جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن ابی دواد ابو عبداللہ احمد ابن ابی دواد

ابن ابی دواد کے واقعے معتصم کے ساتھ یوں تو بہتیرے ہیں مگر افشین ترک اور ابو دلف عجلی کا واقعہ نہایت عجیب اور دلچسپ ہے جسے ملک زادہ دانش مند وزیر علوم نے المتنبئین میں تاریخ بیہقی سے نقل کیا ہے۔ میں بھی تتبعًا اُسی کی عبارت میں لکھتا ہوں احمد کا بیان ہے کہ معتصم کے زمانے میں ایک شب آدھی رات کو میری آنکھ خود بخود کھل گئی میں نے بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے مگر نہ آئی۔ جی نہایت گھبرانے لگا، عجب طرح کی دل کو پریشانی معلوم ہوتی تھی جس کا کوئی سبب نظر نہیں آتا تھا۔ سوچ میں تھا کہ کیا کروں کیا نہ کروں۔ آخر سلام نامی اپنے غلام کو جو ہر وقت میرے پاس رہتا تھا پکار کر گھوڑا تیار کرانے کا حکم دیا۔ اُس نے کہا کہ جناب، آدھی رات کا وقت ہے اگر آپ کو خلیفہ کے حضور میں جانا ہے تو کل آپ کی باری نہیں ہے۔ خلیفہ فلاں شغل میں مشغول ہو گا، باریابی کی اجازت نہ ملے گی۔ اور اگر کسی دوسری جگہ کا قصد ہے تو اس کا بھی وقت نہیں ہے۔ میں سمجھا کہ سچ کہتا ہے اس لیے چُپ ہو رہا، مگر کسی صورت میرے دل کو قرار نہیں آتا تھا اور جی گواہی دیتا تھا کہ ہو نہ ہو کوئی ضروری کام درپیش ہے۔ آخر، میں اُٹھا اور خدمت گاروں کو بلایا، شمع روشن کی گئی۔ حمام میں جا کر اچھی طرح منہ دھویا پھر بھی تسکین نہ ہوئی پھر حمام سے باہر آ کر کپڑے پہنے اور ایک گدھے پر سوار ہو کر چل نکلا۔ یہ بھی میں نہیں جانتا تھا کہ کہاں جانا چاہیے۔ آخر یہ سوچ کر کہ خلیفہ کی درگاہ میں جانا بہتر ہے، اگرچہ یہ وقت نہیں ہے مگر کیا مضائقہ، باریابی کی اجازت ہو گئی تو فبہا۔ ورنہ لوٹ آؤں گا۔ اتنا تو فائدہ ہو گا کہ یہ وسوسہ میرے دل سے نکل جائے گا۔ آستان خلافت پر پہنچا۔ حاجب کو خبر ہوئی اُس نے فورًا آ کر پوچھا ’’کہیے کیا کام ہے؟ اس وقت خلیفہ عیش و عشرت میں ہیں آپ کا یہ وقت بھی نہیں ہے‘‘۔ میں نے کہا تمہارا کہنا درست ہے۔ لیکن تم اطلاع کر دو، اگر اجازت ہوئی تو ہوئی ورنہ واپس چلا جاؤں گا۔ غرض سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ اطلاع کو چلا گیا۔ پھر آ کر کہا کہ ’’بسم اللہ اجازت ہے‘‘۔ اندر جا کر دیکھا تو خلیفہ کو نہایت انتشار میں پایا۔ میں نے سلام کیا خلیفہ نے جواب دے کر فرمایا ’’تم نے بہت توقف کیا، میں بڑی دیر سے تمہارا منتظر تھا‘‘۔ میں یہ سُن کر متحیر ہو گیا اور عرض کیا کہ بہت خلافِ وقت آیا۔ میں سمجھتا تھا کہ امیرالمومنین کسی شغل میں مصروف ہیں، مجھے تو باریابی کی اجازت میں بھی شبہ تھا۔ خلیفہ نے کہا ’’تمہیں خبر نہیں کہ کیا ہوا‘‘؟ عرض کی نہیں، فرمایا انا للہ و انا الیہ راجعونہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں! ’’بیٹھو، سنو، اس مردود نابکار ابو الحسن افشین نے اِن دنوں ایک عمدہ خدمت انجام دی کہ بابک خرم دین کو جو مدت سے لڑتا تھا، گرفتار کر لیا، اس لیے اُس پر میں نے اپنی شفقت اور عنایت مبذول کی اور اس کے درجے میں ترقی دی۔ افشین کی ہمیشہ سے یہ استدعا تھی کہ ابو دلف قاسم بن کرجی العجلی پر اُس کو اختیار دیا جائے کہ اُس کا مال و متاع چھین کر اُس کو قتل کر ڈالے۔ تم جانتے ہی ہو کہ دونوں میں کیسی عداوت ہے۔ میں نے ابو دلف کی قدامت کے لحاظ سے اور اس خیال سے بھی کہ تم دونوں میں بڑی دوستی ہے، کبھی افشین کی درخواست منظور نہیں کی۔ مگر کل مجھ سے سہو ہو گیا۔ افشین نے چند بار استدعا کی اور میں انکار کرتا گیا۔ جب اُس کا اصرار بہت زیادہ بڑھا تو منظور کر لیا۔ اب میں نہایت متفکر ہوں کہ ابو دلف غریب کو اس واقعے کی خبر نہیں ہے، صبح ہوتے ہی لوگ اس کو پکڑ لے جائیں گے اور افشین جو نہایت مستعجل ہو رہا ہے یقینًا قتل کر ڈالے گا‘‘۔ میں نے کہا افسوس! امیرالمومنین! یہ ایسا خون ہے جسے اللہ تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرے گا اور حدیثیں اور آیتیں پڑھنی شروع کر دیں۔ پھر کہا کہ ابو دلف حضور کا غلام ہے اور شہسواران عرب سے ہے، یہ ظاہر ہے کہ اُس نے پہاڑی علاقے میں کیا کیا کیا اور کیونکر اپنا سکہ بٹھایا، حق تو یہ ہے کہ اُس نے اپنی جان لڑا دی جب جا کر یہ تسلط ہوا۔ اگر یہ شخص قتل ہو جائے گا تو اس کے متوسلین اور اقربا نچلے نہ بیٹھیں گے، اور بڑی شورش برپا ہو گی۔ خلیفہ نے فرمایا ’’ابا عبداللہ! تمہارا کہنا صحیح ہے اور میں بھی سمجھتا ہوں مگر افسوس ہے کہ یہ بات اختیار میں نہ رہی۔ کل افشین کو میں نے زبان دے دی اور قسمیں کھا کر عہد کیا کہ ابو دلف کو اُس سے نہ چھینوں گا اور نہ کسی کو چھیننے کا اختیار دوں گا‘‘۔ میں نے کہا، امیرالمومنین، آخر اس کا کوئی علاج بھی ہے؟ فرمایا۔ ’’اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں کہ تم خود ابھی افشین کے پاس چلے جاؤ اور اگر وہ اندر آنے کی اجازت نہ دے تو زبر دستی مکان میں داخل ہو جاؤ اور الحاح وزاری کرو۔ مگر میری طرف سے کچھ نہ کہنا، وہ تمہاری عزت اور مرتبے کو جانتا ہے غالبًا تمہارا کہنا رد نہ کرے گا۔ اگر اُس نے سفارش سُن لی تو ابود لف کی جان بچ جائے گی ورنہ یہ سمجھنا چاہیے کہ تقدیر اپنا کام کر چکی‘‘۔