جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

چاند بی بی

بیجا پور کی ابتر حالت دیکھ کر ہر چار طرف سے مخالف حکومتوں نے سر اٹھانا شروع کیا اور برار، بیدر، اور گولکنڈہ والوں نے سلطنت کی حدود میں اپنے قدم بھی بڑھانے شروع کر دیے بلکہ ایک مخالف سلطنت نے تو بیجاپور پر بھی چڑھائی کر دی مگر چاند بی بی نے خوب دادِ شجاعت دی کہ مخالف سلطنت جس راستہ سے آئی تھی اسی راستے بے نیل و مرام واپس گئی۔ یہ واقعہ 1584ء کا بتایا جاتا ہے مگر افسوس ہے، کہ مؤرخین نے یہ نہ بتایا کہ وہ کون سی سلطنت تھی۔ کہتے ہیں سال بھر سے اس سلطنت نے بیجاپور کا محاصرہ کر رکھا تھا مگر چاند بی بی نے اپنی سلطنت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو اکٹھا کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

1585ء میں پھر بیجاپور اور احمد نگر میں دوسری رشتہ داری شروع ہوئی۔ یعنی چاند بی بی کے بھائی مرتضیٰ نظام شاہ نے ابراہیم عادل شاہ کی بہن خدیجہ بیگم سے شادی کی اور دلہن کے ساتھ چاند بی بی بھی اپنے میکہ چلی آئی۔

چاند بی بی کا اب مصمم ارادہ ہو چکا تھا کہ امورِ سلطنت سے دست بردار ہو جائے اور اپنی زندگی کے باقی ایّام تنہائی اور خدا کی عبادت میں گزارے۔ مگر جب یہاں آئی ہے تو معاملہ ہی دگرگوں ہو گیا تھا۔ بیجاپور سے زیادہ بدتر حالت احمد نگر کی ہو چکی تھی۔ باپ بیٹے آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ آخر مرتضیٰ نظام شاہ کا کام تمام کر دیا گیا۔ فرشتہ دکن کا مشہور اور معتبر مؤرخ اس وقت قلعہ میں موجود تھا۔ اس نے بڑے دل خراش الفاظ میں اس واقعہ کو قلم بند کیا ہے۔ چاند بی بی بھی قلعہ ہی میں حاضر تھی۔ اس نے ہزاروں ہی تدابیر کیں کہ کسی طرح باپ بیٹے میں میل ملاپ ہو جائے مگر اس کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

میران نظام شاہ نے اگرچہ باپ کو قتل کر کے تخت اپنے قبضہ میں کر لیا تھا مگر یہ کچھ راس نہ آیا اور اس کا بھی وہی انجام ہوا جو مرتضیٰ کا ہوا تھا۔ اسی بدنظمی کی حالت میں بارسوخ جماعت نے مرتضیٰ نظام کے بھائی کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور جمال خاں کو منصب وزارت سپرد کیا گیا۔ مگر بیجا پور اور برار والوں نے اس بادشاہ کی سخت مخالفت کی اور احمد نگر پر چڑھائی کر کے جمال خاں کو شکست بھی دی لیکن چاند بی بی نے اپنے خاندان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو ابھارا اور صلح کرا کر اس آئی ہوئی بلا کو رفع دفع کر دیا۔

یہاں کی نا گفتہ بہ حالت اور اپنی کچھ پیش جاتی نہ دیکھ کر چاند بی بی مجبوراً بیجاپور چلی آئی۔ ابراہیم نے جو اب جوان ہو گیا تھا اپنی چچی کی بڑی ہی گرم جوشی کے ساتھ آؤ بھگت کی اور اس کے ساتھ نہایت ہی عزت اور احترام سے پیش آیا۔

جب 1587ء میں چاند بی بی بیجاپور چلی آئی تو احمد نگر میں اور بھی زیادہ دھما چوکڑی مچ گئی۔ خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ برہان نظام شاہ احمد نگر کا تخت حاصل کرنے کے لیے اکبر بادشاہ کے پاس امداد طلب کرنے کے لیے چلا گیا اور 1589ء میں واپس آیا۔ اپنے بیٹے اسماعیل نظام شاہ سے لڑ کر احمد نگر کا تخت حاصل کیا اور 1594ء تک سلطنت کی۔ لیکن اس کا سارا زمانۂ حکومت بدنظمی اور شر و فساد ہی میں گذرا۔ اس کے انتقال کے بعد احمد نگر میں اور بھی مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی۔ دو جماعتیں ہو گئیں اور دونوں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی بن گئیں۔ ایک جماعت بہادر شاہ کو اور دوسری احمد شاہ کو (جو دونوں بالکل بچے تھے) تخت پر بٹھانا چاہتی تھی۔ اسی اثناء میں میاں منجور ایک با رسوخ امیر نکل آئے اور لگے احمد شاہ کو وارث تخت قرار دے کر اس کی حمایت کرنے۔ مگر احمد شاہ کے پہلے ہی سے لوگ مخالف تھے۔ میاں منجو نے اپنی مدد کے لیے شاہزادہ مراد کو جو گجرات میں تیس ہزار فوج کے ساتھ مقیم تھا بلایا۔ جب شاہزادہ مراد احمد نگر کے سامنے آ کھڑا ہوا تو میاں منجو کی آنکھیں کھلیں کیونکہ اسے معلوم ہو گیا کہ شاہزادہ مراد کا آنا اس کے لیے اچھا نہیں تھا۔ اپنے چند با رسوخ احباب کو جمع کر کے صلاح و مشورت کی کہ اب کیا کِیا جائے۔ سب کی رائے یہی ٹھہری کہ چاند بی بی کے سوا کوئی اس کام کو پورا نہیں کر سکتا لہٰذا اسی کو بیجاپور سے بلایا جائے۔ ایک با رسوخ امیروں کی جماعت فوراً بیجاپور گئی اور چاند بی بی سے عرض معروض کر کے اسے اپنے خاندان کا نام زندہ رکھنے کے لیے احمد نگر لائی۔ اس وقت چاند بی بی کی عمر کوئی پچاس سال کی ہو گئی تھی۔ اگرچہ بڑھاپا آ رہا تھا مگر اس کی وہ بہادری جو خاص قدرت نے اسے عطا کی تھی وہی تھی۔ چاند بی بی نے آتے ہی سب سے پہلے دونوں شاہی بچوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میاں منجو کو فوراً گولکنڈہ اور بیجاپور روانہ کر دیا کہ وہاں سے امداد لے آئے۔ اور آپ قلعہ کو مستحکم بنانے اور مورچہ بندی میں مشغول ہو گئی۔ ابھی ان کارروائیوں کو پورا نہ کرنے پائی تھی کہ اکبری فوج نے احمد نگر کا محاصرہ کر ڈالا۔ یہ واقعہ 1595ء کا ہے۔

