اب گویا توبہ کی شجاعت اور شہرت خاک میں مل گئی تھی۔ وہ لمحہ بھر تصویر حیرت بنا کھڑا رہا۔ مگر بالآخر اس کی عقل نے معمہ حل کر لیا۔ چنانچہ وہ جمیل کی محبوبہ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے بولا۔ جمیل! یہ ساری شعبدہ بازی انہی کی ہے۔ تمہاری کامیابیوں کا راز یہ ہے کہ یہ تمہارے سامنے رہیں! پس اگر تم میں کچھ حوصلہ ہے، تو اب آؤ ذرا ان سے دور اس سامنے والی وادی میں چل کر مقابلہ کریں۔
جمیل کا دل بڑھا ہوا تھا، وہ فوراً تیار ہو گیا۔ وادی میں مقابلہ ہوا۔ مگر اب کی بار کشتی، دوڑ اور ہر ایک مقابلے میں توبہ ہی غالب رہا۔ کیونکہ طلسم ٹوٹ چکا تھا۔
مجھے یہ خبریں کچھ روز بعد ملیں۔ اور انہوں نے مجھے نقش حیرت بنا دیا۔
آخر میری بربادی کا زمانہ قریب آ گیا۔ آہ میرے دیوانے کو اس کے بہت سے دشمنوں نے ایک ویران وادی میں جا گھیرا۔ گو وہ شیر نہایت دلیری اور بے جگری سے نبرد آزما ہوا۔ لیکن بیچارہ تنہا تھا۔ اور دشمن سات پانچ، پس شہید ہوا۔ اور اس کے دشمنوں نے اسے اس وادی کے ایک ٹیلے پر دفن کر دیا۔ جہاں وہ کشتہ ناز اب تک آسودہ ہے! اور میری روح اسی کعبہ کے طواف میں مصروف ہے!
خبر مرگ شدہ شدہ میں نے بھی سن لی۔ گو میرے قبیلے نے اخفا کی بے انتہا کوشش کی۔ لیکن تا بکے! میرے سر پر گویا بجلی گری۔ روشن دنیا میری آنکھوں میں تاریک ہو گئی۔ عنان ضبط، میرے کمزور ہاتھوں سے نکل گئی۔ بحر دل میں طوفان جوش اٹھا۔ اور وہ اشعار میں نکلنے لگا۔ میں نے توبہ کے مرثیے یکے بعد دیگرے کہے۔ اس سے پیشتر بہت کم شعر کہتی تھی۔ مگر میرے دیوانے کی شہادت نے مجھے نہایت پر جوش شاعرہ بنا دیا۔
میں نے اپنے مرثیوں میں توبہ کو نجیب الطرفین لاجواب، کشتی گیر، پاک باز اور بانکا شہسوار کہا۔ اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ عرب بھر میں اس سے زیادہ صاحب اوصاف حمیدہ کوئی شخص نہیں، اور یہ سب سچ ہے۔ کہ کم از کم میں اسے سچ سمجھتی ہوں۔
اب میری شاعری توبہ کی شاعری کی مانند تمام ملک میں پھیل گئی۔ میرا شوہر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا مگر بظاہر خاموش رہا۔ میرے مرثیے خلیفہ معاویہ کے کانوں تک پہنچے، تو انہوں نے مجھے بلا بھیجا۔ اور جب میں وہاں پہنچی تو ان سے دلچسپ گفتگو ہوئی۔
خلیفہ۔ ’’تم توبہ کو انتہا درجہ کا نیک نفس، اور پاک باز کہتی، اور اس کی تعریف میں بے حد مبالغہ کرتی ہو۔‘‘
میں۔ ’’حضرت! توبہ اس سے بھی زیادہ خوبیوں والا انسان تھا۔‘‘
خلیفہ۔ مگر لوگ تو کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ اور غالباً تم ان افواہوں سے بے خبر نہیں ہو۔
میں۔ جانتی ہوں۔ مگر سب غلط ہیں۔
خلیفہ۔ مگر کیا خود توبہ کے اشعار سے شبہات کو تقویت نہیں ہوتی۔
میں۔ حضرت شبہ کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچنا چاہیے۔ اور مومن کو حسن ظن سے کام لینا چاہیے! اور پھر جو باتیں لوگوں میں مشہور ہو جاتی ہیں۔ وہ سب کی سب سچ نہیں ہوا کرتیں۔
اس کے بعد میں نے اپنے شہید ناز کی پرہیز گاری، پاک بازی اور دیگر خوبیوں کا ذکر کیا۔
خلیفہ۔ مگر لوگ تو توبہ کو زانی کہتے ہیں۔
میں۔ حضرت! وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ بالکل جھوٹے!
