اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دیباچہ

نظم

سخندان پروردہ پیر کہُن

بیندیشد آنگہ بگوید سخن

ترجمہ بات کا جاننے والا، تجربہ کار، پُرانا بڈھا سوچ لیتا ہے پھر بات کرتا ہے

مزن بے تأمل بگفتار دم

نکو گوئی گر دیر گوئی چہ غم

ترجمہ بدون سوچے بات کہنا شروع نہ کر۔ بات بہتر کہہ اگر دیر میں کہے تو کیا غم ہے

بیندیش وانگہ بر آور نَفَس

وزاں پیش بس کن کہ گویند بس

ترجمہ سوچ لے پھر بات نکال! اور اس سے پہلے ختم کر دے کہ لوگ ’’بس‘‘ کہیں

بہ نطق آدمی بہترست از دواب

دواب از تو بہ گر نگوئی صواب

ترجمہ گویائی کی وجہ سے آدمی جانوروں سے افضل ہے اگر تو ٹھیک بات نہ کہے تو تجھ سے جانور بہتر ہیں

فکیف در نظر اعیان حضرتِ خداوندی عَزَّ نَصْرُہٗ کہ مجمعِ اہلِ دل ست و مرکزِ علمائے متبحّر اگر در سیاقتِ سخن دلیری کنم شوخی کردہ باشم و بضاعتِ مزجات بحضرتِ عزیز آوردہ، تو پھر شاہی دربار کے سرداروں کے سامنے کیا ہو۔ عَزَّ نَصْرُہٗ‌خدا کرے اُس کی فتح غالب رہے جو اہلِ دل کا مجمع ہے اور جو ماہر علماء کا مرکز ہے اگر طرزِ کلام میں دلیری کروں تو میری گستاخی ہوگی اور عزیزِ مصر کے دربار میں کھوٹی پونجی لے جانا ہوگی،

و شبہ33 در بازارِ جوہریاں جوے نیارد و چراغ پیش آفتاب پرتوے ندارد و منارۂ بلند بر دامن کوہ الوند34 پست نماید۔ اور جوہریوں کے بازار میں پوتھ ایک جو کے بھی لائق نہیں اور آفتاب کے سامنے چراغ کی کوئی روشنی نہیں اور کوہِ الوند کے دامن میں بلند منارہ پست نظر آتا ہے۔

مثنوی

ہر کہ گردن بدعویٰ افرازد

خویشتن را بہ گردن اندازد

ترجمہ جو شخص کسی دعوے کے لئے گردن اونچی کرتا ہے وہ اپنے آپ کو گردن کے بل گراتا ہے

سعدی افتادہ است و آزادہ

کس نیاید بجنگ افتادہ

ترجمہ سعدی عاجز اور آزاد آدمی ہے عاجز سے لڑنے کوئی نہیں آتا!

اول اندیشہ وانگہے گفتار

پائے پیش آمدست و پس دیوار

ترجمہ پہلے سوچ لے پھر بات کر نیو پہلے ہے دیوار پیچھے!

نخل بندم وَلے نہ در بستاں

شاہدم من وَلے نہ در کنعاں

ترجمہ میں مالی ہوں لیکن نہ باغ میں میں معشوق ہوں لیکن نہ کنعان میں

لقمان را گفتند حکمت از کہ آموختی، گفت از نابینایاں کہ تا جائے نہ بینند پائے ننہند۔ لقمان سے لوگوں نے پوچھا تو نے دانائی کس سے سیکھی، اس نے کہا اندھوں سے کہ جب تک جگہ نہ ٹٹول لیں قدم نہیں دھرتے ہیں۔

قَدِّمِ الخُرُوجَ قبلَ الوُلُوجِ داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی سوچ لے

مصرعہ

مردیت بیازما وانگہ زن کن

ترجمہ پہلے قوتِ مردمی کو آزمالے پھر شادی کر۔

قطعہ

گرچہ شاطر بود خروس بجنگ

چہ زند پیشِ بازِ روئیں چنگ

ترجمہ مرغ اگرچہ لڑنے میں چالاک ہو لیکن کانسی کے پنجے والے باز کے مقابلہ میں کیا کر سکتا ہے

