جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن ابی دواد ابو عبداللہ احمد ابن ابی دواد

احمد کہتے ہیں کہ خلیفہ سے یہ سُن کر میرے ہوش اُڑ گئے۔ وہاں سے فورًا اُٹھا اور وزیر کے محل کی طرف چلا، میرے کچھ لوگ پہنچ گئے تھے، اُنھیں اپنے ساتھ لیا اور دو تین سواروں کو دوڑا کر ابو دلف کے گھر بھیجا۔ میں نے خود بھی گھوڑے کو تیز کیا گھوڑا نہایت تیزی سے جا رہا تھا کچھ پتا نہیں ملتا تھا کہ آسمان پر جا رہا ہوں یا زمین پر، طیلسان2میری پشت سے گر گئی، مگر مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔ صبح قریب ہو گئی تھی، خوف تھا کہ مبادا میں دیر میں پہنچوں ابو دلف کا کام تمام ہو جائے۔ جب میں افشین کے دروازے پر پہنچا، حجاب اور بواب دوڑے ہوئے حسب عادت میرے پاس آئے۔ اُن کی دلی خواہش تھی کہ مجھے کسی بہانے سے واپس کر دیں۔ کیونکہ ایسے وقت میں میرا آنا افشین کو سخت ناگوار ہو گا۔ بہر کیف مجھ کو اُتار کر مکان میں لے گئے اور پردہ اُٹھا دیا۔ میں نے اپنے ہمراہیوں سے کہہ دیا کہ دہلیز پر گوش بر آواز بیٹھے رہیں۔ جب میں اندر پہنچا تو افشین کو صدر میں بیٹھا ہوا پایا اُس کے سامنے شہ نشین کے نیچے نطع‌چمڑے کا فرش بچھا ہوا تھا جس پر ابو دلف کو صرف پائجامہ پہنے ہوئے ننگے بدن آنکھیں بند کر کے بٹھایا گیا تھا۔ ابو دلف اور افشین میں گفتگو ہو رہی تھی اور جلاد شمشیر برہنہ لیے سر پر کھڑا ہوا تھا کہ افشین کا اشارہ پاتے ہی ابو دلف کا سر اُڑا دے۔ افشین کی نظر جب مجھ پر پڑی آپے سے باہر ہو گیا، غصہ سے اس کی رنگت بدلنے لگی، گردن کی رگیں تن گئیں۔ ہمیشہ اُس کا دستور تھا کہ جب مجھے دیکھتا قریب آ کر سر جھکا دیتا، اس قدر کہ اُس کا سر میرے سینے کے برابر ہو جاتا تھا۔ مگر آج اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ یہ میری بڑی توہین ہوئی۔ لیکن میں نے خیال نہ کیا۔ سوچتا تھا کہ نہایت اہم اور ضروری کام کو آیا ہوں، افشین کی پیشانی پر بوسہ دے کر بیٹھ گیا۔ وہ میری طرف مخاطب نہ ہوا۔ میں نے صبر کیا اور کچھ تذکرہ شروع کیا کہ وہ ادھر مشغول ہو، جلاد کو حکم قتل کا نہ دے۔ لیکن اُس نے کچھ بھی توجہ نہ کی۔ اب میں کھڑا ہو گیا اور دوسرا ذکر چھیڑا، یعنی عجمیوں کی تعریف کرنے لگا۔ کیونکہ افشین بھی عجمی ہی تھا، عجم کو عرب سے بڑھا دیا، ہر چند میں جانتا تھا کہ یہ بڑی خطا ہے، مگر ابو دلف کی جان بچانے کے لیے ہر بات جائز تھی۔ اُس نے اس پر بھی کان نہ دیا۔ پھر میں نے کہا کہ اے امیر! میری جان آپ پر فدا ہو، میں قاسم بن عیسیٰ کے لیے آیا ہوں۔ شان رحیمی دکھلائیے۔ میری خاطر سے اُس کو بخش دیجئے اس میں بڑا ثواب ہو گا۔ افشین نے غصہ ہو کر حقارت کے لہجے میں کہا کہ ’’نہ میں نے بخشا اور نہ بخشوں گا۔ کل امیرالمومنین نے اس پر مجھ کو اختیار کُلی دیا ہے اور قسمیں سخت سخت کھائی ہیں کہ اس بارے میں مجھ سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ مدتوں سے مجھ کو اس بات کی آرزو تھی اب کسی کی سفارش میں قبول نہیں کر سکتا‘‘۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ احمد تمہارا حکم شرق سے غرب تک جاری ہے اور یہاں تمہاری یہ توہین اور ذلت ہو رہی ہے۔ پھر دل کو سمجھایا کہ نہیں اس وقت سب ذلتیں اُٹھا لینی چاہئیں۔ ابو دلف کو بچانا چاہیے۔ میں اُٹھا، افشین کے سر کا بوسہ دیا اور بہت الحاح وزاری کی مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ دوبارہ اُس کے بازو کا بوسہ دیا، جب بھی اُس نے منظور نہ کیا۔ پھر ہاتھ چومے، انداز سے اُس نے سمجھ لیا کہ اب میں زانو بھی چوموں گا۔ خفا ہو کر بولا کہ ’’اس کا کیا نتیجہ؟ بخدا اگر ہزار بار زمین چومو گے تو کوئی فائدہ نہ ہو گا‘‘۔ مجھ کو بھی اس قدر غصہ آیا کہ پسینے پسینے ہو گیا، جی میں کہا کہ یہ مردار، کافر، مسلمان نما میری اس قدر توہین کر رہا ہے اور میں چُپ ہوں! یہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ ابو دلف کی جان عزیز ہے تو اب جس طرح ممکن ہو اس کو بچانا ہی چاہیے۔ اگرچہ میں بھی کسی آفت میں پھنسوں۔ یہ سوچ کر میں نے کہا کہ مجھ کو جو لازمۂ آدمیت تھا وہ بجا لایا اور تم نے میرا کوئی خیال نہیں کیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ خلیفہ اور اُس کی بار گاہ کے کُل بزرگ، وہ بھی جو تم سے رتبہ میں کم ہیں اور وہ بھی جو تم سے مرتبہ میں زیادہ ہیں، میری عزت و حرمت کرتے ہیں اور مشرق سے مغرب تک میرا سکہ بیٹھا ہوا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اُس نے تمہارے احسان کی ذلت کے بار سے میری گردن کو بچایا۔ اب میری باتیں تمام ہو گئیں، لو خلیفہ کا پیغام سنو۔ ’’امیرالمومنین نے فرمایا ہے کہ قاسم عجلی کو چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو، فورًا اُس کو گھر بھیج دو، اب تمہارا بس اُس پر چل نہیں سکتا۔ اگر قتل کرو گے تو میں تم سے اُس کا قصاص لوں گا‘‘۔ یہ سُنتے ہی افشین کے ہاتھ کے طوطے اُڑ گئے۔ گھبرا کر بولا کہ ’’فی الحقیقت خلیفہ کا یہ حکم ہے‘‘؟ میں نے کہا ہاں، کبھی تم نے خلیفہ کے ارشاد کے خلاف مجھے کہتا سُنا ہے؟ یہ کہہ کر میں نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی فورًا تیس چالیس آدمی اندر آ گئے۔ میں نے کہا تم لوگ ٹھہرو، میں افشین کو امیرالمومنین معتصم کا حکم سُناتا ہوں کہ ابو دلف کو فورًا گھر بھیج دو، خبر دار قتل نہ کرو، ورنہ تم سے انتقام لیا جائے گا۔ یہ کہہ کر میں نے قاسم کو پکارا۔ اُس نے لبیک کہا۔ میں نے پوچھا صحیح و سالم ہو نا؟ وہ بولا ہاں۔ کہا کوئی زخم تو نہیں آیا؟ بولا نہیں۔ میں نے اپنے لوگوں سے کہا کہ اس بات کے بھی گواہ رہنا کہ ابود لف ابھی صحیح و سالم ہے۔ سبھوں نے کہا بے شک ہم لوگ شاہد ہیں۔ میں غصہ ہی کی حالت میں سوار ہو کر واپس چلا۔ اور گھوڑے کو سر پٹ پھینکا۔ میری کیفیت دیوانوں سی ہو رہی تھی اور رستے بھر یہ خیال ہوتا تھا کہ ابو دلف کا قتل اب اور بھی یقینی ہو گیا۔ افشین بھی ابھی پہنچے گا، اُس سے خلیفہ انکار کرے گا کہ میں نے پیغام نہیں بھیجا تم جا کر قاسم کو مار ڈالو۔ جب آستان خلافت پر میں پہنچا، خادم نے میری حالت غیر دیکھی، بدن پسینے پسینے، سانس پھولی ہوئی تھی، فورًا مجھے اندر لے گیا۔ خلیفہ نے از راہ شفقت خادم کو حکم دیا کہ رومال سے چہرہ پونچھ کر پسینہ اُٹھا لے اور مہربانی آمیز لہجہ میں پوچھا ’’اے ابا عبداللہ! کہو تمہیں کیا ہوا‘‘؟ میں نے دعا دے کر عرض کی کہ آج جو واقعہ مجھ پر گزرا ہے عمر بھر نہیں گزرا تھا، افسوس ہے کہ ان لوگوں کی نا مسلمانی کی وجہ سے کیا کیا نوبت نہیں آتی! فرمایا ’’حال کہو‘‘ میں نے ابتدا سے کہنا شروع کیا، جب اس ذکر تک پہنچا کہ ’’میں نے بازو کا، سر کا اور ہاتھ کا بوسہ دیا، پاؤں چومنے کو جھکا، اس پر افشین نے کہا کہ ہزار بار زمین بھی چومو گے تو کوئی نتیجہ نہ ہو گا میں قاسم کو ضرور قتل کروں گا‘‘ اتنا ہی میں کہنے پایا تھا کہ افشین بار گاہ میں کلاہ و کمر بند لگائے ہوئے آ گیا۔ میں افسردہ ہو کر خاموش ہو رہا، دل میں کہنے لگا سو اتفاق تو دیکھو۔ میں ابھی اصل حال امیرالمومنین سے کہنے بھی نہ پایا تھا (کہ آپ کی طرف سے جعلی پیغام دے کر قاسم کو بچایا ہے) کہ یہ کمبخت آ گیا۔ افشین اس وقت پیغام کا ذکر کرے گا تو خلیفہ کے انکار سے میری رسوائی الگ ہو گی اور قاسم کی گردن الگ ماری جائے گی۔ میں تو یہ سوچتا تھا اور خدا کو کچھ اور منظور تھا، میری اہانتوں کا حال سُن کر خلیفہ کا دل بھر آیا تھا۔ افشین جب بیٹھا، امیرالمومنین سے بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا کہ ’’کل حضور نے ابو دلف پر مجھے کامل اختیار عطا فرمائے اور آج احمد نے جا کر حضور کا پیغام دیا کہ اُس کو قتل نہ کرو، کیا یہ درست ہے‘‘؟ معتصم نے کہا۔ ’’ہاں میرا ہی پیغام ہے کبھی احمد کو تم نے مجھ پر یا میرے بزرگوں پر افترا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ بے شک تمہاری الحاح وزاری پر کل میں نے اختیارات دیے تھے مگر ابو دلف میرے خاندان کا قدیمی خادم ہے۔ عقل کا مقتضا یہ تھا کہ اُس کو جو تم نے بلایا تو مہربانی و شفقت سے پیش آتے، خلعت دے کر گھر بھیجتے، نہ کہ اُس کو قتل کرتے! خاص کر ابو عبداللہ کا رنجیدہ کرنا سب سے زیادہ بُرا ہے! مگر ہر شخص اپنی اصالت کے موافق کام کرتا ہے اور عجمی عربوں کے ساتھ بھلا کیونکر سلوک کر سکتے ہیں، عربوں کی تلوار کی آنچ اُنھیں بھولی نہیں ہے۔ اُسی کا بدلہ لیتے ہیں خبر دار آیندہ سے ہوشیار رہو‘‘۔ افشین یہ سُن کر نہایت دل شکستہ ہو کر اُٹھا اور چلا گیا۔

اُس کے جانے کے بعد خلیفہ نے مجھ سے پوچھا کہ ’’میری طرف سے جعلی پیغام دینا تم نے کیونکر جائز رکھا‘‘۔ میں نے عرض کی کیا کرتا ایک بے گناہ مسلمان کا خون نا حق ہونا مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ خدائے تعالیٰ اس کا اجر دے گا، کوئی پرسش نہ فرمائے گا۔ پھر چند آیتیں اور حدیثیں پڑھیں معتصم ہنس پڑا اور کہا ’’سچ کہتے ہو یہی کرنا تھا۔ خدا کی قسم تم دیکھ لینا کہ افشین میرے ہاتھوں سے اب سلامت نہ بچے گا، وہ کمبخت مسلمان نہیں ہے‘‘۔ میں نے بہت دعائیں دیں اور شکریہ ادا کیا کہ قاسم کی جان بچ گئی پھر رونے لگا۔ معتصم نے ایک حاجب کو بُلا کر حکم دیا کہ افشین کے گھر میری خاص سواری کا گھوڑا لے جاؤ اور ابو دلف کو اُس پر سوار کر کے ابو عبداللہ کے مکان میں لے آؤ۔ حاجب تعمیل ارشاد کے لیے چلا گیا اور میں بھی رخصت ہوا، رستے میں توقف کرتا ہوا جاتا تھا کہ حاجب اور ابو دلف میرے پہنچنے کے قبل پہنچ جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، قاسم کو میں نے اپنے دروازہ پر بیٹھا ہوا پایا وہ مجھے دیکھ کر شکر کرنے لگا۔ میں نے کہا میرا کیا شکر کرتے ہو، خدائے تعالیٰ اور خلیفہ کا شکر کرو کہ تمہاری جان بچی۔ پھر حاجب نے نہایت اعزاز کے ساتھ اُس کو گھر پہنچا دیا۔

اس واقعہ کی ایک مدت کے بعد خلیفہ نے احمد کی کوشش سے افشین کو قتل کر دیا۔

قاضی احمد ابن ابی دواد مامون کے عقیدے کے موافق، کلام اللہ کے حدوث کے قائل تھے اور امام احمد بن حنبل قدیم مانتے تھے۔ رمضان کے مہینے 220 ہجری835ء میں خلیفہ کے حکم سے دونوں میں مناظرہ ہوا۔ آخر ابن ابی دواد بحث میں غالب آئے احمد بن حنبل سے اگرچہ جواب نہ چل سکا مگر اُنھوں نے زبان سے حدوث قرآن کا اقرار نہ کیا، اپنے عقیدے پر قائم رہے۔ معتصم نے تازیانہ لگانے کا حکم دیا، تیس کوڑے لگائے گئے اور قید خانے میں بھیجے گئے۔