جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ہندوستان کے احسانات جاپان پر

دنیا کے تمام تہذیب یافتہ ممالک ہندوستان کے روحانی کمالات اور قدیم مکمل تہذیب کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ تمام مشہور مشرقی و مغربی مورخین بھارت ورش کے قدیم باشندوں کی سادہ مزاجی، راست گفتاری، دیانت داری و روشن ضمیری وغیرہ پر فریفتہ ہیں۔ دنیا کے نامی سیاح آریہ ورت کی زرخیزی، شادابی اور آب و ہوا کے ثنا خوان ہیں۔ سرزمین ہند دیوتاؤں کی سرزمین سمجھی جاتی ہے۔ تینتیس کروڑ فرشتے بھارت بھومی ہی کی گود میں بستے ہیں۔ سر بفلک ہمالیہ اس کا نگہبان ہے۔ شری گنگا، جمنا، سُرستی اور نربدا اپنے صاف شفاف جل اور شیتل بھاؤ سے اس کی شان دوبالا کر رہی ہیں۔ یہ تمام صفات محض استعارات نہیں ہیں، بلکہ سچائی پر مبنی ہیں اور اس سچائی کو عوام پر واضح کرنے کی غرض سے موجودہ مہذب دنیا کے میگزین و اخبارات بھارت ورش اور اُس کے قدیم باشندگان کی تعریف و توصیف میں اپنے قیمتی کالم وقف کرتے رہتے ہیں اور جن ممالک میں بھارت کے قدیم مہرشی پہنچے تھے اُن کے قومی ریکارڈ بھارت اور اُس کے زندہ دل سپوتوں کی خدمات سے لبریز ہیں۔ بھارت ورش کے روشن خیال روحانی سپوتوں نے جو احسانات ایشیا کے سرتاجِ ملک جاپان پر کیے ہیں اور جن کو اقبال روشن ضمیر جاپانی اپنی تقریروں میں بلند خیال مورخ تواریخوں میں اور عالی دماغ اخبار نویس اپنے رسائل میں کر چکے ہیں۔ ان میں سے چند تواریخی خدمات کا اقتباس ہم مختصرًا ذیل میں کریں گے۔

جاپان کے معمر و تجربہ کار مدّبر کونٹ اکو مان (یکے از مددگاران خاص مرحوم شہنشاہ میکاڈو) نے جو تقریر ہندوستان کے متعلق انڈو جاپان ایسوسی ایشن قائم ہوتے وقت سر میکڈا نلڈ برٹش سفیر جاپان کے زیر صدارت کی تھی اُس میں اس فاضل مدّبر و محقق نے بیان فرمایا تھا کہ ”ایک زمانہ تھا جب ہندوستان تمام مہذب ممالک کا سرتاج شمار کیا جاتا تھا۔ اور جاپان نے تو اپنی قدیم تہذیب میں بہت کچھ ہندوستان سے حاصل کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو جاپانی زبان میں ”تین جی کو“ یعنی ”سرزمین بہشت“ کہتے ہیں اور اسی سرزمین بہشت سے بھگوان بُدھ کی مقدس تعلیم ایشیا کے تمام ممالک میں پھیلی تھی۔“

جاپان کے مشہور مورخ مسٹر جون ٹکاک سو، ایم۔ اے، لکھتے ہیں کہ جاپان کے بلند اقبال باشندے اس امر کا اقبال کرتے ہیں کہ جس طرح جاپان کی موجودہ مادی ترقی یورپ و امریکہ کے باشندوں کے طفیل ظہور میں آئی ہے اسی طرح جاپانِ قدیم کی صنعت و حرفت، تعلیم و تہذیب، روحانیت اور مذہب ہندوستان سے حاصل کی گئی ہے۔ چین، کوریا، کوچن چین، پرشیا نے جو احسانات قدیم زمانے میں جاپان پر کیئے ہیں ان سے باشندگان جاپان بخوبی واقف ہیں۔ مگر اُن بے شمار احسانات کا جو ہندوستان نے جاپان پر کیئے ہیں عمومًا لوگوں کو علم نہیں ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان نے جاپان کو مذہب دیا ہے مگر اس کے دیگر خدمات حسنہ اور احسانات عظمہ سے عام طور پر جاپانی اور نیز خود ہندوستانی ناواقف ہیں۔ جاپان نے ہندوستان ہی سے پہلے پہل روئی حاصل کی اور بُدھ کی مورتیوں کو دیکھ کر جاپانی آرٹ کو ترقی نصیب ہوئی۔

