اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

قطعہ

بہ بیں آں بے حمیت را کہ ہرگز

نخواہد دید روئے نیکبختی

ترجمہ اس بے غیرت کو دیکھو کہ ہرگز وہ نیک بختی کا منہ نہ دیکھے گا

کہ آسانی گزیند خویشتن را

زن و فرزند بگذارد بسختی

ترجمہ کہ اپنے لئے آسانی اختیار کرتا ہے بیوی اور بچوں کو سختی میں چھوڑتا ہے

و در علم محاسبت چنانکہ معلوم ست چیزے دانم۔ اور علمِ حساب میں جیسا کہ جناب کو معلوم ہے میں کچھ جانتا ہوں۔

اگر بجاہِ شما شغلے معیّن شود کہ موجبِ جمعیتِ خاطر باشد بقیتِ عمر از عہدۂ شکرِ آں بیروں آمدن نتوانم۔ اگر جناب کے مرتبہ کے طفیل کوئی خدمت میرے لئے مقرر ہو جائے جو کہ دلجمعی کا سبب ہو تو باقی عمر احسان کے شکریہ سے سبکدوش نہ ہو سکوں گا۔

گفتم عملِ پادشاہ اے برادر دو طرف دارد امید ناں و بیم جاں۔ میں نے کہا اے بھائی بادشاہ کی نوکری کے دو پہلو رکھتی ہے روٹی کی امید اور جان کا خطرہ۔

و خلاف رائے خردمنداں باشد بدیں امید دراں بیم افتادن۔ اور عقلمندوں کی رائے کے خلاف ہے اس امید میں اس خطرے میں پڑنا۔

قطعہ

کس نیاید بخانۂ درویش

کہ خراج زمین و باغ بدہ

ترجمہ فقیر کے گھر پر کوئی نہیں آتا! کہ زمین اور باغ کا ٹیکس ادا کر

یا بہ تشویش و غصہ راضی شو

یا جگر بند پیشِ زاغ بنہ

ترجمہ یا تو رنج و پریشانی پر راضی ہو جا یا کلیجی (چیل)، کوّے کے لئے نکال کر رکھ دے

گفت ایں موافقِ حالِ من نہ گفتی و جوابِ سوالِ من نیاوردی۔ اس نے کہا جناب نے یہ بات میرے مناسبِ حال نہیں فرمائی اور میرے سوال کا جواب نہ دیا۔

نشنیدہ کہ ہر کہ خیانت ورزد دستش از جبانت بلرزد۔ آپ نے یہ نہیں سنا کہ بزدلی کی وجہ سے اسی کا ہاتھ کانپتا ہے جو خیانت کرتا ہے۔

فرد

راستی موجبِ رضائے خداست

کس ندیدم کہ گم شد از رہِ راست

ترجمہ سچائی خدا کے راضی ہونے کا سبب ہے میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ سیدھے راستہ پر بھٹکا ہو

حکماء گویند کہ چہار کس از چہار کس بجاں برنجند حرامی از سلطاں و دُزد از پاسباں و فاسق از غماز و روسپی از محتسب۔ عقلمندوں نے کہا ہے کہ چار آدمیوں کی چار آدمیوں سے جانی دشمنی ہوتی ہے ڈاکو کی بادشاہ سے۔ چور کی چوکیدار سے بدکار کی چغلخور سے۔ رنڈی کی کوتوال سے۔

آں را کہ حساب پاک ست از محاسبہ چہ باک۔ جس کا حساب پاک ہے اس کو حساب کتاب کا کیا ڈر۔

قطعہ

مکن فراخ روی48 در عمل اگر خواہی

کہ روزِ رفعِ تو باشد مجالِ دشمن تنگ

ترجمہ کام میں پھیلاؤ نہ پیدا کر اگر تو چاہتا ہے کہ تیری پیشی کے دن دشمن کے لئے میدان تنگ ہو

تو پاک باش برادر مدار از کس باک

زنند جامۂ ناپاک گازراں بر سنگ

ترجمہ اے بھائی تو پاک رہ اور کسی کا خوف نہ کر کیونکہ ناپاک کپڑے ہی کو دھوبی پتھر پر کوٹتے ہیں

