سرکاری ملازمت کی پیش کش
یوپی کے گورنر سر ہارکورٹ بٹلر میرے باپ کے بڑے دوست تھے، انہوں نے ان کے انتقال کی خبر سنی تو، تار بھیج کر، مجھ کو نینی تال4 بلابھیجا۔ اور تعزیت کے بعد مجھ سے کہا۔ ”میں آپ کو بی اے سے مستثنٰی کر کے، سرکاری ملازمت دینا چاہتا ہوں۔ آپ ڈپٹی کلکٹر بنیں گے یا اسپیشل منیجر کورٹ آف وارڈ؟“ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، خاموش ہو گیا۔ بٹلر صاحب نے گھڑی دیکھ کر کہا۔ ”وقت کم ہے آپ جلدی انتخاب کریں“۔ میں نے کہا۔ ”آپ میرے باپ کے دوست ہیں، اس لیے میرے چچا ہیں، میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ آپ مجھ کو نوکری دینا چاہتے ہیں، مگر میں کوئی سرکاری نوکری قبول کرنے پر آمادہ نہیں“۔ بٹلر صاحب نے کہا ”آپ سینیر کیمبرج تک پڑھے ہوئے ہیں انگریزی اچھی بولتے اور جانتے ہیں، آپ اس کی پروا نہ کریں آپ بخوبی کام چلا سکتے ہیں۔ جلدی بتائیے آپ ان دو پیش کشوں میں کس کو ترجیح دیتے ہیں“۔ میں نے کہا۔ ”جناب والا آپ میرے بزرگ ہیں، میں آپ کی پیش کش کو سر آنکھوں سے قبول کرتا، مگر آپ کی حکومت غاصبانہ ہے، اس لیے میں، آپ کی نوکری کو اصولاً غلط سمجھتا ہوں“۔ میرا یہ فقرہ سن کر، بٹلر کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ تنتنا کر کھڑے ہو گئے، اور مجھ سے کہا۔ ”باہر آئیے“۔ میں سمجھا کہ باہر جا کر وہ مجھ پر حملہ کریں گے اور حملہ کیا تو میں پٹھان ہوں ڈروں گا نہیں، ترکی بہ ترکی جواب دوں گا۔
کمرے سے نکل کر وہ مجھے لان پر لے گئے اور انگلی اٹھا کر کہا ”دیکھئے یہ یونین جیک جو اس چھت پر لہرا رہا ہے، جب اس پہریرے کے اوپر سے خون کا دھارا گزر جائے گا، اس وقت ہندوستان آزاد ہونے کا خواب دیکھ سکے گا“۔ میں نے کہا ”جناب والا کو میں اپنا چچا سمجھتا ہوں، اگر گستاخی نہ سمجھیے تو جواب دوں“۔ بٹلر نے کہا ”دیجئے جواب“ میں نے کہا ”ہندوستان کی رگوں میں اس قدر خون ہے کہ اس کے صرف ایک صوبے کا نہیں فقط ایک ضلع کا خون اس پہریرے کو آسانی کے ساتھ غرق کر کے رکھ دے گا۔ یہ سن کر وہ اور بھی سرخ ہو گئے اور کہا ”آپ میرے دوست کے لڑکے، اور نوجوان آدمی ہیں۔ اس لیے میں آپ کے ساتھ کوئی سختی نہیں برت سکتا، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ آپ کی قوم کا ہر فرد ایک جنسِ فروختنی ہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں پل بھر میں خرید لیتے ہیں“ میں نے کہا میں اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں“۔ انہوں نے غصے میں آ کر، میرے صوبے کے تین نہایت مقتدر آدمیوں کے نام لے کر، مجھ سے کہا کہ ہم آپ کی قوم کے ان تین بڑے آدمیوں کو خرید چکے ہیں۔ آپ ہیں کس خیال میں؟“