اب میرا صرف یہی شغل تھا۔ کہ میں اپنے شہید ناز کی تعریف میں قصیدے کہوں یا ان لوگوں کے قول کی تردید کروں، جو توبہ پر بد وضعی کا الزام لگاتے تھے۔ مگر بدظنی اس کے باوجود عوام تو عوام خواص کے دل میں بھی گھر کر گئی تھی۔ چنانچہ جب میں بالکل بوڑھی ہو گئی۔ اور میرا تمام حسن و جمال خاک میں مل گیا۔ تو خلیفہ عبدالملک بن مروان میری ہیئت کذائی دیکھ کر بولا۔ آخر تم میں وہ کون سی ادا تھی جسے دیکھ کر توبہ تم پر مرنے لگا؟
آزادی میری گھٹی میں پڑی تھی۔ میں نے جرات دکھائی۔ چنانچہ میں نے جواب دیا۔
’’اور خود بدولت میں وہ کون سی خوبی ہے۔ جس کی وجہ سے خلیفہ بن بیٹھے!‘‘
خلیفہ میرے اس جواب سے ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا۔
اسی زمانے میں والی عراق، حجاج بن یوسف ثقفی سے بھی میری گفتگو ہوئی۔
حجاج۔ اے لیلیٰ اب تو تمہارا شباب خواب و خیال ہو گیا۔ تو سچ سچ بتا دو۔ کہ توبہ کے ساتھ تمہارا ناجائز تعلق تو نہیں تھا۔
میں۔ حاشا و کلا۔ وہ اپنے عشق میں آخر تک پاک باز رہا۔
حجاج۔ تو کیا کبھی اس نے تم سے کوئی ناجائز مطالبہ بھی نہیں کیا۔
میں۔ نہیں!
حجاج۔ خوب یاد کرو۔
میں۔ صرف ایک بار اتنا ضرور ہوا کہ مجھے توبہ کی نیت بگڑی ہوئی نظر آئی۔
حجاج۔ پھر؟
میں۔ میں نے فی البدیہہ یہ دو اشعار کہے۔
|
وذی حاجۃ قلنا لہ لا تبح بھا |
فلیس الیھا ما حییت سبیل |
|
لنا صاحب لا ینبغی ان نخونہ |
وانت لاخریٰ فارغ وحلیل |
|
ترجمہ اور ایک حاجت مند سے ہم نے کہا کہ اسے ظاہر مت کر، کیونکہ جب تک میں زندہ ہوں اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ / ہمارا ایک دوست (شوہر) ہے جس کے ساتھ خیانت کرنا مناسب نہیں، اور تم کسی دوسری (عورت) کے لیے فارغ اور موزوں ہو۔ |
|
اہل حاجت نے اپنی حاجت ظاہر کی۔ تو ہم نے کہا کہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے! اور تا حیات اس کی راہ نہیں نکلے گی۔ میرا ایک شوہر ہے۔ جس کی ہمیں خیانت نہ کرنی چاہیے۔ اور تم بھی تو ایک دوسری عورت کے شوہر یعنی اس سے وابستہ ہو۔
حجاج۔ اس نے کیا کہا؟
میں۔ توبہ اشعار سن کر خاموش اور نادم ہو گیا۔ اور پھر کبھی اس قسم کا اشارہ تک بھی نہیں کیا!
