اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

بیت

ابلہے کو روزِ روشن شمع کافوری نہد

زود بینی کش بشب روغن نہ باشد در چراغ

ترجمہ وہ بے وقوف جو دن میں کافوری شمع جلائے عنقریب تو دیکھ لے گا کہ رات کو اس کے چراغ میں تیل نہ ہوگا

یکے از وزرائے ناصح گفت اے خداوند مصلحت آں می بینم کہ چنیں کساں را وجہ کفاف بتفاریق مجرا دارند تا در نفقہ اسراف نہ کنند۔ ایک خیرخواہ وزیر نے کہا جناب میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو گذارے کی بقدر متفرق طور پر عنایت فرمائیں تاکہ فضول خرچی نہ کریں۔

اما آنچہ فرمودی از زجر و منع مناسب اربابِ ہمت نیست کہ یکے را بہ لطف امیدوار گردانیدن و باز بنومیدی خستہ کردن۔ مگر جیسا کہ جناب نے جھڑکنے اور منع کر دینے کا حکم صادر فرمایا ہے یہ ہمت والوں کے مناسب نہیں ہے کہ کسی کو ایک مرتبہ مہربانی کر کے امیدوار بنا دینا اور پھر نا امید کر کے دل توڑنا۔

نظم

بروئے خود در طمّاع باز نتواں کرد

چو باز شد بدرشتی فراز نتواں کرد

ترجمہ اپنے اوپر لالچی کے لئے دروازہ نہ کھولنا چاہئے جب کھل گیا تو سختی سے بند نہیں کیا جا سکتا

قطعہ

کس نہ بیند کہ تشنگانِ حجاز42

برلب آبِ شور گرد آیند

ترجمہ بھلا کوئی نہ دیکھے گا کہ حجاز کے پیاسے کھاری پانی کے کنارے اکٹھے ہوں،

ہر کجا چشمۂ بود شیریں

مردم و مرغ و مور گرد آیند

ترجمہ جس جگہ میٹھے پانی کا چشمہ ہوگا آدمی، پرند، چونٹیاں جمع ہو جائیں گی

حکایت (14)

یکے از پادشاہانِ پیشیں در رعایتِ مملکت سستی کردے و لشکر را بہ سختی داشتے۔ پہلے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ حکومت کی نگرانی میں سستی کرتا اور لشکر کو تنگی میں رکھتا۔

لاجرم دشمنے صعب روی نمود ہمہ پشت دادند۔ آخر کار ایک سخت دشمن ظاہر ہوا اس کی سب فوج بھاگ گئی۔

مثنوی

چو دارند گنج از سپاہی دریغ

دریغ آیدش دست بردن بتیغ

ترجمہ جب خزانہ کو سپاہی سے بچائیں تو اس کو تلوار پر ہاتھ بڑھانے میں تامل ہوگا

چہ مردی کند در صفِ کارزار

کہ دستش تہی باشد و کار، زار

ترجمہ وہ شخص لڑائی کی صف میں کیا بہادری کرے جس کا ہاتھ خالی اور حال برا ہو

یکے را از آناں کہ غدر کردند با من دوستی بود۔ جن سپاہیوں نے غداری کی تھی ان میں سے ایک کی مجھ سے دوستی تھی۔

ملامت کردم و گفتم دون ست و بے سپاس و سفلہ و ناحق شناس کہ باندک تغیرِ حال از مخدومِ قدیم برگردد و حق نعمتِ سالہا در نوردد۔ میں نے اس کو ملامت کی اور کہا کمینہ ہے اور ناشکر گزار سفلہ ہے اور ناحق شناس جو کہ حالت کی تھوڑی سی تبدیلی پر قدیم آقا سے پھر جائے اور سالوں کی نعمت کے حق کو لپیٹ کر رکھ دے۔

گفت اگر بہ کرم معذور داری شاید کہ اسپم بے جو بود و نمدِ زینم بگرو۔ اس نے کہا اگر از راہِ کرم آپ معذور سمجھیں تو مناسب ہے کیونکہ میرا گھوڑا بے دانہ اور میری زین کا نمدہ گروی رہے۔

