اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دیباچہ

ذکرِ محامدِ پادشاہِ اسلام اتابک ابو بکر بن سعد بن زنگی نوّر اللہ18 تربتہ بادشاہِ اسلام اتابک ابو بکر بن سعد بن زنگی کی خوبیوں کا ذکر خدا اُس سعد بن زنگی کی قبر کو روشن کرے

ذکرِ جمیلِ سعدی کہ در افواہِ عوام افتادہ است و صیتِ سخنش کہ در بسیطِ زمین رفتہ و قصب الجیب19 حدیثش کہ ہمچو شکر می خورند و رقعۂ منشآتش کہ ہمچو کاغذِ زر میبرند بر کمال فضل و بلاغت او حمل نتواں کرد سعدی کا ذکرِ خیر جو عوام کی زبانوں پر ہے اور اس کے کلام کا شہرہ جو روئے زمین پر ہے اور اُس کی بات کے گنے جن کو لوگ شکر کی طرح کھاتے ہیں اور اسکی انشاء پردازی کے کاغذ جس کو سونے کے پتر کی طرح لے جاتے ہیں اس کی بزرگی اور بلاغت کے کمال پر محمول نہیں کیا جا سکتا

بلکہ خداوندِ جہاں و قطبِ دائرۂ زماں و قائم مقام سلیمانؑ و ناصرِ اہلِ ایماں اتابک20 اعظم مظفر الدنیا والدین ابو بکر بن سعد زنگی ظِلُّ اللّٰہِ تَعَالٰی فِیْ اَرْضِہٖ رَبِّ ارْضَ عَنْہُ وَاَرْضِہٖ بعینِ عنایت نظر کردہ است و تحسینِ بلیغ فرمودہ و ارادتِ صادق نمودہ لاجرم کافۂ انام از خواص و عوام بہ محبتِ او گرائیدہ اند۔ بلکہ جہان کے بادشاہ، اور زمانہ کے دائرہ کے قطب، اور حضرت سلیمانؑ کے قائم مقام اور اہلِ ایمان کے مددگار، اتابک اعظم، مظفر الدنیا والدین‌دین اور دنیا کا فتح مند، ابو بکر بن سعد زنگی نے ظِلُّ اللّٰہِ تَعَالٰی فِیْ اَرْضِہٖ‌جو اللہ کی سرزمین میں اس کا سایہ ہے رَبِّ ارْضَ عَنْہُ وَاَرْضِہٖ‌اے خدا تو اُس سے راضی ہو اور اسکو راضی کر مہربانی کی نگاہ ڈال دی ہے اور بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے اور سچی عقیدت ظاہر کی ہے لامحالہ عوام اور خواص تمام مخلوق اُس کی محبت کی طرف مائل ہو گئی ہے۔

وَالنّاسُ علیٰ دینِ مُلُوکِہم۔ اور لوگ اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتے ہیں۔

رباعی

زانگہ کہ ترا بر منِ مسکیں نظرست

آثارم از آفتاب مشہور ترست

ترجمہ جب سے تیری مجھ مسکین پر نظر ہے میرے نشانات آفتاب سے زیادہ مشہور ہیں

گر خود ہمہ عیب ہا بدیں بندہ درست

ہر عیب کہ سلطاں بہ پسندد ہنرست

ترجمہ اگر سب عیب ہی عیب اس خادم میں ہیں جو عیب کہ بادشاہ پسند کرے وہ ہنر ہے

قطعہ

گِلے21 خوشبوئے در حمّام روزے

رسید از دستِ محبوبے بدستم

ترجمہ ایک دن حمام میں ایک خوشبودار مٹی میرے ہاتھ میں ایک محبوب کے ہاتھ سے آئی

بدو گفتم کہ مشکی22 یا عبیری23

کہ از بوئے دل آویزِ تو مستم

ترجمہ میں نے اُس سے کہا کہ تو مشک ہے یا عبیر ہے کیونکہ میں تیری دل کش خوشبو سے مست ہوں

