مغل بادشاہ اتنی شان سے سفر کرتے ہیں اور ان سے لوگوں کا برتاؤ اتنا لطیف ہوتا ہے کہ فوجوں کے آگے آگے سفید چادروں سے لدا ہوا ایک اونٹ چلتا ہے تاکہ سڑک پر اگر کوئی آدمی یا جانور مرا ہوا دکھائی دے تو اُسے ڈھانپ دیا جائے۔ چادر کے کونوں کو پتھروں سے دبا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ہوا سے اُڑ نہ سکے۔ بادشاہ گذرتے ہوئے ان کی بابت معلومات حاصل کرتا ہے۔
ان سب سے تھوڑی دور پیچھے روشن آرا بیگم ایک بہت بڑے ہاتھی پر ایک پالکی میں جسے تمبر کہتے ہیں سوار تھیں۔ تمبر ایک قسم کا تخت ہوتا ہے جس پر ایک چھتری ہوتی ہے۔ پورے طور سے سونے کے نقش و نگار سے مزیّن یہ تخت بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ ان کے پیچھے عمدہ گھوڑوں پر سوار اور سر سے پیر تک مختلف رنگوں کے لبادوں میں ملبوس ان کی ڈیڑھ سو خادمائیں تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک بید تھی۔ روشن آرا بیگم کے ہاتھی کے آگے چار نشان کے ہاتھی تھے۔ بہت سے بہادر اور تند خو آدمی پیدل تھے تاکہ وہ ہر شخص کو خواہ وہ امیر ہو یا فقیر، ڈنڈے مار کر اور دھکے دے کر بھگا سکیں۔
روشن آرا بیگم کے پیچھے ان کے ملازم تھے۔ یہ کرخت چہروں والے خواجہ سرا تھے جن میں سے کچھ گھوڑوں پر سوار اور کچھ پالکی کے چاروں طرف پیدل چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے تین ہاتھیوں پر مختلف اقسام کی پالکیاں تھیں جن پر سنہرے جالی دار پردے پڑے ہوئے تھے۔ ان پالکیوں میں روشن آرا بیگم کی خواصیں تھیں ان کے بعد تقریباً ساٹھ ہاتھیوں پر پردے دار پالکیوں میں دیگر خواتین تھیں۔ روشن آرا بیگم کے ملازمین کے بعد تین بیگمات یعنی اورنگ زیب کی رانیاں اور حرم سرا کی دیگر شہزادیاں تھیں۔ ہر ایک کے خاص ملازمین ان کے ساتھ تھے۔ اس سفر کی ساری تفصیلات بیان کرنا طول کلامی ہو گی اس لئے کہ مغل ایسے معاملات میں بہت زیادہ نفاست کا اظہار کرتے ہیں اور ایسی کسی شے کو نظرانداز نہیں کرتے جو ان کی شان و شوکت میں اضافہ کرے۔
یہ بتانا باقی رہ گیا ہے کہ اس لاتعداد جمِ غفیر سے کم از کم ایک دن پہلے شاہی امورِ خانہ کا سربراہ دیگر ماہرین کی معیت میں ایسی جگہ کے انتخاب کے لئے روانہ ہوتا ہے جہاں شاہی خیمہ جات نصب کیے جا سکیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیشہ کسی دلفریب جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ پڑاؤ پر جگہ کی تقسیم اس طرح کی جاتی ہے کہ فوج کی آمد سے کسی قسم کا انتشار نہ ہو۔ سب سے پہلے شاہی خیموں کے لئے جگہ مقرر کی جاتی ہے۔ میں نے بعد ازاں کئی بار اس جگہ کی پیمائش کی ہے اور اس کا محیط تقریباً پانچ سو قدم ہوتا ہے۔ شاہی خیموں کے پیچھے ایک اور دروازہ ہوتا ہے جس میں خواتین رہتی ہیں۔ یہ جگہ بہت محترم تصور کی جاتی ہے۔ اس کے بعد شہزادوں، سرداروں اور امرا کے خیموں کی جگہ مقرر کی جاتی ہے۔ یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ ان خیموں اور شاہی خیموں کے درمیان کافی فاصلہ ہو۔ درمیانی جگہ کے چاروں طرف چھ ہاتھ اونچا سرخ کپڑا گھیر دیا جاتا ہے جو دیوار کا کام کرتا ہے۔ اس گھیرے کے چاروں طرف چھوٹی توپیں نصب کی جاتی ہیں۔ ان کے آگے خندق ہوتی ہے اور پیچھے لکڑی کی جالی دار باڑھ جو وینس کی قدیم کرسیوں کی طرح کھلتی اور بند ہوتی ہے۔ دروازے کے دونوں طرف ایک سو تیس قدم پر دو خیمے ہوتے ہیں۔ دروازے کے سامنے ذرا بلندی پر ایک بڑا خیمہ موسیقاروں اور سازندوں کے لئے ہوتا ہے۔
بعض مخصوص شاہی خیموں میں بادشاہ دربار کرتا ہے۔ ان خیموں میں سہارے کے لئے چھوٹے چھوٹے منقش و مزیّن شہتیر استعمال کیے جاتے ہیں جن پر سونے کی مٹھیاں ہوتی ہیں۔ ان مٹھیوں کو شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ اور کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ ایک بہت بلند شہتیر پر ایک قندیل روشن کی جاتی ہے جو دیر سے آنے والوں کی رہبری کے لئے ہوتی ہے۔ راجاؤں اور امیروں کے خیمے بُلند تو ہوتے ہیں مگر بادشاہ کے خیموں جتنے بلند نہیں ہوتے۔ بصورتِ دیگر ایسے خیموں کے ڈھا دیئے جانے اور ان کی اپنی تباہی کا خطرہ ہوتا ہے۔
