جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

چاند بی بی

1597ء میں شاہزادہ مراد کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس کے بعد اکبر بادشاہ نے دکن کی صوبہ داری پر شاہزادہ دانیال کو مقرر کیا۔ اکبر کا برسوں سے یہ ارادہ تھا کہ کسی طرح نظام شاہی سلطنت پر قابض ہو جائے اور شاہزادہ مراد کے انتقال سے تو اسے اور بھی ایک نیا موقعہ مل گیا۔ چنانچہ تسخیر دکن کے لیے شاہزادہ دانیال کے زیرِ حکم ایک زبردست لشکر دے کر روانہ کیا۔ ادھر چاند سلطانہ نے مغلیہ فوج کا رُخ دیکھ کر بیجاپور سے کچھ امداد طلب کی اور سہیل خاں مشہور بیجاپوری سپاہ سالار کو بھی مانگ لیا۔ اُدھر شاہزادہ دانیال کے ہمراہ اکبر کے مشہور افسر جن کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج چکا تھا آ رہے تھے۔ چنانچہ خان خاناں، راجہ علی خاں، راجہ جگنّاتھ، (وغیرہ) تجربہ کار جنگ آزمودہ افسر تھے مگر اس پر بھی چاند بی بی نے مقابلہ کی ٹھہرائی اور اپنے بچاؤ کی تیاریاں کرنے لگی۔ آخر مغلیہ فوج آ گئی اور قلعہ کا محاصرہ ہو گیا۔ ابو الفضل نے اس محاصرہ کی مفصل کیفیت لکھی ہے جس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دکنیوں نے اپنا خون پانی ایک کر دیا تھا اور چاند سلطانہ نے بھی جواں مردی کے جوہر دکھانے میں کوئی بات نہ اٹھا رکھی تھی۔ مگر مغلیہ فوج کی تعداد دکنیوں سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ دکنیوں میں صرف ایک عورت اور صرف سہیل خاں ہی تھا اور ادھر کوئی نصف درجن تجربہ کار اور جنگ آزمودہ افسر تھے۔ آخر دکنیوں کی شکست اور مغلیہ فوج کی جیت ہوئی۔

1599ء میں نہنگ خاں نے بیٹھے بٹھائے اس مغلیہ فوج پر حملہ کر دیا جو بیڑ میں تھی اور اس طرح گھر بیٹھے جنگ مول لی۔ اکبر نے پھر شاہزادہ دانیال اور خان خاناں کو ایک زبر دست فوج کے ساتھ احمد نگر کو بالکل ملیامیٹ کر دینے کے لیے روانہ کیا۔

چاند سلطانہ نہنگ خاں کی اس بیوقوفی پر نہایت ہی بر افروختہ ہوئی مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ آخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اب جو کچھ کیا جائے وہ اپنی ہی رائے سے کرنا چاہیے۔ لیکن جب مغلیہ فوج آن پہنچی تو چاند سلطانہ نے دیکھا کہ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہماری فوج ان کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ لڑنا گویا جان بوجھ کر جان دینا ہے۔ یہ خیالات آتے ہی چاند بی بی مصلحتاً ذرا پست ہمت ہو گئی۔ لہٰذا اس نے خیال کیا کہ صغر سن بادشاہ کو لے کر جنّیر کی طرف نکل جائے اور شہر مغلوں کے حوالے کر دیا جائے۔