ہندوستان نے جاپان کے لیے روئی یا دیگر الفاظ میں لباس مہیا کیا، اس کے ثبوت کے لیے ذیل میں ”نی ہون کوکی“، جاپان کی سرکاری تاریخ کی آٹھویں جلد سے کچھ عبارت بطور اقتباس لکھی جاتی ہے۔

”799ء میں جاپان کے جنوبی ساحل پر ایک غیر ملکی شخص ایک چھوٹی سی کشتی میں آیا۔ وہ معمولی گھاس سے اپنا جسم ڈھانپے ہوئے تھا۔ اس کے بائیں کندھے پر نیلے رنگ کا ایک کپڑا تھا۔ اس کی عمر بیس و تیس سال کے درمیان معلوم ہوتی تھی۔ اس کے کان تین انچ زیادہ لمبے لٹکتے تھے۔ اس کا قد پانچ فٹ پانچ انچ تھا، اُس کی زبان سمجھ میں نہیں آتی تھی، شروع میں جاپانیوں کو نہ معلوم ہو سکا کہ یہ اجنبی مسافر کس نسل سے ہے اور کس ملک کا باشندہ ہے۔ پہلے پہل ایک چینی نے اس کو ملک ملایا کا باشندہ بتایا تھا مگر چندے جاپان میں رہنے کے بعد جب وہ اجنبی جاپانی زبان میں اپنے خیالات ظاہر کرنے کے قابل ہو گیا تو اس نے اپنے آپ کو ہندوستان کا باشندہ ظاہر کیا۔ رفتہ رفتہ وہ بدیشی نوجوان اپنی دلکش صورت و دلچسپ گفتگو سے عوام کے دلوں کو تسخیر کرنے لگا۔ اکثر اوقات وہ ایک رباب (ایک قسم کا ستار) بجا بجا کر دل خوش کن راگ گایا کرتا تھا۔ اس کے راگ نہایت دل سوز اور رقت انگیز ہوا کرتے تھے، اور وہ روحانیت اور وجدانیت کے علاوہ ایک ایسی گھاس کی تعریف کیا کرتا تھا جو بعد میں جاپان کے اندر ”واٹا“ (روئی) کے نام سے مشہور ہوئی، کچھ عرصے کے بعد اس کو کوا ڈیرہ مندر میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ مگر کچھ دنوں بعد اُس نے اُس زمانے کے دارالسلطنتِ شہر نارہ کے مغربی حصے میں اپنے لیے ایک مکان بنا لیا۔ اس کے پاس جاپانیوں کے علاوہ چینی اور دیگر ایشیائی مسافروں کی بھی اکثر آمدورفت رہتی تھی، آخر عمر میں وہ صوبہ اومی کے کوک برن جی کے مندر میں رہنے لگا۔“

”کوبخو کوکشوئی“، آفیشل ریکارڈ جاپان سے معلوم ہوتا ہے کہ ”نہ صرف یہ کہ ایک ہندو سیاح نے پہلے پہل جاپانیوں کو روئی کا نام سُنایا بلکہ ایک دوسرا ہندو مشنری جاپان میں روئی کا تخم بھی لایا تھا۔ مذکورہ بالا ریکارڈ باب 199 سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل 800ء میں ایک دوسرا ہندوستانی سیاح ساحلِ جاپان پر اُترا۔ وہ اپنے ساتھ روئی کے تخم (نبولے) لایا تھا۔ جو صوبہ جات کٹی، اوا جٹی، سینکٹی، آٹیو، ٹوسا اور کشو میں بویا تھا اور پھر تمام جاپان میں کم و بیش روئی کی کاشت ہونے لگی۔“