بگفتا من گلے ناچیز بودم

ولیکن مدتے با گل نشستم

ترجمہ اُس نے کہا میں ایک ناچیز مٹی تھی لیکن ایک زمانے تک میں پھول کے ساتھ رہی

جمالِ ہمنشیں در من اثر کرد

وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

ترجمہ ساتھی کے حسن نے مجھ میں اثر کیا ورنہ میں تو وہی مٹی کی مٹی ہوں

اَللّٰہُمَّ مَتِّعِ الْمُسْلِمِیْنَ بِطُوْلِ حَیَاتِہٖ وَضَاعِفْ ثَوَابَ جَمِیْلِہٖ وَحَسَنَاتِہٖ وَارْفَعْ دَرَجَ اَوِدَّائِہٖ وَوُلَاتِہٖ وَدَمِّرْ عَلٰی اَعْدَائِہٖ وَشُنَاتِہٖ بِمَا تُلِیَ فِی الْقُرْاٰنِ مِنْ اٰیَاتِہٖ وَاٰمِنْ بَلَدَہٗ یَا رَبِّ وَاحْفَظْ وَلَدَہٗ۔ اے اللہ اس کی زندگی کی درازی سے مسلمانوں کو نفع بخش اور اس کے اچھے کاموں کا ثواب دوگنا عنایت فرما اور اس کے دوستوں اور یاروں کے مراتب بلند کر اور اُس کے دشمنوں اور بدخواہوں کو ہلاک کر قرآن کی ان آیتوں کی برکت سے جن کی تلاوت کی گئی ہو اور اس کے ملک کو پُرامن رکھ اور اس کے لڑکے کی حفاظت فرما۔

قطعہ

لَقَدْ سَعِدَ الدُّنْیَا بِہٖ دَامَ سَعْدُہٗ

وَاَیَّدَہُ الْمَوْلٰی بِاَلْوِیَۃِ النَّصْرِ

ترجمہ اس کی ذات سے دنیا نیک بخت ہوئی اس کی سعادت ہمیشہ رہے؛ اور مولیٰ مدد کے جھنڈوں سے اس کی تائید فرمائے

کَذَالِکَ تَنْشَأُ لِیْنَۃٌ ہُوَ عِرْقُہَا

وَحُسْنُ نَبَاتِ الْاَرْضِ مِنْ کَرَمِ الْبَذْرِ

ترجمہ اسی طرح نشو و نما پاتی ہیں وہ شاخیں جن کی وہ جڑ ہے؛ اور زمین کی پیداوار کی خوبی بیج کی اچھائی کی وجہ سے ہے

ایزد تعالیٰ و تقدس خطۂ24 پاکِ شیراز را بہ ہیبتِ حاکمانِ عادل و بہ ہمتِ عالمانِ عامل تا زمانِ قیامت در امان سلامت نگہدارد۔ خدائے بلند اور پاک شیراز کے پاک علاقہ کو منصف حاکموں کی ہیبت اور عمل کرنے والے عالموں کی توجہ سے قیامت تک سلامتی کے امن میں رکھے۔

قطعہ

اقلیمِ پارس را غم از آسیبِ دہر نیست

تا بر سرش بود چو توئے سایۂ خدا

ترجمہ پارس کے علاقہ کو زمانہ کے حوادث کا غم نہیں ہے جب تک اس کے سر پر اے سایۂ خدا تجھ جیسا موجود ہے

امروز کس نشاں ندہد در بسیطِ خاک

مانندِ آستان درت مامنِ رضا

ترجمہ آج کوئی شخص بھی روئے زمین پر کسی ایسی جگہ کا پتہ نہیں بتاتا جو تیرے در کی چوکھٹ کی طرح خوشنودی کا ٹھکانا ہو

