گایوں کا گھر سے باہر جانے کی خواہش نہ کرنا
گائے کے خون میں پانی بہت کم شریک ہوتا ہے۔ لیکن جب بخارات بکثرت ہوا میں موجود ہوتے ہیں تو سانس کے ساتھ تر بخارات بھی اندر چلے جاتے ہیں۔ اسی سے معدے میں رطوبت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور سستی اور کاہلی کا سبب بنتی ہے جس سے یہ جانور ایک قسم کے مریض ہو جاتے ہیں اور ان کو اپنے مقام سے باہر قدم رکھنا گراں گزرتا ہے۔
مکھی وغیرہ ہوام کا بکثرت پیدا ہونا
حشرات الارض کی مثل مکھی وغیرہ ہوام کا بھی دورانِ خون بڑھ جاتا ہے اور یہ ان کی مستی کا سبب ہوتا ہے۔ جس سے ان کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے۔
مچھلیوں کا پانی سے اُچھلنا
اکثر ناظرین نے یہ مشاہدہ کیا ہو گا، مگر مچھلی کی یہ تڑپ ہر موسم میں نہیں ہوتی بلکہ ماگھ کے مہینے سے لے کر بیساکھ تک ہوتی ہے۔ لیکن جس سال بخاراتِ ارضی زیادہ اٹھتے ہیں، اس سال مچھلی زیادہ تڑپتی ہے۔ مچھلی کا اس طرح پانی سے اچھلنا بوجہ مستی ہے اور مستی کا سبب دورانِ خون کا تیز ہو جانا ہے جس سال مچھلی زیادہ تڑپتی ہے، اس سال اس کی پیدائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔
پرندوں کا خاک میں نہانا
جب بخارات ہوا میں بکثرت پھیلے ہوتے ہیں تو جس طرح اور حیوانات کے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اسی طرح چڑیوں کے پروں کے نیچے بھی پسینہ نکلتا ہے۔ اس سے ان کے پر بھیگ جاتے ہیں اور وہ آزادی کے ساتھ اڑ نہیں سکتیں، لہٰذا خاک میں نہا کر اپنے پسینے کو خشک کرتی ہیں، کیونکہ ان کے لیے اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔
موروں کا آبدیدہ ہو کر ناچنا
مور ہر موسم میں ناچتے ہیں، مگر اُن کا آبدیدہ ہو کر ناچنا موسم برسات ہی کے قریب نظر آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب بخارات بکثرت اُٹھتے ہیں تو موروں کا خون بھی رقیق ہو جاتا ہے اور دورانِ خون کی تیزی سے ان میں مستی پیدا ہوتی ہے اور اسی کے جوش سے ان کے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ آنسوؤں کا زیادہ نکلنا قلب کے رقیق ہونے کی دلیل ہے اور جس قدر خون زیادہ رقیق ہوگا، اسی قدر آنسو زیادہ آئیں گے۔ ہر جوش طبعی مثلاً رنج، خوشی، غصہ، رحم، مستی، محبت میں آنسو نکل آتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جوش سے کچھ حرارت دل میں پیدا ہوتی ہے اور یہ حرارت خون کو دفعتاً رقیق کر دیتی ہے۔ اور جو بھاپ اُس سے اُٹھتی ہے وہ دماغ پر پہنچ کر پانی ہو جاتی ہے اور آنسو ہو کر نکلتی ہے۔ اکثر انسانوں میں بھی جوش کے وقت آنسو نکل آتے ہیں اور یہ کیفیت عورتوں میں زیادہ تر محسوس ہوتی ہے۔
نیند کا غلبہ زیادہ ہونا
جب ہوا تر بخارات سے مرطوب ہوتی ہے تو سانس لینے میں معدے میں رطوبت زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کا اثر دماغ پر بھی ہوتا ہے۔ اس سبب سے جسم میں سُستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے، جمائیاں آتی ہیں اور نیند کا غلبہ ہوتا ہے۔
