اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

ترسم کہ از بیمِ گزندِ خویش آہنگِ ہلاکِ من کنند۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اپنے نقصان کے خوف سے مجھے ہلاک کرنے کی ٹھان لیں گے۔

پس قول حکما را کار بستم کہ گفتہ اند تو میں نے دانشمندوں کے قول پر عمل کیا کہ انہوں نے کہا ہے

قطعہ

اَزاں کز تو ترسد بترس اے حکیم

وگر با چُنو صد برآئی بہ جنگ

ترجمہ اے دانا جو تجھ سے ڈرتا ہے تو اس سے ڈر اگرچہ اس جیسے سینکڑوں سے تو جنگ جیت لے

ازاں مار برپائے راعی زند

کہ ترسد سرش را بکوبد بسنگ

ترجمہ سانپ چرواہے کے پیر میں اسی لئے کاٹتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ چرواہا اس کا سر پتھر سے کچلے گا

نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود

برآرد بہ چنگال چشمِ پلنگ

ترجمہ کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ جب بلی عاجز آجاتی ہے تو پنجہ مار کر چیتے کی آنکھیں نکال لیتی ہے

حکایت (10)

بر بالین تربتِ یحییٰ27 پیغمبر علیہ السلام معتکف بودم در جامعِ دمشق28 کہ یکے از ملوکِ عرب کہ بہ بے انصافی منسوب بود در آمد نماز و دعا کرد و حاجت خواست۔ میں دمشق کی جامع مسجد میں حضرت یحییٰ پیغمبر علیہ السلام کی قبر پر معتکف تھا کہ عرب کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بے انصافی میں مشہور تھا آیا نماز پڑھی اور دعا مانگی اور منت چاہی۔

فرد

درویش و غنی بندۂ ایں خاکِ درند

وانانکہ غنی ترند محتاج ترند

ترجمہ فقیر اور مال دار اس در کی خاک کے غلام ہیں اور جو زیادہ مالدار ہیں وہی زیادہ محتاج ہیں

آں گاہ مرا گفت ازانجا کہ ہمتِ درویشان ست و صدقِ معاملۂ ایشاں خاطرے ہمراہِ من کنید کہ از دشمنے صعب اندیشناکم۔ پھر مجھ سے کہا چونکہ درویشوں میں روحانی طاقت ہے اور ان کا خدا سے سچا معاملہ ہے ذرا میری طرف باطنی توجہ فرمائیے کہ ایک سخت دشمن کا مجھے اندیشہ لگا ہوا ہے۔

گفتمش بر رعیتِ ضعیف رحمت کن تا از دشمنے قوی زحمت نہ بینی۔ میں نے اس سے کہا کمزور رعایا پر رحم کھا تاکہ پھر قوی دشمن سے تجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

نظم

بازوان توانا و قوتِ سرِ دست

خطاست پنجۂ مسکینِ ناتواں بہ شکست

ترجمہ طاقت ور بازوؤں اور پنجہ کی قوت سے کمزور مسکین کا پنجہ موڑنا غلطی ہے

نترسد آنکہ برافتادگاں نہ بخشاید

کہ گر ز پائے درآید کسش نگیرد دست

ترجمہ وہ شخص جو گرے پڑے پر رحم نہیں کھاتا کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اگر اس کا پیر پھسلے گا تو اس کی کوئی دستگیری نہ کرے گا

ہر آنکہ تخمِ بدی کشت و چشمِ نیکی داشت

دماغ بیہدہ پخت و خیالِ باطل بست

ترجمہ جس نے بدی کا بیج بویا اور بھلائی کی توقع رکھی اس نے فضول اپنا دماغ پکایا اور باطل خیال باندھا

ز گوش پنبہ بروں آر و دادِ خلق بدہ

وگر تو می ندہی داد روز دادے ہست

ترجمہ کان سے روئی نکال لے اور مخلوق سے انصاف کر اگر تو انصاف نہ کرے گا تو انصاف کا ایک دن ضرور ہے

