(1)
کتنا افسوس ناک، کتنا پُر درد سانحہ ہے کہ وہی نازنین جو کبھی ہمارے گوشہ جگر میں بستی تھی، اُسی کے گوشہ جگر میں چُبھنے کے لیے ہمارا خنجر آبدار بیقرار ہو رہا ہو۔ جس کی آنکھیں ہمارے لیے آبِ حیات کے چھلکتے ہوئے ساغر تھیں، وہی آنکھیں ہمارے دل میں شعلہ اور خون کا طوفان برپا کریں۔ حُسن اُسی وقت تک مایۂ راحت و شادمانی اور نعمتِ روحانی ہے، جب تک اُس کے قالب میں عصمت کی روح حرکت کر رہی ہو۔ ورنہ وہ مایۂ شر ہے۔ زہر اور عفونت سے لبریز، اسی قابل کہ وہ ہماری نگاہوں سے دور رہے اور پنجہ و ناخن کا شکار بنے! ایک زمانہ وہ تھا کہ نعیمہ، حیدر کے آرزوؤں کی دیوی تھی۔ طالب و مطلوب کی تمیز نہ تھی۔ ایک طرف کامل دلجوئی تھی۔ دوسری طرف کامل رضا۔ تب تقدیر نے پانسہ پلٹا۔ گُل و بلبل میں نسیم کی غمّازیاں شروع ہوئیں۔ شام کا وقت تھا۔ آسمان پر شفق کی دلفریب سُرخی چھائی ہوئی تھی۔ نعیمہ اُمنگ اور فرحت اور شوق سے اُمڈی ہوئی، بالاخانہ پر آئی۔ اُسی شفق کی طرح اُس کا چہرہ بھی اُس وقت گلگوں ہو رہا تھا۔ عین اُسی وقت وہاں کا صوبہ دار ناصر اپنے باد رفتار گھوڑے پر سوار اُدھر سے نکلا۔ اوپر نگاہ اُٹھی تو حُسن صبیح کا کرشمہ نظر آیا۔ گویا چاند شفق کے حوض میں نہا کر نکلا ہے۔ تیرِ نگاہ جگر کے پار ہوا۔ کلیجہ تھام کر رہ گیا۔ اپنے محل کو لوٹا۔ نیم جان اور خستہ۔ ہوا خواہوں نے طبیب کی تلاش کی اور تب راہ و رسم پیدا ہوئی۔ پھر تالیف اور تعشق کی دشوار منزلیں طے ہوئیں۔ وفا اور حیا نے بہت بے رُخی دکھائی مگر محبت کے شکوے اور عشق کی کفر شکن دھمکیاں آخر غالب آئیں۔ عصمت کا خزانہ لُٹ گیا۔ اس کے بعد وہی ہوا جو ہو سکتا تھا۔ ایک طرف سے بدگمانی، دوسری طرف سے تصنع اور ریاکاری۔ شکر رنجیوں کی نوبت آئی۔ پھر دل خراشیاں شروع ہوئیں حتیٰ کہ دلوں میں میل پڑ گئی۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ نعیمہ ناصر کی آغوشِ محبت میں پناہ گزیں ہوئی اور آج ایک مہینہ کی بیقراری انتظار کے بعد حیدر اپنے جذبات کے ساتھ برہنہ شمشیر پہلو میں چھپائے اپنے جگر کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نعیمہ کے خون سے بجھانے کے لیے آیا ہوا ہے۔
(2)
آدھی رات کا وقت تھا اور اندھیری رات تھی۔ جس طرح حرم سرائے ملک میں حُسن کے ستارے جگمگا رہے تھے اُسی طرح ناصر کی شبستانِ حرم بھی حُسن کے شمعوں سے روشن تھی۔ ناصر ایک ہفتہ سے کسی مہم پر گیا ہوا ہے۔ اس لیے دربان غافل ہیں۔ اُنھوں نے حیدر کو دیکھا۔ لیکن اُن کے مُنہ لُقمہ تر سے بند تھے۔ خواجہ سراؤں کی نگاہ پڑی۔ لیکن وہ پہلے ہی شرمندہ احسان ہو چکی تھیں۔ خواصوں اور کنیزوں نے بھی پُر معنی نگاہوں سے اُس کا استقبال کیا اور حیدر انتقام کے نشہ میں مخمور، نعیمہ کی خواب گاہ ناز میں جا پہنچا۔ جہاں کی ہوا صندل اور گلاب سے معطر تھی۔
کمرہ میں ایک مومی شمع روشن تھی اور اُس کی راز دارانہ روشنی میں آرایش اور تکلف کی گُلکاریاں نظر آتی تھیں جو عصمت جیسی بیش بہا جنس کے بدلے میں خریدی گئی تھیں۔ وہیں عشرت اور ملاحت کی گود میں لیٹی ہوئی نعیمہ مست خواب تھی۔