و سلطان کہ بہ زر با سپاہی بخیلی کند با او بسر جواں مردی نتواں کرد۔ جو بادشاہ سپاہی پر سونا خرچ کرنے میں بخل کرے اس کے ساتھ سر کٹانے میں بہادری نہیں کی جا سکتی۔

فرد

زر بدہ مردِ سپاہی را تا سر بنہد

وگرش زر ندہی سر بنہد در عالم

ترجمہ تو مردِ سپاہی کو سونا دے تاکہ وہ اپنا سر رکھ دے اور اگر تو اس پر سونا خرچ نہ کرے گا وہ دنیا میں مارا پھرے گا

شعر

اِذَا شَبِعَ الْکَمِیُّ یَصُوْلُ بَطْشًا

وَخَاوِی الْبَطْنِ یَبْطِشُ بِالْفِرَارِ

ترجمہ جب سپاہی پیٹ بھر لیتا ہے تو وہ گرفت کر کے حملہ کرتا ہے اور خالی پیٹ کی گرفت بھاگنا ہے

حکایت (15)

یکے از وزرا معزول شد بحلقۂ درویشاں در آمد و برکتِ صحبتِ ایشاں در وے سرایت کرد و جمعیتِ خاطرش دست داد۔ ایک برخاست شدہ وزیر درویشوں کے حلقہ میں آ گیا اور ان کی صحبت کی برکت اس میں اثر کر گئی اور اس کو دل جمعی حاصل ہو گئی۔

و ملک بارِ دیگر با او دل خوش کرد و عمل فرمود۔ اور بادشاہ اس سے پھر خوش ہو گیا اور اس کو کام پر لگایا۔

قبولش نیامد و گفت معزولی43 بہ کہ مشغولی۔ اس نے قبول نہ کیا اور کہا کام پر لگنے سے معزولی ہی اچھی۔

رباعی

آنانکہ بہ کنج عافیت بہ نشستند

دنداں44 سگ و دہان مردم بستند

ترجمہ جو لوگ گوشۂ عافیت میں جا بیٹھے انہوں نے کتے کے دانت اور آدمیوں کا منہ بند کر دیا

کاغذ بدریدند و قلم بہ شکستند

وز دست و زبان حرفگیراں رستند

ترجمہ کاغذ پھاڑا اور قلم توڑا اور نکتہ چینوں کے دست و زبان سے چھوٹ گئے

ملک گفت ہر آئینہ ما را خردمندے کافی باید کہ تدبیرِ مملکت را بشاید۔ بادشاہ نے کہا ہمیں لا محالہ ایک ایسا عقلمند درکار ہے جو تدبیرِ مملکت کے لائق ہو۔

گفت نشانِ خردمندِ کافی آنست کہ بہ چنیں کارہا تن در نہ دہد۔ اس نے کہا پورے عقلمند کی علامت یہی ہے کہ جو اس قسم کے کاموں میں نہ لگے۔

فرد

ہمای45 بر سر مرغاں ازاں شرف دارد

کہ استخواں خورد و طائرے نیازارد

ترجمہ تمام پرندوں پر ہما اسی وجہ سے شرافت رکھتا ہے کہ ہڈیاں کھا لیتا ہے اور کسی پرندے کو نہیں ستاتا

حکایت (16)

سیاہ گوش46 را گفتند ترا ملازمتِ شیر بچہ وجہ اختیار افتاد۔ سیاہ گوش سے کیا تجھے شیر کے ساتھ رہنا کیوں پسند آیا۔

گفت تا فضلۂ صیدش می خورم و از شرِ دشمناں در پناہِ صولتش زندگانی می کنم۔ اس نے کہا تاکہ اس کا پسماندہ کھایا کروں اور دشمنوں کے شر سے بچ کر اس کے دبدبہ کی پناہ میں زندگی بسر کروں۔

