اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دیباچہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

منّت مر خدائے را عزّ وجلّ کہ طاعتش موجب قربت1 است و بہ شکر اندرش مزیدِ نعمت۔ احسان خاص اسی خدائے عزّ وجلّ‌بزرگ و برتر کے لئے ہے جس کی تابعداری نزدیکی کا سبب ہے اور اس کا شکر ادا کرنے میں نعمت کا اضافہ ہے۔

ہر نفسے کہ فرو می رود ممدِّ2 حیات است و چوں بر می آید مفرّحِ3 ذات۔ ہر سانس جو اندر جاتا ہے زندگی بڑھانے والا ہے اور جب باہر آتا ہے ذات کو تفریح دینے والا ہے۔

پس دَر ہر نفسے دو نعمت موجود است و بر ہر نعمتے شکرے واجب۔ پس ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں اور ہر نعمت پر شکر ضروری ہے۔

بیت

از دست و زبانِ کہ بر آید

کز عہدۂ شکرش بدر آید

ترجمہ کس کے ہاتھ اور زبان سے ہو سکتا ہے کہ اس کے شکر کی ذمہ داری پوری کرے

اِعْمَلُوْا4 اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا وَّ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ اے داؤد کی اولاد شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں

قطعہ

بندہ ہماں بہ کہ ز تقصیرِ خویش

عذر بہ درگاہِ خدا آورد

ترجمہ وہی بندہ بہتر ہے جو اپنی کوتاہی کا عذر خدا کی درگاہ میں پیش کر دے

ورنہ سزاوارِ5 خداوندیش

کس نہ تواند کہ بجا آورد

ترجمہ ورنہ اس کی خدائی کے لائق کوئی بھی نہیں بجا لا سکتا ہے

بارانِ رحمتِ بے حسابش ہمہ جا رسیدہ۔ اس کی بے حساب رحمت کی بارش سب کو پہنچی ہوئی ہے

و خوانِ نعمتِ بے دریغش ہمہ جا کشیدہ۔ اور اس کی بے روک ٹوک نعمت کا دسترخوان سب جگہ بچھا ہوا ہے۔

پردۂ ناموسِ بندگاں بہ گناہِ فاحش نہ دَرَد و وظیفۂ6 روزی بہ خطائے منکر نہ بُرّد۔ بندوں کی شرم کا پردہ سخت گناہ کی وجہ سے بھی چاک نہیں کرتا اور مقررہ روزی بدترین خطا پر بند نہیں کرتا ہے۔

قطعہ

اے کریمے کہ از خزانۂ غیب

گبر و ترسا وظیفہ خور داری

ترجمہ اے وہ داتا جو غیب کے خزانہ سے آتش پرست اور عیسائی کو روزی پہنچاتا ہے

دوستاں را کجا کنی محروم

تو کہ با دشمناں نظر داری

ترجمہ دوستوں کو تو کب محروم کرے جبکہ تو دشمنوں کی بھی دیکھ بھال رکھتا ہے

فرّاشِ بادِ صبا را گفتہ تا فرشِ زمرّدیں بگسترد و دایۂ ابرِ بہاری را فرمود تا بناتِ نبات را در مہدِ زمین بپرورد اُس نے پُروا ہوا کے فراش کو حکم دیا تاکہ زمرد کا سا فرش بچھائے اور موسم بہار کے ابر کی دایہ کو حکم دیا تاکہ گل بوٹوں کی بچّیوں کو زمین کے گہوارے میں پالے

و درختاں را بخلعتِ نوروزی7 قبائے استبرق در بر گرفتہ اور درختوں کو نوروزی خلعت کے بدلے استبرق کی قبا بدن پر پہنائی

و اطفال شاخ را بہ قدومِ موسمِ ربیع کلاہِ شگوفہ بر سر نہادہ اور شاخ کے بچوں کے سر پر موسم بہار کی آمد پر کلی کی ٹوپی اُڑھائی