اب دوسری مصیبت سنیے۔ چاند بی بی کو جن لوگوں پر پورا اعتماد تھا ان میں ایک حمید خاں نامی سردار تھا۔ چاند بی بی اس کی بہادری اور جواں مردی کی بڑی ہی قدر داں تھی اور یہی وجہ تھی کہ چاند سلطانہ نے اسے پستی سے بلندی پر پہنچا دیا تھا اور اپنی فوج کا سپہ سالار بھی بنایا تھا۔ مگر چاند بی بی کے متبنیٰ عباس خاں سے حمید خاں کو سخت عداوت تھی اور موقع دیکھ رہا تھا کہ اپنے ہاتھ کے جوہر دکھلائے۔ کیونکہ عباس خاں کو چاند بی بی اپنا حقیقی بیٹا سمجھتی تھی۔ الغرض حمید خاں کو بلا کر چاند سلطانہ نے اپنا منشاء ظاہر کیا اور جو خط مغلیہ سپاہ سالار کو چاند بی بی نے لکھا تھا وہ بھی پڑھ کر سنا دیا اور رائے پوچھی۔ مگر حمید خاں کا تو کچھ اور ہی ارادہ تھا۔ یہ خط دیکھتے ہی اچھل پڑا اور چاند سلطانہ کے ہاتھ سے چھین کر باہر آ کر امیر امرا کے سامنے چیخنے لگا کہ ”دغا! دغا!!“ اور وہ خط پڑھ کر بھی سنا دیا جو چاند سلطانہ نے مغلیہ سپہ سالار کو لکھا تھا۔ الغرض ہر چار طرف دغا، ہی دغا کی آوازیں آ رہی تھی اور ہر شخص سمجھ رہا تھا کہ چاند سلطانہ مغلوں سے مل گئی اور ہم سے دغا بازی کر رہی ہے۔ حمید خاں تو یہ چاہتا ہی تھا، سب کو بہکا کر چاند بی بی سے بدلہ لینے یعنی اسے قتل کرنے کے لیے ایک زبردست جماعت ساتھ لے کر محل میں گھس پڑا۔ چاند بی بی نے اگرچہ اس وقت بھی اپنا اچھا بچاؤ کیا مگر عورت ذات آخر کیا کرتی حمید خاں نے چاند بی بی کا سر اتار ہی لیا۔

زہرہ نامی عورت عباس کی بی بی تھی یہ شور و غل سن کر چاند بی بی کے کمرے میں آئی تو دیکھا کہ چاند بی بی زمین پر خون میں غلطاں پڑی ہے۔ عباس خاں اس وقت حاضر نہ تھا۔ مغلیہ فوج کی روک تھام میں مصروف تھا۔ لیکن جب اسے خبر لگی تو دیوانہ وار دوڑتا ہوا آیا اور ملکہ کو مقتول دیکھ کر پوچھنے لگا کہ قاتل کون ہے۔ لوگوں نے حمید خاں کا نام بتلایا۔ عباس خاں شیر کی مانند حمید خاں کی جستجو میں گیا اور اسے ڈھونڈ کر اپنی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔

ایک انگریز مورخ (کرنل میڈوز ٹیلر) چاند بی بی کے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ (دکن کی ملکہ چاند بی بی صرف انگلستان کی ملکہ ایلزبیتھ کی ہم عصر ہی نہ تھی بلکہ اسی شان و شوکت سے حکومت کرتی تھی۔ خدائے تعالیٰ نے وہی لیاقت اور حکمرانی کا جوہر دونوں کو یکساں عطا فرمایا تھا۔ چاند سلطانہ کی بھی مملکت اتنی ہی تھی جتنی کہ ملکہ ایلزبیتھ کی تھی۔ مگر چاند سلطانہ ہزاروں تکلیفیں جھیل کر جب تک دم میں دم رہا اپنی سلطنت دشمنوں کے پنجوں سے بچاتی رہی، جس کی مثال تاریخِ ہند میں کیا معنی تواریخِ عالم میں مشکل سے ملے گی)۔

مرہٹّہ مورخ چٹنویس کا ایک خط مورخہ 1620ء میں شایع ہوا ہے؛ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلیہ فوج سے جس وقت چاند بی بی لڑ رہی تھی چاروں طرف سے گولوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی اور گولہ بارود ختم ہو جانے سے چاند بی بی نے خزانہ کھلوا دیا اور تانبے وغیرہ کے پیسے بھر بھر کر دشمن پر گولہ باری کی ہے۔ اگر چہ یہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے لیکن بہت سے معتبر اور مشہور مورخین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ مسٹر ایلفنسٹن نے بھی مسٹر چٹنویس کے الفاظ سچ مانے ہیں۔

