وزیر مَلِک را پرسید کہ ہیچ تواں دانستن کہ فریدوں کہ گنج و مُلک و حشم نداشت چگونہ مملکت برو مقرر شد وزیر نے بادشاہ سے پوچھا کیا جناب کچھ سمجھے کہ فریدوں جس کے پاس نہ خزانہ تھا نہ لشکر کس طرح اُس کو حکومت مل گئی
گفتا چنانکہ شنیدی خلقے برو بتعصّب گرد آمدند و تقویت کردند پادشاہی یافت۔ اُس نے کہا اسی طرح جیسا کہ تم نے سنا کہ رعایا اُس کی طرفداری میں جمع ہو گئی اور اسے مضبوط کر دیا اُس نے بادشاہی حاصل کر لی۔
گفت اے مَلِک چوں گرد آمدنِ خلقے مُوجبِ پادشاہی است وزیر نے کہا اے بادشاہ جب رعایا کا اکٹھا ہو جانا بادشاہی ملنے کا سبب ہے
تو خلق را برائے چہ پریشان می کنی تو تو رعایا کو کیوں بھگا رہا ہے
مگر سرِ پادشاہی کردن نداری شاید تیرا بادشاہی کرنے کا خیال نہیں ہے
فرد
|
ہماں بہ کہ لشکر بہ جاں پروری |
کہ سلطاں بہ لشکر کند سَروری |
|
ترجمہ یہی بہتر ہے کہ لشکر کو تو جان لگا کر پالے کیونکہ بادشاہ لشکر ہی کے ذریعہ بادشاہی کرتا ہے |
|
مَلِک گفت مُوجبِ گرد آمدنِ سپاہ و رعیّت و لشکر چہ باشد بادشاہ نے کہا کہ لشکر اور رعایا کے اکٹھا کرنے کا کیا طریقہ ہے
گفت پادشاہ را کرم باید تا بدو گرد آیند و رحمت تا در پناہِ دولتش ایمن نشینند۔ وزیر نے کہا بادشاہ کو بخشش کرنی چاہیئے تاکہ لوگ اس کے پاس جمع ہو جائیں اور رحم کرنا چاہیئے تاکہ لوگ اس کی حکومت کے زیرِ سایہ بے خوف ہو کر رہیں۔
و ترا ایں ہر دو نیست۔ اور تجھ میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔
مثنوی
|
نکند جور پیشہ سلطانی |
کہ نیاید ز گرگ چوپانی |
|
ترجمہ ظالم بادشاہی کیا نہیں کرتا ہے کیونکہ بھیڑیئے سے چرواہے کا کام نہیں ہو سکتا |
|
|
پادشاہے کہ طرح ظلم فگند |
پائے دیوارِ مُلکِ خویش بہ کند |
|
ترجمہ جس بادشاہ نے ظلم کی بنیاد ڈالی اُس نے اپنی ہی حکومت کی دیوار کی جڑ کھود دی ہے |
|
مَلِک را پندِ وزیرِ ناصح موافقِ طبعِ مخالف نیامد۔ ناصح وزیر کی نصیحت بادشاہ کی مخالف طبیعت کے موافق نہ پڑی۔
و روی از سخنش درہم کشید و بزنداں فرستاد۔ اور اس کی بات سے منہ چڑھا لیا اور اس کو جیل خانہ بھیج دیا۔
و بسے برنیامد کہ بنی عمّان سلطاں بمنازعت برخاستند و بہ مقاومت لشکر آراستند و مُلکِ پدر خواستند۔ کچھ ہی زمانہ گذرا تھا کہ بادشاہ کے چچیرے بھائی جھگڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور مقابلہ کے لئے لشکر تیار کیا اور باپ کا ملک مانگا۔
قومے کہ از دستِ تطاولِ ایں بہ جاں رسیدہ بودند و پریشاں شدہ بر ایشاں گرد آمدند و تقویت کردند۔ جو قوم کہ اس کی دست درازی سے عاجز آ چکی تھی اور ماری ماری پھر رہی تھی ان کے پاس اکٹھا ہو گئی اور مدد کی۔
تا مُلک از تصرّفِ ایں بدر رفت و بر آناں مقرر شد۔ چنانچہ حکومت اس کے قبضہ سے نکل گئی اور ان کے ہاتھ آ گئی۔
مثنوی
|
پادشاہے کو رَوا دارد ستم بر زیر دست |