ان تین اکابر کے نام سن کر، مجھ کو پسینہ آ گیا، میں گھبرا گیا کہ اب کیا کہوں، لیکن پھر سنبھل کر یہ جواب دیا کہ ”کم سے کم مجھے خریدا نہیں جا سکتا۔ بٹلر یہ سن کر غصے میں بھرے، اور مجھ کو غور سے دیکھتے ہوئے کمرے میں چلے گئے، اور میں ان سے رخصت ہوئے بغیر گورنمنٹ ہاؤس سے باہر نکل گیا۔
گم نام خطوں کی بھر مار
نینی تال سے میں سیدھا ملیح آباد گیا۔ اپنی اور رئیس احمد کی جائداد — بھائی صاحب کی سپردگی میں دے کر، رئیس و ابرار سمیت پھر آگرے چلا گیا کہ تعلیم کی تکمیل ہو جائے۔
تھوڑے ہی دن کے بعد، گم نام خطوں کا تانتا بندھ گیا، کہ آپ نے اپنی جائیداد اپنے بھائی کے سپرد کر کے بڑی خطرناک غلطی کی ہے، وہ آپ کی جائداد کو خرد برد کر رہے ہیں، آپ کے حصے کے درخت کٹوا کر اپنے کام میں لا رہے ہیں اور آپ کے اچھے اچھے کاشت کاروں کو اپنے ”مُحال5“ میں بسا رہے ہیں۔ اور آپ کی آمدنی جو ان کے پاس، بطورِ امانت جمع ہو رہی ہے، اس سے ہاتھ اٹھا لیجئے، وہ آپ کو کبھی نہیں ملے گی۔ اوّل اوّل تو میں نے ان خطوں کو کوئی اہمیت نہیں دی، اور یہ سمجھتا رہا کہ جیسی ملیح آباد کے پٹھانوں کی عادت ہے، وہ ہم بھائیوں کو لڑا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہ رہے ہیں۔
لیکن مقیم چچا نے بھی، جب اسی نوعیت کا خط لکھ کر، ان گم نام خطوں کی تصدیق کر دی، تو مجھ کو بڑی تشویش پیدا ہو گئی۔ اور مقیم چچا کے خط کے ساتھ، تمام گم نام خط بھی ابرار کو دکھا دیئے۔
خطوں کو پڑھ کر ابرار نے کہا۔ ”قرآن مجید کی قسم ان خطوں کا ایک ایک حرف صحیح ہے“۔ اتنا کہہ کر ابرار اپنے منہ پر طمانچے مارنے لگے۔ میں نے پوچھا۔ ”یہ کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا اپنے پر لعنت بھیج رہا ہوں کہ جب آپ شفیع احمد خاں کے سپرد اپنی جائداد کر رہے تھے۔ اس وقت نہ جانے میرا جی کس کوٹھے میں تھا، اور میری عقل کس پھٹکی میں بند ہو گئی تھی کہ میں نے اس وقت آپ کو اس فعل سے نہیں روکا“۔ اپنی اس کوتاہی پر مجھے ایک پرانی بات یاد آ گئی۔ سنتے ہیں کوئی طوائف کسی شادی کی محفل میں گارہی تھی کہ ؎
|
مجھ کو جنگل میں، اکیلا چھوڑ کر |
قافلہ، مضطر، روانہ ہو گیا |
تو یہ شعر سن کر ایک ہینگ بیچنے والا کابلی پٹھان دھاڑیں مار مار کر رونے اور رو رو کر یہ کہنے لگا کہ جب یہ عورت اتنا زیور پہنے جنگل میں اکیلا رہ گیا تھا اس وخت ہم کہاں جا کر مر گیا تھا کہ اس عورت کو لوٹ نہیں سکا ۔
ملیح آباد کا قیام اور جائے داد کا انتظام
