور پر اس کے پاس پیغام بھیجا کہ اس طرف کے بادشاہوں نے آپ جیسے بزرگوار کی قدر نہ جانی اور توہین کی۔

اگر رائے عزیزِ فلاں احسن اللہ خلاصہ78 بجانبِ ما التفاتے کند در رعایتِ خاطرش ہرچہ تمامتر سعی کردہ آید۔ اگر فلاں عزیز (یعنی آپ کی) رائے (احسن اللہ خلاصہ‌خدا بہتر طریقہ پر آپ کو رہائی دے) ہماری جانب متوجہ ہو تو آپ کی دلداری کی ہر ممکن طریقہ پر کوشش کی جائے گی۔

و اعیانِ ایں مملکت بدیدارِ او مفتقرند79 و جوابِ ایں حروف را منتظر۔ اور اس حکومت کے ذمہ دار آپ کے دیدار کے آرزومند ہیں اور ان حرفوں کے جواب کے منتظر ہیں۔

خواجہ چوں بریں وقوف یافت از خطر80 اندیشید و در حال جوابے مختصر کہ اگر بر ملا افتد فتنہ نباشد بر قفائے ورق نوشت و رواں کرد۔ وزیر کو جب اس کی خبر ہوئی تو خطرہ کا احساس کیا اور فوراً ایسا مختصر جواب اس پرچہ کی پشت پر لکھ کر روانہ کر دیا کہ اگر اس کی کسی کو خبر بھی ہو جائے تو کوئی فتنہ نہ پیدا ہو۔

یکے از متعلقاں کہ بریں واقف بود ملک را اِعلام کرد کہ فلاں را کہ حبس فرمودۂ با ملوکِ نواحی مراسلت دارد۔ متعلقین میں سے کسی نے جو اس راز سے باخبر تھا بادشاہ کو اطلاع کر دی کہ فلاں جس کو آپ نے قید کیا ہے اطراف کے بادشاہوں سے خط و کتابت رکھتا ہے۔

ملک بہم برآمد و کشفِ ایں خبر فرمود۔ بادشاہ کو غصہ آیا اور اس بات کی تحقیق شروع کر دی۔

قاصد را بگرفتند و رسالت برخواندند، قاصد کو لوگوں نے گرفتار کر لیا اور خط پڑھا،

نبشتہ بود کہ حُسنِ ظنِ بزرگاں بیش از فضیلتِ ماست، اس میں یہ لکھا تھا کہ بزرگوں کا حُسنِ ظن ہماری فضیلت سے زیادہ ہے،

و تشریفِ قبولے کہ فرمودند بندہ را امکانِ اجابتِ آں نیست بحکمِ آنکہ پروردۂ نعمتِ ایں خاندان ست، اور قبول کرنے کی جو نوازش فرمائی ہے اس کا قبول کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے کہ میں اس خاندان کی نعمت کا پروردہ ہوں،

و باندک مایہ تغیرِ خاطرے باولی نعمتِ قدیم بے وفائی نتواں کرد۔ اور طبیعت کی ذرا سی رنجش کی وجہ سے قدیم ولی نعمت سے بے وفائی نہیں کی جا سکتی۔

فرد

آں را کہ بجائے تست ہر دم کرمے

عذرش بنہ ار کند بعمرے ستمے

ترجمہ جس کا تیرے اوپر ہر دم ایک کرم ہے اگر وہ تمام عمر میں ایک ظلم کر دے تو اس کو معذور سمجھ

ملک را سیرتِ حق شناسیِ او خوش آمد و خلعت و نعمت بخشید و عُذر خواست کہ خطا کردم کہ ترا بے جُرم و خطا بیازردم۔ بادشاہ کو اس کی حق شناسی کی عادت پسند آئی اور جوڑا اور انعام عطا کیا اور معذرت چاہی کہ مجھ سے قصور ہوا کہ تجھے بے خطا و بے جرم میں نے ستایا۔

گفت اے خداوند، بندہ دریں حالت مر خداوند را خطائے نمی بیند، بلکہ تقدیرِ خداوند تعالیٰ چنیں بود کہ مرایں بندہ را مکروہے رسد۔ اس نے کہا اے آقا، غلام اس حالت میں آقا کی کچھ خطا نہیں سمجھتا، ہاں تقدیرِ خداوندی ہی ایسی تھی کہ اس غلام کو کوئی تکلیف پہونچے۔

پس بدستِ تو اولیٰ تر کہ حقوقِ سوابقِ نعمت بریں بندہ داری و ایادیِ مِنّت، تو وہ تکلیف جناب کے ہاتھوں زیادہ بہتر تھی اس لئے کہ اس غلام پر جناب کی پہلی نعمتوں کے حقوق اور احسان کی نعمتیں ہیں،

و حکما گفتہ اند اور عقلمندوں نے کہا ہے