اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

بابِ اوّل: در سیرتِ پادشاہاں

و در حدیث ست کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَے الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَے الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ‌ہر بچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا ڈالتے ہیں۔

قطعہ

پسرِ نوح8 با بداں بہ نشست

خاندانِ نبوتش گم شد

ترجمہ حضرت نوحؑ کے بیٹے نے بروں کے ساتھ نشست و برخاست اختیار کی۔ اُس سے نبوت کا خاندان چھوٹ گیا

سگِ اصحاب9 کہف روزے چند

پئے نیکاں گرفت مردم شد

ترجمہ اصحابِ کہف کے کتے نے چند روز نیکوں کی صحبت اختیار کی آدمی بن گیا

ایں بگفت و طائفہ از ندمائے مَلِک با وے بہ شفاعت یار شدند تا مَلِک از سرِ خونِ او در گذشت۔ اُس نے یہ کہا اور بادشاہ کے مصاحبوں میں سے ایک جماعت نے سفارش کرنے میں اُس کا ساتھ دیا چنانچہ بادشاہ نے اُس کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔

و گفت بخشیدم اگرچہ مصلحت نہ دیدم۔ اور فرمایا میں نے معاف کیا اگرچہ مناسب نہ سمجھا۔

رُباعی

دانی کہ چہ گفت زال10 با رستم گرد

دشمن نہ تواں حقیر و بے چارہ شمرد

ترجمہ تجھے معلوم ہے کہ زال نے رستم پہلوان سے کیا کہا دشمن کو بے چارہ اور کمزور نہ سمجھنا چاہیئے

دیدیم بسے کہ آبِ سرچشمۂ خُرد

چوں بیشتر آمد شتر و بار بُبرد

ترجمہ ہم نے بہت سی مرتبہ دیکھا ہے کہ چھوٹے سے چشمہ کا پانی جب زیادہ ہو گیا تو اونٹ اور بوجھ کو بہا لے گیا!

فی الجملہ پسر را بناز و نعمت برآوردند و اُستادِ ادیب را بتربیتِ او نصب کردند۔ خلاصہ یہ کہ لڑکے کو ناز و نعمت سے پرورش کیا اور ادب سکھانے والا اُستاد اس کو پڑھانے سکھانے کے لئے مقرر کر دیا۔

تا حُسنِ خطاب و رَدِّ جواب و آدابِ خدمتِ ملوکش در آموختند و در نظر ہمگناں پسند آمد۔ چنانچہ اُنہوں نے بات چیت کا سلیقہ، جواب دینے کا طریقہ، اور بادشاہوں کی خدمت کے طریقے اس کو سکھائے اور سب کو پسند آنے لگے۔

بارے وزیر از شمائل او در حضرتِ سلطان شمّہ می گفت کہ تربیتِ عاقلاں در و اثر کردہ است و جہل قدیم از جبلّتِ او بدر بُردہ۔ ایک مرتبہ وزیر اُس کے اخلاق کا تھوڑا سا ذکر بادشاہ کے دربار میں کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ عقلمندوں کے سکھانے پڑھانے نے اس میں اثر کیا ہے اور پرانی نادانی اُس کی طبیعت سے دور کر دی ہے۔

مَلِک را ازیں سخن تبسّم آمد و گفت بادشاہ اس بات پر مسکرایا اور کہنے لگا

بیت

عاقبت گرگ زادہ گرگ شود

گرچہ با آدمی بزرگ شود

ترجمہ انجام کار بھیڑیئے کا بچہ بھیڑیا ہوتا ہے اگرچہ انسان کے ساتھ پل کر بڑا ہوا ہو

سالِ دو بریں برآمد۔ دو سال اس بات کو گذر گئے۔

طائفۂ اوباش محلّت درو پیوستند و عقدِ موافقت بستند۔ محلے کے بدمعاشوں کا ایک گروہ اس سے میل کھا گیا اور انہوں نے اُس سے دوستی کا عہد باندھ لیا۔

