اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

ڈاکٹر نکلسن کے نام

(2) مسٹر ڈکنسن نے آگے چل کر میرے ’’فلسفۂ سخت کوشی‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے اس باب میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا مدار علیہ وہ خیالات ہیں جو میں نے حقیقت کے متعلق اپنی نظموں میں ظاہر کئے ہیں۔ میرے عقیدے میں حقیقت ایسے اجزا کا مجموعہ ہے۔ جو تصادم کے واسطہ سے ربط و امتزاج پیدا کر کے ’’کُل‘‘ کی صورت میں تبدیلی کی سعی کر رہے ہیں۔ اور یہ تصادم لامحالہ ان کی شیرازہ بندی اور ارتباط پر منتج ہوگا۔ دراصل بقائے شخصی اور زندگی کے علو و ارتقا کے لیے تصادم نہایت ضروری ہے۔ نطشے بقائے شخصی کا منکر ہے۔ جو لوگ حصولِ بقا کے آرزومند ہیں وہ ان سے بیدردی سے کہتا ہے۔ ’’کیا تم ہمیشہ کے لیے زمانے کی پشت کا بوجھ بنے رہنا چاہتے ہو؟‘‘ اس کے قلم سے یہ الفاظ اس لئے نکلے ہیں کہ زمانے کے متعلق اس کا تصور غلط تھا۔ اُس نے کبھی مسئلۂ زمان کے اخلاقی پہلو کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ بخلاف اس کے میرے نزدیک بقا انسان کی بلند ترین آرزو اور ایسی متاعِ گراں مایہ ہے جس کے حصول پر انسان کو اپنی تمام قوتیں مرکوز کر دینا چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں عمل کی تمام صور و اشکالِ مختلفہ کو جن میں تصادم و پیکار بھی شامل ہے ضروری سمجھتا ہوں۔ اور میرے نزدیک اُن سے انسان کو زیادہ استحکام و استقلال حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی خیال کے پیشِ نظر میں نے سکون و جمود اور اس نوع کے تصوف کو جس کا دائرہ محض قیاس آرائیوں تک محدود ہو، مردود قرار دیا ہے۔

میں تصادم کو سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ اخلاقی حیثیت سے ضروری سمجھتا ہوں۔ حالانکہ اس باب میں نطشے کے خیالات کا مدار غالباً سیاست ہے۔ جدید طبیعیات سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مادّی قوت کے جزوِ لایتجزیٰ‌ناقابلِ تقسیم ذرہ نے ہزار ہا سال تک ارتقائی مدارج طے کرنے کے بعد موجودہ صورت اختیار کی ہے پھر بھی وہ فانی ہے اور مٹا دیا جا سکتا ہے۔ قوت ذہنی جوہر یعنی ذاتِ بشر کی بھی یہی کیفیت ہے۔ صدہا برس کی مسلسل جد و جہد اور تصادم و پیکار کے بعد وہ موجودہ صورت تک پہنچا ہے۔ پھر بھی عوارضِ ذہنی کے مظاہرِ مختلفہ سے اس کی بے ثباتی اور عدمِ استحکام ظاہر ہے۔ اگر وہ بدستور قائم و باقی رہنا چاہتا ہے تو یقیناً وہ ماضی کے درسِ عبرت کو فراموش نہیں کر سکتا۔ اُسے لامحالہ ان قوتوں سے اپنے قیام کی خاطر استمداد کرنی پڑے گی۔ جو آج تک اُس کے استحکام کی ضامن رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ فطرت کا ارتقا ان قوتوں میں اصلاح کر دے۔ یا ان میں سے بعض کو (مثلاً تصادم اور جنگ و پیکار کو جو استحکام کے قوی عوامل میں سے ہیں) جو اس کے ارتقا کی کفیل بنی رہی ہیں بالکل مٹا دے۔ اور اس کے استحکام و بقا کی خاطر بعض ایسی قوتیں عرصۂ شہود میں لے آئے جن سے انسان آج تک ناآشنا رہا ہے۔ لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اس باب میں کسی نصب العین کا پرستار نہیں ہوں۔ اس لئے میرے نزدیک اس نوع کے انقلاب کا زمانہ ابھی بہت دور ہے۔ اور مجھے اندیشہ ہے کہ یورپ کی جنگِ عظیم میں انسان کی بصیرت و موعظت کا جو سرمایہ پنہاں ہے وہ اس سے عرصۂ دراز تک متمتع نہ ہو سکے گا۔

ان سطور سے واضح ہو گیا ہے کہ میں نے محض اخلاقی زاویۂ نگاہ سے تصادم و پیکار کو ضروری قرار دیا ہے۔ افسوس کہ مسٹر ڈکنسن نے ’’فلسفۂ سخت کوشی‘‘ کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے۔