ایک اور مورخ (شفیع احمد) اس خاتون کی بہادری کا واقعہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ چاند خاتون کے شوہر کے عموماً بہت لوگ دشمن ہو گئے تھے اور یہ فکر کر رہے تھے کہ کسی نہ کسی طرح سے علی عادل شاہ کو قتل کر ڈالیں۔ اگرچہ علی عادل شاہ ایسی باتوں کی پروا نہ کرتا تھا تاہم متوحش تھا اور تین روز سے برابر جاگ رہا تھا۔ چاند بی بی نے اپنے شوہر کو ہمت دلائی اور آرام سے سو جانے کو کہا اور خود ہوشیار پڑی رہی۔ اتنے میں بالا خانہ پر کسی کے کودنے کی آواز چاند بی بی کو سنائی دی۔ یہ بہادر خاتون فوراً اپنے شوہر کی تلوار لے کر باہر نکل آئی اور دیکھا کہ دو شخص کھڑے ہیں۔ فوراً ان پر جھپٹ پڑی اور پہلے ہی حملہ میں ایک کا تو سر اڑا دیا اور دوسرے حملہ میں ایک کو سخت زخمی کر ڈالا۔ بالا خانہ پر دھماکہ کی آواز سے علی عادل شاہ فوراً جاگ پڑا اور باہر آ کے دیکھا تو چاند سلطانہ تلوار لیے کھڑی ہے۔ علی عادل شاہ کو آتے دیکھ کر چاند بی بی نے کہا لیجئے یہ آپ کے دونوں مہمان ہمیشہ کے لیے آپ سے جدا ہو گئے۔

ایک وقت کا ذکر ہے کہ یہ خاتون محافہ میں احمد نگر سے بیجاپور آ رہی تھی، ساتھ صرف ایک مختصر سا باڈی گاڈ تھا۔ حکومت گولکنڈہ کے سپاہیوں سے کہیں راستہ میں چاند بی بی کی محافظ تن سپاہ سے چل گئی اور بات کا بتنگڑ بن گیا۔ دونوں طرف سے تلواریں نکل پڑیں۔ مخالفین زیادہ تھے اور باڈی گاڈ کے سپاہی کم۔ اپنے سپاہیوں کو قتل ہوتے دیکھ کر فوراً محافہ سے نکل پڑی اور اپنے چیتل گھوڑے پر سوار ہو کر مقابلہ میں کھڑی ہو گئی اور مخالفین پر ایسے حملے کیے کہ انھیں بھاگتے ہی بن پڑی۔

ہر ایک مورخ اس بات کا اقبال کرتا ہے کہ چاند سلطانہ ایک زبردست شہسوار تھی اور بارہا اپنے شوہر کے ساتھ میدان جنگ میں جایا کرتی۔ صرف جاتی ہی نہ تھی بلکہ ساری فوج کا پورا انتظام کرتی اور رموزِ جنگ بتایا کرتی تھی۔ اگر اتفاق سے سپاہی پست ہمت ہو جاتے تو فوراً وہاں پہنچ جاتی اور ہمت دِلا دِلا کر لڑاتی۔ جس طرح یہ خاتون دلاور اور کامل سپاہی تھی اسی طرح بہت بڑی لائق اور زباں داں بھی تھی۔ یہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ فارسی اور عربی کے علاوہ دکن کی مروجہ زبانیں یعنی تلنگی، تامل، اور مرہٹی، (وغیرہ) بھی جانتی تھی اور ان میں بے تکلف گفتگو کرتی تھی۔

ایک معتبر مورخ (قاضی احمد نگر، شہاب الدین) لکھتا ہے کہ چاند خاتون نے اپنی خواصوں میں ہر فن اور ہر علم کی جاننے والی عورتیں رکھی تھیں۔

مذکورہ بالا حالات پڑھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چاند سلطانہ نے اپنے ملک کو بچانے اور اپنے خاندان کا نام روشن کرنے میں کیسی کیسی کوششیں کیں اور کن کن مصیبتوں کا سامنا کیا۔