بارش کے شگونوں سے مراد اُن پُرانے تجربوں سے ہے جن کو سالہا سال کے مشاہدات کے بعد ہمارے بزرگوں نے بارش ہونے کے آثار قرار دیے ہیں۔ دیہات میں اکثر لوگ اب بھی اُن تجربوں سے بخوبی واقف ہیں مگر شہروں میں زیادہ تر لوگ ان کو محض لغو خیال کرتے ہیں۔
قبل اس کے کہ شگونوں اور کہاوتوں کا ذکر کیا جائے، بارش کے اسباب کا مختصر ذکر بے جا نہ ہوگا۔ گو ممکن ہے کہ ہماری بعض رائیں بحث طلب سمجھی جائیں مگر اس چھوٹے سے مضمون میں مفصل مباحثہ کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے ہم جس رائے کو درست سمجھتے ہیں اس کو مختصراً بیان کیے دیتے ہیں۔
بارش کا سب سے اعلیٰ سبب زمین سے تر بخارات کا اٹھنا ہے۔ ان بخارات کو ہم بخارات ارضی کہتے ہیں۔ جب بخارات ارضی زیادہ اُٹھتے ہیں تو بارش زیادہ ہوتی ہے اور جب کم، تو کم ہوتی ہے۔ مگر محض بخارات ارضی بارش کے لیے کافی نہیں بلکہ سمندری بخارات کی موجودگی بھی لازمی ہے جن کو ہم بخاراتِ مائی کہہ سکتے ہیں۔ بخاراتِ مائی سمندر سے اُٹھ کر اوپر اوپر آتے ہیں اور بخارات ارضی زمین سے اُٹھ کر نیچے رہتے ہیں۔ انہی دونوں کے اتصال سے بارش ہوتی ہے۔ ان دونوں بخارات میں جزوِ اعظم پانی کا بخار ہے۔ مگر علاوہ اس کے چند اور گیسیں بھی شریک ہوتی ہیں جو بارش میں معاون ہوتی ہیں۔ بخاراتِ مائی میں کلورین گیس یعنی نمک کا بخاری جزو شریک ہوتا ہے اور بخاراتِ ارضی میں امونیا گیس یعنی نوشادر کے بخارات، گندک کے بخارات وغیرہ شریک ہوتے ہیں۔ کلورین کو ہائیڈروجن گیس سے ایسا ربط ہے کہ اگر کسی شے میں ہائیڈروجن شریک ہو تو کلورین اسے نکال کر خود اسی سے مل جاتا ہے۔ چنانچہ امونیا میں بھی ہائڈروجن موجود ہے، اس وجہ سے امونیا اور کلورین ایک دوسرے کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو فوراً کیمیائی عمل وقوع میں آتا ہے جس سے ہائیڈروکلورک ایسڈ گیس پیدا ہوتی ہے اور امونیا کی نائٹروجن گیس الگ ہو جاتی ہے۔ اب نائٹروجن چونکہ ایک سرد بخار ہے، لہٰذا وہ سردی پیدا کرکے پانی کے بخارات کو گاڑھا کر دیتا ہے۔ بخاراتِ مائی قوتِ برقی مثبت رکھتے ہیں اور بخاراتِ ارضی قوتِ برقی منفی۔ چنانچہ جب بخاراتِ مائی اوپر سے گزرتے ہیں تو حسبِ قاعدہ وہ بخاراتِ ارضی کی طرف کھنچتے ہیں۔ اس طرح دونوں متصل ہوتے ہیں۔ اگر بخاراتِ ارضی ہوا میں نہیں ہوتے تو بخاراتِ مائی بلا نیچے کھنچے ہوئے بلند ہو کر نکل جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ریگستانوں میں پانی بالکل نہیں برستا۔ جب ہوا میں نیچے بخارات ارضی موجود ہوتے ہیں اور اوپر سے بخارات مائی گذرتے ہیں تو اول الذکر آخرالذکر کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور ان کے وصل کے وقت، یعنی جب کلورین اور امونیا ملتے ہیں تو شعلہ اور آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر خارج شدہ نائٹروجن ٹھنڈک ڈال دیتا ہے اور پانی کا بخار بوندوں میں مقطر ہو کر زمین پر برس پڑتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا، یہ باتیں بحث کی محتاج ہیں۔ البتہ یہ امر مغربی سائنس دانوں کی تحقیقات کے مطابق مسلمہ ہے کہ بارش کے لیے زمین سے تبخیر کا زیادہ ہونا ضروری ہے۔ اور جتنے ہی زیادہ بخارات زمین سے اُٹھیں گے اتنی ہی زیادہ بارش ہو گی۔ اور ہمارے شگونوں کی صداقت کے لیے اسی قدر سمجھ لینا بھی کافی ہوگا۔
مینڈھکوں کا شور مچانا
یہ ایک ایسا جانور ہے جو ہمیشہ پانی میں یا پانی کے قریب رہتا ہے لیکن زیادہ دیر تک پانی کے اندر نہیں رہ سکتا، بلکہ اپنی گردن ہوا لینے کی غرض سے باہر نکالے رہتا ہے۔ جب بارش قریب ہوتی ہے اور گرمی شدت کی پڑتی ہے تو تالابوں اور گڑھوں کا پانی بخارات کے زیادہ اُٹھنے کے باعث خشک ہونے لگتا ہے اور دلدل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ پانی کی کمی سے اور بخارات زیادہ اُٹھنے سے مینڈھک، جس کو ہوا اور پانی دونوں سے تعلق ہے، بے چین ہونے لگتا ہے اور اسی وجہ سے شور مچاتا ہے۔ پس اس کا شور مچانا بخاراتِ ارضی کے زیادہ اُٹھنے کی دلیل ہے۔ اور بخاراتِ ارضی بارش کا باعث ہوتے ہیں۔
سانپوں کا درخت پر چڑھنا
سانپ بھی زمین کے اندر رہنے والا کیڑا ہے لیکن بارش کے قبل جب شدت گرمی سے بخارات زمین سے بکثرت اُٹھتے ہیں تو اس کو تکلیف معلوم ہوتی ہے، لہٰذا وہ باہر نکل آتا ہے۔ لیکن باہر اس کے دشمن بہت ہوتے ہیں، لہٰذا وہ اپنی حفاظت کی غرض سے درخت پر چڑھتا ہے۔ ان دنوں اُس کا دوران خون بھی تیز ہو جاتا ہے۔ جس کے سبب سے ترقیِ نسل کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جو جانور زمین کے اندر رہتے ہیں اُن کا دوران خون کم ہوتا ہے۔ کیونکہ زمین کی نمی ہر وقت ان کے جسموں کو گھیرے رہتی ہے اور رطوبتِ خون کو گاڑھا رکھتی ہے۔ مگر جب وہ جانور باہر آتے ہیں اور بخارات زمین سے زیادہ اُٹھتے ہیں تو جسموں سے پسینہ نکلتا ہے اور خون رقیق ہو جاتا ہے، اسی سے خون کا دوران تیز ہو جاتا ہے۔
1883ء میں جب بارش بہت کم ہوئی تھی، ایک تجربہ کار سپاہی نے ایک سانپ کو مار کر میرے والدِ مرحوم کو دکھلایا کہ اس کے بدن سے خون بہت کم نکلا۔ 1884ء میں اُسی سپاہی نے پھر ایک سانپ کو مار کر دکھایا کہ خون اُس کے جسم سے بہت نکلا اور اُس سال بارش بھی خوب ہوئی۔ پہلے سال خون کم نظر آنے کی وجہ صرف یہی تھی کہ خون بوجہِ بخارات کی کمی کے گاڑھا تھا، لہٰذا پھیل کر زیادہ نہ معلوم ہوا۔ دوسرے سال بخارات کی زیادتی کے سبب خون رقیق تھا، اس لیے زیادہ نظر آیا۔ اس طرح پر سانپ میں خون کم یا زیادہ نظر آنے سے بارش کا شگون لیا جا سکتا ہے۔
گرگٹ کا درختوں پر چڑھنا