ناظرین اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ چاند بی بی کے لیے یہ کتنی مصیبت کا وقت تھا۔ ایک تو پہلے ہی سے بد نظمی پھیلی ہوئی تھی، دوسرے کافی فوج نہ تھی اور تیسری آفت یہ کہ ایک زبردست فوج نے گھیر لیا تھا۔ مگر چاند بی بی ہمت نہ ہاری۔ اپنے سپاہیوں کو قلعہ کے ہر ایک برج اور دریچہ میں مقرر کر دیا۔ پھاٹکوں پر تجربہ کار اور کار آزمودہ سپاہیوں کی جماعتیں بٹھا دیں۔ ادھر شاہزادہ مراد نے قلعہ کی دیوار اڑانے کے لیے نیچے ہی نیچے سرنگ لگانی شروع کی۔ خواجہ محمد خاں شیرازی نے فوراً اس کارروائی سے چاند بی بی کو آگاہ کیا اور اسی دم چاند بی بی نے بھی سرنگ در سرنگ لگا کر دشمن کو بھی اڑا دینے کا انتظام کرنا شروع کیا۔ شاہزادہ مراد نے جب یہ کارروائی دیکھی تو دنگ ہو گیا اور قلعہ کو فتح کرنے کی تدبیر سوچنے لگا۔

اب شاہزادہ مراد کے لیے دوسری تدبیر نہ تھی۔ اس نے فوراً قلعہ کی دیوار پھوڑ کر سرنگ لگانے والوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اور ایک زبردست جماعت اس طرف روانہ کی۔ چاند بی بی بالکل نہ گھبرائی۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوئی سبز برقع اوڑھ کر ہاتھ میں تلوار لے کر اس جگہ آن کھڑی ہوئی جہاں اکبری فوج نے دیوار میں رخنہ ڈال دیا تھا، اس نے اپنی فوج کو فوراً گولیوں کی باڑھ چلانے کا حکم دیا اور دوسری طرف سے توپیں داغنا شروع کیں۔ شام تک چاند بی بی اسی جگہ جمی رہی اور دشمنوں کو اچھی طرح برابری کا جواب دیتی رہی۔ اس خاتون کی بہادری اور زبردست فوجی انتظامات کو دیکھ کر اکبری فوج کے افسروں کی عقل دنگ تھی اور شاہزادہ مراد بھی سمجھ گیا کہ اس خاتون کے آگے اپنی کچھ نہ چلے گی۔ چنانچہ اس نے محاصرہ اٹھا لینے کا ارادہ کر لیا۔ مراد نے چاند بی بی کی طرف اپنے چند معزز سرداروں کو اس کی بہادری کی تعریف اور جنگی کامیابیوں پر مبارک باد دینے کے لیے روانہ کیا اور چاند بی بی کو ”چاند سلطانہ“ کا معزز خطاب بھی دیا۔

شرائط صلح جو شاہزادہ مراد نے کہلا بھیجی تھیں، پہلے تو چاند سلطانہ نے انھیں منظور نہ کیا مگر چند امیروں کے مشورے سے برار کی حکومت دینے پر راضی ہو گئی اور اس طرح 1596ء میں مخالفین کے پنجہ سے اپنی آبائی سلطنت کو اس خاتون نے بچایا۔ ”آفریں باد بریں ہمت مردانہ تو!“ اسی محاصرہ سے چاند بی بی کا نام فوجی کارناموں میں مشہور ہے۔

لیکن اب بھی مصیبتوں سے چھٹکارا نہ تھا۔ میاں منجو نے پھر اپنی بیوقوفی ظاہر کی اور احمد نطام شاہ کو تخت نشین کرنے کے لیے سازشیں کرنی شروع کیں۔ چاند بی بی نے کہا کہ بہادر نظام شاہ ہی اصلی وارث ہے۔ چاند سلطانہ نے فوراً ابراہیم عادل شاہ کو بیجاپور سے فیصلہ کرنے کے لیے احمد نگر بلا لیا اور آخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ بہادر شاہ ہی تخت کا مالک رہے گا۔ اب چاند سلطانہ کو ذرا اطمینان نصیب ہوا اور انتظام مملکت میں مصروف ہو گئی۔