اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب چہارم

یہ افواہ گرم تھی کہ اورنگ زیب کا سفر کشمیر کے لئے نہیں بلکہ قندھار کے قلعہ کی تسخیر کے لئے تھا جو ان دنوں شاہِ فارس کے قبضے میں تھا۔ لیکن یہ بات غلط تھی۔ شہر کو چھوڑ کر بادشاہ نے رات بھر شالیمار کے طویل و عریض باغ میں آرام کیا جسے شاہ جہاں نے تفریح کے لئے بنوایا تھا۔ یہ باغ شاہی محل سے تین کوس کے فاصلے پر لاہور جانے والی سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہاں اورنگ زیب نے چھ دن قیام کیا تاکہ ہر شخص تیاریاں مکمل کر سکے۔ لشکر میں ہر ایک کے شامل ہونے کے بعد اس کا ارادہ سفر شروع کرنے کا تھا۔ مغلوں کے ملک میں یہ رواج ہے کہ جب لشکر میدان میں ہو تو اس امر کی وضاحت کے لئے نقّارہ بجاتے ہیں کہ آئندہ صبح روانگی نہیں ہو گی۔

چھٹی شام کو کوئی نقّارہ نہیں بجا اور پیش خیمے روانہ کر دیئے گئے۔ اس سلسلے میں یہ بات جاننی چاہیے کہ مغل سلطنت میں بادشاہ اور بہت سے امرا دو خیمے ساتھ لے کر چلتے ہیں کہ اگر ایک استعمال میں ہو تو دوسرا اگلے دن کے استعمال کے لئے آگے روانہ کر دیا جاتا ہے۔ شاہی خیمہ جات کی باربرداری کے لئے دو سو اونٹ اور پچاس ہاتھی تھے جو محض اس کام کے لئے وقف تھے۔

ساتویں دن صبح کے تین بجے لشکر روانہ ہوا۔ سب سے پہلے بھاری توپیں تھیں جو ہمیشہ آگے ہوتی ہیں اور اس راستہ کا تعین کرتی ہیں جس سے گذر کر دوسرے پڑاؤ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑی گاڑی پر ایک خوبصورت کشتی تھی تاکہ حسبِ ضرورت اس پر بادشاہ کو دریا پار کرایا جا سکے۔ اس کے پیچھے دیگر ساز و سامان تھا۔ اس طرح جب سحر نمودار ہوئی تو سواروں اور پیدل فوج کے علاوہ جو اپنی مقررہ جگہوں پر تھیں، پڑاؤ بالکل خالی تھا۔ باقی ماندہ کے ساتھ دیگر سواریوں کے علاوہ دو سو‌200 اونٹ تھے جن پر چاندی کے روپے لدے تھے اور ہر اُونٹ پر چار سو اسّی پونڈ وزن کی چاندی تھی۔ سو‌100 اونٹوں پر سونے کے سکّے تھے جن میں سے ہر ایک پر اتنے ہی وزن کا سونا تھا۔ ڈیڑھ سو اونٹوں پر وہ جال لدے ہوئے تھے جنھیں شیر کے شکار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

شاہی دفترِ حسابات بھی ساتھ تھا، اس لئے کہ اصل حسابات ہمیشہ دربارِ شاہی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسّی‌80 اُونٹوں، تیس‌30 ہاتھیوں اور بیس گاڑیوں پر سلطنت کے حسابات کے کھاتے اور دیگر کاغذات لدے تھے۔ علاوہ ازیں پچاس اونٹوں پر پانی تھا، جس میں سے ہر اُونٹ پر دھات کے دو برتنوں میں بھرا ہوا پانی شاہی استعمال کے لئے تھا۔ شاہی خاندان کے شہزادے بھی اپنے اپنے رتبے کے مطابق اسی انداز میں شاملِ سفر تھے۔ چھوٹے خیموں سے لدے ہوئے آٹھ خچّر بادشاہ کے ساتھ تھے۔ یہ خیمے سفر میں اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب بادشاہ کو آرام کی خواہش ہو یا وہ کچھ تناول کرنا چاہے یا پھر کوئی اور خاص ضرورت ہو۔ ان کے ساتھ ہی دو خچروں پر بادشاہ کے کپڑے تھے اور دو پر مختلف انواع کے خوشبودار پھولوں کے عطر تھے۔

