قطعہ
|
بچہ کار آیدت ز گل طبقے |
از گلستان من ببر ورقے |
|
ترجمہ پھولوں کا طبق تیرے کس کام آئے گا میری گلستاں کا ایک ورق لے جا |
|
|
گل ہمیں پنج روز شش باشد |
ویں گلستاں ہمیشہ خوش باشد |
|
ترجمہ پھول یہی پانچ چھ روز رہے گا اور یہ گلستاں ہمیشہ تازہ رہے گی |
|
حالے کہ من ایں حکایت بگفتم دامنِ گل بریخت و در دامنم آویخت کہ اَلْکَرِیْمُ اِذَا وَعَدَ وَفٰی۔ جیسے ہی میں نے یہ بات کہی اُس نے پھولوں کا دامن چھوڑ دیا اور میرے دامن سے چمٹ گیا کہ اَلْکَرِیْمُ اِذَا وَعَدَ وَفٰی۔
فصلے دو ہماں روز اتفاقِ بیاض افتادہ در حسنِ معاشرت و آداب محاورت در لباسے کہ متکلماں را بکار آید و مترسّلاں را بلاغت افزاید۔ دو فصل اُسی روز لکھنے کا موقع مل گیا میل جول کی خوبی اور بات چیت کرنے کے آداب کے بیان میں ایسی عبارت میں کہ بولنے والوں کے کام آئے اور خط و کتابت کرنے والوں کی بلاغت بڑھائے۔
فی الجملہ ہنوز از گلستاں بقیّتے ماندہ بود کہ کتابِ گلستاں تمام شد۔ خلاصہ یہ کہ ابھی کچھ موسم بہار باقی تھا کہ کتاب گلستاں پوری ہو گئی۔
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ وَاَحْکَمُ بِالصَّوَابِ۔ خدا درست بات کا سب سے زیادہ جاننے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے۔
ذکرِ پادشاہزادۂ جہاں سعد بن ابی بکر بن سعد نوّر اللہ قبرہٗ ابوبکر بن سعد (خدا سعد کی قبر کو نور سے بھرے) کے بیٹے شہزادہ سعد کا ذکر!
و تمام آنگہ شود بحقیقت کہ پسندیدہ آید در بارگاہِ جہاں پناہ سایۂ کردگار پرتوِ لطفِ پروردگار ذخرِ زماں و کہفِ اماں اَلْمُؤَیَّدُ مِنَ السَّمَاءِ اَلْمَنْصُوْرُ عَلَی الْاَعْدَاءِ عَضُدُ الدَّوْلَۃِ الْقَاہِرَۃِ سِرَاجُ الْمِلَّۃِ الْبَاہِرَۃِ جَمَالُ الْاَنَامِ مَفْخَرُ الْاِسْلَامِ سَعْدُ بْنُ الْاَتَابَکِ الْاَعْظَمِ شَہَنْشَاہُ الْمُعَظَّمُ مَالِکُ رِقَابِ الْاُمَمِ مَوْلٰی مُلُوْکِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ سُلْطَانُ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَارِثُ مُلْکِ سُلَیْمَانَ مُظَفَّرُ الدِّیْنِ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَنْگِیْ اَدَامَ اللّٰہُ اِقْبَالَہُمَا وَضَاعَفَ اِجْلَالَہُمَا وَجَعَلَ اِلٰی کُلِّ خَیْرٍ مَآلَہُمَا بکرشمۂ لطفِ خداوندی مطالعہ فرماید۔ یہ گلستاں حقیقتاً مکمل تو جب ہی ہو گی جب جہاں پناہ کے دربار میں پسند آ جائے جو خدا کا سایہ ہے خدا کی مہربانی کا عکس ہے زمانہ کا ذخیرہ ہے امن کی پناہ ہے اَلْمُؤَیَّدُ مِنَ السَّمَاءِ اَلْمَنْصُوْرُ عَلَی الْاَعْدَاءِ عَضُدُ الدَّوْلَۃِ الْقَاہِرَۃِ سِرَاجُ الْمِلَّۃِ الْبَاہِرَۃِ جَمَالُ الْاَنَامِ مَفْخَرُ الْاِسْلَامِ سَعْدُ بْنُ الْاَتَابَکِ الْاَعْظَمِ شَہَنْشَاہُ الْمُعَظَّمُ مَالِکُ رِقَابِ الْاُمَمِ مَوْلٰی مُلُوْکِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ سُلْطَانُ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَارِثُ مُلْکِ سُلَیْمَانَ مُظَفَّرُ الدِّیْنِ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَنْگِیْ اَدَامَ اللّٰہُ اِقْبَالَہُمَا وَضَاعَفَ اِجْلَالَہُمَا وَجَعَلَ اِلٰی کُلِّ خَیْرٍ مَآلَہُمَا مالکانہ مہربانی سے مطالعہ کرے۔
