اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دیباچہ

گر یکے زیں چہار شد غالب

جان شیریں بر آید از قالب

ترجمہ اگر ان چار میں سے ایک غالب ہو گئی تو میٹھی جان قالب سے باہر آ جاتی ہے

لاجرم مردِ عارفِ کامل

نہ نہد بر حیاتِ دنیا دل

ترجمہ لامحالہ پورا جان کار انسان دنیا کی زندگی سے دل نہیں لگاتا

نیک و بد چوں ہمی بباید مُرد

خنک آں کس کہ گوئے نیکی بُرد

ترجمہ نیک اور بد جب سبھی کو مرنا ہے تو وہ اچھا ہے جو نیکی میں بازی لے گیا

برگ عیشے بگورِ خویش فرست

کس نیارد ز پس تو پیش فرست

ترجمہ اپنی قبر میں زندگی کا سامان بھیج دے بعد میں کوئی نہیں لائے گا تو پہلے سے بھیج دے

عمر برف ست و آفتاب تموز

اندکے ماند و خواجہ28 غرّہ ہنوز

ترجمہ عمر برف کی طرح ہے اور سورج تموز کے مہینہ کا ہے تھوڑی رہی ہے اور جناب ابھی تک غافل ہیں

اے تہیدست رفتہ در بازار

ترسمت پُر نیاوری دستار29

ترجمہ اے وہ جو خالی ہاتھ بازار میں چلا گیا مجھے ڈر ہے تو دستار بھر کر نہ لائے گا

ہر کہ مزروعِ خود خورد بخوید

وقتِ خرمنش خوشہ باید چید

ترجمہ جو اپنی کھیتی کچی کھا جائے اُس کو کھلیان کرتے وقت بالیں چُننی پڑیں گی

پندِ سعدی بگوشِ دل بشنو

رہ چنیں است مرد باش و برو

ترجمہ سعدی کی نصیحت دل کے کان سے سن راستہ یہی ہے مرد بن اور چل

بعد از تأمّل مصلحت آں دیدم کہ در نشیمنِ عزلت نشینم و دامنِ صحبت فراہم چینم و دفتر از گفتارہائے پریشاں بشویم و من بعد پریشاں نگویم۔ غور کے بعد میں نے یہ مناسب سمجھا کہ کُٹیا میں گوشہ نشین بنوں اور یار باشی سے دامن سمیٹ لوں اور فضول باتوں کا دفتر دھو دوں اور پھر بے ضرورت بات نہ کروں۔

بیت

زباں بریدہ بکنجے نشستہ صُمٌّ بُکم

بہ از کسے کہ نباشد زبانش اندر حکم

ترجمہ زبان کٹا ہوا گوشہ میں بہرا گونگا بنا بیٹھا ہوا اُس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو

تا یکے از دوستاں کہ در کجاوہ ہم نشین من بودے و در حجرۂ جلیس برسمِ قدیم از در درآمد۔ یہاں تک کہ ایک دوست جو کجاوے میں میرا ہم نشین اور حجرہ میں ہم مجلس تھا پہلی عادت کے مطابق دروازے سے اندر آیا۔

چنداں کہ نشاطِ ملاعبت کرد و بساطِ مداعبت گسترد جوابش نگفتم و سر از زانوئے تعبّد برنگرفتم۔ جس قدر بھی اُس نے کھیل کود کی خوشی کی کوشش کی اور مذاق کی بساط بچھائی میں نے اس کو جواب نہ دیا اور عبادت گذاری کی زانو سے سر نہ اٹھایا۔

رنجیدہ نگہ کرد و گفت اس نے رنج سے مجھے دیکھا اور بولا

قطعہ

کنونت کہ امکانِ گفتار ہست

بگو اے برادر بلطف و خوشی

ترجمہ اب جبکہ تجھ میں بات کرنے کی طاقت ہے اے بھائی نرمی اور خوشی سے بات کر لے

کہ فردا چو پیکِ اجل در رسد

بحکم ضرورت زباں در کشی

ترجمہ اس لئے کہ کل کو جب موت کا قاصد پہنچ جائے گا تو مجبوراً تو زبان بند کر لے گا