اس کے بعد میں، رئیس و ابرار سمیت ملیح آباد آگیا۔ رئیس و ابرار نے پڑھنے لکھنے کی طرف پھر مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ رئیس موسیقی میں غرق ہو گئے، ابرار کورٹ آف وارڈ کے منیجر ہو گئے۔ میں نے ابرار کے بڑے بھائی خواجہ حسن خاں کو ضلع دار بنا کر اپنی جائے داد ان کی نگرانی میں دے دی۔ مولانا قدرت اللّٰہ بیگ سے دوبارہ فارسی پڑھنا شروع کر دی، اور شاعری کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کا بطورِ خود مطالعہ کرنے لگا۔ اسی اثناء میں ایک روز میرے برادرِ بزرگ تشریف لائے اور تین دستاویزوں پر مجھ سے دستخط کر دینے کی فرمائش کی۔ میں نے ان پر بے پڑھے دستخط کر دیئے تاکہ بھائی صاحب کو یہ گمان نہ ہو کہ مجھے ان پر اعتماد6 نہیں ہے۔ اس واقعے کے تیسرے روز یہ معلوم کر کے، حیرت و عبرت نے میرا احاطہ کر لیا کہ ان دستاویزوں میں دو رسیدیں تھیں اور ایک ہبہ نامہ۔ پہلی رسید تھی میری جائے داد کے ان باون ہزار روپیوں کی جو ان کے پاس جمع اور ان کے ذمے واجب الادا تھے۔ دوسری رسید تھی ان بہتر ہزار روپوں کی جو میرے باپ نے لالہ مادھو پور کو بطورِ قرض دیئے اور لالہ صاحب ان کو ادا کر کے، بھائی صاحب سے رسید لے چکے تھے۔ اور تیسری چیز وہ ہبہ نامہ تھا جس کی رو سے میں نے تقریباً آدھی جائے داد بھائی صاحب کے نام لکھ دی تھی۔
مقیم چچا اور ابرار نے جب یہ ہول ناک خبر سنی ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ وہ لکھنؤ چلے گئے اور جب وکیلوں سے مشورہ کر کے آئے تو انہوں نے کہا ”تم یہ حلف نامہ لگا کر، کہ بڑے بھائی کی مروّت کے دباؤ میں آکر تم نے ان رسیدوں اور اس ہبہ نامے پر، انہیں پڑھے بغیر دست خط کر دیئے تھے، مقدمہ دائر کر دو، اور مادھو پور کو بھی نوٹس دو کہ انہوں نے کل روپیہ بھائی صاحب کے حوالے کیوں کر دیا جب کہ وہ صرف ایک تہائی کے حق دار تھے — میں نے مقیم چچا اور ابرار کو، ہر چند ٹکا سا جواب تو نہیں دیا، لیکن اس قدر ٹال مٹول کی کہ آخر کار وہ دونوں سمجھ گئے کہ میں اس اقدام پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔
”قصرِ سحر“ کی تعمیر7
اپنے سوتیلے چچا آصف خاں سے میں نے امانی گنج کے میدان میں، غالباً دو بیگھے زمین خرید کر، ایک نہایت خوب صورت دومنزلہ کوٹھی بنوا لی، چوں کہ یہ کوٹھی صرف اس لیے بنوائی گئی تھی کہ اس سے طلوعِ سحر کا جمال دیکھوں، اس لیے اس کا نام ”قصرِ سحر“ رکھ دیا۔
وہ کوٹھی، ملیح آباد اسٹیشن کے قریب تھی، اس کے بائیں طرف، ایک بڑا خوب صورت تالاب تھا۔ اور داہنے طرف زرا سا ہٹ کر ریلوے لائن تھی۔
میرے تَقَشُّف کا آغاز
یہ دنیا ہفت عجائب سے زیادہ، حیرت ناک اور اس کم بخت کے امکانات کا دائرہ کائنات کے دائرے سے بھی وسیع تر ہے۔
ارے ذرا خیال تو کیجئے کہ غالباً 1920ء میں ”قصرِ سحر“ آتے ہی، خدا کا کرنا یہ ہوا کہ میرے سے مادر زاد معصیت کار پر دورہ پڑ گیا اور اس چیز کا جس کو نادان ”تقویٰ“ اور دانا بزدلی کے نام سے پکارتے ہیں۔

