بلاشبہ اسلام کا مقصد انجذاب ہے مگر انجذاب کے لیے کشور کشائی درکار نہیں بلکہ صرف اسلام کی سیدھی سادی تعلیم، جو الہیات کے دقیق اور پیچیدہ مسائل سے پاک اور عقلِ انسانی کے عین مطابق واقع ہوئی ہے، اس عقدہ کی گرہ کشائی کر سکتی ہے۔ اسلام کی فطرت میں ایسے اوصاف پنہاں ہیں جن کی بدولت وہ کامیابی کے بامِ بلند پر پہنچ سکتا ہے۔ ذرا چین کے حالات پر نظر ڈالئے۔ جہاں کسی سیاسی قوت کی پشت پناہی کے بغیر اسلام کے تبلیغی مشن نے غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی اور لاکھوں انسان اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے! میں بیس سال سے دنیا کے افکار کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اس طویل عرصے نے مجھ میں اس قدر صلاحیت پیدا کر دی ہے کہ حالات و واقعات پر غیر جانبدارانہ حیثیت سے غور کر سکوں۔
میری فارسی نظموں کا مقصود اسلام کی وکالت نہیں۔ بلکہ میری قوتِ طلب و جستجو تو صرف اس چیز پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اور عقلاً یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطعِ نظر کر لیا جائے جس کا بیّن مقصدِ وحید ذات پات، رتبہ و درجہ، رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ اسلام دنیوی معاملات کے باب میں نہایت ژرف نگاہ بھی ہے اور پھر انسان میں بے نفسی اور دنیوی لذائذ و نعم کے ایثار کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ اور حسنِ معاملت کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے ہمسایوں کے بارے میں اسی قسم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یورپ اس گنجِ گراں مایہ سے محروم ہے۔ اور یہ متاع اسے ہمارے ہی فیضِ صحبت سے حاصل ہو سکتی ہے۔
میں اس بارے میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں۔ میں نے اسرارِ خودی پر چند تشریحی نوٹ لکھے تھے جنھیں آپ نے دیباچۂ اسرار میں شامل کر لیا ہے۔ ان تفسیری حواشی میں میں نے مغربی متفکرین کے افکار و عقائد کی روشنی میں اپنی حیثیت حتمی طور پر واضح کی ہے۔ یہ طریق محض اس لیے اختیار کیا گیا تھا تا کہ انگلستان کے لوگ میرے خیالات بآسانی سمجھ لیں۔ ورنہ قرآنِ حکیم، صوفیائے کرام اور مسلمان فلسفیوں کے افکار سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ابنِ عربی اور عراقی (وحدت الوجود) ،واحد محمود (کثرتِ وجود)، الجیلی (انسانِ کامل کا تصور) اور مجدّد سرہندیؒ (ذاتِ بشر بہ تعلق ذاتِ حق)۔ چنانچہ میں نے اسرار کے پہلے اڈیشن میں بزبانِ اردو جو دیباچہ لکھا ہے اس میں یہی طریقِ استدلال اختیار کیا گیا ہے۔
میرا دعویٰ ہے کہ ’’اسرار‘‘ کا فلسفہ مسلمان صوفیا اور حکما کے افکار و مشاہدات سے ماخوذ ہے۔ اور تو اور وقت کے متعلق برگسان کا عقیدہ بھی ہمارے صوفیوں کے لیے نئی چیز نہیں۔ قرآن الہیات کی کتاب نہیں۔ بلکہ اس میں انسان کی معاش و معاد کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے پوری قطعیت سے کہا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا تعلق الٰہیات کے ہی مسائل سے ہے۔ عہدِ جدید کا ایک مسلمان اہلِ علم جب ان مسائل کو مذہبی تجربات اور افکار کی روشنی میں بیان کرتا ہے جن کا مبداء اور سرچشمہ قرآن مجید ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ جدید افکار کو قدیم لباس میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ پرانے حقائق کو جدید افکار کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اہلِ مغرب اسلامی فلسفے کی تعلیم سے ناآشنائے محض ہیں۔ اے کاش مجھے اس قدر فرصت ہوتی کہ میں اس موضوع پر ایک مبسوط کتاب لکھ کر مغربی فلسفیوں کو اس حقیقت سے روشناس کر دیتا کہ دنیا کی مختلف قوموں کے فلسفیانہ خیالات ایک دوسرے سے کس قدر مشابہ ہیں۔
مخلص محمد اقبال
(انگریزی سے)
(اقبال نامہ)