کسے از متعلقانِ منش برحسبِ واقعہ مطلع گردانید کہ فلاں عزم کردہ است و نیّتِ جزم کہ بقیّتِ عمر معتکف نشیند و خاموشی گزیند۔ میرے متعلقین میں سے کسی نے اُس کو اصل واقعہ بتایا کہ اس نے تو پختہ ارادہ اور پکی نیت کر لی ہے کہ باقی عمر گوشہ نشین رہے گا اور خاموشی اختیار کرے گا۔

تو نیز اگر توانی سرِ خویش گیر و مجانبت پیش۔ تجھ سے اگر ہو سکے تو تو بھی اپنا راستہ لے اور یکسوئی اختیار کر۔

گفتا بعزّتِ عظیم و صحبتِ قدیم کہ دم بر نیارم و قدم بر ندارم مگر آنگہ کہ سخن گفتہ شود بعادتِ مالوف و طریقِ معروف کہ آزردنِ دلِ دوستاں جہل است و کفّارتِ یمین سہل۔ وہ بولا خدائے برتر کی عزت اور پرانی دوستی کی قسم کہ میں سانس بھی نہ لوں گا اور قدم بھی نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ پہلی عادت اور قدیم طریقہ کے مطابق بات نہ ہو جائے اس لئے کہ دوستوں کا دل دکھانا نادانی ہے اور قسم کا کفارہ دے دینا آسان ہے۔

خلافِ راہِ صواب ست و عکسِ رائے اولی الالباب ذوالفقارِ علیؓ30 در نیام و زبانِ سعدی در کام۔ درست رائے کے خلاف ہے اور عقلمندوں کی رائے کے برعکس حضرتِ علیؓ کی ذوالفقار کا نیام میں رہنا اور سعدی کی زبان کا تالو سے لگنا۔

قطعہ

زباں در دہانِ خردمند چیست

کلیدِ درِ گنج صاحب ہنر

ترجمہ عقلمند کے منہ میں زبان کیا ہے ہنرمند کے خزانہ کے دروازہ کی کنجی

چو در بستہ باشد چہ داند کسے

کہ جوہر فروش ست یا پیلہ ور

ترجمہ جب دروازہ بند ہو تو کسی کو کیا معلوم کہ موتی بیچنے والا ہے یا بساطی (خوردہ فروش، چھابڑی والا)

قطعہ

اگرچہ پیش خردمند خامشی ادب ست

بوقتِ مصلحت آں بہ کہ در سخن کوشی

ترجمہ عقلمند کے آگے چپ رہنا اگرچہ ادب ہے مصلحت کے وقت یہ بہتر ہے کہ تو بات کرنے کی کوشش کر

دو چیز طیرۂ عقل ست دم فرو بستن

بوقتِ گفتن و گفتن بوقتِ خاموشی

ترجمہ دو باتیں عقل کا عیب ہیں۔ کہنے کے وقت چپ رہنا اور چپ رہنے کے وقت بولنا

فی الجملہ زبان از مکالمتِ او در کشیدن قوت نداشتم و روئے از محادثت بگردانیدن مروّت ندانستم کہ یارِ موافق بود و محبِّ صادق۔ خلاصہ یہ کہ اس کے ساتھ بات کرنے سے زبان روکنے کی مجھ میں قوت نہ رہی اور اس کی ہم کلامی سے منہ موڑنے کو میں نے آدمیت نہ سمجھی اس لئے کہ موافق یار اور سچا دوست تھا۔

بیت

چو جنگ آوری با کسے بر ستیز

کہ از وے گزیرت بود یا گریز

ترجمہ جب تو لڑے تو اُس سے لڑ جس سے تجھے چارۂ کار ہو یا گریز کی گنجائش ہو

بحکمِ ضرورت سخن گفتم و تفرّج کناں بیروں رفتم در فصل ربیعے کہ صولتِ بَرد آرمیدہ بود و اوانِ دولتِ ورد رسیدہ۔ مجبوراً میں نے بات کر لی اور تفریح کے لئے باہر نکل پڑا بہار کا موسم تھا سردی کا حملہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور گلاب کی حکومت کا موسم آ گیا تھا۔