گفتندش اکنوں کہ بہ ظلِ حمایتش در آمدی و بہ شکرِ نعمتش اعتراف کردی چرا نزدیک تر نیائی تا بحلقۂ خاصانت در آرد و از بندگانِ مخلصت شمارد۔ انہوں نے اس سے کہا اب جبکہ تو اس کی حمایت کے سایہ میں آ گیا اور اس کی نعمت کے شکریہ کا تو نے اقرار کر لیا اس کے زیادہ نزدیک کیوں نہیں آتا تاکہ وہ شیر تجھے اپنے خواص کے حلقہ میں داخل کر لے اور اپنے مخلص خادموں میں گننے لگے۔

گفت از بطشِ وے ہمچناں ایمن نیستم۔ اس نے کہا میں اسی طرح اس کی گرفت کو بھی بے خوف نہیں ہوں۔

فرد

اگر صد سال گبر آتش فروزد

اگر یکدم درو افتد بہ سوزد

ترجمہ اگر آتش پرست سو سال تک بھی آگ کو روشن کرے اگر اس میں ذرا بھی گر جائے تو جل جائے

افتد کہ ندیمِ حضرتِ سلطان را زر بیابد و باشد کہ سر برود۔ ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کا مصاحب سونا حاصل کرے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا سر ہی جاتا رہے۔

و حکما گفتہ اند از تلونِ طبع پادشاہاں پرحذر باید بود کہ وقتے بسلامے برنجند و گاہے بہ دُشنامے خلعت47 دہند۔ اور عقلمندوں نے کہا ہے بادشاہوں کی تلون مزاجی سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ کبھی تو سلام کرنے سے رنجیدہ ہو جاتے ہیں اور کبھی گالی پر جوڑا بخشتے ہیں۔

و گفتہ اند ظرافت بسیار ہنر ندیماں ست و عیب حکیماں۔ اور لوگوں نے کہا ہے زیادہ ہنسی مذاق کرنا مصاحبوں کا ہنر ہے اور عقلمندوں کے لئے باعثِ عیب۔

فرد

تو بر سرِ قدرِ خویشتن باش و وقار

بازی و ظرافت بہ ندیماں بگذار

ترجمہ تو اپنے مرتبہ اور وقار پر قائم رہ ہنسی اور مذاق مصاحبوں کے لئے چھوڑ

حکایت (17)

یکے از رفیقاں شکایتِ روزگارِ نامساعد بنزدِ من آورد کہ کفافِ اندک دارم و عیالِ بسیار۔ دوستوں میں سے ایک دوست ناموافق زمانہ کی شکایت لے کر میرے پاس آیا کہ میں آمدنی تھوڑی رکھتا ہوں اور بال بچے زیادہ۔

و طاقتِ بارِ فاقہ نمی آرم۔ اور فاقہ کشی کی اب طاقت نہیں رہی۔

و بارہا در دلم آمد کہ باقلیمے دیگر نقل کنم تا در ہر صورتے کہ زندگانی کنم کسے را بر نیک و بدِ من اِطلاع نہ باشد۔ اور بہت مرتبہ دل میں آیا کہ کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں تاکہ جس صورت سے بھی زندگی کٹے کسی کو میرے اچھے برے کی خبر نہ ہو۔

بیت

بس گرسنہ خفت و کس ندانست کہ کیست

بس جاں بلب آمد کہ برو کس نہ گریست

ترجمہ بہت سے بھوکے سوئے اور کوئی نہ جان سکا کہ یہ کون ہے بہت سے ایسے ہیں کہ ان کی جان ہونٹوں پر آئی اور ان پر کوئی نہ رویا

باز از شماتتِ اعدا می اندیشم کہ بہ طعنہ در قفائے من بخندند و سعی مرا در حقِ عیال برعدمِ مروت حمل کنند و گویند پھر دشمنوں کی خوشی کا خیال کرتا ہوں کہ میری پیٹھ پیچھے طعنہ زنی کر کے ہنسی اڑائیں گے اور میری کوشش کو بال بچوں کے بارے میں بے مروتی پر محمول کریں گے اور کہیں گے