جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تاریخ دیار حبیب کا ایک ورق — داستانِ شمع و پروانہ

میرا حواس باختہ عاشق، احکام خلافت سے بالکل بے خبر تھا۔ اور میرا قبیلہ اس کی فکر میں! کہ کہیں مل جائے تو بس اسے فوراً ذبح کر ڈالا جائے! میں نے اسے دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔ کہ اگر خاکم بدہن توبہ کا بال بھی بیکا ہوا تو اس کا خون میری گردن پر ہو گا! پس میں اس کی جان بچانے کی فکر میں پڑ گئی۔

مجھے معلوم تھا کہ توبہ مجھے دیکھنے کب آئے گا۔ پس میں اس روز سبقت کر کے اپنے خیموں سے دور نکل کر سر راہ بے نقاب کھڑی ہو گئی۔ توبہ آیا اور اس نے میرا چہرہ کھلا ہوا پہلی بار دیکھا۔ میری تدبیر کار گر ہوئی۔ چنانچہ میرا دیوانہ خیموں کی طرف نہیں گیا۔ بلکہ وہیں سے پلٹ گیا۔ اور یہ دیکھ کر میری جان میں جان آ گئی۔ غرض کہ اس طریق سے توبہ کی جان بچ گئی۔ ورنہ میری بھی خیر نہیں تھی۔

توبہ شاعر تھا، اور سچا شاعر، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں۔ مگر آتش عشق نے اس کے جذبات اور بھی برانگیختہ کر دیئے۔ اور وہ اپنے دل کا بخار اشعار میں نکالنے لگا۔ ایسا ہی شاعر حقیقی شاعر ہے۔ عشق ہی کا دوسرا نام شاعری ہے۔ مجاز حقیقت کا آئینہ بردار ہے۔ ایسے ہی شاعر کی شاعری فطری ہے۔ جذبات صادقہ ایسی ہی صورت میں تخلیق ہوتے اور پرورش پاتے ہیں۔ ایسے ہی شاعر کے اشعار تاثیر میں ڈوبے ہوئے اور دل دوز تیر ہوتے ہیں۔ اور ایسی ہی شاعری کرنی بھی چاہیے۔ ورنہ خیالی محبوب کے فرضی عشق کے افسانے تو سرد اور بے کیف شاعری ہے۔ کیونکہ جذبات ہی شعر میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔

مجھے بے نقاب دیکھ جانے کے بعد توبہ نے ایک قصیدہ کہا جس کا ایک شعر ہے۔

وکنت اذا ما جئت لیلیٰ تبرقعت

فقد رابنی منھا الغداۃ سفورھا

ترجمہ اور (میری عادت تھی کہ) جب بھی میں لیلیٰ کے پاس آتا تو وہ پردہ کر لیتی تھی، لیکن آج صبح اس کے کھلے چہرے نے مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔

ترجمہ (میں جب کبھی اسے دیکھ جاتا تھا تو وہ مجھے دیکھ کر اپنا چہرہ چھپا لیا کرتی تھی۔ مگر میں نے اسے کل منہ کھولے دیکھا۔ تو میرے دل میں یک گونہ خوف پیدا ہو گیا۔ خدا خیر کرے)

یہ ہے ہماری قوم کی سیدھی سچی شاعری! جو واقعات پیش آتے یا دل میں جو جذبات پیدا ہوتے ہیں، ان کا اظہار بے مبالغہ و بے تصنع اور ایچ پیچ کے بغیر کر دیا جاتا ہے۔ اور نہایت سادگی اور صفائی کے ساتھ یعنی تصنع اور بیجا مبالغہ سے حقیقت کا خون نہیں کیا جاتا!

اب توبہ اور میرے درمیان جدائی کی دیوار کھڑی تھی۔ اور ہم دونوں اپنی اپنی جگہ تڑپ رہے تھے۔ توبہ تو اپنا جوش جنون، اور اپنے دل کا بخار اشعار کہہ کر نکال لیا کرتا تھا۔ لیکن یہ نہ پوچھ۔ کہ میرے دل پر کیا گزرتی تھی!

