خط (1) — 24 جنوری 1921ء (جلد دوم، خط 132)
لاہور1
24 جنوری 1921ء
محترمی ڈاکٹر نکلسن2
شفیع کے نام آپ نے جو مکتوب تحریر فرمایا ہے۔ اس سے مجھے یہ معلوم کر کے بیحد مسرت ہوئی کہ اسرارِ خودی کا ترجمہ انگلستان میں قبولِ عام حاصل کر رہا ہے۔ بعض انگریز تنقید نگاروں نے اس سطحی تشابہ اور تماثل سے جو میرے اور نطشے34 کے خیالات میں پایا جاتا ہے دھوکا کھایا ہے۔ اور غلط راہ پر پڑ گئے ہیں ’’دی ایتھینیم5 والے مضمون میں جو خیالات ظاہر کئے گئے وہ بہت حد تک حقائق کی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ لیکن اس غلطی کی ذمہ داری صاحبِ مضمون پر عائد نہیں ہوتی۔ اس نے اپنے مضمون میں میری جن نظموں کا ذکر کیا ہے۔ اگر اسے ان کی صحیح تاریخِ اشاعت کا بھی علم ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ میری ادبی سرگرمیوں کے نشو و ارتقا کے متعلق اس کا زاویۂ نگاہ بالکل مختلف نظر آتا۔ نہ وہ انسانِ کامل کے متعلق میرے تخیل کو صحیح طور پر سمجھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے خلطِ مبحث کر کے میرے انسانِ کامل اور جرمن مفکر کے فوق الانسان کو ایک ہی چیز فرض کر لیا ہے۔ میں نے آج سے قریباً بیس سال قبل انسانِ کامل کے متصوفانہ عقیدے پر قلم اٹھایا تھا۔ اور یہ وہ زمانہ ہے جب نہ تو نطشے کے عقائد کا غلغلہ میرے کانوں تک پہنچا تھا۔ نہ اس کی کتابیں میری نظر سے گزری تھیں۔ یہ مضمون ’’انڈین انٹی کیوری6‘‘ میں شائع ہوا جب 1908ء میں مَیں نے ’’ایرانی الہیات‘‘ پر ایک کتاب لکھی تو اس کتاب میں اس کو شامل کر لیا گیا۔
انگریزوں کو چاہئے کہ میرے خیالات کو سمجھنے کے لیے جرمن مفکر کے بجائے اپنے ایک ہم وطن فلسفی کے افکار کو رہنما بنائیں۔ میری مراد الگزنڈر78 سے ہے جس کے گلاسگو9 والے خطبات پچھلے سال شائع ہو چکے ہیں۔ ان خطبات میں اس نے ’’خدا اور الوہیت‘‘ کے عنوان سے جو باب لکھا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ وہ صفحہ 347 پر لکھتا ہے۔
’’گویا ذہنِ انسانی کے نزدیک الوہیت دوسری اعلیٰ تجربی قوت ہے۔ جسے کائناتِ عالمِ وجود میں لانے کی سعی کر رہی ہے۔ قیاس و اجتہاد کی رہنمائی سے ہمیں یقین ہو چکا ہے کہ بطنِ گیتی میں اس قسم کی ایک قوت موجود ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ قوت کیا ہے۔ ہم نہ تو اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ نہ ہمارا ذہن اس کے تصور پر قادر ہے۔ انسان ابھی تک ایک نامعلوم خدا کے لیے معابد تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معلوم کرنا کہ الوہیت کیا چیز ہے اس کا احساس کیسا ہوتا ہے اس صورت میں ممکن ہے کہ ہم خدا بن جائیں۔‘‘
الگزنڈر کے خیالات میرے عقائد کی نسبت زیادہ جسارت آمیز ہیں۔ میرا عقیدہ ہے کہ کائنات میں جذبۂ الوہیت جاری و ساری ہے لیکن میں الگزنڈر کی طرح یہ نہیں مانتا کہ یہ قوت ایک ایسے خدا کے وجود میں جلوہ آرا ہوگی۔ جو وقت کا تابع ہوگا۔ اس باب میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ قوت ایک اکمل و اعلیٰ انسان کے پیکرِ خاکی میں ظاہر ہوگی۔ خدا کے متعلق میرا عقیدہ الگزنڈر کے عقیدے سے مختلف ہے لیکن اگر انگریزان جزوی اختلافات سے قطعِ نظر کر کے انسانِ کامل کے تخیل پر اپنے ایک ہم وطن مفکر کے افکار کی روشنی میں نظر ڈالیں تو انھیں یہ عقیدہ اس قدر اجنبی اور غیر مانوس نہیں معلوم ہوگا۔
مجھے مسٹر ڈکنسن10 کی تنقید بدرجۂ غایت دلچسپ معلوم ہوتی ہے اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اس کے متعلق چند باتیں عرض کر دوں۔ براہِ کرم انھیں یہ خط دکھا دیں۔ مجھے یقین ہے کہ انھیں اس امر سے دلچسپی ہوگی کہ میں ان کے ریویو کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہوں۔
(1) مسٹر ڈکنسن کے نزدیک مَیں نے اپنی نظموں میں جسمانی قوت کو منتہائے آمال قرار دیا ہے۔ (انھوں نے مجھے ایک مکتوب لکھا ہے جس میں یہی خیال ظاہر کیا ہے) انھیں اس بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں روحانی قوت کا تو قائل ہوں لیکن جسمانی قوت پر یقین نہیں رکھتا۔ جب ایک قوم کو حق و صداقت کی حمایت میں دعوتِ پیکار دی جائے تو میرے عقیدے کی رُو سے اس دعوت پر لبیک کہنا اس کا فرض ہے۔ لیکن مَیں اُن تمام جنگوں کو مردود سمجھتا ہوں جن کا مقصد محض کشور کشائی اور ملک گیری ہو۔ (حکایت میاں میرؒ اور شہنشاہِ ہندوستان)