حجاج۔ اچھا اس کی کوئی اور بات سناؤ۔
میں۔ توبہ نے ایک بار اپنے ایک دوست کو ہمارے قبیلے کی طرف بھیجا۔ اور اس نے ٹیلے پر کھڑے ہو کر یہ شعر خوب زور سے پڑھا۔
|
عفا اللہ عنہا اھل اتبین لیلتہ |
من الدھر لا لیریٰ الی خیالھا |
|
ترجمہ اللہ اسے معاف کرے، کیا زمانے میں کوئی ایسی رات بھی آئے گی جب میں اس کے خیال کے سوا کچھ نہ دیکھوں؟ |
|
(خدا اس کے گناہ معاف کرے بھلا کبھی مجھے وہ رات بھی نصیب ہو گی جو خیال میں بھی نہ آ سکتی!)
حجاج۔ خوب۔
میں۔ میں سمجھ گئی کہ یہ توبہ کا کوئی دوست ہے۔ اور اس کی طرف سے پیغام سنا رہا ہے۔
حجاج۔ پھر تم نے کیا کہا۔
میں۔ میں نے اس کے جواب میں یہ شعر پڑھا۔
|
وعند عفا ابی و احسن حفظہ |
عزیز علینا حاجتہ لا سالھا |
|
ترجمہ اور میرے والد کی معافی اور اچھی حفاظت کے باعث، اس کی حاجت ہم پر عزیز ہے، ہم اس سے سوال نہیں کریں گے۔ |
|
(اور خدا اس کے گناہ معاف کرے اور اسے اپنی پناہ میں رکھے۔ مگر اس کی امید بھی بر نہیں آئے گی۔ تا ہم وہ ہمیں بہت پیارا ہے)
حجاج۔ واہ!
میں۔ سنیے خود توبہ میری اور اپنی عصمت پرستی کی تصدیق اس شعر میں کرتا ہے۔
|
علی دماء البدن ان کان بعلھا |
یری لی ذنبا غیر انی ازورھا |
|
ترجمہ قربانی کے اونٹوں کا خون مجھ پر لازم ہو اگر اس کا شوہر میرا کوئی گناہ دیکھتا ہو سوائے اس کے کہ میں اس سے ملنے جاتا ہوں۔ |
|
(اگر اس کا شوہر اس کے سوا، کہ (میں اس سے مل لیتا ہوں) میری بھول اور خطا پا سکے تو مجھے کفارہ میں اونٹوں کی قربانیاں دینی پڑیں۔)
حجاج۔ یہ لو دس ہزار درہم یہ تمہارا انعام ہے۔ اور کوئی اور حاجت ہو تو وہ بھی کہہ ڈالو!
میں۔ ہاں امیر ایک آرزو ہے۔ میں اپنے چچا زاد بھائی قتیبہ بن مسلم کے پاس جانا چاہتی ہوں، انتظام ہو جائے تو بڑی عنایت ہو۔
حجاج۔ وہ ان دنوں ترکستان میں ہیں! میں تمہیں ان کے پاس بھجوا دوں گا۔
میں۔ حضرت کا شکریہ کس زبان سے ادا کروں۔
حجاج نے اپنے وعدے کا ایفا کیا۔ اور میں بھائی سے مل آئی۔
آپ گھبرائیے نہیں! کہ میری داستان غم قریب الاختتام ہے!
میں اور میرا شوہر سفر کر رہے تھے کہ ہمارا گزر اس وادی میں ہوا۔ جس میں میرا کشتہ ناز آسودہ خاک تھا۔ میں نے اپنے شوہر سے توبہ کے مزار پر جانے کی درخواست کی۔ اور وہ بڑے اصرار کے بعد بمشکل مانا۔ ہمارا اونٹ اس ٹیلے پر چڑھا۔ جس پر مزار تھا۔ میرا دل بھر آیا۔ آنکھیں امنڈ آئیں۔ اور میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ’’السلام علیک یا توبہ‘‘!
اس وقت میرے شوہر کے علاوہ یہاں چند اور بھی مسافر موجود تھے۔ میرے منہ سے نکلا۔ توبہ کا جھوٹ آج سے پہلے تو مجھ پر ظاہر نہیں ہوا تھا!
مجھ سے سوال کیا گیا کہ ’’کیسا جھوٹ؟‘‘
میں نے جواب دیا کہ کیا آپ نے توبہ کے یہ اشعار نہیں سنے؟