(3) مسٹر ڈکنسن نے آگے چل کر میرے فلسفے کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے عالمگیر ہے۔ لیکن باعتبارِ اطلاق و انطباق مخصوص و محدود۔ ایک حیثیت سے ان کا ارشاد صحیح ہے۔ انسانیت کا نصب العین شعر اور فلسفہ میں عالمگیر حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اگر اسے موثر نصب العین بنانا اور عملی زندگی میں بروئے کار لانا چاہیں تو آپ شاعروں اور فلسفیوں کو اپنا مخاطبِ اولین نہیں ٹھہرائیں گے اور ایک ایسی مخصوص سوسائٹی تک اپنا دائرۂ مخاطبت محدود کر دیں گے جو ایک مستقل عقیدہ اور معین راہِ عمل رکھتی ہو۔ لیکن اپنے عملی نمونے اور ترغیب و تبلیغ سے ہمیشہ اپنا دائرہ وسیع کرتی چلی جائے۔ میرے نزدیک اس قسم کی سوسائٹی اسلام ہے۔

اسلام ہمیشہ رنگ و نسل کے عقیدے کا، جو انسانیت کے نصب العین کی راہ میں سب سے بڑا سنگِ گراں ہے، نہایت کامیاب حریف رہا ہے۔ رینان‌Renan کا یہ خیال غلط ہے کہ سائنس اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ دراصل اسلام بلکہ کائناتِ انسانیت کا سب سے بڑا دشمن رنگ و نسل کا عقیدہ ہے۔ اور جو لوگ نوعِ انسان سے محبت رکھتے ہیں ان کا فرض ہے کہ ابلیس کی اس اختراع کے خلاف علمِ جہاد بلند کر دیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ قومیت کا عقیدہ جس کی بنیاد نسل یا جغرافی حدودِ ملک پر ہے دنیائے اسلام میں استیلا‌غلبہ حاصل کر رہا ہے اور مسلمان عالمگیر اخوّت کے نصب العین کو نظر انداز کر کے اس عقیدے کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہیں جو قومیت کو ملک و وطن کی حدود میں مقید رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے میں ایک مسلمان اور ہمدردِ بنی نوعِ انسان کی حیثیت سے انھیں یہ یاد دلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا حقیقی فرض سارے بنی آدم کی نشو و ارتقا ہے۔ نسل اور حدودِ ملک کی بنیاد پر قبائل اور اقوام کی تنظیم، حیاتِ اجتماعی کی ترقی اور تربیت کا ایک وقتی اور عارضی پہلو ہے۔ اگر اُسے یہی حیثیت دی جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن میں اس چیز کا سخت مخالف ہوں کہ اسے انسانی قوتِ عمل کا مظہرِ اتم قرار دیا جائے۔ کیونکہ تنہا یہی جماعت میرے مقاصد کے لیے موزوں واقع ہوئی ہے۔ مسٹر ڈکنسن کا یہ خیال بھی تسامح سے خالی نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روح کسی خاص گروہ سے مختص ہے۔ اسلام تو کائناتِ انسانیت کے اتحادِ عمومی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کے تمام جزوی اختلافات سے قطعِ نظر کر لیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے

تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ17

میرے خیال میں مسٹر ڈکنسن کا ذہن ابھی تک یورپ والوں کے اس قدیم عقیدے سے آزاد نہیں ہوا کہ اسلام سفاکی اور خونریزی کا درس دیتا ہے۔ دراصل خدا کی ارضی بادشاہت صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام انسان اس میں داخل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ نسل اور قومیت کے بتوں کی پرستش ترک کر دیں اور ایک دوسرے کی شخصیت تسلیم کر لیں۔ انجمنیں، حکمبرداریاں، اس قسم کے عہد نامے جن کا ذکر مسٹر کینیز18 نے کیا ہے ملکیت خواہ وہ جمہوریت کی ہی قبا میں پوشیدہ کیوں نہ ہو انسان کو فوز و فلاح سے آشنا نہیں کر سکتی۔ بلکہ انسانی فلاح تمام انسانوں کی مکمل مساوات اور حریت میں پنہاں ہے۔ آج ہمیں اس چیز کی ضرورت ہے کہ سائنس کا محلِ استعمال قطعی طور پر بدل دیا جائے۔ ان خفیہ سیاسی منصوبوں سے قطعاً احتراز کیا جائے جن کا مقصد بھی یہ ہے کہ کمزور، زبوں حال یا ایسی اقوام جو عیاری اور حیلہ گری کے فن میں چنداں مہارت نہیں رکھتیں صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہو جائیں۔ مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مسلمان بھی دوسری قوموں کی طرح جنگ کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے بھی فتوحات کی ہیں۔ مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ ان کے بعض قافلہ سالار ذاتی خواہشات کو دین و مذہب کے لباس میں جلوہ گر کرتے رہے ہیں لیکن مجھے پوری طرح یقین ہے کہ کشور کشائی اور ملک گیری ابتدائے اسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔

اسلام کو جہاں ستانی اور کشور کشائی میں جو کامیابی ہوئی ہے میرے نزدیک وہ اس کے مقاصد کے حق میں بے حد مضر تھی۔ اس طرح وہ اقتصادی اور جمہوری اصول نشو و نما نہ پا سکے جن کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں جا بجا آیا ہے۔ بلاشبہ کہ مسلمانوں نے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کر لی۔ لیکن ساتھ ہی ان کے سیاسی نصب العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا۔ اور انھوں نے اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں کہ اسلامی اصولوں کی گیرائی کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