گفتم حکایتِ روباہے مناسبِ حالِ تست کہ دیدندش گریزاں و بخویشتن افتان و خیزاں۔ میں نے کہا ایک لومڑی کا قصہ تیرے حال کے مناسب ہے جس کو لوگوں نے بھاگتے ہوئے اور گرتے پڑتے ہوئے دیکھا۔

کسے گفتش چہ آفت ست کہ موجبِ مخافت است۔ کسی نے اس سے دریافت کیا کہ کیا مصیبت ہے جو ڈر کا سبب ہے۔

گفتا شنیدم کہ شیر را بہ سُخرہ می گیرند۔ اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ شیر کو بیگار میں پکڑ رہے ہیں۔

گفت اے سفیہ ترا با شیر چہ مناسبت ست و اورا با تو چہ مشابہت۔ اس نے کہا اے بیوقوف تجھے شیر سے کیا نسبت ہے اور اس کو تجھ سے کیا مشابہت۔

گفت خاموش کہ اگر حسوداں بغرض گویند کہ ایں ہم بچہ شیر ست و گرفتار آیم کرا غمِ تخلیصِ من دارد کہ تفتیشِ حالِ من کند۔ اس نے کہا چپ رہ کہ اگر حاسد لوگ دشمنی میں کہہ دیں کہ یہ بھی شیر کا بچہ ہے اور میں پکڑی جاؤں تو مجھے چھڑانے کا کسے غم ہوگا کہ جو میرے حال کی چھان بین کرے گا۔

و تا تریاق49 از عراق50 آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود۔ اور جب تک عراق سے تریاق لایا جائے گا سانپ کا ڈسا ہوا مردہ ہو جائے گا۔

ترا ہمچنیں فضل ست و دیانت و تقویٰ و امانت ولیکن متعنتاں در کمین اند و مدعیاں گوشہ نشیں اگر انچہ سیرتِ تست بخلافِ آں تقریر کنند و در معرضِ خطاب بادشاہ آئی دراں حالت کرا مجالِ مقالت باشد۔ بے شک تجھ میں بزرگی، دیانت، پرہیزگاری اور امانت ہے لیکن نکتہ چین گھات میں ہیں اور دشمن گوشوں میں چھپے ہیں!! اگر وہ لوگ تیری عادت کے خلاف ثابت کریں اور تُو بادشاہ کے روبرو جواب طلبی کے لئے جائے تو اس حالت میں کس کو بات کرنے کی طاقت ہوگی۔

پس مصلحت آں می بینم کہ مُلکِ قناعت را حراست کنی و ترکِ ریاست گوئی۔ لہٰذا میرے نزدیک مناسب یہی ہے کہ تو قناعت کے ملک ہی کی نگہبانی کرے اور سرداری کا خیال چھوڑ دے۔

قطعہ

بہ دریا در منافع بے شمارست

اگر خواہی سلامت بر کنارست

ترجمہ دریا میں بے شمار منافع ہیں! اگر سلامتی چاہتا ہے تو وہ کنارے پر ہے

رفیق چوں ایں سخن بشنید بہم برآمد و روئے از حکایتِ من درہم کشید و سخنہائے رنجش آمیز گفتن گرفت کہ ایں چہ عقل و کفایت ست و فہم و درایت۔ دوست نے جب یہ بات سنی ناراض ہو گیا اور یہ حکایت سن کر منہ بگاڑ لیا اور رنجش آمیز باتیں شروع کر دیں کہ یہ کون سی عقلمندی، ذہانت اور سمجھ بوجھ کی بات ہے۔

قول حکما درست آمد کہ گفتہ اند دوستاں در زنداں بکار آیند کہ بر سُفرہ ہمہ دشمناں دوست نمایند۔ دانشمندوں کی یہ بات درست نکلی کہ انہوں نے کہا ہے دوست وہ ہیں جو قید خانہ میں کام آئیں اس لئے کہ دسترخوان پر تو سب دشمن بھی دوست ہی نظر آتے ہیں۔