حیدر نے ایک بار نعیمہ کو آنکھ بھر کر دیکھا۔ وہی موہنی صورت تھی، وہی دلرُبا ملاحت، اور وہی تمنا خیز شگفتگی۔ وہی نازنین جسے ایک بار دیکھ کر بھولنا غیر ممکن تھا۔
ہاں وہی نعیمہ تھی۔ وہی مساعدِ سمین جو کبھی اُس کے گلے کا ہار بنے تھے۔ وہی گیسوئے عنبریں جو کبھی اُس کے شانوں پر لہرائے تھے۔ وہی پھول سے رخسارے جو اُس کی نگاہ شوق کے سامنے سُرخ ہو گئے تھے۔ انھیں گوری گوری کلائیوں میں اُس نے نو شگفتہ کلیوں کے کنگن پنہائے تھے جنھیں وہ وفا کے کنگن سمجھا تھا۔ اسی گلے میں اُس نے پھولوں کے ہار سجائے تھے اور اُنھیں پریم کا ہار خیال کیا تھا۔ لیکن اُسے کیا معلوم تھا کہ پھولوں کے ہار، اور کلیوں کے کنگن کے ساتھ وفا کے کنگن اور پریم کے ہار بھی مُرجھا جائیں گے۔
ہاں یہ وہی گلاب کے سے ہونٹ ہیں جو کبھی اُس کی دلجوئیوں میں پھول کی طرح کھل جاتے تھے۔ جن سے اُلفت کی دلاویز مہک اُڑتی تھی۔ اور یہ وہی سینہ ہے جس میں کبھی اُس کی محبت اور وفا کا جلوہ تھا۔ جو کبھی اُس کی محبت کا کاشانہ تھا۔
مگر جس پھول میں وفا کی مہک تھی اُس میں دغا کے کانٹے ہیں۔
(3)
حیدر نے شمشیر آبدار پہلو سے نکالی اور دبے پاؤں نعیمہ کے سرہانے کی طرف آیا۔ لیکن اُس کے ہاتھ نہ اُٹھ سکے۔ جس کے ساتھ بہارِ زندگی کی سیر کی، اُسی کی گردن پر چُھری چلاتے ہوئے اُس پر رقّت کا غلبہ ہوا۔ اُس کی آنکھیں آب گوں ہو گئیں۔ دل میں حسرت ناک یادگاروں کا ایک طوفان سا آ گیا۔ کیا خوبیٔ تقدیر ہے کہ جس محبت کا آغاز ایسا پُر مسرت ہو اُس کا انجام ایسا دلخراش ہو۔ اُس کے پیر تھرتھرانے لگے لیکن غیرت نے للکارا۔ دیوار پر لٹکی ہوئی تصویریں اُس کی اس کمزوری پر مُسکرائیں۔
مگر کمزور ارادہ ہمیشہ سوال و دلیل کی آڑ لیا کرتا ہے۔ حیدر کے دل میں خیال پیدا ہوا۔ کیا اس باغِ محبت کے اُجاڑنے کا الزام میرے اوپر نہیں ہے؟ جس وقت بد گمانیوں کے اکھوئے نکلے، اگر میں نے طعنہ اور نفرین سے سینچنے کے بجائے دلداریوں سے کام لیا ہوتا تو آج یہ دن نہ آتا۔ میری ہی ستم شعاریوں نے محبت اور وفا کی جڑ کاٹی۔ عورت کمزور ہوتی ہے کسی سہارے کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جس عورت نے محبت کے مزے اُٹھائے ہوں اور اُلفت کی ناز برداریاں دیکھی ہوں، وہ طعن اور تحقیر کی آنچ کیا سہہ سکتی ہے۔ لیکن پھر غیرت نے اُکسایا۔ گویا وہ دُھندلی شمع بھی اُس کی کمزوریوں پر ہنسنے لگی۔
غیرت اور استدلال میں بھی سوال و جواب ہو رہے تھے کہ دفعتًا نعیمہ نے کروٹ بدلی اور انگڑائی لی۔ حیدر نے فورًا تلوار اُٹھائی۔ خطرۂ جان میں پس و پیش کہاں۔ دل نے فیصلہ کر لیا۔ تلوار اپنا کام کرنے والی ہی تھی کہ نعیمہ نے آنکھیں کھول دیں۔ موت کی کٹار سر پر نظر آئی۔ وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ حیدر کو دیکھا اور صورت حال سمجھ میں آ گئی۔ بولی۔ حیدر!
