اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

حکایت (20)

آوردہ اند کہ نوشیروانِ عادل را در شکار گاہے صیدے کباب می کردند و نمک نہ بود۔ بیان کیا جاتا ہے کہ منصف نوشیرواں کے لئے ایک شکار گاہ میں ایک شکار کے کباب تیار کر رہے تھے اور نمک نہ تھا۔

غلامے بروستا دوانیدند تا نمک آرد۔ انہوں نے ایک نوکر گاؤں کو روانہ کیا تاکہ نمک لے آئے،

نوشیرواں گفت بہ قیمت بستاں تا رسمے نگردد و دہ خراب نہ شود۔ نوشیرواں نے حکم دیا دام دے کر لانا کہیں یہ رسم نہ پڑ جائے اور گاؤں تباہ نہ ہو جائے۔

گفتند ازیں قدر چہ خلل زاید لوگوں نے کہا اتنے سے نمک سے کیا نقصان پیدا ہوگا

گفت بنیادِ ظلم اندر جہاں اول اندک بودہ است و ہر کس کہ آمد براں مزید کرد تا بدیں غایت رسید۔ اس نے کہا ظلم کی بنیاد دنیا میں پہلے تھوڑی ہی سی تھی پھر جو بھی آیا اُس نے اُس میں اضافہ کیا یہاں تک کہ اس درجہ کو پہونچ گئی۔

قطعہ

اگر ز باغِ رعیت مَلِک خورد سیبے

برآورند غلامانِ او درخت از بیخ

ترجمہ اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب کھائے تو اُس کے نوکر جڑ سے درخت ہی اکھاڑ ڈالیں گے

بہ پنج بیضہ کہ سلطاں ستم روا دارد

زنند لشکریانش ہزار مرغ بہ سیخ

ترجمہ اگر بادشاہ پانچ انڈے کا ظلم جائز سمجھے تو اُس کے سپاہی ہزار مرغ کو سیخ پر چڑھا دیں گے

حکایت (21)

عاملے را شنیدم کہ خانۂ رعیت خراب کردے تا خزینۂ سلطان آباداں کند بے خبر از قولِ حکما کہ گفتہ اند ہر کہ خدائے عزّ و جلّ را بیازارد تا دلِ خلقے بدست آرد خداوند تعالیٰ ہماں خلق65 برو برگمارد تا دمار از روزگارش برآرد۔ ایک حاکم کے بارے میں میں نے سنا کہ رعایا کے گھروں کو تباہ کرتا تاکہ بادشاہ کے خزانہ کو بھرے عقلمندوں کے قول سے بے خبر کہ انہوں نے کہا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو رنجیدہ کرے تاکہ مخلوق کو راضی کرے تو اللہ تعالیٰ اُسی مخلوق کو اُس پر مسلط کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کو تباہ کر دے۔

بیت

آتشِ سوزاں نہ کند با سپند66

انچہ کند دُودِ دل مستمند

ترجمہ جلتی ہوئی آگ کالے دانے کے ساتھ وہ نہیں کرتی جو کسی دل جلے کے دل کا دھواں کرتا ہے!

سرِ جملۂ حیوانات گویند کہ شیر ست و اذلّ جانوراں خر و باتفاق خرِ بار بر بہ کہ شیرِ مردم در۔ لوگ کہتے ہیں کہ شیر تمام حیوانات کا سردار ہے اور گدھا تمام جانوروں میں ذلیل ترین اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مردم خور شیر سے بوجھ اُٹھانے والا گدھا بہتر ہے۔

مثنوی

مسکین خر اگرچہ بے تمیزست

چوں بار ہمی برد عزیزست

ترجمہ بے چارہ گدھا اگرچہ بے تمیز ہے چونکہ بوجھ اُٹھاتا ہے لہٰذا پیارا ہے

گاوان و خرانِ بار بردار

بہ ز آدمیان مردم آزار

ترجمہ بوجھ اُٹھانے والے گدھے اور بیل آدمیوں کو ستانے والے انسانوں سے بہتر ہیں

باز آمدیم بہ حکایتِ وزیرِ غافل ہم اُس غافل وزیر کے قصہ کی طرف پھر آتے ہیں

گویند مَلِک را طرفے از ذمائمِ اخلاقِ او بقرائن معلوم گشت۔ لوگ کہتے ہیں کہ بادشاہ کو اس کے تھوڑے سے برے اخلاق کسی قرینے سے معلوم ہو گئے۔

