اللہ اکبر، وہ رات، وہ نالوں سے گونجتی اور آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی رات — وہ صاحبِ خانہ کے سدھار جانے کے بعد کی سر پیٹتی رات۔ وہ ایک لٹے ہوئے قافلے کی بے قافلہ سالار رات!!
جب اپنے گھر کے اداس پھاٹک پر نظر پڑی، اور، ہر آن شادیانوں سے گونجتے ہوئے صحن سے، جب نالہ و شیون کی ملی جلی آوازیں سنیں، دل پر گھن چلنے لگے — اور جب اس صحن میں، کانپتی پنڈلیوں کے ساتھ قدم رکھا، جہاں شفقتِ پدری کی گھنیری چھاؤں میں میرا بچپن کھیلا کرتا تھا، تو ایک بہت بڑے کہرام نے میری پیشوائی کی — داروغہ امید علی دوڑتے اور چیختے آئے اور مجھ سے چمٹ کر رونے لگے — اور ہماری چیخوں نے بام و در میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ مکان کے اندر سے بھی ہائے ہائے ہائے کی صدائیں آنے لگیں — دادی جان کی آواز آئی۔ ”بشیر جاگ اٹھ، تیرے بچے آگرے سے آئے ہیں سلام کرنے کو“۔ دادی کی یہ آواز سن کر، ایسا محسوس ہوا گویا ذروں سے لے کر تاروں تک ایک عظیم ماتم برپا ہے۔ اور اس کرۂ ارض کے تمام پہاڑ میرے سینے پر رکھ دیئے گئے ہیں، اور اس آسمان کی ڈاٹ کے نیچے تمام دنیا کے رونے والوں کے آنسو میری آنکھوں میں بھر دیئے گئے ہیں۔ اتنے میں رئیس کی انا دوڑی آئیں، ہم دونوں کو سہارا دے کر گھر لے گئیں۔ دادی اور ماں کی سوگ واری دیکھ کر، دل پر ایسا ناقابلِ برداشت وزن پڑا کہ میں زمین پر گر پڑا، ایڑیاں رگڑنے لگا، گریبان پھاڑ دیا — اور چیخ چیخ کر، ہائے میاں، ہائے میاں، ہائے میاں، ارے میں کیا کروں، کدھر چلا جاؤں؟ ارے کوئی اللّٰہ کا بندہ مجھ پر ترس کھائے اور مجھ کو میرے میاں کی قبر میں لے جا کر دفن کر دے“۔ یہ کہتے کہتے میں بے ہوش ہو گیا۔1
میرے مقدمۂ تنسیخِ نکاح کا فیصلہ
میرے باپ کی موت کے غالباً ایک ہفتے کے بعد مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ اور میرے نکاح کو جائز قرار دیتے ہوئے عدالت نے مجھ کو یہ اختیار بھی دے دیا کہ، میں چاہوں تو اپنے خسر اور ان کے گواہوں پر حلف دروغی کا مقدمہ بھی چلا سکتا ہوں۔
فیصلہ سنانے کے وقت، عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، یہی نہیں کہ ہم لوگ ہی آب دیدہ تھے۔ میرے مخالفین اور خود میرے خسر بھی بے حد مغموم و پریشان نظر آ رہے تھے۔
مسٹر شرغا حکم سنانے بیٹھے تو آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگے ”خاں صاحب کو اس مقدمے کے جیتنے کی بڑی تمنا تھی، کاش میں ان کی زندگی میں ہی فیصلہ سنا دیتا“ یہ سن کر اپنے تو اپنے غیروں کی آنکھوں سے بھی آنسو ٹپکنے لگے — اور مجھ نا مراد کو اپنی یہ فتح مندی لاکھوں شکستوں کے پہاڑوں کے نیچے دبی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ میں نے لاکھ لاکھ ضبط کرنا چاہا، مگر ایک درد ناک چیخ، میرے منہ سے نکل گئی — میرے خسر سے نے جھپٹ کر مجھے سینے سے لگا لیا، اور عدالت کا کمرہ مجلسِ عزا میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔
میری شادی، بعد از خانہ بربادی
اس فیصلے کے دوسرے دن حضرت مولانا عبد الباری صاحب قبلہ، فرنگی محلی، میرے پاس تشریف لائے، اور فرمایا کہ ”مجھ کو آپ کے والد گرامی کی نا وقت موت کا بے حد افسوس ہے اور اس بات کا بھی ملال ہے کہ میں نے مقدمے میں آپ کی مخالفت کی تھی، مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ فرنگی محل پر آپ کے جدِ امجد نواب فقیر محمد خاں بہادر کے جو احسانات ہیں، میں انہیں بھول گیا ہوں“۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ ”میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ محمد مقیم خاں (میرے خسر) اور ان کے گواہوں پر، مقدمہ چلائیں گے کہ نہیں — میں نے کہا ”مولانا اس دن کے لیے خدا مجھ کو نہ رکھے کہ میں مقیم چچا اور ان کے گواہوں پر مقدمہ چلا کر، انہیں جیل بھیجنے کی سعی کروں“۔ مولانا میری یہ بات سن کر خوش ہو گئے۔ مجھے سینے سے لگا لیا اور کہا۔ ”آپ کی شرافت سے مجھے اسی جواب کی امید تھی‘‘ — اس کے بعد بڑی بزرگانہ ملائمیت کے ساتھ مسکرا کر انہوں نے یہ فرمایا کہ ”آپ کیا یہ وعدہ بھی کریں گے کہ اپنی بیوی کو شیعہ نہیں بنائیں گے“۔ میں نے کہا۔ ”مولانا دین میں اکراہ کو دخل نہیں ہے، میں کبھی ان کو شیعہ ہو جانے پر مجبور2 نہیں کروں گا“۔
چاہیئے تو یہ تھا کہ باپ کی موت پر میں کم سے کم پانچ برس تک سوگ مناتا۔ لیکن حالات کی نوعیت اس قدر پیچیدہ اور اس قدر عجلت طلب تھی کہ مجبوراً یہ طے کرنا پڑا کہ جلد سے جلد رخصت کی رسم ادا کر دی جائے۔ اس لیے دسمبر 1916ء کے آخری ہفتے میں میری شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
میرا سا بد بخت و بد نصیب دولھا کون ہو گا۔ شادی کا جوڑا مجھے اس وقت پہنایا گیا، جب کہ میرے باپ کا کفن ابھی میلا بھی نہیں ہوا تھا۔ اور میرے سر پر اس وقت سہرا باندھا گیا جب کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں برس رہی تھیں — میرے پھاٹک کی شہنائیوں کی آوازوں میں نوحے تیر رہے تھے — میری ہتھیلی کی مہندی کے رنگ سے، میرے دل کا خون ابل رہا تھا — تاشوں کی جھنکار کفِ افسوس مل رہی تھی، اور مجھ نا مراد کی شادی کے دوش پر میرے باپ کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔
میں جب ہاتھی پر بیٹھ کر براتیوں کے ساتھ اپنی سسرال کی جانب روانہ ہوا تو یہ دیکھا کہ میرے باپ سامنے کھڑے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں۔ ”بیٹا شادی مبارک ہو، میں نے جان دے کر، تیرا سہرا دیکھا ہے“۔ اس وقت میں نے اس طرح ہچکیاں روکیں کہ میری پسلیوں میں درد ہونے لگا اور دل سے آواز آنے لگی ”ہائے میرے باپ، ہائے میرے باپ“۔ اور میرے سہرے کی مہکیں میرے سینے پر ڈنک مارنے لگیں۔
