|
ولو ان لیلیٰ الاخیلیۃ سلمت |
علی ودونی تربۃ و صفائح |
|
لسلمت تسلیم البشاشۃ او زقا |
الیھا صدی من جانب القبر صائح |
|
ترجمہ اور اگر لیلیٰ اخیلیہ مجھ پر سلام بھیجتی جبکہ میرے اور اس کے درمیان مٹی اور قبر کے پتھر حائل ہوتے / تو میں خوشی سے سلام کا جواب دیتا، یا قبر کے ایک کونے سے ایک گونج اس کی طرف چیخ کر پہنچتی۔ |
|
(اگر لیلائے اخیلیہ مجھے سلام کرے اور میرا یہ حال ہو کہ میرے اوپر خاک کا ڈھیر اور سنگین سلیں ہوں تو میں اس کے باوجود اس کے سلام کا جواب خندہ جبیں سے دوں گا! یا کسی ہاتف کی آواز میرے مزار کے پہلو سے بلند ہو کر جواب سلام دے گی!)
پس اے لوگو اگر توبہ نے یہ سچ کہا تھا تو اب وہ میرے سلام کا جواب کیوں نہیں دیتا؟
حاضرین کو ابھی میری بات پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا کہ یکا یک ’’پھڑ پھڑا‘‘ کی آواز آئی۔ ایک بہت بڑا پرندہ اڑتا نظر آیا۔ یہ شاید قبر کے کسی گوشے میں چھپا بیٹھا تھا۔ کہ اب کھٹکا پا کر اور ڈر کر دفعتاً اپنے آشیانے سے نکل کر اڑا۔ اور میرے اونٹ کے منہ پر پڑا۔ جانور ڈرا۔ بھڑکا۔ اور بے تحاشا کودنے پھاندنے اور اچھلنے لگا۔ حتیٰ کہ میں نہیں سنبھل سکی۔ محمل سے نکل کر دور گری! اور واصل بحق ہو گئی! اور پھر توبہ کے پہلو میں دفن ہوئی۔
اب میرے شوہر اور دیگر حاضرین کی حیرت اور حسرت بے سود تھی۔ توبہ کا عشق صادق تھا۔ جس نے بالآخر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اور زندگی میں نہیں تو اس کے بعد ہم وصال سے شاد کام ہوئے! اب میری روح مزار توبہ کا طواف کرتی ہے! اور بس!
بس یہ ہے میری داستان مصائب!
اے کرّہ ارض کے انسانو! اگر کبھی تمہارا گزر اس وادی میں ہو۔ جس کے ایک ٹیلے کے اوپر ہم دونوں کشتگان عشق آسودہ خاک ہیں۔ تو دعائے خیر اور فاتحہ خوانی سے دریغ نہ کرنا! اور اس کے بعد قبائل عرب میں جا کر اعلان کرنا کہ میں اور توبہ آخر دم تک پاک باز رہے!