قطعہ
|
گر التفاتِ خداوندیش بیاراید |
نگارخانۂ چینی و نقش ارژنگیست |
|
ترجمہ اگر اس (گلستاں) کو شاہی توجہ سنوار دے تو وہ چین کا نگارخانہ ہے اور ارژنگ کا کھینچا ہوا نقش ہے |
|
|
امید ہست کہ روئے ملال در نکشد |
ازیں سخن کہ گلستاں نہ جائے دلتنگیست |
|
ترجمہ امید تو یہی ہے کہ وہ ملال سے منہ نہ پھیرے گا اس کلام سے اس لئے کہ گلستاں دلتنگی کا مقام نہیں ہوتا ہے |
|
|
علی الخصوص کہ دیباچۂ ہمایونش |
بنامِ سعدِ ابوبکر سعد بن زنگیست |
|
ترجمہ خصوصاً جبکہ اس کا متبرک دیباچہ ابوبکر ابن سعد ابن زنگی کے نیک نام سے ہے |
|
ذکرِ امیرِ کبیر فخر الدّین ابی بکر بن ابی نصر طال اللہ عمرہٗ امیرِ کبیر فخر الدین ابی بکر بن ابی نصر کا ذکر خدا اُس کی عمر دراز کرے
دیگر عروسِ فکرِ من از بے جمالی سر برنیارد و دیدۂ یاس از پشتِ پائے خجالت برندارد و در زمرۂ صاحب نظراں متجلّی نشود مگر آنگہ کہ متحلّی گردد بزیورِ قبولِ امیر کبیر عالمِ عادل مظفر و منصور ظہیرِ سریرِ سلطنت مشیرِ تدبیرِ مملکت کَہْفُ الْفُقَرَاءِ مَلَاذُ الْغُرَبَاءِ مُرَبِّی الْفُضَلَاءِ مُحِبُّ الْاَتْقِیَاءِ اِفْتِخَارِ اٰلِ پَارْس یَمِیْنُ الْمُلْکِ مَلِکُ الْخَوَاصِ بَارْبَکْ فَخْرُ الدَّوْلَۃِ وَالدِّیْنِ غِیَاثُ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ عُمْدَۃُ الْمُلُوْکِ وَالسَّلَاطِیْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ نَصْرٍ اَطَالَ اللّٰہُ عُمْرَہٗ وَاَجَلَّ قَدْرَہٗ وَشَرَحَ صَدْرَہٗ وَضَاعَفَ اَجْرَہٗ کہ ممدوح اکابر آفاق است و مجموعِ مکارمِ اخلاق۔ علاوہ ازیں میرے فکر کی دلہن بدصورتی کی وجہ سے سر نہیں اٹھائے گی اور مایوسی کی نگاہ شرمندگی کے پشتِ پا سے نہیں ہٹائے گی اور صاحبِ نظر لوگوں کی جماعت میں روشن نہیں ہو گی جب تک کہ وہ امیرِ کبیر کی قبولیت کے زیور آراستہ نہ ہو جو کہ عالم، منصف، کامیاب، منصور، تختِ سلطنت کا مددگار، مملکت کی تدبیر کا مشیر، کَہْفُ الْفُقَرَاءِ مَلَاذُ الْغُرَبَاءِ مُرَبِّی الْفُضَلَاءِ مُحِبُّ الْاَتْقِیَاءِ اِفْتِخَارِ اٰلِ پَارْس یَمِیْنُ الْمُلْکِ مَلِکُ الْخَوَاصِ بَارْبَکْ فَخْرُ الدَّوْلَۃِ وَالدِّیْنِ غِیَاثُ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ عُمْدَۃُ الْمُلُوْکِ وَالسَّلَاطِیْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ نَصْرٍ اَطَالَ اللّٰہُ عُمْرَہٗ وَاَجَلَّ قَدْرَہٗ وَشَرَحَ صَدْرَہٗ وَضَاعَفَ اَجْرَہٗ جو کہ دنیا کے بزرگوں کا ممدوح ہے اور عمدہ اخلاق کا مجموعہ ہے۔
شعر
|
ہر کہ در سایۂ عنایتِ اوست |
گنہش طاعتست و دشمن دوست |