بر تست پاسِ خاطرِ بیچارگان و شکر

بر ما و بر خدائے جہاں آفریں جزا

ترجمہ تجھ پر غریبوں کے دل کی پاسداری اور ہم پر شکر ادا کرنا ہے اور اللہ پر اس کا بدلا ہے

یا رب ز بادِ فتنہ نگہدار خاکِ پارس

چندانکہ خاک را بود و باد را بقا

ترجمہ اے خدا فارس کی سرزمین کو فتنہ کی ہوا سے اس وقت تک بچانا جب تک مٹی اور ہوا کو بقا ہے

در سببِ تالیفِ کتاب کتاب کی تصنیف کے سبب کے بیان میں

یک شب تأمّلِ ایامِ گذشتہ می کردم و بر عمرِ تلف کردہ تاسّف می خوردم و سنگلاخۂ دل را بالماسِ آبِ دیدہ می سفتم و ایں بیتہا مناسبِ حالِ خود می گفتم۔ ایک رات میں گذرے ہوئے دنوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اور برباد کی ہوئی زندگی پر افسوس کر رہا تھا اور دل کے پتھر کو آنسوؤں کے ہیرے سے چھید رہا تھا اور اپنے مناسبِ حال یہ شعر پڑھ رہا تھا۔

مثنوی

ہر دم از عمر می رود نفسے

چوں نگہ می کنم نماند بسے

ترجمہ ہر آن زندگی کا ایک سانس جا رہا ہے جب میں غور کرتا ہوں تو اب زیادہ باقی نہیں ہے

اے کہ پنجاہ رفت و در خوابی

مگر ایں پنج روز دریابی25

ترجمہ اے وہ شخص کہ پچاس سال گذر گئے اور تو خواب میں ہے شاید ان پانچ روز سے فائدہ اٹھا لے

خجل آں کس کہ رفت و کار نساخت

کوس رحلت زدند و بار نساخت26

ترجمہ وہ بہت شرمندہ ہے جو چل دیا اور کوئی کام نہ بنایا لوگوں نے کوچ کا نقارہ بجا دیا اور اس نے سامان نہ باندھا

خوابِ نوشیں بامدادِ رحیل

باز دارد پیادہ را ز سبیل

ترجمہ کوچ کی صبح کو میٹھی نیند مسافر کو راستہ چلنے سے باز رکھتی ہے

ہر کہ آمد عمارتے نو ساخت

رفت و منزل بدیگرے پرداخت

ترجمہ جو آیا اُس نے ایک نئی عمارت بنائی وہ چلا گیا اور عمارت دوسرے کے لئے خالی کر گیا

واں دگر پخت ہمچنیں ہوسے

ویں عمارت بسر نبرد کسے

ترجمہ اُس دوسرے نے بھی ایسی ہی ہوس پکائی اور اس عمارت کو کوئی پورا نہ کر سکا

یارِ ناپائدار دوست مدار

دوستی را نشاید ایں غدار

ترجمہ غیر مستقل یار سے دوستی نہ کر یہ غدار دوستی کے لائق نہیں ہے

مادۂ عیشِ آدمی شکم است

تا بتدریج می رود چہ غم است

ترجمہ آدمی کی زندگی کا سرمایہ پیٹ ہے جب تک اس کی رفتار درمیانی ہو کیا فکر ہے

گر بہ بندد چنانکہ نکشاید

گر دل از عمر برکند شاید

ترجمہ اگر اس میں ایسا بند پڑ جائے جو نہ کھلے تو زندگی سے اگر دل ہٹا لے تو مناسب ہے

ور کشاید چنانکہ نتواں بست

گو بشو از حیاتِ دنیا دست

ترجمہ اور اگر ایسا چل پڑے جو روکا نہ جا سکے تو کہہ دو کہ دنیا کی زندگی سے ہاتھ دھولے

چار طبع27 مخالف و سرکش

چند روزے بوند باہم خوش

ترجمہ چار طبیعتیں جو باہمی مخالف اور سرکش ہوں وہ چند ہی دن آپس میں خوش رہ سکتی ہیں