شاہی دربار کے رواج کے مطابق اگر بادشاہ کو اگلے دن سفر شروع کرنا ہو تو شاہی باورچی خانہ دس بجے رات کو ہی روانہ ہو جاتا ہے۔ یہ باورچی خانہ پچاس اونٹوں پر لدی ہوئی استعمال اور دودھ دینے والی پچاس موٹی تازی گایوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ لذیذ کھانے بھی باورچیوں کے ہمراہ بھیجے جاتے ہیں۔ ان باورچیوں میں سے ہر ایک محض ایک کھانا پکاتا ہے۔ اس شعبہ کا نگران اعلیٰ مرتبے کا ایک شخص ہوتا ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ مخمل کی سربہ مہر تھیلیوں میں کھانا روانہ کرے۔ دو سو ملازموں کے سروں پر چینی کے برتنوں کی ٹوکریاں اور دیگر سامان ہوتے ہیں۔ پچاس اونٹوں پر سو صندوقوں میں خلعتیں ہوتی ہیں اور تین ہاتھیوں پر فوجی سرداروں میں تقسیم کرنے کے لئے خصوصی ہتھیار اور جواہرات ہوتے ہیں۔ یہ ہتھیار ان اقسام کے ہوتے ہیں: تلواریں مع غلاف، ڈھالیں، مختلف اقسام کے خنجر جن پر میناکاری اور سونے کا کام ہوتا ہے۔ اور مختلف قسم کے قیمتی پتھر جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ کلغیاں اور وہ اشیاء جو خواتین کو تحفے میں دی جاتی ہیں، مثلاً وہ جواہرات جو وہ سینے پر پہنتی ہیں یا اور مختلف اقسام کے سونے کے بازوبند جن پر موتی اور ہیرے جڑے ہوتے ہیں۔ سامان کے ساتھ بسولوں، کلہاڑیوں، کدالوں اور پھاوڑوں سے لیس ایک ہزار مزدور چلتے ہیں تاکہ دشوار گذار راہوں کو ہموار کیا جا سکے۔ ان کے سردار گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ان کے منصب کے نشان مثلاً چاندی کے کدال یا بسولے ہوتے ہیں۔ اگلے شاہی پڑاؤ پر یہ لوگ خیموں اور بھاری توپوں کو نصب کرتے ہیں جب ہلکی توپیں آ جاتی ہیں تو یہ شاہی خیموں کے گرد رکھی جاتی ہیں۔ اورنگ زیب صبح چھ بجے اس تخت پر بیٹھ کر جو ولندیزی سفیر نے تحفے میں دیا تھا، روانہ ہوا۔ اس تخت کو لے جانے کے لئے بارہ آدمی تھے۔ مختلف وضع کی تین پالکیاں بھی ساتھ تھیں جن پر وہ حسبِ خواہش بیٹھ سکتا تھا۔ علاوہ ازیں پانچ ہاتھیوں پر مختلف اقسام کی پینسیں تھیں جنھیں وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا تھا۔ جیسے ہی وہ اپنے خیمے سے باہر نکلا ہلکی توپیں جو اس کے چاروں طرف تھیں آگے بڑھنے لگیں۔ یہ توپیں تعداد میں سو‌100 تھیں اور ہر ایک کو دو گھوڑے کھینچتے تھے۔