مثنوی

بنی آدم اعضائے29 یک دیگرند

کہ در آفرینش ز یک جوہرند30

ترجمہ آدم کی اولاد ایک دوسرے کے اعضاء ہیں اس لئے کہ وہ پیدائش میں ایک ہی اصل سے ہیں

چو عضوے بدرد آورد روزگار

دگر عضوہا را نماند قرار

ترجمہ اگر زمانہ کسی ایک عضو میں درد پیدا کرتا ہے تو دوسرے اعضاء کو بھی قرار نہیں رہتا

تو کز محنتِ دیگراں بے غمی

نہ شاید کہ نامت نہند آدمی

ترجمہ تو کہ دوسروں کی تکلیف سے بے غم ہے تو اس قابل نہیں کہ تجھے آدمی کہیں!

حکایت (11)

درویشے مستجاب الدعوات31 در بغداد32 پدید آمد۔ ایک مستجاب الدعوات فقیر بغداد میں رونما ہوا۔

حجاج33 یوسف را خبر کردند۔ حجاج ابن یوسف کو لوگوں نے بتایا۔

بخواندش و گفت دعائے خیرے بَر مَن کن۔ حجاج نے اس کو بلوایا اور کہا میرے لئے دعائے خیر کر دیجئے۔

گفت خدایا جانش بستاں۔ اس نے دعا کی خدا اس کو موت دے۔

گفت از بہرِ خدا ایں چہ دعاست۔ حجاج بولا خدا کے لئے یہ کیا دعا ہے۔

گفت ایں دعائے خیرست ترا و جملہ مسلماناں را۔ اس فقیر نے کہا یہی دعا تیرے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے بہتر ہے۔

مثنوی

اے زبردست زیر دست آزار

گرم تا کے بماند ایں بازار

ترجمہ اے عاجزوں کو ستانے والے طاقتور بھلا یہ بازار کب تک گرم رہے گا،

بچہ کار آیدت جہاں داری

مُردنت بہ کہ مَردم آزاری

ترجمہ بادشاہت تیرے کس کام آئے گی تیرا مرنا ہی بہتر ہے تو مردم آزار ہے

حکایت (12)

یکے از ملوکِ بے انصاف پارسائے را پرسید کہ کدام عبادت فاضلترست۔ ایک ظالم بادشاہ نے ایک نیک آدمی سے دریافت کیا کہ کون سی عبادت سب سے بہتر ہے۔

گفت ترا خوابِ نیمروز تا دراں یک نَفَس خلق را نیازاری۔ اس نے جواب دیا تیرے لئے دوپہر کو سونا سب سے بڑی عبادت ہے تاکہ تو اس ایک لمحہ میں لوگوں کو نہ ستائے۔

قطعہ

ظالمے را خفتہ دیدم نیمروز

گفتم ایں فتنہ ست خوابش بُردہ بہ

ترجمہ میں نے ایک ظالم کو دوپہر میں سویا ہوا دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ فتنہ ہے اس کا سویا ہوا رہنا بہتر ہے

وانکہ خوابش بہتر از بیداریست

آں چناں بد زندگانی مُردہ بہ

ترجمہ جس آدمی کا سونا اس کے جاگنے سے بہتر ہو ایسی بری زندگی والا مردہ ہو تو بہتر ہے

حکایت (13)

یکے را از ملوک شنیدم کہ شبے در عشرت روز34 کردہ بود و در پایانِ مستی می گفت میں نے ایک بادشاہ کے بارے میں سنا ہے کہ ایک رات کو عیش و عشرت میں دن بنائے ہوئے تھا اور مستی کی انتہا میں کہتا تھا

بیت

ما را بہ جہاں خوشتر ازیں یکدم نیست

کز نیک و بد اندیشۂ و از کس غم نیست

ترجمہ ہمارے لئے دنیا میں اس وقت سے زیادہ اچھا کوئی وقت نہیں ہے اس لئے کہ نہ اچھے برے کا خیال ہے اور نہ کسی کا غم ہے