عُصارۂ8 نخلے بقدرتِ او شہدِ فائق شدہ شہد کی مکھی کا نچوڑا ہوا اُس کی قدرت سے بڑھیا شہد بنا

و تخمِ خرمائے بہ تربیتِ او نخلِ باسق گشتہ۔ اور چھوارے کی گٹھلی اس کی پرورش سے تناور کھجور بنی۔

قطعہ

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک در کار اند

تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری

ترجمہ ابر، ہوا، چاند، سورج، آسمان، کام میں لگے ہیں تاکہ تو روزی حاصل کرے اور غفلت سے نہ کھائے

ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرماں بردار

شرطِ انصاف نباشد کہ تو فرماں نبری

ترجمہ سب تیرے لئے پریشان ہیں اور تابعدار انصاف کے مناسب نہ ہوگا کہ تو اللہ کا حکم نہ مانے

در خبر است از سرورِ9 کائنات مفخرِ موجودات رحمتِ عالمیاں صفوتِ آدمیاں تتمۂ دورِ زماں۔ حدیث میں آیا ہے آں حضور کی جو دنیا کے سردار ہیں موجودات کے لئے فخر ہیں جہان والوں کے لئے رحمت ہیں آدمیوں کا خلاصہ ہیں دورِ زمانہ کا تتمہ ہیں۔

بیت

شَفِیْعٌ10 مُطَاعٌ نَبِیٌّ کَرِیْمٌ

قَسِیْمٌ جَسِیْمٌ نَسِیْمٌ وَسِیْمٌ

ترجمہ سفارش کرنے والے، اطاعت کئے گئے، نبی، سخی حسین، بھاری بھرکم، پاکیزہ، خوبصورت

قطعہ

بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہٖ

کَشَفَ11 الدُّجٰی بِجَمَالِہٖ

ترجمہ اپنے کمال کی وجہ سے بلندی پر پہنچے اپنے جمال سے تاریکیوں کو روشن کیا

حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ

صَلُّوْا عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

ترجمہ اُن کی سب ہی عادتیں بھلی ہیں اُن پر اور ان کی اولاد پر درود پڑھو

بیت

چہ غم دیوارِ امت را کہ دارد چوں تو پشتیباں12

چہ باک از موجِ بحر آں را کہ باشد نوحؑ کشتیباں

ترجمہ امت کی دیوار کو کیا غم جب کہ وہ آپ جیسا پشتہ رکھتی ہے اس کو سمندر کی منجدھار کا کیا خوف جس کا نوح کشتی بان ہو

ہر گاہ کہ یکے از بندگانِ گنہگار پریشان روزگار دستِ انابت بامیدِ اجابت بدرگاہِ خداوند جلّ و علا بر دارد۔ جس وقت کہ کوئی گنہ گار بندہ پریشانِ حال دعا کا ہاتھ قبولیت کی امید سے خدائے جلّ و علا‌بزرگ و برتر کی درگاہ میں بلند کرتا ہے

ایزد تعالیٰ در و نظر نکند۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرماتے

بازش بخواند بارِ دیگر اعراض فرماید۔ وہ پھر اس کو پکارتا ہے دوبارہ وہ رخ پھیر لیتے ہیں

بازش بہ تضرّع و زاری بہ خواند۔ وہ پھر اس کو عاجزی سے رو کر پکارتا ہے

حق سبحانہ و تعالیٰ گوید یَا مَلَائِکَتِیْ قَدِ اسْتَحْیَیْتُ مِنْ عَبْدِیْ وَلَیْسَ لَہٗ غَیْرِیْ تو حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں یَا مَلَائِکَتِیْ قَدِ اسْتَحْیَیْتُ مِنْ عَبْدِیْ وَلَیْسَ لَہٗ غَیْرِیْ‌اے میرے ملائکہ مجھے اپنے بندے سے حیا آ گئی ہے اور اسکے لئے میرے سوا کون ہے