گربہ شیرست در گرفتنِ موش

لیک موش ست در مصافِ پلنگ

ترجمہ چوہا پکڑنے میں بلی شیر ہے! لیکن چیتے کی لڑائی میں وہ چوہا ہے

اما باعتمادِ وسعتِ اخلاقِ بزرگاں کہ چشم از عوائبِ زیردستاں بپوشند و در افشائے جرائمِ کہتراں نکوشند، کلمۂ چند بطریقِ اختصار از نوادر و امثال و شعر و حکایات و سِیَرِ ملوکِ ماضی رحمہم اللہ دریں کتاب درج کردیم و برخے از عمرِ گراں مایہ برو خرج۔ لیکن بزرگوں کے اخلاق کی وسعت کے بھروسے پر کیونکہ وہ چھوٹوں کے عیب سے چشم پوشی کرتے ہیں اور چھوٹوں کے عیب ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ چند کلمے مختصر طور پر نادر باتوں، مثالوں، شعر، حکایتوں، گذشتہ بادشاہوں کی عادتوں کے اس کتاب میں ہم نے لکھ دیئے ہیں اور تھوڑی سی قیمتی عمر اس پر خرچ کی ہے۔

موجبِ تصنیفِ کتاب ایں بود وَبِاللہِ التَّوفِیق اس کتاب کی تصنیف کا سبب یہ تھا وَبِاللہِ التَّوفِیق‌اور توفیق خدا کی جانب سے ہے

قطعہ

بماند سالہا ایں نظم و ترتیب

زما ہر ذرہ خاک افتادہ جائے

ترجمہ یہ نظم اور ترتیب برسوں رہے گی ہماری خاک کا ایک ایک ذرہ جگہ جگہ پڑا ہوگا

غرض نقشیست کز ما یاد ماند

کہ ہستی را نمی بینم بقائے

ترجمہ غرض یہ ایک نقش ہے جو ہماری یادگار رہے گا اس لئے کہ ہستی کو تو بقا نہیں معلوم ہوتی ہے

مگر صاحبدلے روزے برحمت

کند در کارِ درویشاں دعائے

ترجمہ شاید کوئی صاحبِ دل کسی دن رحم کھا کر درویشوں کے معاملہ میں کوئی دعا کر دے

امعان نظر در ترتیبِ کتاب و تہذیبِ ابواب ایجازِ سخن را مصلحت دید تا مر ایں روضۂ غنّا و حدیقۂ غُلبا را چوں بہشت بہ ہشت باب اتفاق افتاد، نظر کی گہرائی نے کتاب کی ترتیب اور بابوں کی تہذیب میں بات کے اختصار کو مناسب سمجھا چنانچہ اس گنجان باغ اور گھنے باغیچہ کو بہشت کی طرح آٹھ باب میں اتفاق ہوگیا،

ازیں سبب مختصر آمد تا بہ ملامت نہ انجامد۔ اسی وجہ سے یہ مختصر ہوگئی تاکہ کدورت نہ پیدا ہو۔

وَاللّٰہُ اَعلَمُ بِالصَّوَابِ وَاِلَیہِ المَرجِعُ وَالمَآبُ اور خدا بہتر بات زیادہ جانتا ہے اور اسی کی طرف مرجع اور ٹھکانا ہے

بابِ اول در سیرتِ پادشاہاں پہلا باب بادشاہوں کی عادت کے بیان میں

بابِ دوم در اخلاق درویشاں دوسرا باب درویشوں کے اخلاق کے بیان میں

بابِ سوم در فضیلتِ قناعت تیسرا باب قناعت کی فضیلت کے بیان میں

بابِ چہارم در فوائدِ خاموشی چوتھا باب چپ رہنے کی فضیلت کے بیان میں

بابِ پنجم در عشق و جوانی پانچواں باب عشق اور جوانی کے بیان میں

بابِ ششم در ضعفِ پیری چھٹا باب بڑھاپے کی کمزوری کے بیان میں

بابِ ہفتم در تاثیر تربیت ساتواں باب پرورش کی تاثیر کے بیان میں

بابِ ہشتم در آدابِ صحبت و حکمت آٹھواں باب ساتھ رہنے کے طریقوں اور حکمت کے بیان میں

مثنوی

دراں مدت کہ ما را وقتِ خوش بود

ز ہجرت ششصد و پنجاہ و شش بود

ترجمہ جس زمانہ میں کہ ہمارا اچھا وقت تھا ہجری سن چھ سو چھپن (656ھ) تھا!

مرادِ ما نصیحت بود و گفتیم

حوالت با خدا کردیم و رفتیم

ترجمہ ہمارا مقصد نصیحت کرنا تھا اور ہم نے کر دی ہم نے خدا کے سپرد کر دیا اور ہم رخصت ہوگئے