درویشے برہنہ بسرما خفتہ بود۔ ایک فقیر جاڑے میں باہر ننگا سویا ہوا تھا۔

گفت اس نے کہا

بیت

اے آنکہ باقبال35 تو در عالم نیست

گیرم کہ غمت نیست غمِ ما ہم نیست36

ترجمہ اے وہ شخص جس کے نصیبہ کا سا دنیا میں کوئی نہیں مانا کہ تجھے اپنا کوئی غم نہیں ہے کیا ہمارا بھی غم نہیں ہے؟

ملک را خوش آمد صُرّۂ ہزار دینار از روزن بروں کرد و گفت دامن بدار اے درویش۔ بادشاہ کو یہ بات بہت پسند آئی اور ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی کھڑکی سے باہر نکالی اور کہا اے فقیر دامن پھیلا۔

گفت دامن از کجا آرم کہ جامہ ندارم۔ فقیر نے کہا کپڑے ہی نہیں ہیں دامن کہاں سے لاؤں۔

ملک را بر ضعفِ حالِ او رحمت زیادت شد و خلعتے بر آں مزید کرد و پیشِ درویش فرستاد۔ بادشاہ کو اس کی کمزور حالت پر اور زیادہ رحم آیا اور اس پر ایک جوڑے کا اور اضافہ کر دیا اور فقیر کو دے دیا۔

درویش آں نقد و جنس37 را باندک مدت بخورد و پریشاں کرد و باز آمد۔ فقیر نے تھوڑے ہی زمانہ میں اس نقد و جنس کو کھا لیا اور ضائع کر دیا اور پھر آ گیا۔

بیت

قرار در کف آزادگاں38 نہ گیرد مال

نہ صبر در دلِ عاشق نہ آب در غربال

ترجمہ آزاد لوگوں کے ہاتھ میں مال نہیں ٹھہرتا ہے نہ عاشق کے دل میں صبر ٹھہرتا ہے اور نہ چھلنی میں پانی ٹھہرتا ہے

دَر حالتے کہ ملک را پروائے39 او نبود حال بگفتند۔ لوگوں نے اس کی حالت بادشاہ سے ایسے وقت میں ذکر کی جبکہ بادشاہ کو اس کی کوئی پروا نہ تھی۔

بہم برآمد و روی ازو درہم کشید۔ بادشاہ ناراض ہو گیا اور غصہ میں منہ پھیر لیا۔

وازینجا گفتہ اند اصحابِ فطنت و خبرت کہ از حدت و صولتِ پادشاہاں پُرحذر باید بودن کہ غالب ہمتِ ایشاں بمعظماتِ امورِ مملکت متعلق باشد و تحمّلِ ازدحامِ عوام نہ کنند۔ یہی وجہ ہے کہ باخبر سمجھدار لوگوں نے کہا ہے کہ بادشاہوں کی تیزی اور دبدبہ سے بہت احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ ان کی اکثر توجہ بادشاہت کے بڑے بڑے کاموں میں لگی رہتی ہے اور عام لوگوں کی بھیڑ کو برداشت نہیں کرتے ہیں۔

مثنوی

حرامش بود نعمتِ پادشاہ

کہ ہنگامِ فرصت ندارد نگاہ

ترجمہ بادشاہ کا انعام و اکرام اس آدمی پر حرام ہو جاتا ہے جو فرصت کے موقع کا لحاظ نہ رکھے

مجال سخن تا نہ بینی زپیش

بہ بیہودہ گفتن مبر قدرِ خویش

ترجمہ جب تک تو پہلے سے بات کرنے کی گنجائش نہ دیکھ لے خواہ مخواہ بات کہہ کر اپنی قدر نہ گھٹا

گفت ایں گدائے شوخ چشمِ مُبذّر را کہ چندیں نعمت بچندیں مدت برانداخت برانید کہ خزینۂ بیت المال40 لقمۂ مساکین ست نہ طعمۂ اخوان الشیاطین41۔ بادشاہ نے کہا اس بے حیا فضول خرچ کو یہاں سے نکال دو جس نے اس قدر دولت اتنی سی مدت میں ضائع کر دی اس لئے کہ بیت المال کا خزانہ مسکینوں کا لقمہ ہے نہ کہ شیطان کے بھائیوں کی خوراک۔