بادشاہ کے جلوس کی ترتیب یہ تھی جس گھڑی وہ خیمہ سے باہر نکلا اور تخت پر بیٹھا تو سارے جنگی ساز بجائے گئے۔ ہراول دستہ آٹھ ہزار سواروں پر مشتمل تھا۔ میمنہ پر آٹھ ہزار سوار حسن علی خاں کی سرکردگی میں اور میسرہ پر آٹھ ہزار سوار محمد امین خاں کے ماتحت تھے۔ ان دونوں بازوؤں کے پیچھے شکاری تھے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور جنھوں نے اپنے اپنے عقاب کلائیوں پر بٹھا رکھے تھے۔ بادشاہ کے بالکل سامنے نو ہاتھیوں پر بھڑکیلے جھنڈے تھے۔ ان نو ہاتھیوں کے پیچھے چار اور ہاتھی تھے جن پر سبز پھریرے تھے۔ ان پھریروں پر سورج کا نشان تھا۔ ان ہاتھیوں کے عقب میں نو شاندار مزیّن گھوڑے تھے جن پر زین کَسے ہوئے تھے۔ ان کے پیچھے دو سوار تھے۔ ایک کے ہاتھ میں ایک پھریرا تھا جس پر عربی عبارت مرقوم تھی۔ دوسرے کے ہاتھ میں ایک نقارہ تھا جس پر وہ آہستہ آہستہ چوب مارتا جاتا تھا تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ بادشاہ کی سواری آ رہی ہے۔

پیدل فوج لاتعداد تھی جو بادشاہ کے دونوں جانب قطاروں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ بعض کے ہاتھوں میں سرخ اور بعض کے پاس سبز جھنڈیاں تھیں۔ بعضوں کے ہاتھوں میں بید تھے جن سے وہ ان لوگوں کو دور ہٹاتے جاتے تھے جو نزدیک آنے کی جرات کرتے تھے۔ دونوں جانب ہاتھوں میں بید لئے بہت سے سوار تھے جو لوگوں کو دُور رکھتے تھے۔ پیدل چلنے والوں میں بہت سے لوگوں کے پاس عطر تھے اور بہت سے لوگ سڑک پر پانی ڈالتے جاتے تھے۔ ان کے ساتھ ہی ایک عہدیدار ایسا بھی تھا جس کے پاس زمینوں، گاؤں اور صوبوں کے نقشہ جات تھے جن سے بادشاہ کو گذرنا تھا، تاکہ اگر کسی وقت بادشاہ یہ پوچھ لے کہ وہ کس سرزمین اور کس کے صوبہ سے گذر رہا ہے تو اسے فوری جواب دیا جا سکے۔ اس کی تحویل میں چھوٹے سے چھوٹے گاؤں کے متعلق مکمل تفاصیل ہوتی ہیں نیز یہ کہ کس قطعِ اراضی سے کتنا محصول وصول ہوتا ہے۔

پیدل چلنے والوں میں سے کچھ کے پاس رسیاں ہوتی ہیں جو راستے کی اس طرح پیمائش کرتے ہیں۔ وہ بادشاہ کی آمد کے بعد شاہی خیمے سے پیمائش شروع کرتے ہیں۔ اگلا شخص جس کے پاس رسی ہوتی ہے زمین پر ایک نشان لگا دیتا ہے۔ اور جب پچھلا شخص اس نشان پر پہنچتا تو وہ وہاں سے آواز لگاتا ہے اور پہلا شخص ایک اور نشان لگا کر ”دو“ کی گنتی گنتا ہے۔ پورے سفر میں وہ اسی طرح کرتے جاتے ہیں۔ ایک اور شخص کے پاس فاصلے کا کھاتہ ہوتا ہے اور وہ اس میں اندراج کرتا جاتا ہے۔ اگر اتفاق سے بادشاہ یہ پوچھ لے کہ کتنا سفر طے ہو چکا ہے تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں اس لئے کہ انھیں یہ پتہ ہے کہ کتنی رسّیوں کی ناپ سے ایک کوس بنتا ہے۔ ایک اور پیدل شخص کے پاس گھڑی کا شیشہ ہوتا ہے جس سے وقت کی پیمائش کرتا ہے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کانسی کی طشتری پر ہتھوڑے کی ضرب سے وقت کی مدت کا اعلان کرتا ہے۔ اُن سب کے پیچھے بادشاہ نہایت خاموشی سے آہستہ آہستہ سفر طے کرتا ہے۔