مسلمان نشے کے اتنے عادی ہیں کہ ان غریب آدمیوں نے جن کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ شراب حاصل کر سکیں، ایک اور مشروب دریافت کر لی ہے جسے اس ملک کی زبان میں بھنگ کہتے ہیں۔ یہ محض خشک برگِ حشیش کو پیس کر بنائے جاتے ہیں جو پیتے کے ساتھ ہی نشہ دیتی ہے۔ اس برائی کو بھی اورنگ زیب نے کچلنا چاہا۔ اس نے محتسب نام کے ایک عہدیدار کا تقرر کیا جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اس مشروب یا اس قسم کے دیگر مشروبات کے استعمال کو روکے۔ کوئی دن ایسا نہ گذرتا جب صبح سویرے اُٹھ کر ہمیں اُن برتنوں اور تسلوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کی آواز نہ آتی جن میں ان مشروبات کو تیار کیا جاتا تھا۔ لیکن اس بات کے پیش نظر کہ وزرا خود پیتے تھے اور نشے میں رہنا پسند کرتے تھے، آہستہ آہستہ اس ممانعت میں بھی لچک آتی گئی۔
اورنگ زیب نے یہ دکھانے کے لئے کہ وہ مذہب کا سختی سے پابند ہے ایک اور مضحکہ خیز حرکت کی۔ اس نے یہ احکام جاری کئے کہ کوئی مسلمان چار انگل سے زیادہ لمبی داڑھی نہ رکھے۔ مغل امرا اپنی لمبی لمبی داڑھیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑی احتیاط کرتے تھے، اور ان کے لئے بہتیرے روغنوں کا استعمال کرتے تھے۔ اب ایک ایسے عہدیدار کا تقرر ہوا جو اپنے ماتحتوں اور سپاہیوں کے ساتھ بیچ سڑک پر لوگوں کی داڑھیاں ناپتا اور حسب ضرورت انہیں مختصر کر دیتا۔ معمولی لوگوں کے علاوہ اوروں پر یہ احکام نافذ نہ ہو سکے۔ اس لئے کہ وہ عہدیدار جسے یہ کام سپرد تھا، امرا یا سپاہیوں کے معترض ہوتے ہوئے ڈرتا تھا کہ کہیں خود اسے نقصان نہ پہنچے۔ بہر حال یہ ایک مضحکہ خیز صورت حال تھی کہ امورِ ریش کا متعلقہ عہدیدار ادھر اُدھر بھاگتا اور غریب غربا کی داڑھیاں پکڑتا پھرتا تھا تاکہ مقررہ مقدار سے زیادہ کو تراش دے اور موچھوں کو صاف کر دے کہ لب نمایاں ہو جائیں۔ موچھوں کی صفائی اس لئے ضروری تھی کہ جب اللہ کا نام لیا جائے تو اُس آواز کے آسمان تک براہ راست پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یہ منظر بھی عجیب تھا کہ سپاہی اور دوسرے لوگ جب اس عہدیدار کو دور سے دیکھتے تو اپنے چہروں کو چادروں سے چھپا لیتے تھے تاکہ برملا توہین نہ ہو۔
ان احکامات سے اورنگ زیب کی تسلّی نہ ہوئی اور اب اس نے موسیقاروں کی ایک کثیر جماعت کے خلاف قدم اٹھایا۔ ہندوستان میں مسلمان اور ہنود دونوں ہی گانوں اور سازوں کی موسیقی کے بہت شوقین ہوتے ہیں پس اس نے اسی عہدیدار کو یہ حکم دیا کہ وہ موسیقی کو بند کرے اور اگر کسی گھر سے یا کہیں اور اُسے گانوں کی یا سازوں کی آواز سنائی دے تو وہ فوراً موقع پر پہنچ کر جتنے لوگوں کو گرفتار کر سکتا ہے کرے اور سازوں کو توڑ دے۔ اس طرح بہت بڑی تعداد میں ساز تباہ کر دیئے گئے۔ موسیقاروں نے جب یہ دیکھا کہ وہ مصیبت میں ہیں، ان کی وافر آمدنی ختم ہو گئی ہے اور اب ان کے پاس روزی کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور بادشاہ کو اس طور پر منانے کی کوشش کی: ایک جمعے کو جب اورنگ زیب مسجد جا رہا تھا تو تقریباً ایک ہزار موسیقار جمع ہوئے۔ وہ ملک کے رواج کے مطابق تقریباً بیس زرق برق جنازے لئے شدید رنج و غم میں روتے چلاتے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے آئے، گویا وہ کسی بڑی ممتاز مرحوم شخصیت کو دفنانے جا رہے ہوں۔ اورنگ زیب نے دور سے اس مجمع کو دیکھا، ان کا گریہ و زاری سنی، اور متعجب ہو کر اس کا سبب دریافت کیا۔ موسیقاروں نے اپنے رنج و غم اور اشکباری کو یہ سمجھ کر دونا کر دیا کہ شاید بادشاہ کو ان پر رحم آ جائے۔ گریہ و زاری کے درمیان انہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ کے احکام نے موسیقی کو مار ڈالا ہے اس لئے ہم اسے دفن کرنے جا رہے ہیں۔ بادشاہ کو یہ خبر ملی تو اس نے نہایت سکون سے جواب دیا کہ سب لوگ موسیقی کی روح کی بخشش کے لئے دعا کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ اُسے اچھی طرح دفنایا جائے۔ اس کے باوجود امرا نے پوشیدہ طور پر گانا سننا بند نہ کیا۔ یہ احکام بھی محض خاص خاص شہروں ہی میں نافذ کئے گئے۔