توبہ کا فراق ایک مصیبت، شماتت ہمسایہ مزید برآں اور نا انصاف شوہر کی بدظنی، اس پر طرہ! وہ بندہ خدا بات بات پر بدگمان ہوتا۔ اور بگڑتا تھا۔ غرض میری ایک جان تھی اور ہزار مصیبتوں کا مقابلہ! مجھے خود حیرت تھی، کہ میں اس قدر صدمات کے باوجود زندہ کیونکر ہوں۔ مگر اب آ کر معلوم ہوا کہ یہ بھی عشق و محبت کا ایک معجزہ تھا۔

دنیا جانتی ہے کہ ہماری قوم وسیع وادیوں اور کھلے میدانوں میں خیمہ انداز ہو کر رہنے سہنے کی عادی ہے۔ اور ہر سیاح و مسافر ایک روز یا چند روز سفر کرنے کے بعد کسی خیمہ کے قریب شب گزاری کے لیے اترتا ہے۔ اور اس وقت اہل خیمہ کا فرض ہوتا ہے کہ شرائط مہمان نوازی بجا لائیں۔ اور اسے حتی المقدور آرام پہنچائیں۔

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے تمام مرد سیر و شکار، سیاحت، تجارت یا کسی دوسرے کاروبار کے لیے خیموں سے چلے جاتے، اور مدتوں نہیں آتے۔ اور یہاں صرف عورتیں اور لڑکیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ بس ایسی حالت میں سیاحوں اور مسافروں کی مہمان نوازی کرنا ان ہی کا فرض ہوتا ہے۔ یہ عام بات ہے کہ اس امر کو معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایسی فیاضی ہمارے ملک میں نشان شرافت ہے۔

دیگر خیموں کی طرح میرے خیمے کے قریب بھی ہفتے عشرے میں کوئی نہ کوئی مہمان آ نکلتا تھا۔ مگر میں اپنے شوہر کے خوف سے ان کی مہمانداری نہیں کر سکتی تھی۔ مگر میرا شوہر اس کے باوجود مجھ سے بدظن رہتا۔ اور زد و کوب سے بھی دریغ نہ کرتا تھا۔ ان باتوں پر دیگر قبائل میں چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔ سب کو میرے شوہر کی بدظنی کی اطلاع ہو گئی تھی۔ اس لیے میرے خیمہ کے قریب کوئی نا واقف اور بھولا بھٹکا مسافر ہی آ کر ٹھہرتا تھا۔

ایک روز عجیب واقعہ پیش آیا کہ ایک معزز سیاح ہمارے خیمہ کے قریب آ کر فروکش ہوا۔ اور میں حسب معمول اپنے شوہر کے خوف سے شرائط مہمان نوازی بجا لانے سے معذور رہی۔ مسافر شام کو آیا۔ اور کسی نے رات تک اس کی خبر نہیں لی۔ وہ حیران رہا کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔ مگر ابھی طلسم حیرت نہیں ٹوٹا تھا کہ ایک شخص جو اونٹ پر سوار تھا۔ اس مسافر کو گھورتا ہوا میرے خیمے تک آ پہنچا۔ مگر وہ میرے شوہر کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ وہ حسب معمول مجھ پر برس پڑا۔ اور بگڑ کر پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ میں نے سادگی اور صفائی سے کہہ دیا۔ کہ ’’کوئی بیچارہ مسافر ہے۔‘‘ مگر یقین کسے آئے! وہ ظالم بولا۔ تو بڑی عیارہ ہے بڑی مکارہ ہے! ہاں! یہ شخص ضرور کوئی تیرا لگا بندھا ہے۔ استغفراللہ بدگمانی کی بھی حد ہو گئی۔ میں نے ہزاروں قسمیں کھائیں، مگر توبہ! اسے یقین کہاں آتا تھا۔ وہ بپھر پڑا۔ اور ہائے مجھے نہایت بے دردی سے زد و کوب کرنے لگا۔ حتیٰ کہ میں درد و کرب سے بلبلا اٹھی۔ مگر اس سنگدل کا دل نہیں پسیجا! بلکہ وہ جھنجھلا کر بولا۔ کہ جب تک یہ مسافر خود آ کر تیری شکایت نہیں کرے گا میں تجھے ہر گز نہیں چھوڑوں گا! وہ یہ کہہ کر اور زیادہ بے رحمی سے مارنے لگا۔ اور میں زور زور سے چلانے لگی۔ پھر میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ ’’اے شتر سوار مسافر! مجھے اس مصیبت سے نجات دلا!‘‘

