جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

داستانِ مغلیہ ۔ باب اوّل

جب مہاوت نے یہ دیکھا کہ بادشاہ سامنے ہے تو اس نے ہاتھی کو اشارہ کیا جو مجرے کو جھک گیا۔ پھر جب ہاتھی کو یہ یاد آیا کہ اُسے فریب سے اس کی مرضی کے خلاف قلعے میں لایا گیا ہے تو اس نے یکایک چنگھاڑنا شروع کر دیا۔ پھر وہ ان ہتھنیوں پر چڑھ دوڑا جو ان کے ساتھ آئیں تھیں اور انہیں سونڈ سے ایک طرف ہٹا کر مڑا اور غصے میں بھاگنا شروع کر دیا۔ اپنی راہ میں حائل ہر چیز کو مسمار کیا اور ہر کس و ناکس کو جو سامنے آیا خوفزدہ کیا۔ سارے دربار میں تہلکہ مچ گیا۔ سارے باہر نکلتے ہوئے، قلعے سے باہر نکلتے ہوئے اُسے دروازے پر پتھر سے بنے ہوئے ایک خوبصورت ہاتھی کی شبیہ ملی۔ یہ سوچ کر کہ شاید وہ کوئی اصل ہاتھی ہے جو اس کی راہ روکے آیا ہے، وہ اس پر ٹوٹ پڑا اور قلعے سے باہر نکلنے سے پہلے اُسے مسمار کر گیا۔ اورنگ زیب نے جو قرآن کا پیرو تھا، یہ حکم دیا کہ ہاتھی کی دوسری شبیہ کو بھی جو پہلی شبیہ کے بالکل ساتھ نصب تھی توڑ دیا۔

اب خالق داد بڑے میدان میں آ گیا تھا۔ یہاں ایک عجیب سماں دیکھنے میں آیا۔ (گو ذرا فاصلے سے) دیکھنے میں یہ منظر نہایت دلچسپ تھا (کہ کس طرح وہ پالکیوں کو توڑ رہا تھا۔ دوسرے ہاتھیوں پر جھپٹ رہا تھا۔ گھوڑوں کو مار رہا تھا اور لوگوں پر جھپٹ رہا تھا، جو چیختے چلاتے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ کسی کی پگڑی غائب تھی، کسی کی ڈھال، کسی کی تلوار اور کسی کی کمان۔ بڑا حیرت انگیز منظر تھا۔ مجھے اپنے گھوڑے پہ کامل اعتماد تھا، میں نے اسے سرپٹ دوڑایا اور بار بار مڑ کر دیکھتا گیا۔ مجھے مصیبت زدوں کی حالت پر افسوس تھا اس کے باوجود اتنی کثیر تعداد میں لوگوں کو ہر چہار سمت بھاگتے دیکھ کر ہنسی بھی آ رہی تھی کہ وہ انتہائی سرعت سے ننگے پیر بھاگے جا رہے تھے۔

سارا ماجرا سن کر اورنگ زیب کا اعتماد اُس پر سے اُٹھ گیا اور اس نے اس بد قسمت ہاتھی کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اُسے آگرے لے جا کر تاج محل کے مقبرے میں اس کے مالک کے محل کے سامنے رکھا جائے۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہوئی، ہاتھی کو مقررہ جگہ پہنچا دیا گیا جہاں وہ نو سال زندہ رہا اور اُسی دن جس دن شاہ جہاں کا انتقال ہوا ہاتھی بھی اس دنیا سے کوچ کر گیا۔

سب سے بڑی لعنت جو مغلیہ سلطنت میں پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے وہ پاکباز درویشوں کی فریب کاری اور منافقت ہے۔ یہ لوگ خود کو اولاد محمد یعنی سید کہتے ہیں اور لوگوں کو اپنی منافقت اور جھوٹے کرشموں سے دھوکا دیتے ہیں۔ لوگ انہیں ولی اللہ سمجھ کر ان کے پاس اولاد، بیوی یا شوہر کے حصول کے لئے آتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کے توسل سے ملازمت یا دربار میں حیثیت چاہتے ہیں، کچھ عشق میں کامیابی تو کچھ دشمنوں پر فتح یا تجارت میں منفعت چاہتے ہیں۔ گویا ہر آدمی اپنی مخصوص حاجت کی برآوری کے لئے آتا ہے۔

ایسے لوگوں کے پاس کوئی خالی ہاتھ نہیں آتا۔ کچھ نہ کچھ نذرانہ ضرور لاتا ہے۔ اس طرح یہ پاکباز لوگ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہے کہ اپنے جہل فریب کو کسی طرح منافقت سے چھپایا جائے۔ شیطانی امداد سے یہ لوگوں پر دعا تعویذ کے ذریعے اپنا اثر قائم کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عورتوں کو جو ان کے پاس کثیر تعداد میں آتی ہیں، اپنے حلقہ عقیدت میں رکھتے ہیں۔ وہ موقع سے فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں اور اگر عورت حسین ہو تو کیا مسلمان، کیا ہندو، کیا عیسائی، وہ کسی کو نہیں بخشتے۔ مزید یہ کہ اپنے گھروں میں وہ بہت سی بیویاں اور لونڈیاں رکھتے ہیں۔ انہیں وہ رات کو ہر چہار جانب بھیجتے ہیں جو ان کی معتقد بتا کر ان کے لئے حرام کی روزی کا بندوبست کرتی ہیں، یا پھر اپنے مالک اور اس عورت کے درمیان جس پر اس کی نظر ہو، کٹنیوں کا کام کرتی ہیں تاکہ اسے اپنے گھر لا سکیں۔ یہ سب کچھ مذہب کے نام پہ ہوتا ہے۔ یہ عورتیں اس بات کا بھی پتہ چلاتی ہیں کہ جو لوگ مرادیں مانگنے آتے تھے ان کی مرادیں پوری ہوئیں یا نہیں۔ یہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ پہلے ہی سے معلومات حاصل ہو جائیں۔ یہ عورتیں ان لوگوں کے سامنے جن کی مرادیں بر نہ آئیں مختلف توجیہات بھی پیش کرتی ہیں، یا پھر وہ لوگوں کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ فلاں درویش سے مانگی ہوئی مرادیں بالخصوص پوری ہوتی ہیں۔ یہ اس بات کا بھی پتہ رکھتی ہیں کہ ارد گرد کیا ہو رہا ہے اور اس طرح اپنے مالک کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ مختلف رازوں کو منکشف کریں، کہ پاکباز درویشوں کے لئے علم غیب لازمی ہے۔

