اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

برہنہ پا یتیموں کی مانند

اس تقوے کا ہلکا سا دورہ سینٹ پیٹرز کالج‌St. Peter's College میں بھی پڑا تھا، لیکن اس مرتبہ تو اس میں اس قدر شدت پیدا ہو گئی کہ میں، بڑی سختی کے ساتھ، نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے لگا۔

نمازوں کے وقت میں کمرہ بند کر کے عود اور اگر سلگاتا اور اس قدر طویل رکوع و سجود کے ساتھ نمازیں پڑھتا تھا کہ قرون اولیٰ کے سچے مسلمانوں کی روح وجد کرنے لگتی تھی۔ اور پرہیز گاری کی یہ لے یہاں تک بڑھ گئی کہ قیمتی لباس ترک کر کے، موٹے چھوٹے کپڑے پہننے لگا۔ گوشت کھانا اور چارپائی پر سونا ترک کر دیا اور مجھ پر اس حد تک خدا کا قہر نازل ہوا کہ میں نے داڑھی کی سی چیز بھی رکھ لی، اور بالکل مولوی خدا بخش نظر آنے لگا ؎

قیامت ہے کہ سن، لیلیٰ کا، دشتِ قیس میں آنا

کہا حیرت سے اس نے، یہ بھی ہوتا ہے زمانے میں

ارے کس بے پایاں حیرت کی یہ بات تھی کہ میرا سا دیوانۂ کاکل و رخسار، اور سبحہ و سجادہ میں گرفتار — میرا سا فریفتۂ چنگ و عود اور مشق رکوع و سجود — مجھ سا مردِ خوش اوقات اور گرفتارِ صوم و صلوٰاۃ — میرا سا امیرِ کاخ و کو، اور اسیرِ مسواک و وضو!! تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو‌تھو ہے تجھ پر اے گردش کرنے والے آسمان تھو۔

کس قدر سچ کہا ہے، میر تقی میر نے ؎

دیر سے اٹھ کے، کعبے آیا میر

جس کو چاہے خدا خراب کرے

میں اس زمانے میں پو پھٹنے سے8 بہت پہلے بیدار ہوا کرتا، حافظ کا دیوان گنگنا گنگنا کر پڑھتا، پھر نمازِ فجر ادا کرتا، اور تاروں کی سہانی چھاؤں میں نکل جاتا، امانی گنج9 کے لق و دق میدان میں، وہاں پہنچ کر چکاروں کی طرح چٹختا، چھلانگیں مارتا، صد پور کے پودوں کو گلے لگاتا۔ حافظ کے اشعار گنگناتا، درختوں پر چڑھ جاتا، اور پھر ان سے یہ کہہ کر اتر آتا کہ معاف کرنا، میں نے بڑی تکلیف پہنچائی تم کو۔ اور اسی عالم میں گل رنگ آسمان کی جانب جب نظر اٹھاتا تو کیا دیکھتا کہ بڑی لانبی لانبی داڑھیوں کے فرشتے، میرے سر پر منڈلا منڈلا کر ”سلام علیکم، یا لسان الصباح‌سلام تم پر، اے صبح کی زبان۔ سلام علیکم، یا لسان الصباح“۔ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اور فرشتے جب سلام کر کر کے، بلندیوں کی طرف اڑنے لگتے تھے تو عجیب قسم کی گھنٹیاں سی بجنے لگتی تھیں چاروں طرف، اور فضا میں تیرنے لگتی تھی یہ آواز ؎

دعائے صبح و آہِ شب، کلیدِ گنجِ مقصود است

بایں راہ و روش می رو کہ بادل دار پیوندی !

ترجمہ صبح کی دعا اور رات کی آہ، مقصود کے خزانے کی چابی ہے۔ اسی راہ اور طریقے پر چل تاکہ تو محبوب سے جا ملے۔

بیعت

اسی زمانے میں کاکوری کے فرشتہ صورت سجادہ نشین حضرت حبیب10 حیدر شاہ کے ہاتھ پر میں نے بیعت بھی کر لی تھی — سالانہ عرس کے زمانے میں وہاں بڑی دھوم دھام ہوا کرتی تھی۔ دور دور سے مرید اور قوال آتے تھے۔ اور کنھیا قوال جب گاتا تھا تو در و دیوار جھومنے لگتے تھے۔ اور تاروں کی ہلکی روشنی اور رات کی چھٹتی ہوئی تاریکی میں، جس وقت ”آزادوں“11 کی ٹولی، اونچی اونچی ٹوپیاں اور لانبی عبائیں پہنے، حضرت تراب علی شاہ کے مزار کے روبرو، صفیں باندھ کر حضرت علی کی منقبت میں

اے بادشاہِ اولیاء مستاں، سلامت می کُنند

ترجمہ اے اولیاء کے بادشاہ، مست لوگ آپ کو سلام کرتے ہیں۔

گانا شروع کر دیتے تھے تو ایسا نظر آتا تھا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، رسالت مآب حضرت علیؑ کی مولائی کا اعلان فرما رہے ہیں۔