اس سے پہلے جاپانی گھاس کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ یا شاذو نادر چین سے کچھ کپڑے آتے تھے۔1 یہ دو تواریخی حوالہ جات اس امر کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ روئی کی کاشت کا رواج ہندوستان میں بھارت ورش ہی کے طفیل شروع ہوا، اور اب بھی جاپان کے کارخانوں کی ضروریات ہندوستان ہی سے پوری ہوتی ہیں۔ ہند ہی کی بدولت وہ ایشیا اور تمام ممالکِ مغرب کے لیے روئی کی جالی کے نادر و نایاب کپڑے اور کشیدے کی قسم کے نازک و نفیس پارجہ جات مہیا کرتا ہے اور جس کا اعتراف مسٹر جون ٹکاکسو ایسے مشہورِ عالم مورخ شکریہ کے ساتھ کرتے ہیں۔

جاپانی زبان کا لفظ ”واٹا“ جو روئی کے لیے استعمال ہوتا ہے حقیقت میں سنسکرت کے شبد ”ودرا“ سے بگڑا ہوا ہے۔ سب سے پہلا ہندو سیاح اسی شبد کی تعریف و توصیف گایا کرتا تھا جو جاپان میں ”ودرا“ سے بگڑ کر ”وڈرا“، ”وٹرا“ اور بعد ازاں ”واٹا“ ہو گیا ہے۔

جنوبی ہند کے ایک فاضل برہمن بودھی سینا نامی نے یہ سن کر کہ ملکِ چین میں ایک زاہد کامل اور مہرشی منجو سری نامی نے جنم لیا ہے، 736ء میں چین کا دور و دراز سفر اختیار کیا اور براستۂ سمندر بندرِ نیگ ٹسی کی آنگ کے دہانے پر پہنچا۔ اس روحانی زاہد منجو سری کی تلاش میں ہندو مشنری بدھ سین (بودھی سینا) کوہِ ووٹئی کی پہاڑی خانقاہ میں آیا، مگر اُسے یہ معلوم ہونے پر کہ وہ زاہد جاپان چلا گیا ہے سخت مایوسی ہوئی۔ وہ برہمن مشنری کچھ دیر تک اٹسٹک فوسو مندر میں رہا، حسنِ اتفاق سے شاہی دربارِ چین کے جاپانی سفیر ”تیجی نوموٹو“ سے اس کی ملاقات ہو گئی، اور وہ اس کے ہمراہ جاپان جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اسی عرصے میں برہمن نے چینیوں میں بڑی عزت پیدا کر لی تھی، چنانچہ ایک چینی زاہد بھی جو اس کا چیلا بن گیا تھا۔ سفر جاپان کے لیے اس کے ہمراہ ہوا اور جاپانی سفیر، ہندو مشنری اور چینی زاہد اگست 736ء کو بمقامِ نینوا، حال مشہور شہر اوساکا (جاپان) پہنچے، مگر اس سے پہلے سفیرِ جاپان نے چین ہی سے شہنشاہِ جاپان کو ایک ہندو روحانی زاہد کی آمد کی اطلاع دے رکھی تھی، لہذا اس جماعت کے اوساکا پہنچنے سے ایک دن پہلے شہنشاہ شومو نے دارالسلطنتِ نارہ (جاپان) سے اس زمانے کے مشہور جاپانی بزرگِ اعظم ”گیوگی2“ کو برہمن مشنری کے استقبال کے لیے مقام نینوا بھیجا اور اس نے نینوا میں بڑے تزک و احتشام سے ہندو مشنری کا استقبال کیا اور ملی جلی سنسکرت و جاپانی زبان میں برہمن مشنری سے گفتگو کی۔ اُن دونوں زاہدوں نے ایک دوسرے کی گفتگو کا مطلب سمجھ لیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے خیالات یکساں پائے گئے اور دونوں میں دوستی ہو گئی۔ دارالسلطنتِ نارہ کے مشہور مندر سگاورا میں جس کا صدرِ اعظم زاہد گیوگی تھا ہندو مشنری یا سیاح کی رہائش کا انتظام کیا گیا۔ غرض، جاپانی زاہدوں کی آؤ بھگت سے برہمن بہت خوش ہوا اور جاپانی زاہد اور عام لوگ بھی اس کے روحانی جذبات اور وجدانی کیفیت سے بہت متاثر ہونے لگے۔