مسٹر ڈکنسن نے صحیح فرمایا کہ جنگ خواہ حق و صداقت کی حمایت میں ہو۔ خواہ ملک گیری اور فتح مندی کی خاطر، تباہی اور بربادی اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس لیے اس کے استیصال کی سعی کرنا چاہئے۔ لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ معاہدے، لیگیں، پنچایتیں اور کانفرنسیں استیصالِ حرب نہیں کر سکتیں۔ اگر اس سعی میں ہمیں پیش از پیش کامیابی ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ مللِ مستعمر جن ملتوں کو تمدّن و تہذیب میں اپنا ہمسر نہیں سمجھتیں انھیں اپنے سہامِ جور و تعدّی کا شکار بنانے کے لئے زیادہ پُرامن وسائل اختیار کر لیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے۔ جو ہمارے معاشرتی مسائل کی پیچیدگیاں سلجھائے۔ ہمارے تنازعات کا فیصلہ کرے۔ اور بین الملّی اخلاق کی بنیاد مستحکم و استوار کر دے۔ پروفیسر میکنزی11 کی کتاب ’’انٹروڈکشن ٹو سوشیالوجی12‘‘ کے یہ دو آخری پیراگراف کس قدر صحیح ہیں۔ میں انھیں یہاں لفظ بہ لفظ نقل کر دیتا ہوں۔
’’کامل انسانوں کے بغیر سوسائٹی معراجِ کمال پر نہیں پہنچ سکتی اور اس غرض کے لیے محض عرفان اور حقیقت آگاہی کافی نہیں۔ بلکہ ہیجان اور تحریک کی قوت بھی ضروری ہے۔ جسے یوں کہنا چاہئے کہ یہ معما حل کرنے کے لیے ہم نور و حرارت دونوں کے محتاج ہیں۔ غالباً عہدِ حاضرہ کے معاشرتی مسائل کا فلسفیانہ فہم و ادراک بھی وقت کی اہم ترین ضرورت نہیں۔ ہمیں معلم بھی چاہئے اور پیغمبر بھی۔ ہمیں آج رسکن13 یا کارلائل یا ٹالسٹائی14 جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو ضمیر کو زیادہ متشدّد اور سخت گیر بنانے اور فرائض کے دائرے کو زیادہ وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ غالباً ہمیں ایک نئے مسیح کی ضرورت ہے..... یہ قول صحیح ہے کہ عہدِ حاضرہ کے پیغمبر کو محض ’’بیابان کی صدا‘‘ نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ عہدِ حاضرہ کے ’’بیابان‘‘ آباد شہروں کے گلی کوچے ہیں۔ جہاں ترقی کی مسلسل و پیہم جد و جہد کا بازار گرم ہے۔ اس عہد کے پیغمبر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ہنگامہ زار میں وعظ و تبلیغ کرے۔
غالباً ہمیں پیغمبر سے بھی زیادہ عہدِ نو کے شاعر کی ضرورت ہے، یا ایک ایسے شخص کا وجود ہمارے لئے مفید ثابت ہوگا جو شاعری اور پیغمبری کی دوگونہ صفات سے متّصف ہو۔ عہدِ ماضی کے شاعروں نے ہمیں فطرت سے محبت کرنے کی تعلیم دی ہے۔ انھوں نے ہمیں اس قدر ژرف نگاہ بنا دیا ہے کہ ہم مظاہرِ فطرت میں انوارِ ربّانی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم ابھی ایک شاعر کے منتظر ہیں جو ہمیں اسی وضاحت کے ساتھ پیکرِ انسانی میں صفاتِ الہی کے جلوے دکھا دے۔ ہائنے15 نے ازراہِ تفنّن اپنے آپ کو ’’روح القدس‘‘ کا سپاہی کہا تھا۔ ہمیں ایسے شخص کی ضرورت ہے جو درحقیقت روح القدس کا سپاہی ہو۔ جو اس حقیقت پر ہماری آنکھیں کھول دے کہ ہمارے بلند ترین نصب العین روزمرہ کی زندگی میں پورے ہو رہے ہیں اور اگر اس زندگی کو ترقی دینے کی سعی کی جائے۔ تو ہمیں محض راہبانہ ریاضت اور نفس کشی ہی کا موقع نہیں ملے گا بلکہ ایسا ارفع و اعلیٰ مقصد حاصل ہو جائے گا۔ جو تمام خیالات، تمام جذبات اور تمام مسرتوں کو ترقی کے بلند مقام پر پہنچا سکتا ہے۔‘‘
انگریزوں کو چاہئے کہ اس نوع کے خیالات کی روشنی میں انسانِ کامل کے متعلق میرے افکار کا مطالعہ کریں۔ ہمارے عہد نامے اور پنچایتیں جنگ و پیکار کو صفحۂ حیات سے محو نہیں کر سکتیں۔ کوئی بلند مرتبہ شخصیت ہی ان مصائب کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ اور اس شعر میں میں نے اسی کو مخاطب کیا ہے۔
|
باز در عالم بیار ایامِ صلح16 |
جنگ جویاں را بدہ پیغامِ صلح |