قطعہ

اوّلِ اردی31 بہشت ماہِ جلالی32

بلبل گویندہ بر منابرِ قضباں

ترجمہ جلالی شمسی کے اردی بہشت مہینہ کا شروع تھا شاخوں کے ممبروں پر بلبل چہک رہی تھی

بر گلِ سرخ از نم اوفتادہ لآلی

ہمچو عرق بر عذارِ شاہدِ غضباں

ترجمہ گلاب کے پھول پر شبنم کے موتی بکھرے تھے جیسے غصہ کی حالت میں معشوق کے رخسار پر پسینہ

شب را ببوستاں با یکے از دوستاں اتفاقِ مبیت افتاد۔ رات کو باغ میں ایک دوست کے ساتھ شب گذارنے کا اتفاق ہوا۔

موضعے خوش و خرّم و درختانِ دل کش و درہم گفتی کہ خردۂ مینا برخاکش ریختہ و عقدِ ثریّا از تاکش آویختہ۔ ایک سرسبز و شاداب جگہ اور درختوں کے جھرمٹ دار دل چسپ درخت گویا کانچ کے ٹکڑے اس کی خاک پر بکھرے ہوئے اور ثریا کا گچھا اس کے انگوروں کی بیل میں لٹکا ہوا تھا۔

قطعہ

رَوْضَۃٌ مَاءُ نَہْرِہَا سَلْسَالٌ

دَوْحَۃٌ سَجْعُ طَیْرِہَا مَوْزُوْنٌ

ترجمہ ایک ایسا باغ جس کی نہر کا پانی جاری تھا ایسا درخت جس کے پرندوں کا گانا موزوں

آں پر از لالہ ہائے رنگارنگ

ویں پر از میوہ ہائے گوناگوں

ترجمہ وہ رنگ برنگ کے لالوں سے پُر یہ طرح طرح کے میووں سے لدا ہوا

باد در سایۂ درختانش

گسترانید فرشِ بوقلموں

ترجمہ ہوا نے اس کے درختوں کے سایہ میں رنگا رنگ فرش بچھا دیا تھا

بامداداں کہ خاطرِ باز آمدن بر رائے نشستن غالب آمد دیدمش دامنے گل و ریحان و سنبل و ضیمران فراہم آوردہ و آہنگِ رجوع کردہ۔ صبح کو جب واپسی کا خیال بیٹھنے کی رائے پر غالب آ گیا میں نے اسے دیکھا کہ وہ گل، ریحان، سنبل اور ضیمران سے دامن کو بھرے ہوئے ہے اور لوٹنے کا ارادہ کر رہا ہے۔

گفتم گلِ بوستاں را چنانکہ دانی بقائے و عہدِ گلستاں را وفائے نباشد۔ میں نے اس سے کہا جیسا کہ تجھے معلوم ہے باغ کے پھول کو ٹکاؤ اور باغ کے زمانہ میں وفا نہیں ہوتی۔

و حکیماں گفتہ اند ہرچہ نپاید دل بستگی را نشاید۔ اور عقلمندوں نے کہا ہے جو ناپائدار ہے دوستی کے لائق نہیں ہے۔

گفت طریق چیست اس نے کہا پھر کیا صورت ہے

گفتم برائے نزہتِ ناظراں و فسحتِ حاضراں کتابِ گلستاں توانم تصنیف کردن کہ بادِ خزاں را بر ورقِ او دستِ تطاول نباشد و گردشِ زماں عیشِ ربیعش را بہ طیشِ خریف مبدّل نہ کند۔ میں نے کہا دیکھنے والوں کی تفریح اور موجودہ لوگوں کی کشادگی کے لئے میں ایک ایسی گلستاں کتاب تصنیف کر سکتا ہوں جس کے پتوں پر خزاں کی ہوا کی دست درازی نہ ہو اور زمانہ کی گردش اس کے موسمِ بہار کی خوشگواری کو موسمِ خزاں کی ناگواری میں تبدیل نہ کر سکے۔