در شکنجہ67 کشید و بانواعِ عقوبت بکشت۔ اُس کو شکنجہ میں کھینچ دیا اور طرح طرح کی سزا دیکر مار ڈالا۔

قطعہ

حاصل نشود رضائے سلطاں

تا خاطرِ بندگاں نہ جوئی

ترجمہ بادشاہ کی رضامندی اُس وقت تک حاصل نہیں ہوگی جب تک تو بندگانِ خدا کی دلجوئی نہ کرے

خواہی کہ خدای بر تو بخشد

با خلقِ خدای کن نکوئی

ترجمہ اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تجھ پر مہربان ہو تو تُو اللہ کی مخلوق سے بھلائی کر،

آوردہ اند کہ یکے از ستمدیدگاں بر سر او بہ گذشت و در حالِ تباہِ وے تامل کرد و گفت لوگوں نے بیان کیا ہے کہ مظلوموں میں سے کوئی اُس کے پاس سے گذرا اور اس کے تباہ حال کو غور سے دیکھا اور کہا

قطعہ

نہ ہر کہ قوتِ بازوئے منصبے دارد

بسلطنت بخورد مالِ مردماں بگزاف

ترجمہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو کسی عہدہ کی وجہ سے بازو میں قوت رکھتا ہو تو طاقت کے بل پر خواہ مخواہ لوگوں کا مال کھا جائے

توان بحلق فرو بردن استخوانِ درشت

ولے شکم بدرد چوں بگیرد اندر ناف

ترجمہ سخت ہڈی کو گلے سے اتارا جا سکتا ہے! لیکن جب وہ ناف میں پہونچے گی پیٹ پھاڑ ڈالے گی!

بیت

نماند ستمگارِ بد روزگار

بماند برو لعنتِ پائیدار

ترجمہ بد اطوار ظالم نہیں رہتا لیکن اس پر مستقل لعنت باقی رہتی ہے

حکایت (22)

مردم آزارے را حکایت کنند کہ سنگے بر سرِ صالحے زد۔ ایک مردم آزار کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے ایک پتھر ایک نیک آدمی کے سر پر مارا۔

درویش را مجالِ انتقام نہ بود سنگ را نگاہ می داشت تا زمانے کہ مَلِک را براں لشکری خشم آمد و در چاہ کرد۔ اُس فقیر میں بدلہ لینے کی طاقت نہ تھی وہ پتھر کو محفوظ رکھتا رہا اس وقت تک کہ بادشاہ کو اُس سپاہی پر غصہ آیا اور اُس کو کنوئیں میں قید کر دیا۔

درویش اندر آمد و سنگ بر سرش کوفت۔ فقیر اس جگہ پہونچا اور اس سپاہی کے سر پر پتھر مارا۔

گفتا تو کیستی و ایں سنگ چرا زدی اُس نے کہا تو کون ہے اور تو نے پتھر کیوں مارا

گفت من فلانم و ایں ہماں سنگ ست کہ در فلاں تاریخ بر سرِ من زدی۔ اس نے کہا میں فلاں ہوں اور یہ وہی پتھر ہے جو فلاں تاریخ کو تو نے میرے سر پر مارا تھا۔

گفت چندیں روزگار کجا بودی اس نے کہا تو اتنے زمانہ تک کہاں تھا۔

گفت از جاہت اندیشہ می کردم اکنوں کہ در چاہت دیدم فرصت غنیمت دانستم۔ فقیر بولا میں تیرے عہدہ سے ڈرتا تھا اب جبکہ میں نے تجھے کنوئیں میں قید دیکھا تو موقع مناسب سمجھا!