|
ترجمہ جو اُس کی مہربانی کے سایہ میں ہے اُس کا گناہ بھی عبادت ہے اور اس کا دشمن بھی دوست ہے |
|
بر ہر یک از سائرِ بندگان و حواشی خدمتے معیّن است کہ اگر در ادائے برخے ازاں تہاون و تکاسل روا دارند در معرضِ خطاب آیند و در محلِ عتاب مگر براں طائفۂ درویشاں کہ شکرِ نعمتِ بزرگاں بر ایشاں واجب حاشیہ نشین اور غلاموں میں سے ہر ایک پر ایک خدمت مقرر ہے کہ اگر اس کے ادا کرنے میں تھوڑی سی بھی ڈھیل اور سستی جائز رکھیں تو ان سے جواب طلب ہو جائے اور عتاب میں آ جائیں بجز فقیروں کے اُس گروہ کے کہ جن پر بزرگوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے
و ذکرِ جمیل و دعائے خیر و ادائے چنیں خدمت در حدِّ غیبت اولیٰ ترست کہ در حضور ایں بہ تصنّع نزدیک ست و آں از تکلّف دور و باجابت مقرون۔ اور بہتر ذکر اور اچھی دعائیں اور اس طرح کی خدمت گذاری پیٹھ پیچھے زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ یہ آمنے سامنے میں بناوٹ سے قریب ہو جاتی ہے اور وہ تکلف سے دُور اور قبولیت سے نزدیک ہے۔
قطعہ
|
پشتِ دوتائے فلک راست شُد از خُرّمی |
تا چو تو فرزند زاد مادرِ ایام را |
|
ترجمہ خوشی کی وجہ سے آسمان کی کُبڑی کمر سیدھی ہوگئی جب سے مادرِ ایام نے تجھ جیسا فرزند جنا |
|
|
حکمتِ محض ست گر لطفِ جہاں آفریں |
خاص کند بندۂ مصلحت عام را |
|
ترجمہ یہ خالص حکمت ہے اگر جہان کے پیدا کرنے والے کی مہربانی عوام کی بھلائی کی خاطر کسی کو مخصوص کرے |
|
|
دولتِ جاوید یافت ہر کہ نکونام زیست |
کز عقبش ذکرِ خیر زندہ کند نام را |
|
ترجمہ جو نیک نامی سے زندہ رہا اس نے لازوال دولت پائی اس لئے کہ اس کے بعد اس کا ذکرِ خیر نام کو زندہ رکھے گا |
|
|
وصفِ ترا گر کند ور نکند اہلِ فضل |
حاجتِ مشّاطہ نیست روئے دلآرام را |
|
ترجمہ اہلِ فضل خواہ تیری تعریف کریں یا نہ کریں حسین چہرہ کو بناؤ سنگھار کرنے والی کی احتیاج نہیں ہے |
|
ذِکرِ تقصیرِ خِدمَت و مُوجِبِ اختِیارِ عُزلَت خدمت میں کوتاہی اور گوشہ نشینی اختیار کرنے کے سبب کا ذکر
تقصیر و تقاعدے کہ در مواظبتِ خدمتِ بارگاہِ خداوندی می رود بنا بر آنست کہ طائفہ از حکمائے ہندوستان در فضائلِ بزرجمہر سخن می گفتند، جو کوتاہی اور سستی بادشاہ کے دربار کی مستقل حاضری میں ہوتی ہے اس وجہ سے ہے کہ ہندوستان کے عقلمندوں کا ایک گروہ بزرجمہر کی خوبیوں کی بات کر رہا تھا،
بآخر جز ایں عیبش ندانستند کہ در سخن گفتن بطیٔ ست یعنی درنگ بسیار ہمی کند و مستمع را بسے منتظر می باید بود تا وے تقریرِ سخنے کند۔ آخر کار اس کا عیب سوائے اس کے نہ جانا کہ وہ بات کرنے میں سست ہے۔ یعنی بہت دیر کرتا ہے اور سننے والے کو بہت منتظر رہنا پڑتا ہے تو کہیں وہ ایک بات کی تقریر کرتا ہے۔
بزرجمہر بشنید و گفت اندیشہ کردن کہ چہ گویم بہ از پشیمانی خوردن کہ چرا گفتم۔ بزرجمہر نے سنا اور بولا سوچنا کہ میں کیا کہوں اس کی پشیمانی اٹھانے سے بہتر ہے کہ میں نے کیوں کہا۔
