علاوہ ازیں محض اس لئے کہ بوڑھے باپ کو اور زیادہ غصہ آئے اور اس کی قید اس پر اور زیادہ بار گذرے، وہ اُسے اکثر خطوط لکھا کرتا تھا، جن میں وہ ان کارگذاریوں کو گنواتا جو پچھلی بدعنوانیوں کو دور کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی تھیں اور ہر اس قانون کو مطعون کرتا جو شاہ جہاں کے زمانے میں رائج تھا۔ اس نے شاہ جہاں پر عوام کے ساتھ بے انصافی، وزرا کے ساتھ لاپروائی، دوسروں کی بیویوں سے بدکرداری، مینا بازار لگانے کی بدعنوانی، شیش محل میں عورتوں کے ساتھ عیش و عشرت میں فضول خرچی اور محل میں ایک عام رقاصہ کو ٹھہرانے پر عیاشی کے الزامات لگائے۔ اس کے برعکس وہ اپنی کارگذاریوں کی تحسین کرتا اور اپنے انتظامات کو شاندار طور پر بیان کرتا۔ پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ اورنگ زیب اس یہودی کا پکا شاگرد تھا جس کا ذکر مسیح نے کتاب مقدس میں کیا ہے جو بجائے اس کے کہ خدا سے رحم کا طالب ہو، اپنے اچھے کاموں کو گنوانے کے علاوہ اور کچھ نہ کرتا تھا۔ مزید برآں وہ اس بات پہ بھی ناز کرتا تھا کہ لوگوں کی شکایتیں سننے اور مملکت کی برائیاں دور کرنے کی کوشش میں وہ بیشتر وقت دیوان عام میں ہی گذارتا تھا۔
شاہ جہاں بھی ان خطوط کا جواب نہ دینے اور بیٹے کی بات کو درگذر کرنے کی کوشش نہ کرتا تھا۔ وہ اُسے یہ بتاتا کہ جس شخص نے باپ سے بغاوت کی ہو، بھائیوں پر ظلم کیا ہو، یہاں تک کہ بیٹوں کو بھی نہ چھوڑا ہو، وہ دوسروں کے لئے کبھی نیک کام نہیں کرے گا۔ جہاں تک اس تعریف کا تعلق ہے کہ وہ دن کے کئی کئی گھنٹے دیوان عام میں گذارتا ہے تو اس سے بڑھ کر اس بات کا بین ثبوت اور کیا ہو گا کہ امور سلطنت صحیح طور پر سرانجام نہیں پاتے۔ اس لئے جب وہ خود (شاہ جہاں) ناظم امور سلطنت تھا تو عہدیدار اتنےمستعد تھے کہ روزانہ نقارہ بجوانے کے باوجود کہ کسی کے ساتھ کوئی بے انصافی ہوئی ہے تو وہ بادشاہ کے حضور میں حاضر ہو، کئی کئی ماہ گذر جاتے اور کوئی شخص عرضی نہ گذارتا۔
ان کی یہ لڑائی ایک مدت تک جاری رہی یہاں تک کہ شاہ جہاں نے نہایت غضبناک ہو کر اورنگ زیب کو یہ لکھا کہ تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر صورت جو کچھ بھی تم نے کیا وہ اس قوت کا نتیجہ ہے جو اولاً اس شخص میں تھی جس نے تمہیں پیدا کیا۔ ان تمام دلائل کے علاوہ جو شاہ جہاں نے خود اپنے طور پر دیئے، کابل کے گورنر نے بھی ایک طویل فہرست شاہ جہاں کی خوبیوں اور اورنگ زیب کی کارروائیوں کے متعلق روانہ کی جس میں اس نے بیٹے کے خلاف باپ کی پرزور حمایت کی۔ ان خطوط سے متاثر ہو کر اورنگ زیب نرم پڑ گیا اور باپ سے نرم دلی کا اظہار کرنے لگا۔ دیگر خطوط کے ذریعے اس نے اس کی دلجوئی کی۔ اسے بہت سے تحفے تحائف بھیجے، پہلوان روانہ کئے کہ اس کا وقت اچھا گذرے، موسیقار بھیجے تاکہ قید کی کوفت کم ہو، اور انہیں اقسام کی دیگر تفریحات کا سامان کیا جنہیں شاہ جہاں اپنی آزادی اور بادشاہت کے زمانے میں مرغوب رکھتا تھا۔
اتنے پیار کے مظاہرے کے بعد اورنگ زیب نے باپ سے ان جواہرات کی فرمائش کی جو اب بھی اس کی تحویل میں تھے۔ شاہ جہاں نے جواب میں ایک سخت خط لکھا کہ اگر دوبارہ تم نے اس قسم کی بات کی تو میں جواہرات کو کھرل میں پیس کر سفوف بنا دوں گا، اور تمہیں وہ محض اسی صورت میں مل سکیں گے۔ لیکن جواہرات کے بدلے میں اس نے اورنگ زیب کے پاس وفادار اسدخاں کو بھیجا اور اپنی پُرزور سفارش کے ساتھ یہ کہلوایا کہ یہ شخص ہر ذی حیات انسان سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ دوسرے اشخاص باپ کے خلاف باغی ہوتے ہیں اور جب موقع آئے گا تو بیٹے کے خلاف بھی بغاوت کریں گے۔ اس کے برخلاف اسدخاں نے اپنے بادشاہ کا ساتھ چھوڑنا کبھی نہ چاہا اور اس لئے بلا شک وہ بیٹے کے ساتھ بھی وفاداری برتے گا۔
اورنگ زیب نے اسدخاں کو ملازم رکھ لیا اور اسے دربار میں ایک خاص عہدے پر فائز کیا اور بالآخر جعفر خاں کی موت کے بعد اُسے پوری مملکت کا وزیر اعلی بنا دیا۔ اسدخاں آج 1699ء تک اسی منصب پر کمال وفاداری کے ساتھ فائز ہے۔ اورنگ زیب نے ان جواہرات کے بارے میں جن کے متعلق اس نے اتنی حرص کا مظاہرہ کیا تھا، شاہ جہاں کو پھر کبھی کچھ نہ لکھا۔ اس نے فولاد خاں خزانچی سے ایک حکم کے ذریعہ یہ معلوم کرایا کہ کتنے عرصے میں وہ سارے جواہرات کو دیکھ کر ان کی قیمت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ فولاد خاں نے اس تخمینے کے لئے وقت مانگا اورچھے ماہ کی مدت کے بعد یہ جواب بھیجا کہ سارے جواہرات کو دیکھنے اور ان کی قیمت کا اندازہ لگانے کے لئے چودہ سال کی مدت درکار ہو گی۔ اس جواب کو سن کر اورنگ زیب نے اتنا وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور اس خیال کو ترک کر دیا۔