یہ جانور بھی زمین کے اندر رہنے والا ہے اور وہیں اپنے انڈے دیتا ہے۔ گرمی کے دنوں میں یہ بیشتر سطحِ زمین پر نظر آتا ہے لیکن جس سال بخارات کثرت سے اُٹھتے ہیں اُس سال یہ صرف سطح زمین ہی پر نہیں نظر آتا، بلکہ درختوں پر اپنا مسکن اختیار کرتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک گرگٹ ایک درخت پر ہوتا ہے، اور دوسرا اُس پر چڑھنا چاہتا ہے تو پہلا گرگٹ سخت غصے میں آ کر اُس پر حملہ کرتا ہے اور اُس کو زخمی کر دیتا ہے۔ یعنی پہلے گرگٹ نے درخت پر اپنا گھر بنا کر اپنی حد قائم کر رکھی ہے اور اس حد کے اندر وہ کسی دوسرے کا قدم رکھنا پسند نہیں کرتا۔ جس سال بخارات کم اُٹھتے ہیں اُسی سال گرمیوں میں گرگٹ زمین کے باہر نظر ضرور آتا ہے مگر وہ اپنا مسکن درختوں پر نہیں اختیار کرتا۔
جھینگر کا پیپل کے درخت پر شور کرنا
جب بخارات کثرت سے اُٹھتے ہیں تو جھینگر بھی دیگر حشراتِ الارض کی مثل درختوں پر چڑھتا ہے مگر چونکہ یہ جانور ہر وقت اور ہر مقام پر اکثر بولا کرتے ہیں، اس لیے اور درختوں پر چڑھ کر بولنے سے بارش کا شگون نہیں لیتے۔ لیکن پیپل کے درخت پر یہ معمولی سے زیادہ آواز دیتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پیپل کے درخت سے بخارات بکثرت اُٹھتے ہیں جس سے اُس پر چڑھنے سے جھینگر کی تکلیف میں کچھ تخفیف نہیں ہوتی۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ پیپل کے درخت سے بخارات بکثرت اُٹھتے ہیں اور اسی وجہ سے فلاسفۂ ہند نے اسے بارش کا بہت بڑا معاون سمجھ کر اس کی پرورش اور حفاظت کرنا اور جڑ میں پانی دینا ہر شخص پر فرض کر دیا تھا۔
بچھو کا گھاس پر چڑھنا
بخارات کی کثرت سے دیگر حشرات الارض کی مثل بچھو بھی باہر نکل آتا ہے اور ممکن ہے کہ اونچے درختوں پر بھی کسی وقت چڑھ جاتا ہو مگر جہاں تک تجربے سے دیکھا گیا ہے بچھو صرف گھاس پر چڑھتا ہے۔ وجہ اس کی شاید یہ ہو کہ بچھو کی دُم پر ڈنک کا بوجھ ہوتا ہے جس سے اُس کو زیادہ اُنچائی پر چڑھنا گراں گزرتا ہے۔
چیل اور گدھ وغیرہ بلند پرواز طائروں کا نزدیک اُڑنا
جب بخاراتِ ارضی زمین سے اُٹھ کر بوجہ کثرت بہت اونچے نکل جاتے ہیں تو ایک بلندی پر پہنچ کر وہ سردی سے گاڑھے ہونے لگتے ہیں اور بھاری ہو کر نیچے کی جانب نزول کرتے ہیں۔ اس حالت میں وہاں کے کرۂ ہوا پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ اور ہوا سمٹنے لگتی ہے۔ لہٰذا بلند پرواز طائر اس مقام پر آزادانہ نہیں اڑ سکتے اور مجبوراً نیچے اتر کر اڑتے ہیں۔
کتوں کا زمین اپنے پنجوں کھودنا
جب ہوا میں بخارات بکثرت پھیل جاتے ہیں تو رطوبت کے سبب تمام جانوروں پر نیند کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور چونکہ کتے کی قسم کے جانوروں کے مزاج میں گرمی اور رطوبت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ سونے کی غرض سے ٹھنڈی جگہ تلاش کرتے ہیں اور اسی لیے زمین کو پنجوں سے کھودتے ہیں۔
