پسر نعرہ بزد و گفت اے مُرداں بکوشید تا جامۂ زناں نپوشید۔ شہزادہ نے نعرہ مارا اور کہا اے بہادرو کوشش کرو خبردار ہرگز عورتوں کا جامہ نہ پہنو۔
سواراں را بگفتنِ او تہوّر زیادہ گشت و بہ یک بار حملہ کردند۔ اس کے کہنے سے سواروں کی بہادری بڑھ گئی اور ایک بارگی حملہ کر دیا۔
شنیدم کہ ہمدراں روز بر دشمن ظفر یافتند۔ میں نے سنا کہ اسی روز انہوں نے دشمنوں پر فتح پائی۔
پدر سر و چشم را بوسید و در کنار گرفت و ہر روز نظر بیش کرد تا ولیعہد خویش کرد۔ باپ نے اس کے سر اور آنکھوں پر بوسہ دیا اور بغلگیر ہوا اور اس پر روز افزوں توجہ کی یہاں تک کہ اس کو ولیعہد مقرر کیا۔
برادرانش حسد بُردند و زہر در طعامش کردند۔ اُس کے بھائیوں نے حسد کیا اور اُس کے کھانے میں زہر ملا دیا۔
خواہرش از غُرفہ بدید و دریچہ برہم زد۔ اُس کی بہن نے کھڑکی سے دیکھ لیا اور کھڑکی بجا دی۔
پسر بفراست دریافت دست از طعام باز کشید و گفت محالست کہ ہنرمنداں بمیرند و بے ہنراں جائے ایشاں گیرند۔ شہزادہ ذہانت سے سمجھ گیا کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور کہنے لگا کہ یہ تو ناممکن بات ہے کہ ہنرمند مر جائیں اور بے ہنر ان کی جگہ سنبھال لیں۔
شعر
|
کس نیاید بزیرِ سایۂ بوم |
ور ہُما از جہان شود معدوم |
|
ترجمہ اُلو کے سایہ میں کوئی آنا پسند نہ کرے اگرچہ ہُما دنیا سے ناپید ہو جائے |
|
پدر را ازیں حال آگہی دادند۔ لوگوں نے باپ کو یہ قصہ بتایا۔
برادرانش را بخواند و گوشمال بواجب داد۔ اُس کے بھائیوں کو بلایا اور مناسب سزا دی۔
پس ہر یکے را از اطرافِ بلاد حصۂ مرضی معین کرد تا فتنہ فرو نشست و نزاع برخاست کہ دہ درویش در گلیمے بخسپند و دو بادشاہ در اقلیمے نہ گنجند۔ پھر ملک کے اطراف میں سے ہر ایک کے لئے اُس کی پسند کے مطابق ایک حصہ مقرر کر دیا چنانچہ فتنہ ختم ہوا اور جھگڑا جاتا رہا کیونکہ دس فقیر ایک کمبلی میں سو جاتے ہیں اور دو بادشاہ ایک ولایت میں نہیں سماتے۔
قطعہ
|
نیم نانے گر خورد مردِ خدائے |
بذلِ درویشاں کند نیمے دگر |
|
ترجمہ مردِ خدا اگر آدھی روٹی کھاتا ہے تو دوسری آدھی فقیروں پر خرچ کر دیتا ہے |
|
|
مُلکِ اقلیمے بگیرد پادشاہ |
ہمچناں در بندِ اقلیمے دگر |
|
ترجمہ اگر بادشاہ ایک ولایت کی حکومت حاصل کر لیتا ہے تو اسی طرح دوسری ولایت کی فکر میں لگا رہتا ہے |
|
حکایت (4)
طائفۂ دزدانِ عرب بر سرِ کوہے نشستہ بود و منفذِ کارواں بستہ و رعیّتِ بُلداں از مکایدِ ایشاں مرعوب و لشکرِ سلطان مغلوب بحکمِ آنکہ ملاذے منیع از قُلّۂ کوہے گرفتہ بودند و ماوائے و ملجائے خود کردہ۔ عرب کے چوروں کا ایک گروہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر قبضہ جما بیٹھا تھا اور قافلہ کا راستہ بند کر دیا تھا اور شہروں کی رعایا اُس کے مکر و فریب سے ڈرتی تھی اور بادشاہ کا لشکر عاجز تھا چونکہ اُس نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر محفوظ جائے پناہ بنا لی تھی اور اُس کو اپنا ٹھکانا اور پناہ گاہ بنا لیا تھا۔