(4)
حیدر نے اپنی خفت کو غصہ کے پردہ میں چھپا کر کہا۔ ہاں میں ہوں حیدر!
نعیمہ سر جھکا کر حسرت ناک انداز سے بولی۔ تمہارے ہاتھوں میں یہ چمکتی ہوئی تلوار دیکھ کر میرا کلیجہ تھرتھرا رہا ہے۔ تمھی نے مجھے ناز برداریوں کا عادی بنا دیا ہے۔ ذرا دیر کے لیے اس کٹار کو میری آنکھوں سے چھپا لو۔ میں جانتی ہوں کہ تم میرے خون کے پیاسے ہو لیکن مجھے نہ معلوم تھا کہ تم اتنے بے رحم اور سنگدل ہو۔ میں نے تم سے دغا کی ہے۔ تمہاری خطاوار ہوں لیکن حیدر یقین مانو۔ اگر مجھے چند آخری باتیں کہنے کا موقعہ نہ ملتا تو شاید میری روح کو دوزخ میں بھی یہی آرزو رہتی۔ سزائے موت سے پہلے اپنے یگانوں سے آخری ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔ کیا تم میرے لیے اتنی رعایت کے بھی روادار نہ تھے۔ مانا کہ اب تم میرے کوئی نہیں ہو مگر کسی وقت تھے اور تم چاہے اپنے دل میں سمجھتے ہو کہ میں سب کچھ بھول گئی۔ لیکن میں اتنی محبت فراموش نہیں ہوں۔ اپنے ہی دل سے فیصلہ کرو۔ تم میری بیوفائیاں چاہے بھول جاؤ لیکن میری محبت کی دل خوشکن یادگاریں نہیں مٹا سکتے۔ میری آخری باتیں سُن لو اور اس ناپاک زندگی کا قضیہ پاک کرو۔ میں صاف صاف کہتی ہوں۔ اس آخری وقت میں کیوں ڈروں۔ میری جو کچھ دُرگت ہوئی ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو۔ ناراض نہ ہو۔ اگر تمہارا خیال ہے کہ میں یہاں پھولوں کی سیج پر سوتی ہوں تو وہ غلط ہے۔ میں نے عصمت کھو کر عصمت کی قدر جانی ہے۔ میں حسین ہوں۔ نازک اندام ہوں۔ دنیا کی نعمتیں میرے لیے حاضر ہیں۔ ناصر میری رضا کا غلام ہے۔ لیکن میرے دل سے یہ خیال کبھی دور نہیں ہوتا کہ وہ صرف میرے حُسن اور ادا کا بندہ ہے۔ میری عزت اُس کے دل میں کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہاں خواصوں اور دوسرے محلوں کے پُر معنی اشارے و کنائے میرے خون و جگر کو نہیں جلاتے۔ آہ! میں نے عصمت کھو کر عصمت کی قدر جانی ہے لیکن میں کہہ چکی ہوں اور پھر کہتی ہوں کہ اس کے ذمہ دار تم ہو۔
حیدر نے پہلو بدل کر پوچھا کیونکر؟