جب بادشاہ سفر شروع کرنے کے لئے اپنے خیمے سے نکلتا ہے تو شہزادے، امرا اور سردار تعظیم کے لئے اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک کوئی مختصر التماس کرتا ہے اور مختصر جواب پاتا ہے۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ وہ اس پڑاؤ کے آخر تک چلتے ہیں جہاں انہوں نے دن بھر قیام کیا تھا، اور پھر ہر شخص اپنے اپنے شعبے میں اپنی مخصوص جگہ پر واپس آ جاتا ہے۔ اس کے بعد بادشاہ شکاریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اپنی مرضی کا اظہار کرتا ہے کہ آیا وہ شکار کھیلنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر شکار کی خواہش ہو تو بادشاہ فوج کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ پیدل آدمی اور اس کا حفاظتی دستہ ہوتا ہے۔ باقی ماندہ تمام لوگ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اگر وہ شکار کھیلنا نہیں چاہتا تو شکاری اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلے جاتے ہیں۔ پیش خیمہ کے دکھائی دیتے ہی مطرب ایک بار پھر اپنے ساز بجانے شروع کر دیتے ہیں اور اس وقت تک بجاتے رہتے ہیں جب تک کہ بادشاہ خیموں کے دروازے سے گذر نہ جائے۔ اس کے بعد چھوٹی توپیں داغی جاتی ہیں۔ شہزادیاں اور بیگمات بادشاہ کی آمد پر منزل مبارک کہہ کر مبارکباد دیتی ہیں۔
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ گو شہزادیاں اور بیگمات سب سے آخر میں روانہ ہوتی ہیں مگر منزل پر سب سے پہلے پہنچتی ہیں اس لئے کہ وہ کوئی مختصر راہ اختیار کرتی ہیں۔ بالعموم خواتین ساز و سامان کی روانگی کے بعد روانہ ہوتی ہیں اور تیزی سے سفر کرتی ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس سفر میں روشن آرا بیگم کی پالکی میں ان کی خادمہ نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ خادمہ کے کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان تھا۔ اللّٰہ ہی جانتا ہے کہ وہ پینے پلانے کے علاوہ اور کیا کیا چاہتے تھے۔ جس شخص نے مجھے یہ بات بتائی وہ میرا ایک خواجہ سرا دوست تھا جو شراب کا بہت شوقین تھا۔ اس قِصّے کی توثیق شہزادی کی موت کے بعد اس کی ایک اور خواص نے بھی کی۔ علاوہ ازیں ان باتوں سے بھی بہت کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو میں بادشاہ کی دِلّی میں آمد کے سِلسلے میں پہلے کہہ چکا ہوں۔
موقع کے حسن، نظم و ضبط اور لوگوں کے اجتماع کے باعث، شاہی پڑاؤ کے بارے میں اور تفاصیل دینا دِقّت طلب بھی ہے اور طول کلام بھی۔ سفر میں مغل بادشاہ کی مثال سامنے رکھ کر یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مغلوں کی مملکت میں کیا ہوتا ہو گا، بالخصوص اس امر کے پیشِ نظر کہ مغل بادشاہ ناقابلِ بیان شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں مَیں بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ گویا ایک عظیم شہر ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب سفر کر رہا ہے۔ یہاں نہ بازاروں کی کمی ہوتی ہے نہ دکانوں کی نہ کھیل تفریح کی اور نہ سونے چاندی کی۔ مختصراً یہ کہ جو کچھ بھی کسی اچھے شہر میں مل سکتا ہے وہ پڑاؤ پر بھی مہیا ہوتا ہے۔ اپنے جذبۂ جُستجو کی تسکین کی خاطر میں صرف تین دن ہی لشکر کے ساتھ چلا۔ یہ سوچ کر کہ بغیر ملازمت کے کشمیر تک جانا میرے لئے مناسب نہیں، میں نے واپسی کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے بنگال جانا طے کیا جو ایک کاروباری ملک ہے، جہاں اشیائے ضرورت سستی ہیں اور جہاں بہت سے یورپی باشندوں کی رہائش بھی ہے۔
اسی لئے میں بادشاہ کے پورے سفرِ کشمیر کا ذکر نہیں کرتا، گو کسی مناسب موقع پر میں کشمیر کے بارے میں بعض باتوں کا تذکرہ کروں گا جن کا مجھے علم ہے۔