دوستدارش روزِ سختی دشمنِ زورآورست |
|
ترجمہ جو بادشاہ کمزور پر ظلم کرنا جائز رکھے اُس کا دوست بھی مصیبت کے وقت اُس کا زبردست دشمن بن جاتا ہے |
|
|
با رعیّت صلح کن وز جنگِ خصم ایمن نشیں |
زانکہ شاہنشاہِ عادل را رعیّت لشکرست |
|
ترجمہ رعایا کے ساتھ صلح کر اور دشمن کی لڑائی سے بے خوف ہو کر بیٹھا رہ اس لئے کہ منصف بادشاہ کی تو رعایا ہی لشکر ہے |
|
فرد
|
غمِ زیردستاں بخور زینہار |
بترس از زبردستیٔ روزگار |
|
ترجمہ خبردار کمزوروں کے ساتھ غمخواری کر، زمانہ کی زبردستی سے ڈر |
|
حکایت (7)
پادشاہے با غلامے عجمی در کشتی نشست۔ ایک بادشاہ ایک عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔
و غلام دیگر دریا را نہ دیدہ بود و محنتِ کشتی نیازمودہ گریہ و زاری آغاز نہاد و لرزہ بر اندامش افتاد۔ اور غلام نے کبھی دریا نہ دیکھا تھا اور نہ کشتی کی تکلیف اٹھائی تھی اس نے رونا دھونا شروع کر دیا اور اس کا بدن کانپنے لگا۔
مَلِک را عیش ازو منغّص بود کہ طبع نازک تحمّل امثالِ ایں صورت نہ بندد۔ اس سے بادشاہ کا مزا کرکرا ہو گیا تھا اس لئے کہ نازک طبیعت اس جیسی باتوں کی برداشت نہیں کر سکتی۔
چارہ ندانستند۔ لوگوں کی سمجھ میں کوئی تدبیر نہ آئی۔
حکیمے دَراں کشتی بود مَلِک را گفت اگر فرماں دہی او را بطریقے خاموش گردانم۔ اس کشتی میں ایک عقلمند تھا وہ بادشاہ سے بولا اگر حکم ہو تو ایک طریقہ سے اُسے خاموش کر دوں۔
گفت غایتِ لطف و کرم باشد۔ بادشاہ نے کہا بڑی مہربانی ہو گی۔
بفرمود تا غلام را بہ دریا انداختند۔ اُس عقلمند نے حکم دیا چنانچہ لوگوں نے غلام کو دریا میں پھینک دیا۔
چند نوبت غوطہ خورد۔ غلام نے چند غوطے کھائے۔
ازاں پس مُویش گرفتند و پیش کشتی آوردند۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کے سر کے بال پکڑے اور کشتی کے آگے لائے۔
و بدو دست در سُکّان23 کشتی آویخت۔ وہ غلام دونوں ہاتھوں سے کشتی کے دنبالہ میں لٹک گیا۔
چوں برآمد بگوشہ بنشست و قرار یافت۔ جب دریا سے نکلا تو ایک گوشہ میں بیٹھ گیا اور اس کو سکون ہو گیا۔
مَلِک را عجب آمد پرسید کہ حکمت چہ بود بادشاہ کو تعجب ہوا اُس نے دریافت کیا اس میں کیا دانائی تھی
گفت از اوّل محنتِ غرق شدن نہ دیدہ بود و قدرِ سلامتِ کشتی ندانستہ۔ عقلمند نے جواب دیا غلام نے اس سے پہلے ڈوبنے کی تکلیف نہ اٹھائی تھی اور کشتی میں بچے رہنے کی قدر سے ناواقف تھا۔
ہمچنیں قدرِ عافیت کسے داند کہ بمصیبتے گرفتار آید۔ آرام کی قدر وہی کرتا ہے جو کسی مصیبت میں پھنس جائے۔
قطعہ
|
اے سیر ترا نانِ جویں خوش ننماید |
معشوق من ست آنکہ بنزدیک تو زشت ست |
|
ترجمہ اے پیٹ بھرے تجھے جو کی روٹی اچھی نہیں معلوم ہوتی ہے جو چیز تجھے بری معلوم ہوتی ہے وہی میرے لئے بھلی ہے |
|
|
حورانِ بہشتی را دوزخ بود اعراف24 |