بیل کے آنکسوں کا اوپر کی طرف رجوع ہونا
بخاراتِ ارضی کی نمی عام طور پر ہر فصل میں تمام درختوں کے انکڑوں کو اوپر کی طرف رجوع کرتی ہے۔ لیکن بیل کے درختوں پر اُس کا اثر نہیں پڑتا اور ان کی شاخیں زمین ہی پر پھیلتی ہیں یا کسی چیز سے لپٹ کر چلتی ہیں۔ البتہ جب بخارات ارضی زیادہ اُٹھتے ہیں تو اُن کا اثر بیلوں پر بھی پڑتا ہے اور اس لیے اُن کے آنکس بھی اوپر کو رجوع ہوتے ہیں۔
پانی کا بدذائقہ ہو جانا
جب بخارات کثرت سے اُٹھتے ہیں تو پانی سے تبخیر بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔ پانی میں کچھ غیر اجزا حل ہوتے ہیں۔ لیکن جب تبخیر ہوتی ہے تو صرف خالص پانی اڑ جاتا ہے اور بقایا پانی میں ان اجزا کی زیادتی بدمزگی پیدا کر دیتی ہے۔
پہاڑوں پر تاریکی نظر آنا
پہاڑوں کے دامن جھرنوں کی وجہ سے نم رہتے ہیں۔ اور پہاڑوں سے بھی بخارات زیادہ اٹھتے ہیں، نیز پہاڑوں کی بلندی کے سبب سے جو بخاراتِ ارضی ہوا کے ساتھ ان تک پہنچتے ہیں وہ ان سے ٹکر کھاتے ہیں۔ پس بہت سے بخارات کا اجتماع ہو جاتا ہے اور اسی باعث سے تاریکی نظر آتی ہے۔
چوبائی ہوا کا چلنا
جب کئی طرف سے ہوائیں چل کر ایک مقام پر ملتی ہیں تو اُس مقام کی ہوا کو چوبائی ہوا کہتے ہیں اور اگر صرف دو گوشوں سے ہوا چل کر ایک مقام پر ملے تو اس کو بگولہ کہتے ہیں۔ چوبائی ہوا میں ہلکی چیزیں مثلِ کاغذ، گھاس وغیرہ زمین پر چکر کھا کر رہ جاتی ہیں۔ لیکن بگولے کی صورت میں زمین کا غبار مع ہلکی چیزوں کے زمین سے اٹھ کر بلند ہوتا ہے اور کچھ دور تک چکر کھاتا ہوا جاتا ہے۔ یہ دونوں صورتیں اسی حالت میں زیادہ پیدا ہوتی ہیں جب زمین سے بخارات بکثرت اُٹھتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک مقام کی ہوا بخارات سے مل کر اور گرم ہو کر اوپر کو اٹھتی ہے تو یہ ہوا کے چلنے کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا جب ہر مقام سے بخارات بکثرت اٹھتے ہیں تو ظاہر ہے کہ چوبائی ہوا اور بگولے بکثرت پیدا ہوں گے۔
ماہتاب کے گرد ہالہ پڑنا
ہالہ اُسی صورت میں پڑتا ہے جب کرۂ ہوا میں بخارات بکثرت موجود ہوتے ہیں۔ جو پانی کے نہایت چھوٹے قطرے ان بخارات سے حاصل ہوتے ہیں، ان سے ماہتاب کی کرنیں منعکس ہوتی ہیں اور یہی ہالہ نظر آنے کی وجہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہالہ دور اور بڑا پڑے تو بارش جلد ہو گی اور اگر وہ چھوٹا اور نزدیک ہو تو بارش میں دیر ہو گی۔
آسمان کا غبار آلودہ ہونا
یہ مشہور ہے کہ غبارِ چہرۂ گردوں دلیلِ باراں است، اور واقعی جب آسمان غبار آلود ہوتا ہے تو عنقریب پانی پڑنے کی اُمید ہوتی ہے۔ وجہ اس غبار کی یہ ہے کہ جب ہوا میں بخارات بکثرت موجود ہوتے ہیں تو جو گرد و غبار زمین سے تند ہوا کے ساتھ اوپر چڑھتا ہے وہ بخارات میں اُڑ جاتا ہے اور آسمان کو دھندلا کر دیتا ہے۔