مدبران ممالکِ آں طرف در دفعِ مضرّتِ ایشاں مشاورت کردند کہ اگر ایں طائفہ بریں نسق روزگارے مداومت نمایند مقاومت ممتنع گردد۔ ان اطراف کے شہروں کے عقلمندوں نے اُس کی نقصان رسانی کے دفع کرنے کا مشورہ کیا کہ اگر یہ گروہ اسی طور پر چند دن جما رہے گا تو پھر مقابلہ ناممکن ہو جائے گا۔
مثنوی
|
درختے کہ اکنوں گرفت ست پائے |
بہ نیروئے شخصے برآید ز جائے |
|
ترجمہ جس درخت نے کہ ابھی جڑ پکڑی ہے ایک آدمی کی طاقت سے اُکھڑ جائے گا |
|
|
وگر ہمچناں روزگارے ہلی |
بگردونش6 از بیخ بر نگسلی |
|
ترجمہ اور اگر تو اسی طرح اُس کو ایک زمانہ تک چھوڑ دے گا تو گردوں کے ذریعہ بھی اس کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتا |
|
|
سرِ چشمہ شاید گرفتن بہ میل |
چو پُر شد نشاید گذشتن بہ پیل |
|
ترجمہ چشمہ کا سوراخ ایک سلائی سے بند کیا جا سکتا ہے جب وہ بھرا تو ہاتھی کے ذریعہ بھی اس کو عبور نہیں کیا جا سکتا |
|
سخن بریں مقرر شد کہ یکے را بتجسسِ ایشاں برگماشتند و فرصت نگاہ می داشتند، یہ فیصلہ ہوا کہ ایک شخص کو ان کی سراغ رسانی پر مقرر کر دیا اور موقع کے متلاشی رہے،
تا وقتیکہ بر سرِ قومے راندہ بود و مقام خالی ماندہ تنے چند مردانِ واقعہ دیدہ و جنگ آزمودہ را بفرستادند تا در شِعبِ جبل پنہاں شدند۔ جس وقت وہ ایک قوم پر چڑھائی کرنے گیا ہوا تھا اور قیامگاہ خالی تھی چند آدمی جو تجربہ کار اور جنگ آزمودہ کو روانہ کر دیا چنانچہ وہ پہاڑ کی گھاٹیوں میں چھپ گئے۔
شبانگاہے کہ دُزداں باز آمدند سفر کردہ و غارت آوردہ سُلاح از تن بکشادند و رختِ غنیمت بنہادند۔ رات کے وقت جب چور واپس آئے سفر کئے ہوئے اور لوٹ کا مال لئے ہوئے تو انہوں نے بدن سے ہتھیار کھول دیئے اور لوٹ کا مال ایک طرف رکھ دیا۔
نخستین دشمنے کہ بر سرِ ایشاں تاختن آورد خواب بود۔ سب سے پہلا دشمن جو اُن پر حملہ آور ہوا نیند تھی۔
چندانکہ پاسے از شب بگذشت یہاں تک کہ شب کا ایک حصہ گذر گیا
شعر
|
قرصِ خورشید در سیاہی شد |
یُونُس7 اندر دہان ماہی شد |
|
ترجمہ سورج کی ٹکیہ سیاہی میں چلی گئی (جیسا کہ) حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے |
|
مردانِ دلاور از کمین گاہ بدر جستند و دستِ یگاں یگاں برکتف بستند۔ بہادر لوگ اپنے چھپاؤ کی جگہ سے باہر نکل آئے اور ایک ایک کے ہاتھ مونڈھوں سے باندھ دیئے۔
بامداداں بدرگاہِ مَلِک حاضر آوردند۔ صبح کو بادشاہ کے دربار میں حاضر کر دیا۔
ہمہ را بہ کشتن فرمود۔ سب کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا۔
اتفاقاً دراں میاں جوانے بود کہ میوۂ عنفوانِ شبابش نورسیدہ و سبزۂ گلستانِ عذارش نودمیدہ۔ اتفاقاً ان میں ایک نوجوان بھی تھا کہ اُس کی آغازِ جوانی کا میوہ تازہ تھا اور اس کے رخسار کے باغ کا سبزہ نیا نیا اُگا تھا۔