دعوتش را اجابت کردم و امیدش بر آوردم کہ از بسیاری دعا و گریۂ بندہ ہمی شرم دارم۔ میں نے اس کی دعا قبول کر لی اور اس کی تمنا پوری کر دی اس لئے کہ بندہ کی زیادہ دعا اور رونے سے مجھے شرم آتی ہے۔

بیت

کرم بیں و لطفِ خداوندگار

گنہ بندہ کردست و او شرمسار

ترجمہ خدا کا کرم اور مہربانی دیکھ گناہ بندہ نے کیا ہے اور وہ شرمندہ ہو

عاکفانِ13 کعبہ جلالش بہ تقصیرِ عبادت معترف کہ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ اس کے جلال کے کعبہ کے معتکف عبادت کی کوتاہی کے اقراری ہیں کہ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ‌ہم نے کما حقہ تیری عبادت نہیں کی

و واصفانِ حلیہ جمالش بتحیر منسوب کہ مَا عَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ اور اس کے حسن کے حلیہ کی تعریف کرنے والے حیرانی میں ہیں کہ مَا عَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ‌ہم نے تجھے ایسا نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننا چاہیئے تھا

قطعہ

گر کسے وصفِ او ز من پرسد

بیدل14 از بے نشاں چہ گوید باز15

ترجمہ اگر کوئی اُس کی تعریف مجھ سے پوچھے تو بے دل بے پتہ کے بارے میں آخر کیا کہے

عاشقاں کشتگانِ معشوقند

بر نیاید ز کشتگاں آواز

ترجمہ عاشق، معشوق کے مارے ہوئے ہیں مرے ہوؤں کی آواز نہیں نکلتی

یکے از صاحبدلاں بجیبِ مراقبہ16 فرو بردہ بود و در بحرِ مکاشفہ مستغرق شدہ ایک صاحبدل مراقبہ کے گریبان میں سر ڈالے ہوئے تھا اور کشف کے سمندر میں ڈوبا ہوا

حالے کہ ازاں معاملت باز آمد یکے از محباں گفت ازیں بوستاں کہ بودی چہ تحفہ کرامت کردی جب اس حالت سے واپس لوٹا ایک دوست نے کہا اس باغ سے جس میں تو تھا کیا تحفہ لایا

اصحاب را گفت بخاطر داشتم کہ چوں بدرختِ گل برسم دامنے پُر کنم ہدیۂ اصحاب را اس نے ساتھیوں سے کہا میرا یہ خیال تھا کہ جب پھول کے درخت کے پاس پہنچوں گا تو دوستوں کے تحفہ کے لئے دامن بھر لوں گا

چوں برسیدم بوئے گلم چناں مست کرد کہ دامنم از دست برفت۔ جب میں پہنچا تو پھول کی خوشبو نے مجھے ایسا مست کر دیا کہ دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

قطعہ

اے مرغِ سحر عشق ز پروانہ بیاموز

کاں سوختہ را جاں شد و آواز نیامد

ترجمہ اے صبح کے پرند عشق پروانے سے سیکھ کہ اُس دل جلے کی جان چلی گئی اور آواز نہ نکلی

ایں مدّعیاں در طلبش بیخبر اند

کاں را کہ خبر شد خبرش باز نیامد

ترجمہ یہ اُس کی طلب میں ڈینگیں مارنے والے بے خبر ہیں کیونکہ جس کو خبر ہو گئی پھر اُس کی خبر نہ آئی

قطعہ

اے برتر از خیال و قیاس و گمان و وہم

وز ہر چہ گفتہ اند و شنیدیم و خواندہ ایم

ترجمہ اے وہ ذات جو خیال، قیاس، گمان اور وہم سے بالا تر ہے اور اُس سے بھی جو لوگوں نے کہا ہے اور ہم نے سنا اور پڑھا ہے

دفتر17 تمام گشت و بپایاں رسید عمر

ما ہمچناں در اوّلِ وصف تو ماندہ ایم

ترجمہ دفتر ختم ہو گیا اور عمر آخر ہوئی اور ہم اسی طرح تیری ابتدائی تعریف میں لگے ہوئے ہیں۔