یہ سن کر وہ پاکباز لوگ تذبذب میں مبتلا ہو گئے۔ ان پر یہ منکشف ہو گیا کہ سادہ لوح انسانوں کے ساتھ مذاق کرنے کا وقت چلا گیا اور اورنگ زیب دارا کی طرح ہنسی مذاق کا آدمی بھی نہیں تھا۔ اس لئے انہیں سخت پریشانی دامن گیر ہوئی۔ مختصراً یہ کہ ان میں سے دو نے فوراً یہ اقرار کر لیا کہ وہ بلخ کے ایک مشہور ولی اللہ کی اولاد میں ہیں اور اس لیے لوگ ان کا احترام ولیوں کی طرح کرتے ہیں گو وہ خود کو دنیا کا گنہگار ترین شخص تصور کرتے ہیں، پس ان سے کسی قسم کی کرامت کی توقع لاحاصل ہے۔ اورنگ زیب نے ان کے اس جواب کو نظر انداز کر دیا اور ان سب کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ تین دنوں کے اندر ان کے لئے یہ لازم ہے کہ اس کے سامنے کوئی کرشمہ کر دکھائیں۔
وہ بہت مایوسی کے عالم میں واپس آئے اور اپنی عادت کے مطابق انھوں نے اپنی مہربان روحوں سے رجوع کیا اور اس خیال سے بہت سی نذریں گذاریں کہ کم از کم خواب ہی میں وہ اورنگ زیب کو یہ جتا دیں کہ یہ لوگ واقعی ولی اللہ ہیں۔ اس طرح بادشاہ انہیں تھوڑی بہت حرمت کے قابل ضرور سمجھے گا۔ بہر حال تیسرے دن اورنگ زیب نے انہیں بلوا لیا۔ جب وہ اس کے حضور میں پہنچے تو اس نے نہایت درشت الفاظ میں انہیں یہ کہا کہ مہلت گذر چکی ہے اور اب ان کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ کوئی کرامت دکھائیں ورنہ انہیں کوڑے مارے جائیں گے اور سب کو اکٹھا برسر عام ذلیل کیا جائے گا۔ اس طرح ان لوگوں کی نگاہوں سے پردہ اٹھ جائے گا جو اب تک ان کی فریب کاریوں اور دغا بازیوں سے گمراہ ہوتے رہے ہیں۔ اب نہ تو وہ کچھ کہہ سکتے تھے اور نہ ہی کوئی کرامت دکھا سکتے تھے۔ اس لئے ان میں سے کچھ کو جلا وطن کر دیا گیا اور کچھ قلعوں میں اس وعدے پر قید میں ڈال دیئے گئے کہ جب وہ کوئی کرامت دکھائیں گے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ بلخ کے دونوں اشخاص کو سخت سست کہہ کر اس نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور پھر کبھی اپنی بزرگی اور برتری کا دعویٰ نہ کریں ورنہ انہیں فوری طور پر سزا دی جائے گی۔
اکبر نے ایک رسم قائم کی تھی اور اس کے جانشینوں نے بھی اسے جاری رکھا کہ اگر شاہ ایران کسی شخص کو ناجائز طور پر کوئی ایذا پہنچاتا اور وہ وہاں سے بھاگ کر مغل بادشاہ کی پناہ میں آتا تو وہ اس کی تواضع اور سرپرستی کرتے۔ ہر آدمی کی حیثیت کے مطابق اس کی تنخواہ مقرر کی جاتی۔ سپاہی پیشہ لوگوں کو عہدیدار اور سپاہی، طبیبوں کو طبیب اور علمائے دین کو فتاوے کے منصب پر فائز کیا جاتا تھا۔ انہیں منصب داروں کی حیثیت سے تنخواہ دی جاتی تھی۔ چونکہ یہ لوگ مغلوں کے کام کے نہ ہوتے تھے، اس لئے کہ مغل ایک دوسرے فرقے سے تعلق رکھتے تھے، اور ایرانیوں کی طرح علی کے ماننے والے نہ تھے، لہذا انہیں کشمیر بھیج دیا جاتا تھا جہاں وہ اپنی آمدنی میں بلا کسی پریشانی کے آرام سے گذر اوقات کرتے تھے۔ چونکہ مسلمان بھی انھی قیود کے پابند ہیں جن کے دوسرے لوگ مثلاً اپنی زندگی کے دن پورے کر کے مر جانا — لہذا جب ان میں سے کوئی ختم ہو جاتا تو دوسرے اس کی آمدنی کو آپس میں تقسیم کر لیتے۔
اورنگ زیب نے اس بدعنوانی کی اصلاح کرنی چاہی اور اس لئے کشمیر کے تمام منصب داروں کو یہ حکم دیا کہ وہ دربار میں حاضر ہوں۔ ان سب کی ایک کثیر تعداد تھی۔ مجھے ان میں سے ایک شخص محمد زمان سے شناسائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ شخص بہت ذہین تھا جسے شاہ عباس ثانی بادشاہ ایران نے اپنی حکومت کے آغاز میں بحیثیت طالب علم روم بھیجا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ وہاں جا کر ہمارے پادریوں کے جواب دینا سیکھے جو ایران کے ملاؤں اور مسلمان مجتہدین سے مناظرے کرتے تھے۔ محمد زمان جو اپنے عقائد سے بخوبی واقف تھا مطالعے کے باعث صداقت کا پتا لگا لیا اور بجائے اس کے کہ محمد اور علی کے بتائے ہوئے عقائد میں راسخ ہوتا، انہیں خیر باد کہہ کر عیسائی ہو گیا، اور پال کا نام قبول کر کے خود کو پالو زمان کہنے لگا۔ اب وہ ایران واپس آیا۔ یہاں ایرانی علما نے اس سے بات چیت کر کے یہ اندازہ لگایا کہ وہ اسلام سے زیادہ عیسائیت کی طرف مائل ہے۔ (حالانکہ وہ اپنے عیسائی ہونے کو پوشیدہ رکھتا تھا) انھوں نے اس کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیں اور وہ، اس بات سے خوفزدہ ہو کر کہ مبادا اُسے کوئی نقصان پہنچے، ایران سے بھاگ نکلا، اور شاہ جہاں سے امان چاہی۔ منصب دار کی حیثیت سے اس کی تنخواہ مقرر ہوئی اور اُسے کشمیر میں دوسرے ایرانیوں کے پاس بھیج دیا گیا۔ جب اورنگ زیب نے ان لوگوں کو بلوایا تو وہ بھی دلی آیا۔ یہاں اس سے عیسائیوں سے ربط ضبط قائم ہو گیا۔ اس کے پاس لاطینی کی چند کتابیں تھیں اور وہ آپس میں دینی مسائل پر بحث کیا کرتے تھے۔ گو وہ عیسائی تھا اور خود کو عیسائی کہتا تھا مگر اس کا طرز زندگی مسلمانوں سے کسی طرح مختلف نہ تھا۔
منصب داروں کے وجود کے بارے میں اطمینان کر کے اورنگ زیب نے انہیں کشمیر واپس بھیج دیا۔ پھر اس نے یہ احکامات نافذ کئے کہ ہندوستان میں جو شخص بھی کسی مکان یا باغ کا مالک ہے حق ملکیت کی دستاویز پیش کرے۔ مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ آیا وہ ملکیت کسی شاہی فرمان کے تحت ہے یا نہیں، اس لئے کہ کوئی شخص بلا کسی سند یا فرمان کے اُن اشیاء کے حقوق ملکیت حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ایسے فرمانوں کو جنہیں اس نے صحیح سمجھا منظور کر لیا اور جو جعلی تھے انہیں رد کر دیا۔
بادشاہوں کے پاس امور سلطنت کو درست رکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ قابل اعتماد جاسوس ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بادشاہوں کو ملک کے بارے میں بالخصوص عہدیداروں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات پوری ایمانداری سے کہی جا سکتی ہے کہ مغل حکومت ایسے لوگوں سے کہیں پیچھے نہیں جن سے یہ علم کیا جا سکے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اپنے پورے دور حکومت میں اورنگ زیب کے پاس اتنے اچھے جاسوس رہے کہ وہ یہاں تک جانتے تھے (اگر اس بات کو اس طرح کہا جا سکتا ہے) کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ نہ ہی پوری سلطنت میں بالخصوص شہر دلی میں کوئی ایسی بات ہوتی تھی جس کی اطلاع اسے نہ ہو سکے۔
اس طرح اسے ایک رات یہ علم ہوا کہ علی دردی خاں کی بیوی اپنے گھر سے چلی گئی ہے۔ بلا تاخیر اس نے شوہر کو یہ حکم دیا کہ اُسے واپس لائے۔ ایسے ہی جاسوسوں کے ذریعے ایک رات اُسے یہ پتہ چلا کہ ایک دوکان کی محراب عین سڑک پر گر گئی جس کے ملبے کے نیچے تین فقیر دب گئے۔ صبح سویرے اورنگ زیب اپنی سواری پر اس کا پتہ چلانے کو نکلا۔ اس نے گری ہوئی دوکان کو دیکھ کر اپنا ہاتھی وہاں روکا اور یہ حکم دیا کہ دبے ہوئے فقیروں کو نکالا جائے۔ درباری امرا اس حکم پر بہت متعجب ہوئے اس لئے کہ انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ ملبے کے نیچے کچھ مردہ جسم پڑے ہوئے ہیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور مردہ فقیروں کو باہر نکالا گیا۔ بادشاہ اس وقت تک وہیں ٹھہرا رہا جب تک کہ لاشیں برآمد نہ ہوئیں اور پھر اس کے احکام کے مطابق ان کی تجہیز و تکفین ہوئی۔ اس نے جنازے کے اخراجات کے لئے کچھ رقم بھی دی۔ اس واقعے کے بعد لوگ اورنگ زیب کو ولی سمجھنے لگے اور سب نے با آواز بلند یہ نعرہ لگایا: ’’ولی بادشاہ کی عمر دراز ہو‘‘۔ آج تک اسے لوگ یا تو محض خوش آمد سے یا پھر اس لئے کہ اس نے ٹونے منتر سے بعض عجیب و غریب کام کئے، ’’ولی با کرامت‘‘ کہتے ہیں۔
معاملات سلطنت کو منظم کرنے اور جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، ان برائیوں کو دور کرنے کے بعد جو اس کے باپ شاہ جہاں کی لاپروائی کی بدولت مملکت میں پیدا ہو گئی تھیں، اورنگ زیب خود بہت نازاں تھا۔ اب وہ محض اچھے کام کر کے ہی آسودہ نہ ہوتا بلکہ انتھک کوشش اس امر کی کرنے لگا کہ امرا اس کی تعریف اور اس کے باپ کی برائیاں کریں۔ اس نے شاہ جہاں کی شہرت کم کرنے اور اُسے ہر ممکن طریق سے بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا۔
