مسعودی نے مروج الذہب میں لکھا ہے کہ ایک دن صبح کو ایک کوشک میں معتصم نے صحبت عیش و عشرت منعقد کی اور اپنے ندیموں کو حکم دیا کہ ہر شخص اپنے گھر سے کچھ کھانا پکوا کر ساتھ لائے۔ جس کو جو غذا مرغوب تھی خوب عمدہ پکوا کر لایا۔ رنگ برنگ کے کھانے وہاں چُنے گئے۔ اس اثنا میں خلیفہ کی نظر ابن ابی دواد کے غلام سلام پر پڑی۔ خلیفہ نے کہا ’’میں جانتا ہوں اس وقت قاضی القضاۃ آئیں گے اور شفاعتوں اور عرض حاجات کی کثرت سے میری مجلس کو منغص کر دیں گے، فلاں ہاشمی کی پریشانی، فلاں قریشی کی مصیبت اور فلاں انصاری کی گرفتاری کا حال مجھ سے کہیں گے۔ ہم تم لوگوں کو گواہ رکھتے ہیں کہ آج ہم اُن کی ایک سفارش بھی قبول اور ایک حاجت بھی پوری نہ کریں گے‘‘ اتنے میں ایتاخ حاجب آیا اور ابن ابی دواد کے آنے کی اطلاع دے کر بار یابی کی اجازت چاہی۔ خلیفہ نے حاضرین سے کہا ’’کہو میری پیشین گوئی کیسی صحیح نکلی‘‘۔ سبھوں نے عرض کی بہتر ہے کہ اجازت نہ دی جائے اور وہ اس وقت رخصت کر دیے جائیں۔ معتصم نے کہا ’’افسوس ہے کہ تم لوگوں کا ایسا خیال ہے، اگر ایک برس میں بخار میں مبتلا رہوں تو وہ مجھ کو زیادہ گوارا ہے بہ نسبت اس کے کہ اُن کو واپس کر دوں‘‘۔ الغرض ابن ابی دواد آئے اور سلام کر کے اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ گفتگو شروع ہوئی اور مزہ دار مزہ دار حکایتیں بیان کرنے لگے، اپنی شیریں زبانی اور بذلہ سنجی سے تمام مجلس کو شگفتہ کر دیا۔ خلیفہ کا بھی تکدر جاتا رہا اور بکشادہ پیشانی اُن کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ قاضی صاحب، آج ان لوگوں میں سے ہر شخص کچھ کھانا پکا کر لایا ہے کہ کونسا مجھے پسند ہوتا ہے۔ لیکن میں جس طرح قضایا میں آپ کی رائے کو مسلّم جانتا ہوں اُسی طرح کھانے میں بھی آپ کا مذاق صحیح سمجھتا ہوں۔ ہر کھانے کا مزہ چکھئے اور ہر شخص کی اُستادی کو بتائیے۔ قاضی صاحب نے ایک برتن نزدیک کھینچ کر کھانا شروع کیا اور پوری ایک آدمی کی خوراک کھا گئے۔ خلیفہ نے کہا قاضی جی! آزمایش کا طریقہ یہ نہیں ہے، ایک ہی کھانے سے آپ نے اس قدر پیٹ بھر لیا کہ اور کھانوں کی جگہ نہ رہی ہو گی مجبورًا پہلی ہی ہانڈی کو پاس کیجئے گا۔ قاضی صاحب نے کہا امیر المومنین! ایسا خیال نہ فرمائیے میں ہر کھانا اتنی ہی مقدار میں کھاؤں گا۔ معتصم ہنس پڑا اور کہا خیر، اپنا کام کیجئے۔ قاضی صاحب کو جب سب کھانوں سے فراغت ہو گئی تو تعریف شروع کی کہ فلاں دیگ کا پکانے والا نہایت قابل ہے کہ زیرہ تھوڑا ڈالا اور گول مرچ زیادہ دی ہے اور فلاں دیگ کے پکانے میں یہ اُستادی خرچ کی گئی کہ سرکہ زیادہ ڈالا گیا ہے اور روغن زیت کمتر ہے گویا اعتدال کی حقیقت اس دیگ میں موجود ہے۔ غرض اسی طرح ہر کھانے کی تعریف اور پکانے والے کی توصیف جدا جدا کرتے گئے کہ جملہ حاضرین خوش ہو گئے۔ جب خلیفہ اور ندما کھانے میں مشغول ہوئے تو قاضی صاحب بھی شریک ہو گئے مگر اس طرح، کہ کبھی تو کھانے میں شامل ہوتے اور کبھی اکولوں اور بسیار خواروں کا قصہ بیان کرتے، معاویہ بن ابی سفیان، عبیداللہ بن زیاد، حجاج بن یوسف، سلیمان بن عبدالملک، حاتم کیاد، اسحق حمامی وغیرہ کی نقلیں سناتے رہے۔ جب دستر خواں بڑھایا گیا تو معتصم نے پوچھا قاضی القضاۃ صاحب اگر کوئی حاجت ہو تو بیان کیجئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ درخواست قبول ہو گی۔ قاضی صاحب نے کہا امیر المومنین، سلیمان بن عبداللہ نوفلی آپ کے متوسلین میں ہے اُس کا زمانہ ان دنوں موافق نہیں رہا، اگر اُس کی پریشانی بے کم و بیش عرض کروں تو کہیں دل افسردہ نہ ہو جائے۔ خلیفہ نے کہا اُس کی پریشانی کی فکر نہ کیجئے اصلاح حال کے لیے جو کچھ درکار ہو گا میں دوں گا۔ ابن ابی دواد نے کہا پچاس ہزار درم چاہئیں۔ خلیفہ نے کہا تمہاری خاطر سے منظور کرتا ہوں۔ اب اور کیا مطلب ہے۔ انھوں نے عرض کی کہ ہارون بن معمر کا لگان معاف کر دیا جائے۔ خلیفہ نے کہا معاف کر دیا اور جو کچھ کہنا ہو کہیئے۔ راوی کہتا ہے خدا کی قسم ابن ابی دواد اُس وقت تک اُس مجلس سے نہ اُٹھے جب تک کہ تیرہ باتوں کی درخواست نہ کی اور معتصم نے سب کو قبول و منظور نہ کیا۔ پھر ابن ابی دواد نے اس طرح دعا و ثنا کی۔
امیر المومنین، خدا آپ کی عمر دراز کرے کیونکہ آپ کی سلامتی کے بدولت رعایا کے باغ اُمید سرسبز ہیں اور عیش و عشرت روزی اور اُن کی دولت کو ترقی ہے آپ ہمیشہ سلامت با کرامت رہیں مکروہات زمانہ آپ کے گرد بھٹکنے نہ پائیں۔
جب احمد ابن ابی دواد اُٹھ کر چلے گئے تو معتصم نے کہا خدا کی قسم یہ وہ شخص ہے کہ آدمی کو آدمی بنا دیتا ہے اس کی صحبت دل کو شگفتگی بخشتی ہے کئی ہزار آدمیوں کے برابر یہ اکیلا شخص ہے، تم لوگوں نے دیکھا کیونکر آیا اور کیسی میٹھی میٹھی باتیں کیں، کس چرب زبانی سے کھانوں کی تعریف کی اور اپنی بذلہ سنجی سے کیسا مجھے خوش کیا۔ اُس کی حاجتوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا، مگر وہ شخص جس کی فطرت پست واقع ہوئی ہو، خدا جانتا ہے کہ اگر وہ اس وقت ایک کروڑ درم کے برابر بھی مجھ سے درخواست کرتا تو میں دے دیتا، کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اُس کی باتوں کا قبول کرنا دنیا میں میری نیکنامی اور آخرت میں بھلائی کا باعث ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے معتصم سے محمد بن جہم برمکی کی شکایت کی اور خیانت کی تہمت لگائی۔ معتصم نہایت برہم ہوا اور خفا ہو کر محمد بن جہم کی گردن مارنے کا حکم دیا۔ جلاد نے دوڑ کر نطع بچھایا اور محمد بن جہم کو بٹھا کر سر پکڑا اور تلوار کھینچی۔ ابن ابی دواد موجود تھے۔ یہ بہت گھبرائے کہ فرصت کا موقع نکل گیا نہ الحاح و زاری کے لیے وقت ہے نہ شفاعت کے لیے۔ فورًا کہا کہ امیر المومنین اگر آپ محمد کو قتل کر دیں گے تو اُس کے مال سے بقایا کیونکر وصول ہو گا۔ معتصم نے طیش میں آ کر کہا اس خائن نابکار کے اور میرے درمیان میں کون سی چیز حائل ہو گی؟ اُنھوں نے کہا خدا کا حکم، رسول اللہﷺ کی شریعت اور امیر المومنین کا عدل، کیونکہ محمد کے قتل ہوتے ہی شرع محمدی کے موافق کل متروکہ وارثوں کا حق ہو جائے گا اُس کی خیانت اور دوسروں کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ اُس کے قتل سے درگزر فرمائیں اور اُس کو قید خانہ میں بھیج کر مقدمہ قائم کریں۔ جب گواہوں کی عادلانہ شہادت سے خیانت ثابت ہو جائے تو وصول کر لیں۔ معتصم نے اس رائے کو پسند کیا اور اُس کا قتل موقوف رکھا۔ آخر بسبیل مصادرہ ایک کثیر رقم اُس سے وصول ہوئی اور اُس نے ہلاکت سے نجات پائی۔
جاحظ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ معتصم جزیرہ فرات کے کسی شخص پر خفا ہوا اور اُس کے قتل کا حکم دیا۔ احمد ابن ابی دواد نے فورًا کہا یا امیرالمومنین سبق السیف العذل (امیرالمومنین ملامت اور نکوہش سے تلوار سبقت لے گئی) تھوڑا صبر کیجئے، جلدی نہ فرمائیے۔ یہ آدمی مظلوم ہے معتصم اُن کی طرف مخاطب ہو گیا۔ احمد ابن ابی دواد نے اپنی چرب زبانی سے خلیفہ کو بالکل اپنی طرف متوجہ کر لیا اور اُس کی بے جرمی کا حال شرح و بسط کے ساتھ بیان کرنے لگے جس سے خلیفہ کا غصہ قدرے کم ہو گیا۔ احمد کا خود بیان ہے کہ اُس وقت پیشاب کرنے کی مجھے ایسی سخت ضرورت تھی کہ اُس کا روکنا طاقت بشری سے باہر تھا، مگر میں ڈرتا تھا کہ اگر میں باہر جاتا ہوں تو کہیں وہ بے گناہ قتل نہ ہو جائے۔ آخر میں نے اسی میں بہتری دیکھی کہ وہیں بیٹھا بیٹھا رفع حاجت کر لوں غرض کسی طرح میں نے کپڑوں کو سمیٹ کر ضرورت رفع کر لی اور اُس مظلوم کی خلاصی کی یہاں تک کوشش کی کہ خلیفہ نے جان بخشی فرمائی۔ جب رخصت ہو کر میں چلنے لگا۔ معتصم کی نظر میرے بھیگے ہوئے کپڑے پر پڑی۔ پوچھا کہ جہاں تم بیٹھے ہوئے تھے کیا وہاں پانی گرا ہوا تھا؟ عرض کی، نہیں امیرالمومنین! ضرورت مجھ پر اس قدر غالب آئی کہ میں ضبط نہ کر سکا مجھے خوف تھا کہ اگر میں اُٹھا تو کہیں اُس بچارے کی گردن نہ ماری جائے! اس لیے میں نے اپنے لباس کو گندگی میں آلودہ ہونے دیا معتصم ہنس پڑا اور بولا احسنت بارک اللہ علیک (اچھا کیا، خدا تمہیں برکت دے) پھر بیش بہا خلعت ایک لاکھ درم کے ساتھ مجھے عنایت فرمایا۔
