گفت آں چناں کہ تو گفتی طائفہ حسد بردند و بہ خیانتم منسوب کردند و ملک دَامَ مُلْکُہٗ در کشفِ حقیقتِ آں استقصا نفرمود۔ اُس نے کہا جیسا کہ جناب نے فرمایا تھا ایک گروہ نے حسد پیدا کیا اور مجھ پر خیانت کا الزام لگا دیا اور بادشاہ سلامت نے اُس کی حقیقت کی جستجو میں پوری کوشش نہ فرمائی۔
و یارانِ قدیم و دوستانِ حمیم از کلمۂ حق خاموش شدند و صحبتِ دیریں فراموش کردند۔ اور پرانے ساتھی اور پکے دوست سچ بات کہنے سے خاموش ہو گئے اور پرانی دوستی کو بھلا بیٹھے۔
قطعہ
|
نہ بینی کہ پیشِ خداوندِ جاہ |
ستایش کناں دست بر بر نہند |
|
ترجمہ کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ صاحبِ رتبہ انسان کے آگے لوگ تعریف کرتے ہوئے سینہ پر ہاتھ رکھتے ہیں |
|
|
اگر روزگارش درآرد ز پای |
ہمہ عالمش پای بر سر نہند |
|
ترجمہ اگر زمانہ اُس کو گرا دیتا ہے تو تمام دنیا اس کے سر پر پاؤں رکھ دیتی ہے |
|
فی الجملہ بانواعِ عقوبت گرفتار شدم تا دریں ہفتہ کہ مُژدۂ سلامتِ حجاج برسید از بندِ گرانم خلاص کرد و مُلکِ موروثم خاص۔ خلاصہ یہ کہ میں طرح طرح کی سزاؤں میں گرفتار ہوا۔ یہاں تک کہ اسی ہفتہ جب حاجیوں کی خیریت کی خوشخبری پہونچی تو مجھے بھاری بیڑیوں سے نکالا اور میری اپنی جائداد مجھے دی۔
گفتم دراں نوبت اشارتِ من قبولت نیامد کہ گفتم عملِ پادشاہاں چوں سفرِ دریاست خطرناک و سود مند یا گنج برگیری یا در طلسم53 بمیری۔ میں نے کہا اس وقت تو نے میرا مشورہ نہ مانا کہ میں نے تجھ سے کہا تھا کہ بادشاہوں کی نوکری دریائی سفر کی طرح ہے خطرناک اور مفید یا تو خزانہ ہی حاصل کرے گا یا بھنور میں مرے گا۔
قطعہ
|
ندانستی کہ بینی بند بر پای |
چو در گوشت نیاید پندِ مردم |
|
ترجمہ تو یہ نہ سمجھا کہ تو اپنے پیر میں بیڑی پڑی دیکھے گا اگر تیرے کان میں انسانوں کی نصیحت نہیں پڑتی ہے |
|
|
دگر رہ گر نداری طاقتِ نیش |
مکن انگشت در سوراخ کژدم |
|
ترجمہ اگر تجھ میں دوبارہ ڈنک کھانے کی طاقت نہیں ہے تو بچھو کے سوراخ میں انگلی نہ ڈال |
|
حکایت (18)
تنے چند از روندگان در صحبتِ من بودند ظاہر ایشاں بصلاح آراستہ۔ تصوف کا راستہ طے کرنے والے کچھ لوگ میرے پاس تھے اُن کی ظاہری حالت نیکی سے آراستہ تھی۔
و یکے را از بزرگاں در حقِ ایں طائفہ حسنِ ظنے بلیغ بود و اِدرارے معین کرد۔ اور بڑے آدمیوں میں سے ایک شخص کو اس گروہ سے بہت حسنِ ظن تھا اس نے ان کا روزینہ مقرر کر دیا۔
تا یکے از ایشاں حرکتے کرد نہ مناسبِ حالِ درویشاں ظنِ آں شخص فاسد و بازارِ ایناں54 کاسد۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے ایسی حرکت کر دی جو فقیروں کے شایانِ شان نہ تھی اُس شخص کو بدظنی ہو گئی اور اِن کا بازار ٹھنڈا پڑ گیا۔