مثنوی

ناسزائے را کہ بینی بختیار

عاقلاں تسلیم کردند اختیار

ترجمہ جب تو کسی نالائق کو نصیبہ ور دیکھے (تو چپ رہنا چاہئے کہ)، عقلمندوں نے ایسے موقع پر تابعداری اختیار کی ہے

چوں نداری ناخنِ درندہ تیز

با بداں آں بہ کہ کم گیری ستیز

ترجمہ جب تو پھاڑنے والے تیز ناخن نہیں رکھتا تو بہتر یہ ہے کہ بُروں سے لڑائی نہ مول لے

ہر کہ با فولاد بازو پنجہ کرد

ساعدِ سیمین خود را رنجہ کرد

ترجمہ جس نے فولادی بازو والے سے پنجہ لڑایا اس نے اپنے چاندی کے سے نازک پہونچے کو ستایا

باش تا دستش ببندد روزگار

پس بکامِ دوستاں مغزش برآر

ترجمہ اُس وقت تک ٹھہر جب تک زمانہ اُس کے ہاتھ باندھ دے پھر دوستوں کے اقبال سے اس کا بھیجا نکال دے

حکایت (23)

یکے را از ملوک مرضے ہائل بود کہ اعادتِ ذکرِ آں ناکردن اولیٰ۔ ایک بادشاہ کو ایک ایسا خوفناک مرض تھا جس کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

طائفۂ از حکمائے یونان متفق شدند کہ مر ایں درد را دوائے نیست مگر زہرۂ آدمی کہ بہ چندیں صفت موصوف باشد۔ یونانی حکیموں کا ایک گروہ اس بات پر متفق ہو گیا کہ اس مرض کی کوئی دوا نہیں بجز ایسے آدمی کے پتہ کے جو اتنی صفات رکھتا ہو۔

بفرمود طلب کردن۔ بادشاہ نے تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔

دہقاں68 پسرے را یافتند براں صورت کہ حکیماں69 گفتہ بودند۔ لوگوں نے ایک چودھری کے لڑکے کو انہی صفات کا پایا جو حکیموں نے بتائی تھیں۔

پدر و مادرش را بخواندند و بہ نعمتِ بے کراں خوشنود گردانیدند و قاضی فتویٰ70 داد کہ خونِ یکے از رعیت ریختن سلامتِ نفسِ پادشہ را روا باشد۔ اس کے ماں باپ کو بلایا اور بے شمار دولت دے کر ان کو راضی کر لیا اور قاضی نے فتویٰ دیدیا کہ بادشاہ کی جان کی سلامتی کی خاطر رعیت کے ایک آدمی کا خون بہانا جائز ہے۔

جلاد71 قصد کرد۔ جلاد نے قتل کا ارادہ کیا۔

پسر سر سوئے آسماں برآورد و تبسم کرد۔ لڑکے نے آسمان کی طرف سر اُٹھایا اور مسکرایا۔

ملک پرسید کہ دریں حالت چہ جائے خندیدن ست بادشاہ نے دریافت کیا کہ یہ ہنسنے کا کیا موقع ہے

گفت نازِ فرزند بر پدر و مادر باشد و دعویٰ پیش قاضی برند و داد از پادشاہ خواہند۔ اس نے کہا اولاد کا ناز ماں اور باپ پر ہوتا ہے اور دعویٰ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں اور انصاف بادشاہ سے چاہتے ہیں۔

اکنوں پدر و مادر بعلّتِ حطامِ دنیا مرا بخوں در سپردند و قاضی بکشتنم فتویٰ داد و سلطاں مصالح خویش اندر ہلاکِ من می بیند، بجز خدائے عزّوجلّ پناہے نمی بینم۔ اب ماں باپ نے دنیا کی دولت کے سبب مجھے قتل کرنے کیلئے دیدیا اور قاضی نے میرے قتل کا فتویٰ دیدیا اور بادشاہ اپنی بھلائی میرے قتل میں سمجھتا ہے، سوائے خدائے غالب اور بزرگ کے میں اب کوئی پناہ نہیں دیکھتا ہوں۔

بیت

پیش کہ برآورم ز دستت فریاد

ہم پیش تو از دست تو میخواہم داد

ترجمہ تیرے متعلق کس کے سامنے فریاد لے جاؤں تیرے متعلق تجھی سے انصاف چاہتا ہوں