قطعہ

دوست مشمار آنکہ در نعمت زند

لافِ یاری و برادر خواندگی

ترجمہ اُس کو دوست نہ گن جو عیش کے زمانہ میں دوستی اور بھائی بندی کی ڈینگیں مارے

دوست آں دانم کہ گیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و درماندگی

ترجمہ میں اُس کو دوست سمجھتا ہوں جو دوست کی عاجزی اور پریشانی کی حالت میں دستگیری کرے

دیدم کہ متغیر می شود و نصیحتِ من بہ غرض51 می شنود۔ میں نے دیکھا کہ وہ بگڑ رہا ہے اور میری نصیحت کو خود غرضانہ سمجھ کر سن رہا ہے۔

نزدیکِ صاحب دیواں رفتم بسابقہ معرفتے کہ درمیانِ ما بود صورتِ حالش بگفتم و اہلیت و استحقاقش بیاں کردم تا بکارے مختصرش نصب کردند۔ میں کچہری کے افسر کے پاس گیا اور اپنی پہلی جان پہچان کی بنا پر میں نے اس دوست کی حالت بیان کی اور اس کی قابلیت اور استحقاق کو بتایا چنانچہ ایک معمولی کام پر اس کو لگا دیا۔

چندے بریں برآمد لطف طبیعتش را بدیدند و حسن52 تدبیرش را بہ پسندیدند۔ اس بات کو کچھ ہی عرصہ گذرا تھا کہ انہوں نے اُس کی طبیعت کی پاکیزگی کا اندازہ کر لیا اور اس کی حسنِ تدبیر کو پسند کیا۔

کارش ازاں درگذشت و بہ مرتبۂ بالاتر ازاں متمکن شد۔ اُس کا کام اس سے بڑھ گیا اور اُس عہدہ سے بڑے عہدہ پر پہونچ گیا۔

ہمچناں نجم سعادتش در ترقی بود تا بہ اوُجِ ارادت در رسید و مقربِ حضرتِ سلطان و معتمد علیہ گشت۔ اسی طریقہ پر اُس کی نیک بختی کا ستارہ ترقی پر تھا یہاں تک کہ ارادتمندی کی بلندی پر پہونچ گیا اور شاہی دربار کا مقرب اور معتمد علیہ بن گیا۔

بر سلامتِ حالش شادمانی کردم و گفتم اس کی حالت کی سلامتی پر میں خوش ہوا اور میں نے کہا

فرد

ز کار بستہ میندیش و دل شکستہ مدار

کہ آبِ چشمۂ حیواں درون تاریکیست

ترجمہ ناکامی کا فکر نہ کر اور دل نہ توڑ! کیونکہ حیات کے چشمہ کا پانی تاریکی میں ہے

شعر

اَلَا لَا یُجَارَنَّ اَخُو الْبَلِیَّۃِ

فَلِلرَّحْمٰنِ اَلْطَافٌ خَفِیَّۃٌ

ترجمہ مصیبت زدہ ہرگز نہ بلبلائے اس لئے کہ خدا کی چھپی ہوئی مہربانیاں ہیں

فرد

منشیں ترش از گردشِ ایام کہ صبر

تلخ ست ولیکن برِ شیریں دارد

ترجمہ زمانہ کی گردش سے منہ بگاڑ کر نہ بیٹھ اس لئے کہ صبر اگرچہ کڑوا ہے لیکن پھل شیریں رکھتا ہے

دراں قربت مرا با طائفہ یاراں اتفاقِ سفر افتاد۔ قریبی وقت میں مجھے کچھ دوستوں کے ساتھ سفر کرنے کا اتفاق ہو گیا۔

چوں از زیارتِ مکہ باز آمدم یک دو منزلم استقبال کرد۔ جب مکہ کی زیارت سے واپس لوٹا اُس دوست نے ایک دو پڑاؤ آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا۔

ظاہرِ حالش را دیدم پریشان و در ہیاتِ درویشاں۔ میں نے اس کے ظاہری حال کو پریشان اور درویشوں کی ہیئت میں دیکھا۔

گفتم چہ حالت ست میں نے کہا کیا حال ہے