یہاں تک ہم نے وہ شگون بیان کیے ہیں جن سے موسمِ برسات سے قبل بارش اچھی ہونے کا پتا لگتا ہے۔ اب ہم چند اور شگونوں اور مثلوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے برسات شروع ہو جانے کے بعد یہ پتا لگتا ہے کہ آگے بارش کیسی ہوگی۔
لال بھریں تال
اس سے یہ مراد ہے کہ جب لال بادل نظر آئیں تو جاننا چاہیے کہ بارش بکثرت ہوگی۔ مگر بعض کہتے ہیں کہ “لال کریں حلال” یعنی اگر لال بادل نظر آئیں تو بارش کی امید نہ رکھنی چاہیے۔ میری رائے میں کچھ شک نہیں کہ رنگین بادلوں کا نظر آنا بارش ہونے کی دلیل ہے۔
|
جب جیٹھ چلے پُر وائی تب ساون دھور اُڑائی |
یعنی اگر جیٹھ کے مہینے میں پوروا ہوا چلے تو جاننا چاہیے کہ ساون میں بارش نہ ہوگی۔ جیٹھ کے مہینے کے لیے تپنا ہی بہتر ہے۔ اس مہینے میں جس قدر پچھوا ہوا یعنی لُو چلے، اسی قدر بارش کے لیے اچھا ہے۔ پوروا ہوا سے بادل نمودار ہوتے ہیں اور اکثر ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔ مگر اس سے وقتِ ضرورت کی یعنی ساون کے مہینے میں بارش کی اُمید بہت کم رہ جاتی ہے۔
|
اساڑھ جُڑانے۔ ساون گرمانے۔ بھادون بیانے۔ کنوار کتھرانے۔ |
یعنی اساڑھ میں ٹھنڈک پڑنے، ساون میں گرمی ہونے اور بھادون میں ہوا چلنے سے پانی برستا ہے اور کنوار میں اس وقت بارش کی اُمید ہوتی ہے جب بادل کتھری کی شکل میں نظر آتا ہے۔ بعضوں نے اس مثل کو یوں بھی کہا ہے۔ “اساڑھ بیانے، ساون گرمانے، بھادون جڑانے، کنوار کتھرانے”۔ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ موسمِ برسات میں ٹھنڈک کا پڑنا بغیر ہوا کے نہیں ہو سکتا۔ ہوا اور ٹھنڈک ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں۔ اس حالت میں یہ تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا ٹھنڈک سے اصلی شگون لیا جائے یا ہوا سے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ بجائے “اساڑھ جڑانے اور بھادون بیانے” کے اساڑھ بیانے اور بھادون جڑانے کہتے ہیں۔
جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
یہ ایک مشہور مثل ہے اور ان لوگوں کے لیے کہی جاتی ہے جو زبان سے بہت کچھ کہتے ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ لیکن بارش کے لیے یہ درست نہیں ہے۔ کبھی کبھی ایسا ضرور ہوتا ہے کہ بادل صرف گرجتے ہوئے نکل جاتے ہیں اور پانی کا ایک قطرہ نہیں گرتا۔ پھر بھی بارش اور گرج میں ایسا تعلق ہے کہ عام طور پر دونوں کا وجود لازم و ملزوم ہے۔
|
سوکبار کی بادری رہی سنیچر چھائے |
اتوار کو کہے بھڈری بن برسے نا جائے |
اس کا مطلب یہ ہے کہ شکر وار کو بادل نظر آئے اور سنیچر کو گِھر کر رہ جائے تو اتوار کو ضرور پانی برسے گا۔ یہ بھڈری کا قول ہے، مگر اکثر درست نہیں بھی ہوتا۔
اب ہم چند ایسی کہاوتیں بیان کرتے ہیں جن سے کوئی شگون نہیں ملتا مگر جو بارش سے تعلق رکھتی ہیں۔
|
”برسو رام جئے دینا۔ کھائے کسان مرے نُنیا“ |
|
ترجمہ اے خدا! بارش برسا اور فتح دے۔ کسان (تو) کھاتا ہے لیکن نمک بنانے والا مرتا ہے۔ |