شاہ جہاں کے زمانے میں رقاصاؤں اور طوائفوں کو بہت زیادہ آزادی حاصل تھی اور شہروں میں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اپنے دور حکومت کے آغاز میں تو اورنگ زیب نے ان سے کوئی تعارض نہ کیا مگر بعد ازاں اس نے انہیں حکم دیا کہ یا تو وہ شادیاں کر لیں یا پھر حدود سلطنت سے باہر نکل جائیں۔ اس سبب سے ان کی رہائش گاہیں آہستہ آہستہ ویران ہو گئیں۔ کچھ نے شادیاں کر لیں، کچھ چلی گئیں یا کم از کم پوشیدہ ہو گئیں۔
اورنگ زیب نے اپنے دور حکومت کے آغاز ہی میں مہاوتوں کی گستاخیوں کو ٹھیک کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ یہ لوگ روزانہ کسی سجے ہوئے ہاتھی کو دربار میں نمائش کے لئے لاتے تھے یا پھر ان کی لڑائی دکھانے کے لئے جیسا کہ مغلوں میں رواج تھا۔ بعض اوقات وہ ہاتھی کو مشتعل کر دیتے تھے جس کے باعث وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے، لوگوں کو کچلتے، دکانوں اور بازاروں کو تباہ کرتے ہوئے نکل جاتے۔ سب سے پہلے وہ ان لوگوں کی دوکانوں پر حملہ کرتے اور تباہی لاتے جن سے مہاوتوں کو کوئی دشمنی ہوتی۔
اورنگ زیب نے مہاوتوں سے اس بات کی تفتیش کی کہ آیا ہاتھی محض اتفاق سے مشتعل ہو جاتے ہیں یا وہ انہیں جان کر پاگل بنا دیتے ہیں۔ مہاوتوں نے یہ سوچ کر کہ شاید بادشاہ خوش ہو اور اس طرح ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہو جائے، یہ جواب دیا کہ وہ خود اس مقصد کے لئے ہاتھیوں کو بعض بوٹیاں کھلا کر مست بنا دیتے ہیں۔ تب بادشاہ نے یہ حکم دیا کہ ہر مہاوت سے یہ عہد لے لیا جائے کہ وہ اپنے ہاتھی کی لائی ہوئی ہر موت کے بدلے میں اپنی جان سے ہاتھ دھوئے گا اور شہر کی کسی تباہی پر اپنی تنخواہ سے ہرجانہ ادا کرے گا۔ اس طرح اس نے ان عظیم نقصانات کا سدباب کیا جو مہاوت کیا کرتے تھے۔ گو اس کے عہد حکومت میں ہاتھیوں کے بہت سے جلوس نکلے مگر ان سے نقصانات بہت کم ہوئے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تباہیاں بہت کم ہوئیں ورنہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ ہر اس نقصان کو روکا جا سکے جس کے وہ مرتکب ہو سکتے ہیں کبھی کبھی ہاتھی یک بیک مست ہو جاتے ہیں جس کا سبب معلوم کرنا مشکل ہے۔
یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ ایک بار اورنگ زیب نے یہ حکم دیا کہ شاہ جہاں کے سارے ہاتھی اس کے حضور میں پیش کئے جائیں جن کی تعداد تین ہزار سے کچھ زائد تھی۔ ان میں سے خاص خاص ہاتھیوں کو زربفت کا جھول پہنایا جاتا تھا اور انہیں سونے چاندی کے زیورات سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ سب سے پہلے دن ہاتھیوں کے سردار کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ نہایت شاندار جسامت کا ہاتھی تھا۔ اس کا قد تقریباً بیس فٹ تھا اور شاہ جہاں اُسے بہت عزیز رکھتا تھا۔ اس کا نام خالق داد تھا۔ مہاوت اپنی تمام کوششوں کے باوجود اُسے قلعے میں داخل نہ کر سکے پس انہوں نے اُسے پیچھے چھوڑ دیا اور دوسرے ہاتھیوں کو بادشاہ کے حضور میں لے آئے۔ وہاں پہنچ کر مہاوتوں کے اشاروں کے مطابق ہاتھیوں نے یا تو سونڈ اٹھا کر سلام کیا یا گھٹنوں کے بل جھک گئے۔
جب اورنگ زیب کو یہ بتایا گیا کہ خالق داد قلعے میں نہیں آتا تو اس نے مہاوتوں سے کہا کہ وہ کسی حیل و حجت کو سننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اسے پیش کریں ورنہ انہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا اور واجب سزا دی جائے گی۔ اس دھمکی سے خوفزدہ ہو کر مہاوتوں نے خالق داد کو اس امید پر تین دن بھوکا رکھا کہ بھوک پیاس اُسے بادشاہ کی مرضی پورا کرنے پر مجبور کر دے گی۔ تین دن بعد انھوں نے سڑکوں کو ہری بھری ڈالیوں اور رنگوں سے سجایا، ہاتھی کو باہر لائے اور بالآخر قلعے میں لے گئے۔ اورنگ زیب خوش خوش اس شاندار جانور کو دیکھنے آیا جو دیوان عام میں کھڑا ہوا تھا۔