خواستم تا بطریقے کفافِ یاراں مستخلص گردانم۔ میں نے چاہا کہ کسی طریقے پر ان دوستوں کا (ضبط شدہ) روزینہ چھڑا لوں۔
آہنگِ خدمتش کردم دربانم رہا نہ کرد و جفا کرد۔ میں نے اس کے دربار میں جانے کا ارادہ کیا مجھے دربان نے نہ جانے دیا اور بدتمیزی سے پیش آیا۔
معذورش داشتم کہ لطیفاں گفتہ اند میں نے اس دربان کو معذور سمجھا اس لئے کہ خوش طبع لوگوں نے کہا ہے
قطعہ
|
درِ میر و وزیر و سلطاں را |
بے وسیلت مگرد پیرامن |
|
ترجمہ امیر اور وزیر اور بادشاہ کے دروازہ کا، بدون کسی وسیلہ کے چکر نہ کاٹ |
|
|
سگ و درباں چو یافتند غریب |
ایں گریبانش گیرد آں دامن |
|
ترجمہ اس لئے کہ کتا اور دربان جب کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو یہ گریبان پکڑتا ہے اور وہ دامن |
|
چندانکہ مقربانِ حضرتِ آں بزرگ بر حالِ من وقوف یافتند و باکرام درآوردند و برتر مقامے معین کردند اما بتواضع فروتر نشستم و گفتم یہاں تک کہ ان صاحب کے درباری مقربوں کو میرا علم ہو گیا اور وہ عزت کے ساتھ وہ اندر لے گئے اور ایک اونچی جگہ میرے لئے مقرر کی لیکن میں تواضع میں نیچے بیٹھا اور میں نے کہا
فرد
|
بگذار کہ بندۂ کمینم |
تا در صفِ بندگاں نشینم |
|
ترجمہ مجھے رہنے دیجئے میں تو ایک ادنیٰ غلام ہوں تاکہ غلاموں کی صف میں بیٹھوں |
|
گفت اللہ اللہ55 چہ جائے سخن ست اُس نے کہا سبحان اللہ آپ یہ کیا فرما رہے ہیں
فرد
|
گر بر سر و چشمِ من نشینی |
نازت بکشم کہ نازنینی |
|
ترجمہ اگر میری آنکھوں اور سر پر بھی آپ تشریف فرما ہوں گے تو میں آپ کی نازبرداری کروں گا کیونکہ آپ نازنین ہیں |
|
فی الجملہ نشستم و از ہر درے سخن پیوستم تا حدیثِ زلتِ56 یاراں درمیان آمد و گفتم خلاصۂ کلام یہ کہ میں بیٹھ گیا اور چاروں طرف سے بات سمیٹ کر لایا یہاں تک کہ دوستوں کی غلطی کی بات آ گئی اور میں نے کہا
قطعہ
|
چہ جرم دید خداوند سابق الانعام |
کہ بندہ در نظرِ خویش خوار میدارد |
|
ترجمہ پہلے سے انعام و اکرام کرتے چلے آنے والے آقا نے کیا خطا دیکھی جو غلام کو اپنی نظر میں ذلیل سمجھتا ہے |
|
|
خدائے راست مسلّم بزرگواری و حلم |
کہ جُرم بیند و ناں برقرار میدارد |
|
ترجمہ بڑائی اور بردباری خدا ہی کے لئے مسلّم ہے جو خطا دیکھتا ہے اور روٹی دیتا رہتا ہے |
|
حاکم را ایں سخن پسندیدہ آمد و اسبابِ معاشِ یاراں فرمود تا باز بر قاعدۂ ماضی مہیا دارند و مونتِ ایامِ تعطیل57 وفا کنند۔ حاکم کو یہ بات پسند آ گئی اور دوستوں کے گذارے کے اسباب کا حکم فرما دیا تاکہ پرانے قاعدہ کے مطابق پھر بند و بست کر دیں اور معطلی کے زمانہ کا خرچ بھی ادا کر دیں۔
شکرِ نعمت بگفتم و زمینِ خدمت58 بوسیدم و عذرِ جسارت59 بخواستم و گفتم میں نے اُس کے انعام کا شکریہ ادا کیا اور دربار کی زمین کو بوسہ دیا اور اپنی اس جرأت کی معافی چاہی اور کہا
قطعہ
|
