یہ کہاوت ظاہر کرتی ہے کہ بارش ہندوستان میں ہمیشہ سے زندگی کے لیے ضروری خیال کی جاتی ہے۔ ننیا یا لنیا اس شخص کو کہتے ہیں جس کا پیشہ نمک نکالنا اور بیچنا ہے اور ظاہر ہے کہ برسات میں زمین سے نمک حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کی ایک اور مثل ہے۔ “برسو رام ڈھراکے سے، بڑھیا مر گئی فاقے سے“۔
اور ایک کہاوت ہے:۔
|
”برسے جا برسائے جا۔ دمڑی ڈھیر لگائے جا“ |
اس کہاوت کو اکثر کالے مینگھا والے بھی اپنی بانی میں کہتے ہیں۔ کالے مینگھا والوں سے اکثر لوگ واقف ہوں گے۔ جب بارش میں دیر ہوتی ہے اور پانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اکثر کسان لوگ قصبوں اور شہروں میں آتے ہیں اور یہ بانی کہتے ہیں۔
|
کالے مینگھا پانی دے۔ پانی دے گُردھانی دے |
|
گگری ہے چھونچھی پیل پیا سے۔ کالے مینگھا پانی دے |
|
پانی برسے کھیت مان کوڑی گری ریت مان۔ کالے مینگھا پانی دے“ |
کالے مینگھا والے اس طرح پر صدا لگاتے ہوئے ہر شخص کے دروازے پر لوٹتے تھے اور لوگ اُن کے جسموں پر پانی ڈالتے تھے اور ہر شخص اس طرح پر پانی ڈالنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ شاید پُرانے زمانے میں یہ طریقہ اس وجہ سے جاری کیا گیا ہو کہ پانی ڈالنے سے قصبوں اور شہروں سے بھی بخارات بکثرت اٹھیں اور بارش میں معاون ہوں مگر فی زمانہ اب اس میں لوگوں کا کوئی عقیدہ باقی نہیں رہا اور نہ کسان ہی اب اس طرح پانی مانگنے نکلتے ہیں۔ بلکہ چند بھک منگوں نے اس کو پیسہ پیدا کرنے کا ذریعہ مقرر کر لیا ہے اور یہی پیسہ مانگنے کی غرض سے، نہ کہ پانی کے لیے شہروں میں گشت لگاتے ہیں اور لوگ بھی بجائے پانی کے اُن کو پیسہ ہی دیتے ہیں۔