الغرض ان تمام طریق کار کا شمار ممکن نہیں جن کا استعمال ان درویشوں کی مقبولیت کے لئے کیا جاتا ہے۔ بالفرض اگر وہ کوئی قابل تعریف کام سرانجام دیتے ہیں تو وہ شیطان کی اعانت سے ہوتا ہے۔ وہ جب اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو پیدل نہیں چلتے بلکہ گاڑی یا گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اور اپنے ادنیٰ ترین خادموں کو بھی ہمراہ رکھتے ہیں تاکہ ان کے مقلدوں اور ماننے والوں کی کثرت ظاہر ہو۔ وہ راہ میں انتہائی انکساری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سڑکوں پر راہ چلتے مرد اور عورتیں زمین پر گر کر اور ہاتھوں کو بلند کر کے التجائیں کرتی ہیں گویا وہ کسی حقیقی اور خدا رسیدہ بزرگ سے مخاطب ہوں۔ ایسے موقعوں پر ہر شخص اپنی آرزوؤں کا اظہار کرتا ہے خواہ تندرستی کے لئے یا بد روحوں سے نجات کے لئے، غرض یہ اپنی اپنی ضروریات کے مطابق۔ یہ منافق شخص نہایت سنجیدگی اور وقار کے ساتھ ہر ایک کو اشارہ کرتا جاتا ہے گویا وہ ہر ایک کو آس دلاتا ہے اور ہر کس و ناکس کو تسلی دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

میں ان لوگوں کی غلاظتوں کا سارا حال بیان نہیں کرنا چاہتا اور جو کچھ بھی میں کہوں گا وہ کم ہو گا۔ میں اس غلطی کا شکار ہونا نہیں چاہتا ہوں جس کے متعلق سینٹ پال نے اشارہ کیا ہے: ’’فریب سے بچ، بدی کا اظہار نیک سیرتی کے زوال کا سبب بنتا ہے۔‘‘ تاہم ان منافقوں کی گستاخیوں اور شرمناک حرکات کا حتی الامکان اظہار ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود مغل سلطنت کے عوام اور امرا دونوں ان لوگوں کا بہت احترام کرتے ہیں وہ انہیں قیمتی تحفے بھیجتے ہیں۔ مالی، بہترین پھل اور تر تر کاریاں، گڈریئے بیل اور دودھ ان کی نذر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بدقماش کسی امیر سے زیادہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مزید برآں شہزادے اور عمائد سلطنت بھی ان کی اطاعت کرتے ہیں۔

اورنگ زیب نے اس بدعنوانی کو دور کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ وہ خود ایسے لوگوں کا ساتھی، منافق اور دھوکے باز تھا۔ کرشموں اور فریب کاریوں کی ایجاد میں ان کا ہم قدم تھا۔ تاہم اس نے ایسے بارہ آدمیوں سے جو دہلی میں ہی رہتے تھے انتقام لینا چاہا۔ انھوں نے دارا کے متعلق پیشین گوئی کی تھی کہ وہ ساری مغل سلطنت کا شاہنشاہ ہو گا اور حاکم مطلق کی حیثیت سے تمام لوگوں پر فتح پائے گا۔ اس لئے کہ وہ محمد سے یہ دعا کریں گے کہ وہ اس کی مدد فرمائیں اور پیغمبر ان کی التجاؤں کو نہیں ٹھکرائیں گے۔

دیگر امور سلطنت کو سرانجام دینے کے بعد اورنگ زیب نے ان لوگوں کو بلوایا۔ جب سب اس کے سامنے حاضر ہوئے تو اس نے بظاہر ان کی پاکیزگی اور اعلی مقبولیت کو سراہا۔ اس بنا پر اس نے ان تمام حضرات سے یہ التجا کی کہ وہ اس کے سامنے کوئی کرامت دکھائیں تاکہ ان کا مقلد بننے کے لئے خود اُسے بھی کوئی جواز مل سکے۔ اور اگر وہ یہ کر کے دکھائیں گے تو وہ یہ ثابت کر دیں گے کہ ہندوستان کا شہنشاہ پاکبازوں اور خدا کے برگزیدہ بندوں کو کتنا محترم سمجھتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے ان لوگوں کو تین دنوں کی مہلت دی جس کے دوران میں انہیں بادشاہ کی خواہشات کو پورا کرنا تھا۔