یکے از وزیراں پائے تختِ مَلِک را بوسہ داد و رُوئے شفاعت برزمیں نہاد۔ ایک وزیر نے بادشاہ کے تخت کے پائے کو چوما اور سفارش کا چہرہ زمین پر رکھا۔
و گفت ایں پسر ہمچناں از باغِ زندگانی برنخوردہ است و از ریعان جوانی تمتّع نیافتہ۔ اور کہا اس لڑکے نے ابھی زندگی کے باغ کا پھل بھی نہیں چکھا ہے اور جوانی کی ابتداء سے نفع نہیں اٹھایا ہے۔
توقع بہ کرم و اخلاقِ خداوندی آنست کہ بہ بخشیدنِ خونِ او بربندہ منّت نہی۔ شاہی اخلاق و کرم سے توقع یہ ہے کہ اس کا خون معاف فرما کر اِس خادم پر احسان فرمائیں گے۔
مَلِک روی ازیں سخن درہم آورد و موافقِ رائے بلندش نیامد و گفت بادشاہ کو اس بات سے غصہ آ گیا اور یہ بات اُس کی بلند رائے کے موافق نہ پڑی اور کہا
فرد
|
پرتوِ نیکاں نہ گیرد ہرکہ بُنیادش بدست |
تربیت نااہل را چوں گردگاں برگنبدست |
|
ترجمہ جس کی بنیاد بری ہے وہ بھلوں کا سایہ بھی اپنے پر نہیں پڑنے دیتا نااہل کی تربیت کرنا ایسا ہے، جیسا کہ گنبد پر اخروٹ |
|
نسل و بنیاد ایناں منقطع کردن اولیٰ ترست کہ آتش کشتن و اخگر گذاشتن و افعی کشتن و بچہ اش نگاہ داشتن کارِ خردمنداں نیست۔ ان کی نسل و جڑ کو تمام کر ڈالنا ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ آگ کو بجھانا اور چنگاری چھوڑ دینا اور سانپ کو مارنا اور اس کے بچے کو حفاظت سے رکھنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔
قطعہ
|
اَبر گر آب زندگی بارد |
ہرگز از شاخ بید برنخوری |
|
ترجمہ اگر بادل آبِ حیات برسائے تو بھی تُو بید کی شاخ کا پھل نہیں کھائے گا |
|
|
با فرومایہ روزگار مَبَر |
کز نئے بوریا شکر نہ خوری |
|
ترجمہ کمینے کے ساتھ وقت ضائع نہ کر کیونکہ بوریے کے نرکل سے تو شکر نہیں کھائے گا؟ |
|
وزیر ایں سخن بشنید و طوعاً و کرہاً بپسندید و بر حسنِ رائے مَلِک آفریں خواند وزیر نے یہ بات سنی اور چار و ناچار پسند کی اور بادشاہ کی رائے کی خوبی کی تعریف کی
و گفت آنچہ خداوند دَامَ مُلکہٗ فرمود عینِ صواب ست و مسئلۂ بے جواب کہ اگر در صحبت آں بداں تربیت یافتے طینت ایشاں گرفتے و یکے از ایشاں شدے۔ اور کہا جو کچھ بادشاہ دام ملکہ نے فرمایا بالکل صحیح ہے اور بات ناقابلِ انکار اس لئے کہ اگر اُن بُروں کی صحبت میں پلتا تو اُن کی فطرت اختیار کرتا اور ان میں ہی کا ایک ہوتا۔
اما بندہ امیدوارست کہ بہ صحبتِ صالحاں تربیت پذیرد و خوئے خردمنداں گیرد کہ ہنوز طفل ست و سیرتِ بغی و عنادِ آں قوم در نہادِ او متمکن نشدہ۔ لیکن غلام کو امید ہے کہ نیکوں کی صحبت کا اثر قبول کرے گا اور عقلمندوں کی عادت اختیار کرے گا اس لئے کہ ابھی بچہ ہے اور اُس قوم کی سرکشی اور دشمنی کی عادت نے اُس کی طبیعت میں جڑ نہیں پکڑی۔