چو کعبہ قبلۂ60 حاجت شد از دیارِ بعید |
روند خلق بدیدارش از بسے فرسنگ |
|
ترجمہ چونکہ کعبہ حاجت کا قبلہ بن گیا ہے اس لئے لوگ دور دراز ملکوں سے اس کی زیارت کو بہت سے کوسوں کا فاصلہ طے کر کے جاتے ہیں |
|
|
ترا تحمّلِ امثالِ ما باید کرد |
کہ ہیچکس نزند بر درختِ بے بر سنگ |
|
ترجمہ تجھے ہم جیسوں کی برداشت کرنی چاہیے اس لئے کہ بے پھل کے درخت پر کوئی ڈھیلا نہیں مارتا ہے۔ |
|
حکایت (19)
ملک زادۂ گنجِ فراواں از پدر میراث یافت و دستِ کرم بکشاد و دادِ سخاوت61 بداد و نعمتِ بے دریغ بر سپاہ و رعیت بریخت۔ ایک شہزادہ کو بہت سا خزانہ باپ کے ورثہ میں سے ملا اس نے بخشش کا ہاتھ کھول دیا اور خوب سخاوت کی اور بہت سا مال لشکر اور رعیت پر لٹا دیا۔
قطعہ
|
نیاساید مشام از طبلۂ عُود62 |
بر آتش نہ کہ چوں عنبر63 بوید |
|
ترجمہ اگر کی لکڑی کے ڈبہ سے دماغ کو آرام نہیں پہونچتا اُس کو آگ پر رکھ تاکہ اس میں سے عنبر کی سی خوشبو پھیلے |
|
|
بزرگی بایدت بخشندگی کن |
کہ دانہ تا نیفشانی نروید |
|
ترجمہ اگر تجھے بڑائی چاہیے تو بخشش کر! کیونکہ جب تک تو دانہ نہ بکھیرے گا وہ نہ اُگے گا |
|
یکے از جلسائے بے تدبیر نصیحتش آغاز کرد کہ ملوک پیشیں مر ایں نعمت را بسعی اندوختہ اند و برائے مصلحتے نہادہ۔ ایک بے تدبیر ہمنشین نے اُس کو نصیحت کرنا شروع کر دی کہ پہلے بادشاہوں نے یہ دولت کوشش سے جمع کی ہے اور کسی ضرورت کے لئے رکھی ہے۔
دست ازیں حرکات کوتاہ کن کہ واقعہا در پیش ست و دشمناں از پس نباید کہ بوقتِ حاجت درمانی۔ اس طرح کی حرکتوں سے ہاتھ روک لے اس لئے کہ بہت سے واقعات پیش آنے والے ہیں اور دشمن پیچھے لگے ہیں ایسا نہ ہو کہ ضرورت کے وقت آپ عاجز ہوں۔
قطعہ
|
اگر گنجے کنی بر عامیاں بخش |
رسد ہر کدخدائے را برنجے |
|
ترجمہ اگر تو عام لوگوں کو ایک خزانہ بخشے تو ہر گھر والے کو ایک چاول بھر ملے گا |
|
|
چرا نستانی از ہر یک جوے سیم |
کہ گرد آید ترا ہر روز گنجے |
|
ترجمہ کیوں ہر ایک سے ایک جو چاندی وصول نہیں کرتا تاکہ تیرے پاس ہر روز ایک خزانہ جمع ہو جائے |
|
ملک زادہ رُوی ازیں سخن درہم آورد و موافقِ طبعش نیامد و مر او را زجر فرمود۔ شہزادہ نے اس بات سے منہ پھیر لیا اور یہ بات اُس کی طبیعت کے موافق نہ آئی اور اُس کو جھڑک دیا۔
و گفت خداوند تعالیٰ مرا مالکِ ایں مملکت گردانیدہ است تا بخورم و ببخشم نہ پاسباں کہ نگہدارم اور کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس حکومت کا مالک بنایا ہے تاکہ میں کھاؤں اور بخشوں، نہ چوکیدار کہ حفاظت کرتا رہوں
بیت
|
قاروں64 ہلاک شد کہ چہل خانہ گنج داشت |
نوشیرواں نمرد کہ نامِ نکو گذاشت |
|
ترجمہ جو قاروں کہ چالیس خزانے رکھتا تھا ہلاک ہو گیا لیکن نوشیرواں نہیں مرا کیونکہ اُس نے ذکرِ خیر باقی چھوڑا ہے |
|