|
اے متاعِ درد، در بازارِ جاں انداختہ |
گوہرِ ہر سود، در جیب زیاں انداختہ |
|
ترجمہ اے درد کی پونجی، جسے جان کے بازار میں ڈال دیا گیا ہے، (اور) ہر فائدے کا موتی، جسے نقصان کی جیب میں ڈال دیا گیا ہے۔ |
|
تقسیمِ جائداد
میری اس تجویز سے میرے بڑے اور چھوٹے بھائی نے اتفاق کیا کہ سرکاری طور پر نہیں، نجی طریقے سے جائداد تقسیم کر لی جائے۔ اور ماتا دین پٹواری کو حکم دیا گیا کہ وہ مساوی قسم کی تین چٹھیاں بنا دے جب یہ کام مکمل ہو گیا تو پٹواری وہ چٹھیاں لے کر آیا، اور ان کو تہ کر کے ایک صندوق میں بند کر دیا۔ اور ہم تینوں بھائیوں نے آنکھیں بند کر کے، ایک ایک چٹھی اٹھالی۔
میں نے اپنی چٹھی کھولی، سمجھ میں نہیں آئی، ابرار کے حوالے کر دی، اور جب انہوں نے وہ چٹھی پڑھی تو خوشی سے اچھل کر کہنے لگے ”مبارک ہو شبیر حسن خاں، آپ کی چٹھی سب سے بڑھیا ہے“۔ میں نے پوچھا۔ ”کس اعتبار سے؟“ انہوں نے کہا ”آپ کے حصے میں قلمی باغ آیا ہے“۔ میں نے پوچھا۔ ”میری چٹھی میں تھانہ بھی ہے؟“ ابرار نے کہا۔ ”ارے یہ آپ کیا پوچھ رہے ہیں؟ اس باغ کی ایک ایک پتی پر ہزاروں تھانے قربان کیے جا سکتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں، باغ کی فصل دس دس بیس بیس ہزار روپے کی، ہر سال فروخت ہوتی ہے۔ تھانے میں رکھا ہی کیا ہے، اس کی سالانہ مرمت میں الٹے آپ کی جیب سے ہر سال پانچ چھ سو روپے جایا کریں گے“ میں نے کہا ”ارے تھانے کو تم کیا سمجھتے ہو؟ اس کی چھت سے ایسے ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں کہ آدمی وجد کرنے لگے“۔ یہ سن کر بڑے بھائی صاحب نے کہا ”میں تم کو اپنے بیٹے کے برابر سمجھتا ہوں۔ اپنا دل میلا نہ کرو، تھانہ میری چٹھی میں آیا ہے، لو بدل لو“۔ یہ سن کر ابرار نے چیخ مار کر کہا ”شبیر حسن خاں، ارے ایسا غضب نہ کر بیٹھئے گا، قرآن مجید کی قسم بڑا غضب ناک قسم کا دھوکا کھا جائیے گا“۔ اس بات پر، بڑے بھائی صاحب نے ابرار سے ڈانٹ کر کہا، تم کون ہوتے ہو، ہم بھائیوں کے درمیان ٹانگ اڑانے والے“۔ یہ کہہ کر بھائی صاحب نے اپنی چٹھی میری چٹھی سے بدل لی۔ اور ابرار غصے کے مارے وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
تھپڑی بج گئی ملیح آباد بھر میں میری اس حماقت کی۔ لوگوں نے آ کر کہا، ارے ہزاروں کی سالانہ آمدنی پر لات مار کر، سالے تھانے کو ترجیح دی، تم کیسے آدمی ہو، میں نے کہا۔ ”بھائی صاحب باغ لے کر نہال ہو گئے اور میں تھانے کے مناظر پا کر باغ باغ ہو گیا۔ ان کو باغ کی چاندی ملی، اور مناظر کا سونا میرے ہاتھ لگا۔
جب میری یہ بات سنی تو میرے ایک قرابت دار محمد غنی خاں نے جل کر، جواب دیا کہ، ”بھائی شبیر حسن خاں، شعر ویر3 میں تو خیر، باقی اور تمام باتوں میں تم مہاتما قسم کے چوتیے ہو“۔