تا بوقتِ فرصت وزیر را و ہر دو پسرش را بکشت و نعمتِ بے قیاس برداشت۔ آخر موقع پا کر اس نے وزیر کو اور اس کے دونوں لڑکوں کو مار ڈالا اور لاتعداد دولت لے کر چلا گیا۔

و در مغارۂ دُزداں بہ جائے پدر بہ نشست و عاصی شد۔ اور باپ کی جگہ چوروں کی گھاٹی میں رہنے لگا اور باغی ہو گیا۔

مَلِک دستِ تحیّر بدنداں گرفت و گفت بادشاہ نے افسوس سے انگلی دانتوں میں دبائی اور فرمایا

قطعہ

شمشیرِ نیک زآہنِ بد چوں کُند کسے

ناکس بہ تربیت نہ شود اے حکیم کس

ترجمہ بُرے لوہے سے عمدہ تلوار کوئی کیسے بنائے اے عقلمند سکھانے پڑھانے سے نالائق لائق نہیں ہو سکتا

باراں کہ در لطافتِ طبعش خلاف نیست

در باغ لالہ روید و در شورہ11 بوم خس

ترجمہ بارش جس کی طبیعت کے پاکیزہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں باغ میں لالہ اور شوریلی زمین میں جھاڑ اُگاتی ہے!

قطعہ

زمین شورہ سنبل12 برنیارد

درو تخمِ عمل ضائع مَگرداں

ترجمہ شوریلی زمین سنبل نہیں اگا سکتی اس میں کوشش کا بیج ضائع نہ کر

نکوئی با بداں کردن چناں ست

کہ بد کردن بجائے نیک مرداں

ترجمہ بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ہی ہے جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کرنا!

حکایت (5)

سرہنگ13 زادۂ را دیدم بر درِ سرائے اغلمش14 کہ عقل و کیاستے و فہم و فراستے زائدُ الوصف داشت۔ میں نے ایک سپاہی زادہ کو اغلمش کے دروازہ پر دیکھا جو کہ عقل، سمجھ، دانائی اور ذہانت ناقابلِ بیان رکھتا تھا۔

ہم از عہدِ خُردی آثارِ بزرگی در ناصیۂ او پیدا بچپن ہی سے بڑائی کے نشانات اُس کی پیشانی سے ظاہر تھے

فرد

بالائے سرش ز ہوشمندی

می تافت ستارۂ بلندی

ترجمہ اُس کے سر پر ہوشمندی کی وجہ سے بڑائی کا ستارہ چمک رہا تھا

فی الجملہ مقبول نظرِ سلطان آمد کہ جمالِ صورت و معنی داشت۔ خلاصہ یہ کہ بادشاہ کی نظر پر چڑھ گیا چونکہ ظاہری و باطنی حسن رکھتا تھا۔

و خردمنداں گفتہ اند توانگری15 بہ دِل ست نہ بہ مال و بزرگی بہ عقل ست نہ بہ سال۔ اور عقلمندوں نے کہا ہے مالداری دل سے ہے نہ کہ مال سے اور بڑائی عقل سے ہے نہ کہ عمر سے۔

ابنائے جنس او بر منصبِ او حسد بردند۔ اس کے ہم پیشہ اُس کے مرتبہ پر جلنے لگے۔

و بہ خیانتے متہم کردند و در کشتنِ او سعیٔ بے فائدہ نمودند۔ اور ایک خیانت کی اُس پر تہمت لگائی اور اس کے مار ڈالے جانے میں بے نتیجہ کوشش کی۔

مصرع

دشمن چہ کند چو مہرباں باشد دوست

ترجمہ جب دوست مہربان ہو تو دشمن کیا کر سکتا ہے

مَلِک پرسید کہ موجبِ خصمیِ ایشاں در حقِ تو چیست بادشاہ نے دریافت کیا تجھ سے اُن کی دشمنی کا کیا سبب ہے

گفت در سایۂ دولتِ خداوندی دَامَ مُلکہٗ ہمگناں را راضی کردم مگر حسوداں کہ راضی نمی شوند الّا بزوالِ نعمتِ من۔ اُس نے کہا بادشاہی حکومت کے زیرِ سایہ دَامَ مُلکہٗ‌خدا اُسے ہمیشہ برقرار رکھے میں نے سب کو راضی کر لیا ہے بجز حاسدوں کے کیونکہ وہ تو جب ہی راضی ہوں گے جب مجھ سے نعمتیں چھن جائیں۔