از دوزخیاں پرس کہ اعراف بہشت ست |
|
ترجمہ بہشت کی حوروں کے لئے اعراف دوزخ ہے دوزخیوں سے پوچھ کہ اعراف بہشت ہے |
|
شعر
|
فرق ست میانِ آنکہ یارش در بر |
با آنکہ دو چشمِ انتظارش بر در |
|
ترجمہ اُس شخص میں جس کا معشوق بغل میں ہے اور اس شخص میں جس کی انتظار کی آنکھیں دروازہ کو لگی ہیں بہت فرق ہے؟ |
|
حکایت (8)
یکے از ملوکِ عجم رنجور بود در حالتِ پیری و امیدِ زندگانی قطع کردہ کہ سوارے از در درآمد و بشارت داد کہ فلاں قلعہ را بہ دولتِ خداوند بکشادیم عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ بڑھاپے کے زمانہ میں بیمار پڑا تھا اور جینے کی امید ختم کر چکا تھا کہ ایک سوار دروازے سے اندر آیا اور اس نے خوشخبری دی کہ فلاں قلعہ آپ کے اقبال سے ہم نے فتح کر لیا
و دشمناں اسیر آمدند اور دشمن قید ہو گئے
و سپاہ و رعیّتِ آں طرف بہ جملگی مطیع فرماں گشتند۔ اور اس طرف کی فوج و رعایا سب کی سب حکم کی تابعدار ہو گئی ہے۔
مَلِک نفسے سرد برآورد و گفت ایں مُژدہ مرا نیست دشمنانم راست یعنی وارثانِ مملکت۔ بادشاہ نے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا یہ خوشخبری میرے لئے نہیں ہے بلکہ میرے دشمنوں کے لئے یعنی حکومت کے وارثوں کے لئے ہے۔
قطعہ
|
دریں اُمید بسر شد دریغ عمرِ عزیز |
کہ آنچہ در دلم ست از درم فراز25 آید |
|
ترجمہ افسوس پیاری عمر اسی امید میں ختم ہو گئی کہ جو میرے دل میں (تمنا) ہے وہ سامنے آ جائے |
|
|
امیدِ بستہ برآمد ولے چہ فائدہ زانکہ |
امید نیست کہ عمرِ گذشتہ باز آید |
|
ترجمہ دشوار امید پوری ہو گئی، لیکن کیا فائدہ ہے اس لئے کہ اس کی تو امید نہیں ہے کہ گذشتہ عمر لوٹ آئے |
|
قطعہ
|
کوسِ رحلت بکوفت دستِ اجل |
اے دو چشمم وداع سر بکنید |
|
ترجمہ موت کے ہاتھ نے کوچ کا نقارہ بجا دیا اے میری دونوں آنکھوں سر کو رخصت کرو |
|
|
اے کف دست و ساعد و بازو |
ہمہ تودیع یک دگر بکنید |
|
ترجمہ اے ہاتھ کی ہتھیلی اور گٹے اور بازو سب ایک دوسرے کو رخصت کرو |
|
|
بر منِ اوفتادہ دشمن کام |
آخر اے دوستاں گذر بکنید |
|
ترجمہ مجھ دشمن کے منشاء کے مطابق گرے ہوئے پر آخر اے دوستو گذر کرو |
|
|
روزگارم بشد بنادانی |
من نہ کردم شما حذر بکنید |
|
ترجمہ میرا زمانہ تو نادانی میں ختم ہو گیا میں تو برائیوں سے نہ بچا، تم بچو |
|
حکایت (9)
ہرمز26 را گفتند از وزیرانِ پدر چہ خطا دیدی کہ بند فرمودی لوگوں نے ہرمز سے دریافت کیا کہ تو نے باپ کے وزیروں کی کیا خطا دیکھی جو ان کو قید کر دیا
گفت گناہے معلوم نہ کردم ولیکن بہ یقین دانستم کہ مہابتِ من در دلِ ایشاں بیکراں ست۔ اس نے کہا ان کی کوئی خطا مجھے معلوم نہیں ہوئی لیکن یقینی طور پر میں سمجھ گیا کہ میرا خوف ان کے دل میں بے انتہا ہے۔
و بر عہدِ من اعتمادِ کلی ندارند۔ اور میرے عہد پر ان کو پورا بھروسہ نہیں ہے۔