وہ مسافر چند ہی لمحے بعد خیمے میں آ پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں لمبا نیزہ تھا۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ اس نے میرے شوہر پر وار کرنا چاہا۔ مگر میں فوراً ان دونوں کے درمیان جا کھڑی ہوئی۔ اور مسافر سے بولی۔ ’’ہم بیوی شوہر ہیں جو چاہیں سو کریں۔ مگر دخل در معقولات کی ضرورت!‘‘

وہ شریف مسافر یہ بات سن کر بت بن گیا۔ اور فوراً وہاں سے چلا گیا۔ مگر چلتے وقت اس کی زبان سے نکلا۔ ’’خدا کی قسم ایسے ظالم انسان کے خیمے کے قریب تو ایک لمحہ بھی ٹھہرنا حرام ہے!‘‘ چنانچہ وہ وہاں سے اسی وقت چلا گیا۔ اور خدا جانے کہاں جا کر قیام کیا۔

اگرچہ میرا شوہر میرے حق میں ظالم بن گیا تھا۔ مگر میں بدل و جان اس کی مطیع تھی۔ میرے لیے یہ بالکل آسان تھا کہ میں اس کے جبر و تشدد کی بنا پر عدالت قاضی میں درخواست ’’خلع‘‘ کرتی، اور وہ منظور بھی کر لی جاتی۔ لیکن میں راضی بہ قضا اور مشیت ایزدی پر شاکر تھی۔ اس لیے بھی علیحدگی کا خیال تک میرے دل میں نہیں آیا۔

میرا دل دادہ توبہ، نجیب الطرفین تھا۔ اس میں وہ تمام اوصاف تھے، جو شریف اعراب میں ہوتے ہیں۔ وہ محض شاعر ہی نہیں تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا شہسوار، کشتی گیر اور نیزہ باز بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بے شمار قبائل اس کے نام ہی سے لرزہ بر اندام ہو جاتے تھے۔

قبیلہ بنی عذرہ کے مرد عورت، حسن و جمال کے لحاظ سے عرب بھر میں مشہور تھے۔ عشق و محبت بھی گویا ان کی گھٹی میں پڑے تھے۔ ایک روز ان کے خیموں پر میرے دیوانے کا گزر ہوا۔ محبوبہ قبیلہ بثینہ باہر کھڑی تھی۔ وہ توبہ کو بہ چشم غور دیکھنے لگی۔ مگر اس کا شیدا جمیل یہ کب ٹھنڈے دل سے دیکھ سکتا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی معشوقہ کو ایک غیر مرد کی طرف متوجہ دیکھ کر آتش رشک و غیرت میں جلنے لگا۔ اور جوش میں آ کر توبہ سے مخاطب ہوا۔

’’اگر تمہیں شہسواری کا دعویٰ ہے تو آئیے۔ ہمیں گوئے و ہمیں میداںیہی گیند ہے اور یہی میدان‘‘

توبہ بولا۔ ’’بسم اللہ! تاخیر کیوں ہو؟‘‘

جمیل کی کمر اس کی معشوقہ نے باندھی۔ اب دونوں کی کشتی ہوئی۔ اور توبہ مغلوب ہو گیا۔ اس کے بعد جمیل تیر اندازی اور دوڑ میں بھی اپنے حریف سے بازی لے گیا!