و دولت و اقبالِ خداوندی باقی باد۔ خدا کرے شاہی حکومت اور دبدبہ ہمیشہ باقی رہے۔

قطعہ

توانم اینکہ نیازارم اندرونِ کسے

حسود را چہ کنم کو ز خود برنج درست

ترجمہ میں یہ کر سکتا ہوں کہ کسی کا دل نہ دکھاؤں میں حاسد کا کیا کروں وہ تو خود بخود رنج میں ہے

بمیر تا برہی اے حسود کیں رنجیست

کہ از مشقّتِ او جز بمرگ نتواں رست

ترجمہ اے حاسد تو مر جا تاکہ تو رہائی پالے اس لئے کہ یہ رنج تو ایسا ہے کہ اُس کی تکلیف سے موت کے سوا چھٹکارا نہیں ہو سکتا

قطعہ

شوربختاں بہ آرزو خواہند

مُقبلاں را زوالِ نعمت و جاہ

ترجمہ بدبخت تمنا سے نصیبہ وروں کے مرتبہ اور نعمت کا زوال چاہتے ہیں

گر نہ بیند بروز شپرہ چشم

چشمۂ آفتاب16 را چہ گناہ

ترجمہ اگر17 کی بیماری والا دن میں نہ دیکھے تو اِس میں آفتاب کی ٹکیہ کا کیا قصور ہے

راست خواہی ہزار چشم چناں

کور بہتر کہ آفتاب سیاہ

ترجمہ اگر تو سچ کہلوانا چاہے تو ایسی ہزار آنکھوں کا اندھا ہو جانا آفتاب کے سیاہ ہونے سے بہتر ہے

حکایت (6)

یکے را از ملوکِ عجم18 حکایت کنند کہ دستِ تطاول بر مالِ رعیّت دراز کردہ بود و جور و اذیّت آغاز تا بجائے کہ خلق از مکائدِ ظلمش بہ جہاں برفتند۔ عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ اُس نے رعایا کے مال پر دست درازی کر رکھی تھی اور ظلم و ستم شروع کر دیا تھا یہاں تک کہ رعایا اُس کے ظلم کی مکاریوں سے دوسری جگہ چلی گئی۔

و از کُربتِ جورش راہِ غربت گرفتند۔ اور اس کے ظلم کی مصیبت سے مسافرت کا راستہ اختیار کر لیا۔

چوں رعیّت کم شد ارتفاعِ ولایت نقصان پذیرفت و خزینہ تہی ماند و دشمناں طمع کردند و زور آوردند۔ جب رعایا کم ہو گئی تو حکومت کی آمدنی میں گھاٹا آیا اور خزانہ خالی ہو گیا دشمنوں کو اس ملک کے فتح کرنے کا لالچ پیدا ہو گیا اور وہ زور پکڑ گئے۔

ہر کہ فریادرسِ روزِ مصیبت خواہد

گو در ایّامِ سلامت بہ جوانمردی کوش

ترجمہ جو شخص مصیبت کے وقت اپنا مددگار چاہے اُس کو کہہ دو کہ سلامتی کے وقت شرافت سے کام لے

بندۂ حلقہ19 بگوش ار ننوازی برود

لطف کن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش

ترجمہ اگر تو تابعدار غلام پر بھی مہربانی نہ کرے گا تو وہ بھی بھاگ جائے گا مہربانی کر مہربانی تو غیر بھی فرمانبردار ہو جائے گا

بارے در مجلسِ او کتابِ شاہنامہ20 میخواندند در زوالِ مملکتِ ضحاک21 و عہدِ فریدوں22۔ ایک مرتبہ اُس کی مجلس میں کتابِ شاہنامہ پڑھ رہے تھے ضحاک بادشاہ کی حکومت کی بربادی اور فریدوں کی حکومت کا بیان تھا۔